خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۵)
مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
پانچواں پارہ،’’والمحصنت ‘‘سے شروع ہے۔اس کی ابتدائی آیتوں میں یہ بتایا گیا کہ تم پر وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں، مگر وہ عورتیں حلال ہیں جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں۔

زمانۂ جاہلیت میں عرب کے بعض قوموں میں یہ رواج تھا کہ ایک عورت بہ یک وقت کئی مردوں کے نکاح میں رہ سکتی تھی، دنیا کی بعض قوموں میں یہ رواج آج بھی جاری ہے۔ اسلام نے اس رواج پر پابندی لگائی اور حکم دیا کہ ایک عورت بہ یک وقت ایک ہی آدمی کے نکاح میں رہ سکتی ہے، پھر لوگوں کو مہر ادا کرکے نکاح کرنے کا طریقہ بتایا گیا ،ساتھ ہی غلام اور باندیوں سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔پھر ایسے طریقوں سے کسی کا مال کھانے سے روکا گیا ہے جو حق کے خلاف ہو اور شرعاً ناجائز ہو ۔پھر بتایا گیا کہ انسانیت کے اعتبار سے ہر انسان برابر ہے، امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت، لیکن اللہ نے اپنے فضل و نعمت سے کسی کو زیادہ نوازا ہے اورکسی کو کم، اس طرح مال و دولت دے کر اللہ نے آزمائش میں ڈالا ہے۔ اس کے بعد یہ تعلیم دی گئی کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے، کیونکہ وہ سربراہ اور نگراں ہوتے ہیں ، اس لئے عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کریں اور اس کی غیر موجودگی میں ان کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کریں ،پھر یہ بتایا گیا کہ اگر بیوی سرکشی کرے تو اس کو نصیحت کی جائے اور ان کی اصلاح کے لئے تدابیر اختیار کئے جائیں ۔پھر توحید کی تعلیم دی گئی اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ ساتھ ہی والدین، رشتہ داروں، یتیموں اورعام مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت دی گئی، نیز پڑوسیوں ،مسافروں کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا گیا اور ان کے حقوق کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی گئی ۔پھر بخل کی مذمت کی گئی ۔اس کے بعد اہل ایمان کو تعلیم دی گئی کہ وہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھیں ،پھر وضو اور تیمم کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد یہود و نصاریٰ کی دنیا پرستی کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے دنیاوی مفاد کی خاطر اللہ کی کتاب میں تحریف کر دی، اہل ایمان کو اس سے بچنا چاہیے ۔پھر اہل کتاب کو قران کریم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ جو لوگ اس دعوت کو قبول نہیں کریں گے توآخرت میں ان کا انجام بُرا ہوگا۔ پھر امانت داری کی تعلیم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم امانتوں کو ان کے حوالہ کرو ، جو اس کے اہل ہیں ، یہ آیت فتح ملکہ کے موقع پر نازل ہوئی ، خانہ کعبہ کی کنجی عثمان بن طلحہ کے پاس تھی ، اس نے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں داخل ہونے سے روکا تھا ،تو رسول اللہ صلی اللہ نے اس سے فرمایا کہ اے عثمان ! ایک دن یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی ، اس دن مجھے اختیار ہوگا کہ میں جس کو چاہوں سپرد کردوں ، جب مکہ فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہ سے کنجی لے لی ، اور بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کے بعد کنجی عثمان کو واپس کردی ، اور فرمایا کہ یہ کنجی قیامت تک تمہارے خاندان کے پاس رہے گی ،لیکن یہ حکم عام ہے ، اس لئے اس کی پابندی تمام معاملات میں ضروری ہے ، اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو ، اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو اولو الامرہیں ،ان کی اطاعت کرو ۔ پھر منافقین کے غلط رویے کو بیان کیا گیا ہےکہ وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کے باوجود وہ قرآن اور اللہ کے رسول کے حکم اور فیصلہ سے اعراض کرتے ہیں اور اس کے لئے طرح طرح کے حیلے استعمال کرتے ہیں۔ پھر یہ اعلان کیا گیا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت ہی ایک راستہ ہے ،جو انسان کو انعام الٰہی کا مستحق بناتا ہے اور ایسے لوگ بڑے اجر کے مستحق ہوں گے اور ایسے لوگوں کو آخرت میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ رکھا جائے گا۔ کیسے اچھے ہوں گے ایسے ساتھی جو کسی کو مل جائیں ۔ پھر مسلمانوں کو اسلام دشمن عناصر سے چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پھر مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ موت سے گھبرانا نہیں چاہیے، موت اور حیات تو اللہ کے قبضے میں ہے، اس لئے موت سے گھبرانا مسلمانوں کے شایان شان نہیں۔ پھر مسلمانوں کو تعلیم دی گئی کہ افواہوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے ،کوئی خبر ملے، تو اس کی تحقیق کرلی جائے، اگر خبر صحیح ہو تب دوسروں سے بیان کریں ۔پھر مسلمانوں کو حسن معاشرت کی تعلیم دی گئی اور بتایا گیا کہ کوئی سلام کرے تو بہتر طریقے سے اس کا جواب دینا چاہیے ۔پھر مسلمانوں کو تعلیم دی گئی کہ اگر کہیں دین پر عمل کرنے میں دشواری ہو تو ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے ،جہاں دین پر عمل ہو سکے۔ پھر منافقوں کی شرارتوں کا تذکرہ کیا گیا ۔ اس کے بعد جنگ اور صلح سے متعلق چند بنیادی باتوں کی جانب رہنمائی کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ جو لوگ جنگ سے دور رہیں اور وہ تم سے لڑائی نہ کریں اور نہ اپنی قوم کا ساتھ دیں تو تم بھی ان سے نہ لڑو اور صلح مصالحت کی کوشش کرو ۔پھر مسلمانوں کو انسانی جان کے احترام کا سبق سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ ناحق کسی کو قتل کرنا سنگین جرم ہے اور ایسا کرنا قیامت کے دن سخت عذاب کا سبب بنے گا ۔پھر جان بوجھ کر اور غلطی سے قتل کے احکامات بیان کیے گئے ۔اس کے بعد ان مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو مال و سامان کی محبت میں مدینہ ہجرت کر کے نہیں گئے۔ انہیں یہ بتایا گیا کہ جائیداد اور املاک کی حفاظت سے بہتر دین کی حفاظت ہے، اس لئے جیسے دوسرے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ،ان لوگوں کو بھی ہجرت کر کے مدینہ چلا جانا چاہیے ۔پھر سفر کی حالت میں نماز قصر کرنے سے متعلق احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد صلوٰۃ خوف کا ذکر ہے کہ میدان جنگ میں نماز کس طرح پڑھی جائے۔ اس طرح یہ بتایا گیا کہ نماز کسی بھی حال میں معاف نہیں ہے ،ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نماز کے لئے وقت کی پابندی ضروری ہے۔ پھر نزول قرآن کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ قرآن کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا کریں ، کسی کی بیجا طرفداری نہ کی جائے ۔پھر بتایا گیا کہ خاندان اور قبیلہ کی رعایت کرتے ہوئے مجرموں کی حمایت نہ کی جائے ۔انصاف کے معاملے میں کسی قسم کی عصبیت مناسب نہیں، کیونکہ مسلمانوں کا کام حق کی شہادت ہے۔ پھر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکت چھپا سکتے ہیں، مگر اللہ سے چھپا نہیں سکتے ہیں۔ اللہ اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے، جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورہ کرتے ہیں، پھر لوگوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی اور بری سرگوشیوں سے منع کیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے انحراف اور اہل ایمان کے طریقہ کے خلاف کسی دوسرے طریقہ پر چلنے سے روکا گیا اور ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب کی خبر دی گئی۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو اس کی تاکید کی گئی کہ جب کسی مجلس میں چند مسلمان بیٹھے، تو نیک مشورے اور اچھی باتیں کریں، فتنہ و فساد کے منصوبہ سے دور رہیں ۔ پھر زمانۂ جاہلیت میں جانوروں سے متعلق جو مشرکانہ رسمیں جاری تھیں ان کی نشاندہی کی گئی اور اسے روکا گیا ۔اس کے بعد ایمان اور عمل صالح کی اہمیت بتا کر ان کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اس کے بعدعورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ،یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ عدل و انصاف کی تاکید کی گئی ۔پھر میاں بیوی کے حسن تعلقات کی ہدایت دی گئی ،پھر امت مسلمہ کو اپنا فریضہ یاد دلایا گیا کہ ہمیشہ حق کی شہادت دیا کریں ،خواہ یہ والدین یا رشتہ داروں کے خلاف پڑے۔ پھر منافقین کی خصلتوں کو بیان کیا گیا کہ یہ صرف مسلمانوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔چنانچہ مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ ان سے دوستی اور میل جول نہ رکھیں، البتہ اگر وہ سچے دل سے توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کریں، تو پھر ان سے دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کی حالت بیان کی کہ منافقین نہ ادھر کے ہوتے ہیں اور نہ ادھر کے ، یہ درمیان میں پھنسے ہوتے ہیں ۔پھر یہ کہاگیا کہ اگر تمہارا عقیدہ ٹھیک رہے اور اللہ کا شکر ادا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب کیوں دے گا ؟ اس لئے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے عقیدہ کو درست رکھنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے۔






