خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۷)

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

ساتواں پارہ،’’واذا سمعوا ‘‘سے شروع ہے۔اس کی ابتدائی آیات میں یہ بتایا گیا کہ نصاریٰ میں کچھ حق پسند بھی ہیں، جب ان حق پسند نصاریٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اللہ کے کلام کو سنا ،تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ پکار اٹھے کہ ہم نے حق کو پہچان لیا، ہم اللہ پر کیوں ایمان نہ لائیں؟ ۔اللہ تعالیٰ نے ایسے نصاریٰ کو بھی دنیا اور آخرت کی رحمتوں سے نوازے گا۔روایت کے مطابق یہ حبشہ کے نصاریٰ کے بارے میں کہا گیا کہ جب انہوں نے قرآن سنا تو وہ رونے لگے۔

خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۷)
خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۷)

 اس کے بعد اہل ایمان سے خطاب کر کے کہا گیاہے کہ اے ایمان والو! اللہ کی طرف سے حلال کی ہوئی پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دو، غلط قسم نہ کھاؤ، جو شخص دل سے قسم کھا کر توڑ دے ،تو اس کو کفارہ میں دس مسکینوں کا کھانا کھلانا پڑے گا۔ پھر کہا گیا کہ شراب ،جوا اور باطل معبودوں کے نشانات وغیرہ شیطان کے کام ہیں، ان سے بچو۔ پھر یہ تعلیم دی گئی کہ احرام کی حالت میں شکار نہ کرو، اگر کوئی جان بوجھ کر شکار کر لے ،تو اس کو کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ کعبہ لوگوں کے لئے امن کی جگہ ہے، پھر یہ بتایا گیا کہ قربانی کے جانوروں اور حرمت والے مہینوں کی عزت کا خیال رکھو۔ پھر اہل ایمان سے کہا گیا کہ بلا ضرورت سوالات نہ کرو ،مشرکین بتوں کے نام پر جانوروںکو چھوڑ دیتے تھے اور انہیں مقدس سمجھتے تھے، ان پر سواری کرنا اور ان کا گوشت کھانا حرام سمجھتے تھے ،ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ یہ مشرکانہ باتیں ہیں ،کوئی انسان حلال کو حرام کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ہے۔ پھر مسلمانوں کو تعلیم دی گئی کہ اللہ کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور ان کے طریقہ پر عمل کرو، اگر تم ہدایت پر قائم رہو گے، تو کوئی تمہیں گمراہ نہیں کر سکے گا۔ پھر وصیت کے بارے میں کہا گیا کہ اس کے لئے دو معتبر گواہ کی ضرورت ہے ،مسلمان گواہ نہ ہو، تو دوسرے بھی ہو سکتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرکے کہا گیا کہ اللہ نے ان پر طرح طرح کے انعامات کئے، روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کی ،طرح طرح کے معجزے عطا کئے، مگر بنی اسرائیل ایمان نہ لائے اور ہر مرتبہ نئے معجزے کی فرمائش کرتے رہے۔ فرمائش کرتے کرتے ان لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہارے رب سے یہ ہو سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے دسترخوان نازل کرے؟ تاکہ ہم آپ کواس کا رسول مان لیں۔ ان کی فرمائش پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے مائدہ یعنی دسترخوان اتارنے کی درخواست کی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائش بھی پوری کی، پھر بھی وہ ایمان نہ لائے، تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تمہیں ایسی سزا دی جائے گی ،جو کسی دوسرے کو نہیں دی گئی۔ پھر اس کا ذکر ہے کہ آخرت میں حساب و کتاب کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا ؟ ،حضرت عیسی علیہ السلام عرض کریں گے، اے اللہ! میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا، جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا۔ اے اللہ! جب تک میں ان کے درمیان رہا ،انہیں یہ کہتا رہا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا تمہارا رب ہے ، جب تو نے مجھے بلا لیا تو میرے بعد جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا مجھے علم نہیں۔

 اس کے بعد سورۂ انعام شروع ہے ،اس میں انعام یعنی بعض مویشیوں کے حرام ہونے اور بعض کے حلال ہونے کے متعلق اہل عرب کے توہمات کی تردید کی گئی ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام ’’الانعام‘‘ ہے۔

اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد و ثناءسے ہوئی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کےلئے ہیں،جس نے تمام عالم کو پیدا کیا ،تاریکی اورروشنی بنائی، جس کو ہر کوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر معلوم کر سکتا ہے ،مگر جو لوگ اپنے رب کے منکر ہیں ،وہ دونوں میں فرق نہیں کر تے اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں، پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ نے تمہیں پیدا کیا ،تمہارے لئےدومیعاد مقرر کئے ۔ایک زندگی ہے کام کے لئے اور دوسرا قیامت کا دن ہے، جس میں تمہیں دنیا میں کئے اعمال کا حساب دینا ہے۔ پھر مشرکین کی باتوں کا جواب دیا گیا جو وہ یہ کہتے تھے کہ اگر قرآن کتابی شکل میں ہم پر اتارا جاتا اور اس رسول کے بجائے کوئی فرشتہ رسول بن کر اس کو لے کر آتا تو ہم مان لیتے ،اس کے جواب میں اللہ نے کہا کہ ان کا کہنا غلط ہے ۔اللہ تعالی کا یہ طریقہ نہیں کہ اس طرح کی فرمائش پوری کرے، ان کا حال یہ ہے کہ اگر ان کی فرمائش پوری کر دی جائے، پھر بھی یہ ماننے والے نہیں ہیں ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کی ہنسی اڑائی گئی ہے، جیسا کہ آپ کے ساتھ کیا جا رہا ہے، پھر ایسے لوگوں سے کہا گیا کہ یہ لوگ دنیا میں چل پھر کر دیکھیں ،جھٹلانے والے لوگوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا تذکرہ کر کے کہا کہ اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ایک اللہ ہے، اس سے یہ اہل کتاب باخبر ہیں ،پھر بھی اس کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں ،یہ کسی طرح صحیح نہیں ہے ۔اس کے بعد شرک اور اہل شرک کے انجام کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے کہا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی جانب جھوٹ کی نسبت کرے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ۔جو لوگ اللہ کے ساتھ شرک کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت کرتے ہیں، ایسے ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ قیامت کے دن ان سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو وہ پریشان ہو جائیں گے۔

پھر روز محشر کے حالات بیان کئے گئے ہیں کہ بڑے نقصان میں رہیں گے وہ لوگ جو اللہ کی ملاقات کا انکار کر رہے ہیں ۔جب قیامت آ جائے گی، تو ایسے لوگ اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں گے ،پھر یہ بتایا گیا کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی اور کامیاب ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی کہ آپ سے پہلے بھی ان کی قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا ،مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی، وہ ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ ان پر میری مدد آگئی۔ اس طرح کفار و مشرکین آپ کا بھی انکار کرتے ہیں، اس سے آپ پریشان نہ ہوں، ایمان وہی لائیں گے، جس کے اندر کچھ خیر کا جذبہ ہوگا ۔ جس کے دل مردہ ہو چکے ہیں ،وہ بڑی بڑی نشانیوں کو بھی دیکھ کر ایمان قبول نہیں کریں گے ۔اس کے بعد نافرمان قوموں کے احوال بیان کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ آپ سے اللہ کا عذاب مانگتے ہیں ،اپ ان سے پوچھئے کہ اگر اللہ کا عذاب آگیا تو انہوں نے اس سے بچاؤ کے لئے کیا سامان کیا ہے ؟ ۔پچھلی قوموں نے رسولوں کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو مختلف طرح کی مصیبتوں میں گرفتار کیا، اگر ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی ،تو ان کا انجام بھی یہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا ہو چکا ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ غریب مسلمان جو آپ کے گرد جمع ہیں، یہی اللہ سے ڈرنے والے ہیں ،یہ لوگ نیک ہیں، اگر امیر لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے ہیں کہ آپ کی مجلس میں غریب لوگ ہوتے ہیں ،تو آپ ان کی پروا نہ کریں ،آپ ان غریب اور کمزور لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کفارو مشرکین کھلم کھلا حق کا انکار کر رہے ہیں اور یہود بکواس کر رہے ہیں ،آپ ان سے الگ تھلگ رہیں، آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ،جن لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی کے چکر میں پڑے ہیں ،آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیجئے ۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسالت کے تذکرہ کے بعداٹھارہ رسولوں کا ذکر ہے، حضرت ابراہیمؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت ایوبؑ ،حضرت یوسفؑ ،حضرت ہارونؑ ،حضرت یحییٰؑ ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت الیاسؑ ، حضرت اسمٰعیلؑ، حضرت یونسؑ اور حضرت لوط علیہم السلام اور بتایا گیا کہ ان تمام انبیاء کی دعوت وہی تھی جو قرآن میں ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اللہ نے تو اپنی رحمت سے ہدایت بھیجی ہے اور لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں، یہ تو عجیب بات ہے؟ ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی عظمت اور اپنی قدرت کا ذکر کیا ہے کہ قرآن کی عظمت اور اللہ کی قدرت بڑی ہے ، قرآن ہدایت کی کتاب ہے، اس سے فائدہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply