خلاصۂ قرآن کریم

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

 پہلا پارہ سورہ فاتحہ سے شروع ہے ، سورۂ فاتحہ قران کریم میں پہلی سورت ہے ،اسی سے قرآن کریم کا آغاز اور افتتاح ہوا ہے، اس لئے اس کو سورۂ فاتحہ کہتے ہیں، یہ سورت مکی ہے ،اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کی ہے کہ درخواست پیش کرنے کا کیاطریقہ ہونا چاہیے ۔درخواست پیش کرنے کا طریقہ یہ بتایا گیا ہےکہ شروع میں حمد و ثناء پیش کی جائے، چونکہ یہ محسن کا حق ہے کہ اس کے احسان کے لئے حمد اور شکر ادا کیا جائے ،چنانچہ اس کے لئے بندہ کو تعلیم دی گئی کہ وہ الحمدللہ کہے، یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ پھر یہ بتایا گیا کہ محسن کی اچھی صفات کا ذکر کیا جائے ،چنانچہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی صفات کا ذکر کیا ،وہ صفات ہیں، اللہ رب ہے، وہی تمام عالم کا پیدا کرنے والا اور درجۂ کمال کو پہنچانے والا ہے، وہ رحمن ہے ، اس کی رحمت عام ہے جس سے سبھی فائدہ حاصل کرتے ہیں، ایسا دنیا میں نظر آرہا ہے۔ فرمانبردار اور نافرمان سبھی اس کی رحمت سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں ، وہ رحیم ہے ، رحیم سے خاص رحمت مراد ہے۔ جو نیک لوگوں کو آخرت میں ملے گی ، اس کے بعد ایک بڑی صفت کا ذکر ہے، وہ مالک یوم الدین ہے، یعنی وہ جزا و سزا کا مالک ہے ۔یعنی دنیا کی بعد جزا و سزا کا دن آئے گا ۔ اس دن اللہ ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ دے گا ، پھر اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو یہ تعلیم دی کہ اپنے محسن اللہ کی حمد و ثناء کے بعد اس کے سامنے خود سپردگی کا اقرار کرے ،چنانچہ رہنمائی کی گئی کہ تم کہو کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں ، پھر یہ تعلیم دی گئی کہ اللہ کے سامنے اپنی درخواست پیش کرو، وہ درخواست اہدنا الصراط المستقیم سے ولاالضالین تک ہے ۔جن لوگوں پر اللہ کا انعام ہوا وہ چار قسم کے لوگ ہیں ، وہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور جن پر غضب نازل ہوا اس سے سرکش اور نا فرماں بردار بالخصوص یہود مراد ہیں ، اور جو گمراہ ہیں اس سے عام گمراہ لوگ بالخصوص نصاری یعنی عیسائی مراد ہیں۔

خلاصۂ قرآن کریم (پہلا پارہ)
خلاصۂ قرآن کریم

پہلا پارہ

پہلا پارہ سورہ بقرہ ہے۔ عربی زبان میں بقرہ گائے کو کہتے ہیں، چونکہ اس سورت میں گائے کا ذکر اور اس سے متعلق واقعہ کو بیان کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۂ بقرہ ہے ، اس کی ابتداء الم سے ہوئی ہے۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہے ،یہ اللہ اور رسول کے درمیان راز ہے، اس سے کیا مراد ہے، اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کے بعد قرآن کی عظمت کا بیان ہے کہ یہ مکمل اور کامل کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے ،جو تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد تقویٰ اختیار کرنے والے لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں ، اللہ کی کتابوں اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں ۔ اس کے بعد کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، آپ ان کو خبردار کریں یا خبردار نہ کریں ،وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ پھر منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے ہیں ۔حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ اس کے بعد منافقین کی مزید خصلتوں کو مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔

پھر قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر ہے کہ یہ کفار اور مشرکین یہ کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے ،یہ انسان کا کلام ہے ،تو یہ قرآن کی جیسی ایک سورت بنا کر لے آئیں ۔ ان کو چیلنج ہے کہ اس جیسی سورت کیا ایک آیت بھی نہیں بنا سکتے ہیں۔ قرآن کا یہ چیلنج آج تک برقرار ہے۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے تذکرہ کیا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، فرشتوں نے کہا کہ میں آپ کی عبادت کرتا ہوں اور تسبیح کرتا ہوں ، کیا آپ ایسے کو خلیفہ بنائیں گے جو زمین میں فساد برپا کریں گے اور خون ریز یاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو۔ پھر اللہ نے حضرت آدم اور فرشتوں کا امتحان لیا ، حضرت آدم کامیاب ہوگئے ،تو حضرت آدم اور حوا کو جنت میں رکھ دیا اور حضرت آدم اور حوا دونوں سے کہا کہ تم دونوں جنت میں رہو اورخوب مزے سے کھاؤ پیو، مگر ایک درخت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس درخت کے پاس نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا ورنہ تم نافرمان ہو جاؤ گے، مگر ابلیس نے ان کو بہکا دیا اور اس درخت کے پھل کو کھلا دیا ،جس کی پاداش میں اللہ نے ان دونوں کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور زمین کی آبادی کا سبب بنا دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کئے گئے اپنے فضل و انعامات کا ذکر کیاہے کہ انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دی، اس کی وجہ سے بنی اسرائیل کو چاہیے تھا کہ وہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے، مگر شکر کے بجائے وہ بت پرستی کی طرف مائل ہو گئے اور بچھڑے کی پرستش شروع کر دی،اس کی وجہ سے وہ اللہ کے عذاب میں مبتلا کئے گئے۔ اللہ نے دوسرا انعام یہ کیا کہ صحرائے سینا میں جب وہ دھوپ سے پریشان ہوئے ،تو اللہ نے ان پر بادلوں کے ذریعے سایہ کا انتظام کیا اور کھانے کے لئے من و سلویٰ نازل کیا، لیکن بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی بھی ناشکری کی ۔ جب اللہ نے بنی اسرائیل کو فتح و کامرانی عطا کی اور عاجزی و انکساری کے ساتھ بستی میں داخل ہونے کا حکم دیا ، مگر بنی اسرائیل کے لوگ تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس بستی میں داخل ہوئے۔ جب وہاں پانی کی کمی محسوس ہوئی تو اللہ نے پانی کا انتظام کیا ۔حضرت موسی علیہ السلام کے عصا مارنے پر پہاڑ کے چٹان سے۱۲؍ چشمے جاری ہو گئے۔ بنی اسرائیل نے اس کی بھی قدر نہ کی، ان نافرمانیوں کے علاوہ انہوں نے انبیاء علیہم السلام کو بھی قتل کیا ،جس کی وجہ سے ان پر ذلت و مسکنت مسلط کر دی گئی، پھر اس کے بعد اس عہد کا ذکر تذکرہ ہے، جو بنی اسرائیل سے کوہ طور کے دامن میں لیا گیا تھا کہ وہ توریت کے احکام پر قائم رہیں گے اور احکام الٰہی کی پابندی کریں گے، لیکن بنی اسرائیل اس عہد سے بھی پھر گئے ۔پھر بنی اسرائیل میں ایک آدمی کا ناحق قتل ہو گیا اور قاتل کا پتہ نہیں چلتا تھا، تو اللہ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کر کے مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصہ سے مارو ،تو وہ قاتل کا پتہ بتا دے گا۔ بنی اسرائیل کے لوگ اس پر ٹال مٹول اور حجت کرنے لگے۔ آخر بڑی مشکل سے اس کے لئے تیار ہوئے ، جس کی وجہ سے قاتل کا پتہ چل سکا۔ اس کے مذکورہ ہے کہ عہد کرنے کے بعد بھی بنی اسرائیل نے اس کے خلاف ورزی کی، اللہ تعالیٰ نے مزید کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد مسلسل اللہ کے انبیاء آتے رہے ،پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ گزشتہ جتنے انبیاء آئے بنی اسرائیل نے ان کی بات کو نہیں مانا اور ایمان نہیں لائے ۔یہودی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دشمن نہ تھے بلکہ حضرت جبرئیل کو بھی برا بھلا کہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اعلان کر دیا کہ جو جبرئیل کا دشمن ہے وہ اللہ کا بھی دشمن ہے ، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ سے بات کرنے کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرتے، جن کے کئی معنی ہوتے ،جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارادہ رکھتے ،جیسے راعنا جس کا ایک مطلب تو یہ تھا کہ آپ ہماری رعایت کیجئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوتا کہ آپ ہمارے چرواہے ہیں۔ مسلمانوں کو اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ۔ بنی اسرائیل پر انعامات اور ان کے کفران نعمت اور جرائم کی تفصیل کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے، جن کی عظمت کو بنی اسرائیل اور نصرانی دونوں تسلیم کرتے تھے اور فخریہ طور پر ان کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے ۔اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف و توصیف کی کہ وہ اللہ کے سچے نبی تھے وہ موحد تھے، یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرتے تھے، یہ اللہ کے آخری رسول کی نسبت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی سے ہے، ان کا دین اسلام تھا۔یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں جس کی دعوت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دی تھی ،اس لیے تم ان پر ایمان لاؤ۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply