سید محمد نیر رضوی کی تصنیف

’’صاحب اعیان‘‘ – علمی و تحقیقی دستاویز

    میرا مطالعہ

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

مولانا حکیم سید محمد شعیب بن مولانا سید محی الدین رضوی کی مشہور تصنیف ’’اعیان وطن‘‘ ہے ۔یہ کتاب علماء حلقوں میں نہایت ہی مقبول ہے۔ ان کے پوتے سید محمد نیر رضوی نے ان کی حیات و خدمات اورشاعری پر ایک تفصیلی کتاب ’’صاحب اعیان‘‘ کے نام سے تصنیف کی ہے ۔اس کتاب کا نام ’’اعیان وطن‘‘ سے ماخوذ ہے۔انہوں نے اپنی اس اہم تصنیف کو میرے پاس مطالعہ کے لیے بطور علمی تحفہ ارسال کیا۔ میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ،کتاب کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر حاصل مطالعہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

سید محمد نیر رضوی کی تصنیف - ’’صاحب اعیان‘‘ - علمی و تحقیقی دستاویز
سید محمد نیر رضوی کی تصنیف – ’’صاحب اعیان‘‘ – علمی و تحقیقی دستاویز

صاحب اعیان یعنی ’’اعیان وطن‘‘ کے مصنف مولا ناحکیم سید شعیب رضوی نیرؔ پھلواروی(۱۳۰۱ھ؍۱۳۷۴ھ) ہیں ، یہ کتاب ان کی حیات و خدمات پر مشتمل ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے مولانا موصوف کی کلیات ’’جذبات نیر‘‘ کو بھی شامل کیا ہے۔

     مولانا حکیم سید محمد شعیب نیرؔ رضوی کی ولادت۱۳۰۱ھ/ ۱۸۸۳ءمیں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ پھر دارالعلوم خانقاہ مجیبیہ میں مولانا عبداللہ رام پوری اور مولانا عبدالرحمٰن ناصری گنجی سے حاصل کی۔ درسیات کی تکمیل مولانا معین الدین ؒ سے کی۔

حضرت پیر مرشد مولانا شاہ محمد بدرالدین کی نگاہِ لطف و کرم ان کے ساتھ رہی۔ انہوں نے تعلیم کے دوران ہی حضرت مولانا ابو الخیر مکی محدث سے حدیث کے جملہ مرویات کی اجازت حاصل کی، وہ تمام علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے ۔انہوں نے حکیم وارث حسین منیری سے طب کی تعلیم حاصل کی ۔اس طرح وہ کامیاب طبیب اور اچھے معلم بھی تھے ۔ وہ معقولات و منقولات دونوں میں مہارت رکھتے تھے اور دونوں کا درس بھی دیتے تھے۔

سید محمد نیر رضوی کی تصنیف - ’’صاحب اعیان‘‘ - علمی و تحقیقی دستاویز
سید محمد نیر رضوی کی تصنیف – ’’صاحب اعیان‘‘ – علمی و تحقیقی دستاویز

   مولانا تصنیف و تالیف کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے ، ان کی تصانیف تاریخ ، تحقیق اور علمی بحثوں کا حسین گلدستہ ہیں ۔ مولانا موصوف کی تصانیف میں ’’آثارات پھلواری شریف‘‘ موسوم بہ ’’اعیان وطن‘‘،’’ تجلیات انوار‘‘ ، ’’ذکر شیوخ بہار‘‘،’’ تذکرہ شعرائے پھلواری شریف‘‘،’’ انتخاب میلاد‘‘ ،’’ غم پر ملال‘‘، ’’بزم نورانی‘‘،’’ تذکرہ صاحب عیسیٰ پور‘‘ قابل ذکر ہیں۔

    ’’صاحب اعیان‘‘ ایک اہم کتاب ہے ، اس کی ابتداء میں صاحب اعیان یعنی مولانا حکیم سید محمد شعیب رضوی نیرؔ پھلواروی کا تعارف ہے، جو ’’اعیان وطن‘‘ اور’’ تجلیات انوار‘‘ میں ان کی تحریر کردہ خود نوشت ہے ، جس کو مصنف نے ان کے تعارف کے لئے اسی خود نوشت کو اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ تعارف کے ضمن میں حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ،پروفیسر شاہ مقبول احمد، ڈاکٹر قمر اعظم ہاشمی، سید حکیم یوسف رضوی پھلواروی، شاداں فاروقی، پروفیسر ڈاکٹر محمد شرف عالم، شاہ ہلال احمد قاسمی، مولانا سید شاہ بدر احمد مجیبی پھلواروی، ڈاکٹر رضوان اللہ آروی، ڈاکٹر سید فضل اللہ قادری امجھری ،ڈاکٹر معین الدین قریشی کے مضامین کے ساتھ میرے مضمون کو بھی شامل کیا گیا ہے۔پھر پہلا باب نوائے پریشاں ۔۔۔۔۔۔ حیات و خدمات کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں مولانا حکیم سید محمد شعیب رضوی نیرؔ پھلواروی کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں جیسے علمی و ادبی مقام،طبیب حاذق ،مؤرخ و محقق وغیرہ کی حیثیت سے ان کے علمی کارناموں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔اسی کے ضمن میں ان کی مذکورہ تصانیف کی فہرست اور ان کا تفصیلی مطالعہ بھی ہے ۔دوسرے باب میں ان کی شاعری سے بحث ہے، ان کی شاعرانہ عظمت ،جذبات نیرؔ، تعبیر و تجزیہ، قطعات و تاریخ وفات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں منتخب مضامین اور منتخب خطوط ہیں ۔چوتھے باب میں جوہر شناسوں کی جوہر شناسی کے تحت ارباب علم و فن کے تاثرات ہیں ، یہ تاثرات اس کے علمی ،تحقیقی ، تاریخی حیثیت کے ساتھ شعر و شاعری میں بھی ان کے مقام کو بھی متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔پھر ان کے مجموعۂ کلام’’ جذبات نیرؔ‘‘ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ان کا فارسی کلام ہے، جس کی تعداد۵۲؍ ہے، پھر ان کے اردو کلام کا اندراج ہے ،جس میں ۸؍ غزلیں ہیں ،پھر مراجع و مصادر ہیں۔

مولانا شعر و شاعری کا اعلی ذوقِ رکھتے تھے ، موصوف کا قلم رواں تھا ، وہ بلند خیال کے حامل اور قادر الکلام شاعر تھے ، نیر تخلص کرتے تھے ، وہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے ، ان کا کلام دونوں زبانوں میں دستیاب ہے ، ان کے خیالات میں بلندی اور ان کلام میں علمی نزاکت اور پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔

 اردو اشعار ملاحظہ ہوں:

مہر و مہ چکر میں ہیں روئے درخشاں دیکھ کر

چھپ گئی بجلی چمک کر ان کو خنداں دیکھ کر

ان کا ہنسنا یاد آیا برق خنداں دیکھ کر

بڑھ گیا سودائے گیسو سنبلستاں دیکھ کر

جس طرف وہ ناز سے نکلے بپا محشر ہوئی

کتنے مردے جی اٹھے ان کو خراماں دیکھ کر

عفو کی سرگرمیاں اس نے بڑھادی شکر ہے

مجھ کو اس امید پر سرگرم عصیاں دیکھ کر

بلبلان ہند نے نغمہ سرائی چھوڑ دی

نیرؔ نغمہ سرا کو پھر غزل خواں دیکھ کر

……………….

(’’صاحب اعیان‘‘ : صفحہ۸۷ -۸۸)

فارسی اشعار پیش ہے:

باوجود تو وجودم کئے بماند در وجود

برق حسنت جملگی سوز و وجود ما ومن

قامتت تیر دعا ؤ وزلف تو زنجیر عشق

با کہ بہر کشتن عشاق تو دار و رسن

عشوۂ و ناز تو مارا کشت پیش چشم تو

جان من خاموش دیدی و نگفتی یک سخن

کشتہ جادوئے چشم خویش را کن در دمے

زندۂ اعجاز لبہائے خود ائے عیسائے من

شد بسر عمرم بمیخواری نخواہم بعد مرگ

خاک خود در میکند و از دامنِ ساقی کفن

(’’صاحب اعیان‘‘ : صفحہ۴۸۵)

کتاب کے مصنف سید محمد نیر رضوی (آئی آئی ایس سبکدوش) مولانا حکیم سید شاہ محمد شعیب نیرؔرضوی کے صاحبزادے ہیں۔ یہ ایک مذہبی اور علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اردو میں بی اے آنرس، ایم اے، ایم فل ،بی ایڈ، ایڈوانس ڈپلومہ اِن ماس میڈیا پاس ہیں ، انڈین انفارمیشن سروس سے سبکدوش ہیں ۔صاحب تصانیف ہیں ،ان کی تصنیف میں ’’خواجہ حسن نظامی کی انشائیہ نگاری کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ قابل ذکر ہے ۔ انہوں نے علمی ، ادبی اور تحقیقی ذوق ورثہ میں پایا ہے ،جس کی جھلک اس کتاب میں موجود ہے۔ انہوں نے صاحب اعیان کی شخصیت ،دینی خدمات، شاعری اور ان کے فکر و فن کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور صاحب اعیان کی شخصیت اور کارنامے کے مخفی گوشوں کو منظر عام پر لانے میں حق ادا کر دیا ہے، اس کے لئے مصنف قابل مبارک باد ہیں۔

پیش نظر کتاب صاحب اعیان۵۷۰؍ صفحات پر مشتمل ہے ۔کتاب علمی اور تحقیقی ہے، اپنے موضوع پر محیط ہے۔ صاحب اعیان کی حیات، شخصیت اور شاعری پر ایک دستاویزی کتاب ہے۔ موصوف کا آبائی وطن پھلواری شریف ہے، لیکن رہائش رانچی ، جھارکھنڈ میں ہے ۔یہ کتاب دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ (۹۲۵۰۴۳۳۵۶۲) اور بک امپوریم پٹنہ(۹۳۰۴۸۸۷۳۸ ) سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدمات کو قبول اور کتاب کو مقبولیت عطا کرے اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔

؎ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

رابطہ :

سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ

نیوعظیم آباد کالونی ویسٹ، سیکٹر ڈی، پٹنہ ۶

موبائل : 9835059987

Email: abul.kalam.qasmi@gamil.com

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply