قرۃالعین حیدر سے ایک تلخ ملاقات
معصوم مرادآبادی
آج اردو کی ممتازناول اورا فسانہ نگار قرۃ العین حیدر کا یوم وفات ہے۔ انھوں نے 21/اگست 2007کو دہلی سے متصل نوئیڈا میں وفات پائی۔ ان کے شہرہ آفاق ناولوں اور افسانوں کے علاوہ ان کی آپ بیتی ”کارجہاں درازہے“ بھی خاصے کی چیز ہے۔ میں یہاں ان کے احوال بیان کرنے کی بجائے ان سے اپنی ایک تلخ ملاقات کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو نومبر1985میں نئی دہلی کے ذاکر باغ میں ہوئی تھی۔ ان کو قریب سے جاننے والوں کو معلوم ہے کہ وہ بداخلاقی کی حدتک تنک مزاج خاتون تھیں۔ اس کا اندازہ آپ کو اس واقعہ سے بھی ہوگا۔

میں پہلی بار 1985کے اواخر میں کراچی گیا تھا۔ وہاں میری ملاقات اردو اکیڈمی سندھ کے صدر علاؤ الدین خالد صاحب سے ہوئی، جو دہلی کے رہنے والے تھے اور تقسیم کے ہنگاموں میں سرحدپارچلے گئے تھے۔ بڑے نستعلیق اور متواضع انسان تھے۔ انھوں نے ابن انشاء مرحوم کی نظموں کا مجموعہ ”چاندنگر“ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسے دہلی میں عینی آپا تک پہنچادیں تو بڑا کرم ہوگا۔عرصے سے یہ امانت میرے پاس رکھی ہوئی ہے اورمجھے اس کی بڑی فکر ہے۔ دراصل اس کتاب پر ابن انشاء کے دستخط تھے اور یہ انھوں نے عینی آپا کی نذر کی تھی، مگر نہ جانے کیسے یہ کتاب اردو اکیڈمی سندھ کی لائبریری تک پہنچ گئی۔ علاؤ الدین خالد صاحب کو اس کی فکر ہوئی تو انھوں نے اسے عینی آپا تک پہنچانے کی سعی کی۔
میں کتاب اپنے ساتھ دہلی لے آیا اور عینی آپا کو خط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگا۔ انھوں نے15/نومبر1985کو جوابی خط کے ذریعہ اپنا فون نمبرمجھے بھیجا اور ہدایت کی کہ کسی دن سہ پہر کو فون کرکے حاضر ہوجاؤں۔ میں طے شدہ وقت پرذاکرباغ کے ٹاور نمبر 2میں B-8 کے کشادہ فلیٹ میں ان سے ملنے پہنچا اورپس منظر بیان کرکے کتاب ان کی خدمت میں پیش کردی۔ وہ کتاب دیکھ کر مشتعل ہوگئیں اور کہا کہ ”جن صاحب نے یہ کتاب بھیجی ہے انھوں نے ضرور میری کتابوں میں سے چوری کی ہوگی۔“یہ سراسر بد گمانی تھی اور میرے لیے بھی تکلیف کی بات تھی۔ کیونکہ علاؤالدین خالد صاحب اس کتاب کو عینی آپا تک پہنچانے کے لیے کتنے بے چین تھے، اس کا اندازہ ان کے اس خط سے بھی ہوتا ہے جو انھوں نے مجھے 25/دسمبر1985 کو کراچی سے لکھا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”مجھے ’چاند نگر‘کے بارے میں آپ نے کوئی اطلاع نہیں دی۔ اس امانت کی مجھے بہت فکر ہے۔امید تو یہی ہے کہ آپ نے عینی صاحبہ تک یہ کتاب پہنچا دی ہوگی۔ کیا آپ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں؟ مجھے ان کا پوسٹل ایڈریس بھی لکھیں۔ وہ جامعہ ملیہ میں غالباًکسی انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ ہیں۔“
اس خط کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ علاؤالدین خالد صاحب اس کتاب کو عینی آپا تک پہنچانے کے لیے کتنے بے قرار تھے، جبکہ عینی آپا نے ان کے بارے میں قطعی غلط رائے قائم کی۔ عینی آپا کے وہ تلخ جملے مجھے آج چالیس سال بعد بھی یاد ہیں اور جب بھی ان کا ذکر ہوتا ہے تو مجھے وہ تلخ ملاقات یادآجاتی ہے۔ خدا انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔
آمین