امیر شریعت کرناٹک کا انتخاب
خبر کے مطابق افسوسناک اور مایوس کن
میرا مطالعہ
( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی
ہندوستان میں انگریزوں کے تسلط کے بعد جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی ، تو حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کی رہنمائی کی کہ جب مسلمانوں کی حکومت نہ ہو تو ایسے وقت میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شرعی اور اجتماعی امور کی انجام دہی کے لیے کسی کو امیر منتخب کریں ، اور ان کی نگرانی میں اپنے شرعی اور اجتماعی امور کو انجام دیں ، اسی ارشاد کی روشنی میں حضرت سید احمد شہید رح کو امیر منتخب کیا گیا ، اور اسی تناظر میں ہندوستان میں شرعی و اجتماعی امور کی انجام ہی کے لئے غور و فکر کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر اسی کی روشنی میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ نے کل ہند امارت کے قیام کا تصور پیش کیا ، اس سلسلہ میں کئی میٹینگ کا انعقاد عمل میں آیا ، جس میں ملک کے اکابر علماء شریک ہوئے ، مگر جب ” کل ہند امارت "پر اتفاق نہیں ہو سکا ، تو پھر انہوں نے قدیم بہار یعنی بہار و اڑیسہ میں امارت شرعیہ کے قیام کا خاکہ تیار کیا ، اور اس کے لئے پٹنہ میں میٹینگ کی ،جس میں امارت شرعیہ کے قیام کا فیصلہ لیا گیا ، اور اس کا نام امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ رکھا گیا ، پھر جھارکھنڈ الگ اسٹیٹ بنا ، اور نیا اسٹیٹ بنگال امارت میں شامل ہوا ، تو اب امارت شرعیہ مذکورہ بالا چار اسٹیٹ پر مشتمل ہے ، جو امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے نام سے موسوم ہے ، امارت شرعیہ کے قیام کے بعد اس وقت کے مشہور و معروف عالم دین حضرت مولانا شاہ بدر الدین رح کو امیر شریعت منتخب کیا گیا ، جو خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کے سجادہ نشین تھے ، اللہ تعالیٰ نے امارت کی اس تحریک کو قبولیت سے نوازا ، اور ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی اس نظام کو پذیرائی حاصل ہوئی

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ سے کرناٹک کے علماء و دانشوران نے بھی رہنمائی حاصل کی ، اور امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی رہنمائی میں کرناٹک میں بھی امارت شرعیہ کرناٹک کا قیام عمل میں آیا ، جس کے پہلے امیر شریعت حضرت مولانا ابو السعود باقوی رح ، پھر ان کے بعد مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی اور ان کے بعد حضرت مولانا صغیر احمد شادی رح کا امیر کی حیثیت سے انتخاب عمل میں ایا
امیر شریعت کرناٹک حضرت محمد صغیر احمد رشادی رح کا انتقال ہو گیا ، ان کے وصال کے بعد امیر شریعت کے انتخاب کے لیے کل مورخہ 16/ جنوری 2026 کو جامعہ سبیل الرشاد بنگلور میں میٹنگ کا انعقاد عمل میں آیا ، مگر وہی ہوا جو ہندوستان میں ملت اسلامیہ کا حال ہے ، آج مورخہ 17/ جنوری کو اخبار کے پہلے صفحے میں خبر شائع ہوئی ہے ، جس کا عنوان یہ ہے
نہیں ہو سکا کسی ایک نام پر اتفاق
کرناٹک کے شرعی امور کی نگرانی کے لیے مجلس امارت کی تشکیل
(روزنامہ سالار)
کرناٹک میں علماء کا بڑا اثر و رسوخ ہے ، انہیں عوام کا اعتماد بھی حاصل ہے ، بہت سے حضرات دانشوران کے صف میں بھی شامل ہیں، اس خبر کو پڑھ کر مجھے عجیب سا لگا ، بالخصوص بنگلور جیسے شہر کے اخبار میں پڑھ کر اور سوشل میڈیا میڈیا میں خبر سن کر بہت افسوس ہوا کہ کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو سکا ، علمائے کرام کو خود اس پر غور کرنا چاہیے کہ کیا اتحاد امت اور اتحاد ملت کے لیے ہم قربانی پیش نہیں کر سکتے ؟ خبر کے مطابق ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ فی الحال” مجلس امارت "کی تشکیل کی گئی ہے ، جبکہ تجربہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ” مجلس ” کا تجربہ ہندوستان جیسے ملک میں ناکام ہے ، یہ مستقل امیر ” کا بدل نہیں ہوسکتی ہے ، "مجلس ” انتشار اور عدم اتفاق کی یاد دلاتی رہے گی ، نیز ” مجلس امارت "کی نئی ایجاد سے دوسرے اسٹیٹ کے اتحاد کو بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے ، جیسا کہ دیکھنے میں آرہا ہے ، نیز یہ سلسلہ کرناٹک اسٹیٹ کی مسلم عوام کے لئے بھی نقصاندہ ہے ، کیونکہ ہر سطح پر مسلمانوں کا وقار کمزور ہوگا ، اس سے جہاں خود اپنے درمیان مسلمانوں کی حیثیت کمزور ہوگی ، وہیں برادران وطن اور حکومت کے سامنے بھی” مجلس امارت” کمزور ثابت ہوگی ،اس لئے یہ کرناٹک اسٹیٹ بالخصوص شہر گلستاں بنگلور کے علماء اور دانشوران کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، اس لئے ابھی بھی وقت نہیں گیا گیا ہے ، اس کے لیے کرناٹک کے علماء بالخصوص مجلس امارت سے اپیل ہے کہ وہ ” عبوری مجلس امارت ” پر نظر ثانی کریں ، اور مستقل امیر شریعت کے انتخاب کے لئے آپسی اتحاد کو مضبوط کریں ، اپس میں قربانی سے کام لیں اور کسی ایک نام پر اتفاق اور اعلان کر کے اپنی بڑائی کا ثبوت پیش کریں ، اور ملت کو مایوسی سے بچائیں ، اللہ تعالیٰ مضبوط قیادت کے لئے راستہ ہموار فرمائے۔






