مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ ؛علم و قلم کا درخشاں چراغ

اسلم رحمانی

علم و معرفت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی علم کی اشاعت، دین کی خدمت اور اخلاقی اقدار کی ترویج کے لیے وقف ہوتی ہے۔ وہ خود تو فانی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں مگر ان کی علمی خدمات، ان کا اندازِ فکر، ان کی تحریریں اور ان کے شاگرد رہتی دنیا تک ان کے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت مولانا شفیع احمد اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی، جنہوں نے علم و عمل، درس و تدریس، خطابت و صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں گراں قدر نقوش چھوڑے۔مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی ولادت 1935ء میں صوبۂ بہار کے ضلع مظفرپور کے تھانہ کانٹی کے تاریخی و علمی گاؤں بشن پور میں ایک نہایت معزز اور علمی خانوادے میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی حافظ محمد شعیب ایک باوقار علم دوست اور باصلاحیت مدرس تھے جبکہ آپ کے دادا حافظ محمد حنیف بھی اپنے زمانے کے ممتاز اہل علم میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے پردادا کا نام محمود عالم بن کرامت اللہ تھا۔ اس خانوادے کی دینی و علمی روایت نہایت مضبوط اور تابناک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا اصلاحیؒ کے گھر کا ماحول بچپن ہی سے علم و دین کی خوشبو سے معطر تھا۔آپ کے والد اور دادا دونوں تحریک علمائے صادق پور سے وابستہ رہے اور دینی خدمات میں سرگرم عمل رہے۔ اسی ماحول نے مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔ گھر کا ماحول علمی تھا، بزرگوں کی صحبت میسر تھی اور علم کی قدروقیمت دلوں میں رچی بسی تھی۔ چنانچہ بچپن ہی سے آپ کے اندر علم حاصل کرنے کا شوق اور دینی خدمات کا جذبہ پیدا ہوگیا۔

مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ ؛علم و قلم کا درخشاں چراغ
مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ ؛علم و قلم کا درخشاں چراغ

مولانا اصلاحیؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں بشن پور میں حاصل کی۔ اس دور میں گاؤں کے دینی ماحول اور بزرگوں کی سرپرستی نے آپ کی فکری و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جب اعلیٰ تعلیم کی جستجو نے آپ کے اندر مزید جوش پیدا کیا تو آپ نے اس زمانے کے ایک ممتاز دینی ادارے مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ کا رخ کیا۔

مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ اس زمانے میں علمی و فکری اعتبار سے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں آپ نے نہایت انہماک اور محنت کے ساتھ دینی علوم کی تحصیل کی اور 1955ء میں کامیابی کے ساتھ فراغت حاصل کی۔ مولانا کی ذہانت، شغفِ علم اور غیر معمولی محنت نے اساتذہ کو بھی متاثر کیا۔ فراغت کے بعد بھی آپ کی تشنگیِ علم باقی تھی، چنانچہ مزید علمی ارتقاء کے لیے آپ نے مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں داخلہ لیا اور یہاں بھی صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں اعلیٰ درجے کی علمی سند حاصل کرلی۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ نے تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ نے بہار اور بہار سے باہر متعدد دینی اداروں میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کی تدریس کا انداز نہایت دلنشیں، مؤثر اور علمی وقار کا حامل تھا۔ طلبہ آپ کے درس سے صرف معلومات ہی حاصل نہیں کرتے تھے بلکہ علمی ذوق، فکری وسعت اور دینی غیرت بھی اپنے اندر پیدا کرتے تھے۔اسی دوران تقدیر نے ایک بار پھر انہیں اس درسگاہ کی طرف لوٹنے کا موقع فراہم کیا جس سے ان کی علمی زندگی کی بنیاد وابستہ تھی۔ چنانچہ 1975ء میں ان کے رضاعی بھائی، ممتاز عالمِ دین مولانا عبد السمیع جعفری رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت خلوص اور اصرار کے ساتھ انہیں مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کی دعوت دی۔ یہ دعوت محض ایک رسمی تقاضا نہیں بلکہ ایک علمی اعتماد اور ادارے کی ضرورت کا اظہار تھی۔ مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ نے اس پیشکش کو نہایت سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ قبول کیا اور یوں وہ ایک مرتبہ پھر اس مادرِ علمی سے وابستہ ہوگئے جہاں کبھی وہ خود علم کے متلاشی طالب علم کی حیثیت سے بیٹھا کرتے تھے۔مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ میں ان کی واپسی درحقیقت ادارے کے لیے ایک نئے علمی عہد کا آغاز ثابت ہوئی۔ جلد ہی ان کی علمی بصیرت، تدریسی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں صدر المدرسین کے باوقار منصب پر فائز کیا گیا۔ 1975ء سے لے کر 1991ء تک کا یہ طویل عرصہ مدرسہ اصلاح المسلمین کی تاریخ میں ایک یادگار اور بابرکت دور کی حیثیت رکھتا ہے۔اس مدت میں مولانا اصلاحیؒ نے جس اخلاص، محنت اور حکمت کے ساتھ ادارے کی علمی رہنمائی کی وہ اہلِ مدرسہ کے لیے ہمیشہ باعثِ افتخار رہے گی۔ وہ صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک مربی، رہبر اور مشفق بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی نگاہ صرف نصابی اسباق تک محدود نہ تھی بلکہ وہ طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کو تعلیم کا لازمی جز سمجھتے تھے۔ درس کے دوران علمی نکات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ وہ اخلاقی اقدار، دینی شعور اور علمی وقار کی ایسی روح بھی منتقل کرتے تھے جو طلبہ کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی تھی۔مولانا اصلاحیؒ نے اس دوران مدرسے کے علمی معیار کو بلند کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے۔ نصاب کی بہتری اور تدریسی نظام کی اصلاح میں انہوں نے گہری دلچسپی لی۔ قدیم و جدید علمی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے تدریس کے انداز میں ایسی سنجیدگی اور وقار پیدا کیا جس سے درسگاہ کا علمی ماحول مزید پختہ اور فعال ہوگیا۔ ان کی مجلسِ درس میں سنجیدگی، وقار اور علمی انہماک کا ایسا منظر ہوتا تھا جو طلبہ کے دلوں میں علم کی عظمت کا احساس پیدا کرتا تھا۔

طلبہ کی تربیت کے معاملے میں بھی مولانا اصلاحیؒ نہایت حساس اور بیدار مغز تھے۔ وہ طلبہ کو صرف کتابی علم کا حامل نہیں دیکھنا چاہتے تھے بلکہ انہیں صالح کردار، بلند اخلاق اور علمی وقار کا پیکر بنانا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ اکثر طلبہ کی انفرادی رہنمائی کرتے، ان کے مسائل سنتے اور شفقت بھرے انداز میں ان کی اصلاح فرماتے۔ ان کی شخصیت میں شفقتِ پدری اور وقارِ استادی کا ایسا حسین امتزاج تھا جو طلبہ کے دلوں میں غیر معمولی احترام پیدا کرتا تھا۔

یوں ان کے دورِ صدارت میں مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ کا علمی ماحول نہایت شاداب اور بارآور ہوگیا۔ علم کی محفلیں آباد رہیں، طلبہ میں علمی ذوق پروان چڑھتا رہا اور ادارہ اپنے علاقے میں دینی و علمی مرکز کی حیثیت سے مزید مستحکم ہوتا گیا۔ یہ وہ خدمات ہیں جو مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کے نام کو اس ادارے کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ اور تابندہ رکھیں گی۔

مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ صرف ایک جید مدرس اور صاحبِ درس عالم ہی نہ تھے بلکہ خطابت کے میدان میں بھی ان کا ایک منفرد اور دل نشیں مقام تھا۔ ان کی تقریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی تھی بلکہ علم و فکر کی ایسی بامعنی ترجمانی ہوتی تھی جس میں دل کی حرارت اور ذہن کی بصیرت یکجا نظر آتی تھی۔ جب وہ منبر یا اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے تو ان کی گفتگو میں ایک خاص وقار، سنجیدگی اور تاثیر پیدا ہوجاتی تھی۔ ان کے لب و لہجے میں نہ تصنع ہوتا تھا اور نہ ہی خطیبانہ مبالغہ، بلکہ ایک سادہ مگر پُراثر اسلوب ہوتا تھا جو براہِ راست سامعین کے دلوں میں اتر جاتا تھا۔

ان کی خطابت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ علمی گہرائی اور فکری پختگی کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ قرآن و حدیث کے دلائل، تاریخی شواہد اور عقلی استدلال کو نہایت سلیقے اور ترتیب کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تقریریں نہ صرف عوام کے لیے دلنشیں ہوتیں بلکہ اہلِ علم کے لیے بھی باعثِ توجہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے بیان میں سلاست و روانی کا ایسا حسن ہوتا تھا کہ سامعین پوری انہماک کے ساتھ ان کی گفتگو سنتے اور دیر تک اس کے اثرات محسوس کرتے رہتے۔

مولانا اصلاحیؒ کی خطابت میں اصلاحِ معاشرہ اور بیداریِ فکر کا جذبہ بھی نمایاں نظر آتا تھا۔ وہ محض معلومات فراہم کرنے والے خطیب نہیں تھے بلکہ اپنے سامعین کے اندر دینی شعور اور اخلاقی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نصیحت کا درد بھی ہوتا تھا اور فکر کی روشنی بھی۔ یہی وجہ تھی کہ جو شخص ایک مرتبہ ان کی تقریر سن لیتا وہ دیر تک اس کے اثر سے باہر نہیں آتا تھا۔

خطابت کے ساتھ ساتھ مولانا اصلاحیؒ کی شخصیت کا ایک اور نہایت روشن پہلو ان کا ادبی ذوق تھا۔ وہ فطری طور پر ادب پسند اور زبان و بیان کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اردو زبان پر انہیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ ان کی تحریر میں نہایت سلاست، شستگی اور بامحاورہ انداز پایا جاتا تھا۔ وہ پیچیدہ علمی مضامین کو بھی ایسی سادہ اور دلنشیں زبان میں بیان کرتے تھے کہ قاری کو نہ دشواری محسوس ہوتی اور نہ ہی اکتاہٹ کا احساس ہوتا۔

راقم الحروف کی والدہ محترمہ فرزانہ شفیع رحمۃ اللہ علیہا،جو مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں، اکثر محبت اور عقیدت بھرے انداز میں اپنے والد گرامی کی یادوں کا تذکرہ کیا کرتی تھیں۔ جب کبھی گھر کے ماحول میں ماضی کی باتیں چھڑتیں تو وہ نہایت شوق اور فخر کے ساتھ بتایا کرتیں کہ جب اکاشوانی پٹنہ کے ریڈیو اسٹیشن سے ابّاجی)مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ) کی تقریر نشر ہونے والی ہوتی تھی تو اس کی خبر سن کر لوگ بڑی بے چینی اور شوق کے ساتھ اس لمحے کا انتظار کیا کرتے تھے۔وہ بیان کرتیں کہ اس زمانے میں ریڈیو ہر گھر کی اہم ضرورت تو نہیں تھا، مگر جہاں بھی ریڈیو موجود ہوتا وہاں محلے کے لوگ جمع ہوجاتے تھے۔ جیسے ہی اعلان ہوتا کہ اب اباجی کی تقریر نشر کی جائے گی تو فضا میں ایک خاص خاموشی اور سنجیدگی چھا جاتی تھی۔ لوگ پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ ان کی آواز سنتے اور ان کی گفتگو کے ہر جملے کو دل میں محفوظ کر لینے کی کوشش کرتے تھے۔والدہ محترمہ بتایا کرتیں کہ ان کی آواز میں ایک عجیب تاثیر اور دلنشینی تھی۔ جب وہ بولتے تو سننے والوں کو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی مخلص رہبر نہایت سادگی مگر گہری دانائی کے ساتھ دلوں کو مخاطب کر رہا ہو۔ اسی لیے بہت سے لوگ باقاعدہ اپنے کام کاج اس طرح ترتیب دیتے کہ مولانا اصلاحیؒ کی تقریر سننے سے محروم نہ رہ جائیں۔والدہ مرحومہ جب یہ واقعات سناتی تھیں تو ان کی آواز میں عقیدت بھی ہوتی تھی اور ایک بیٹی کے دل کی وہ محبت بھی جھلکتی تھی جو اپنے والد کی شخصیت اور خدمات پر فخر محسوس کرتی ہے۔ ان کی ان یادوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی خطابت صرف ایک علمی سرگرمی نہیں تھی بلکہ دلوں کو متاثر کرنے والی ایک ایسی صدا تھی جو اپنے زمانے میں دور دور تک سنی اور محسوس کی جاتی تھی۔

ان کی تقریر کی طرح ان کی تحریر بھی قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی تھی،ان کے اسلوبِ تحریر میں علمی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ادبی لطافت بھی نمایاں ہوتی تھی۔ عبارت میں روانی، جملوں میں توازن اور الفاظ کے انتخاب میں ایک خاص نزاکت پائی جاتی تھی۔ ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ایک صاحبِ فکر عالم کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ ذوق ادیب بھی قلم اٹھائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین صرف معلوماتی نہیں ہوتے تھے بلکہ ادبی لطف اور فکری تازگی بھی اپنے اندر رکھتے تھے۔مولانا اصلاحیؒ کا قلم بھی ان کی زبان کی طرح مؤثر اور بیدار مغز تھا۔ وہ جب کسی موضوع پر لکھتے تو اس کے مختلف پہلوؤں کو نہایت غور و فکر کے ساتھ پیش کرتے۔ ان کے مضامین میں تحقیق کا عنصر بھی ہوتا تھا اور اصلاح کا جذبہ بھی۔ اس طرح ان کی تحریریں علمی وقار اور ادبی حسن کا ایک حسین امتزاج بن جاتی تھیں جو قاری کو نہ صرف متاثر کرتی تھیں بلکہ اس کے فکر و شعور کو بھی مہمیز دیتی تھیں۔

صحافت کے میدان میں بھی مولانا اصلاحیؒ نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آپ ایک باصلاحیت قلمکار، انشاءپرداز اور مدیر تھے۔ آپ نے مختلف دینی و علمی موضوعات پر مضامین تحریر کیے جن میں علمی تحقیق، فکری بصیرت اور ادبی حسن کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کی تحریریں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی تھیں۔تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی مولانا اصلاحیؒ نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ آپ متعدد اہم کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کتابوں میں دینی مسائل کی وضاحت، اسلامی فکر کی ترجمانی اور علمی تحقیق کے روشن نقوش ملتے ہیں۔ آپ کی تصنیفات اہل علم کے لیے علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی زندگی کا ایک نہایت خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی علمی روایت ان کے خانوادے میں آج بھی زندہ ہے۔ آپ کے فرزند مظفر شفیع اصلاحی اپنے والد کے قائم کردہ ادارہ "مدرسہ تقویتہ الایمان، بشن پور، کانٹی، ضلع مظفرپور” میں بحیثیت مدرس دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کی بنیاد مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ نے اپنے علاقے میں دینی تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے رکھی تھی۔ آج جب مظفر شفیع اصلاحی اسی درسگاہ میں علم کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ باپ کے ہاتھوں جلایا ہوا چراغ بیٹے کے ہاتھوں مزید فروزاں ہورہا ہے۔اسی علمی تسلسل کی ایک روشن کڑی مولانا اصلاحیؒ کے پوتے مولانا مجاہد شفیع اصلاحی ہیں جنہوں نے 2024ء میں مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے سندِ عالمیت حاصل کی۔ یہ امر نہایت معنی خیز ہے کہ جس درسگاہ سے کبھی دادا نے علم حاصل کیا تھا، اسی علمی سرچشمے سے پوتا بھی فیضیاب ہوکر میدانِ علم میں قدم رکھ رہا ہے۔ اس طرح اس خانوادے کی علمی روایت ایک خوبصورت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔تاہم اس خانوادے کی تاریخ میں ایک دردناک لمحہ بھی آیا جب مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی اور راقم کی والدہ فرزانہ شفیع 3 مارچ 2026ء کو 55 برس کی عمر میں، اپنے گھر مجھولیا، ڈاکخانہ پارو، ضلع مظفرپور میں اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔ یہ خبر خاندان کے لیے نہایت صدمہ انگیز ثابت ہوئی۔ ایک عظیم عالم دین کی یادوں سے وابستہ بیٹی کا اس طرح اچانک دنیا سے رخصت ہوجانا اہلِ خانہ کے لیے گہرے غم کا سبب بنا۔ مگر اہل ایمان کا سرمایہ صبر و رضا ہے، اور یہی یقین دلوں کو تسلی دیتا ہے کہ جو اللہ کی امانت تھا وہ اسی کی طرف لوٹ گیا۔13 مارچ 2010ء کو یہ مردِ درویش اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ آپ کا انتقال اپنے آبائی گاؤں بشن پور میں ہوا اور وہیں سپرد خاک کیے گئے۔ آپ کی وفات سے علمی و دینی حلقوں میں ایک خلا پیدا ہوا جسے پر کرنا آسان نہیں۔ تاہم آپ کی علمی خدمات، آپ کی تحریریں اور آپ کے تربیت یافتہ شاگرد آج بھی آپ کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اخلاص، محنت اور علم دوستی انسان کو کس طرح علمی دنیا میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت، علم کی ترویج اور نسل نو کی تربیت کے لیے وقف کردی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام دینی و علمی تاریخ میں احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا رہے گا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مولانا اصلاحیؒ کی حیات و خدمات پر سنجیدہ اور تحقیقی کام کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم عالم دین کی علمی میراث سے استفادہ کرسکیں۔ یہی احساسِ ذمہ داری راقم الحروف کے دل میں مدت سے موجزن ہے۔نانا جان، مولانا شفیع احمد اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع اور متنوع ہے کہ انہیں محض چند سطروں یا مختصر مضامین میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ ان کی زندگی درس و تدریس، دعوت و اصلاح، خطابت و صحافت اور تصنیف و تالیف کی ایسی ہمہ جہت داستان ہے جو باقاعدہ تحقیق اور تفصیلی مطالعے کی متقاضی ہے۔اسی احساس کے تحت راقم الحروف گزشتہ کچھ عرصے سے مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی حیات و خدمات پر ایک جامع، مدلل اور تحقیقی کتاب کی ترتیب و تدوین میں مصروف ہے۔ اس کتاب میں مولانا اصلاحیؒ کی خاندانی روایت، تعلیمی مراحل، علمی اساتذہ، تدریسی خدمات، خطیبانہ کمالات، ادبی ذوق، صحافتی سرگرمیوں اور تصنیفی کارناموں کو نہایت تحقیق اور حوالہ جات کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے شاگردوں، معاصر اہلِ علم اور متعلقین کے تاثرات، یادداشتیں اور واقعات بھی اس کتاب کا حصہ بنائے جا رہے ہیں تاکہ مولانا اصلاحیؒ کی شخصیت کے مختلف پہلو پوری جامعیت کے ساتھ سامنے آسکیں۔اس تحقیقی کاوش کا مقصد صرف ایک شخصیت کی سوانح مرتب کرنا نہیں بلکہ اس علمی روایت کو محفوظ کرنا بھی ہے جس کی بنیاد مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ جیسے اہلِ علم نے اپنی زندگی کی محنت، اخلاص اور قربانیوں سے رکھی تھی۔ امید ہے کہ یہ کتاب نہ صرف مولانا اصلاحیؒ کی علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرے گی بلکہ نئی نسل کے طلبہ اور اہلِ علم کے لیے بھی ایک قیمتی علمی ماخذ ثابت ہوگی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس حقیر کوشش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور یہ علمی خدمت جلد پایۂ تکمیل تک پہنچ کر منظرِ عام پر آسکے۔اللہ تعالیٰ مولانا شفیع احمد اصلاحیؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی علمی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔

٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply