مولانا مسعود عالم ندوی ؒ۔حالات زندگی پر ایک تحقیقی نظر
طلحہ نعمت ندوی
مولانا مسعود عالم ندوی کا شمار بر صغیر کے ممتاز اہل علم اور عالم اسلام کے ممتاز اہل علم ودعوت اور عربی ادب کے فضلاء وانشاپردازوں میں ہوتا ہے لیکن ان کے حالات زندگی پر اہل قلم کو بہت کم مواد دستیاب ہو سکا ہے، اس لئے کتابوں میں ان کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن حالات زندگی کا وہی مختصر مواد ان کے پیش نظر ہوتا ہے جو ان کی وفات کے بعد ان کے رفیق عاصم الحداد صاحب نے ماہنامہ چراغ راہ کراچی کے خصوصی نمبر برائے مولانا مسعود عالم ندوی مارچ ۱۹۵۵ء میں لکھا تھا ، ان کے حالات زندگی پر صرف انہیں کا مضمون اس خصوصی شمارہ میں نظر آتا ہے۔ مولانا نے اپنے حالات زندگی کے سلسلہ میں بعض عرب اہل قلم کے مطالبہ کے باوجود کبھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ۔ عاصم الحداد صاحب نے حالات زندگی کا یہ مواد کہاں سے حاصل کیا ؟ قیا س غالب ہے کہ مولانا کی طویل صحبت میں رہتے ہوئے انہیں مختلف مواقع پر خود مولانا کی زبانی جستہ جستہ سوانحی اشارات و واقعات سننے کا موقع ملا ہو ،نیزجوسوانحی اشارات مولانا کی تحریروں میںموجود ہیں ان کا بڑاحصہ بھی ان کے پیش نظر رہا ہے۔اس کے علاوہ دوسری صورت بھی ممکن ہے (لیکن اس کا امکان بہت کم ہے )وہ یہ کہ مولانا کے والد ماجد مولانا عبد الشکور صاحب اس وقت حیات تھے اور بہارشریف میں مدرسہ اسلامیہ میںصدر مدرس تھے ،ممکن ہے ان سے مراسلت ہوئی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے تھی، بلکہ بہتر ہوتا کہ خود ان سے کوئی مضمون املا کرا یا جاتا یا کم از کم استفسار کے جواب پر مشتمل ان کا مکتوب ہی شائع کیا جاتا تو ان کے حالات پر ایک مستند ماخذ ہوتا ۔

راقم کومولانا کے مختلف مضامین کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہوا کہ خود مولانا کے قلم سے ان کے حالات و سوانح پر ان کی تحریروں میں متعد بہ مواد اور اشارات موجود ہیں ،جن کو یکجا کردینے سے ان کے مستند حالات اہل علم کے سامنے آسکتے ہیں۔ مولانا کا خاندان بھی اہل علم کا خاندان تھا ، ان کا وطن بھی اہل علم کا قریہ تھا لیکن خود ان کے صوبہ کے اہل علم بھی ان سے واقف نہ ہوسکے، نہ یہاں مولانا اور ان کے بزرگان خاندان پر کوئی کام ہوا۔
اس تمہید کے بعد ہم پہلے ان کے وطن ، پھر ان کے والد اور دیگر بزرگان خاندان کا ذکر کریں گے، اس کے بعد خود مولانا کی تحریروں کی روشنی میں ان کے حالات زندگی پیش کریں گے ، بالخصوص سوانح حیات کا وہ پہلو جو اب تک تشنہ ہے۔
وطن:
نواح عظیم آباد میںبہارشریف اوراس کے قرب و جوار کی بستیاں عربی النسل خانوادوں سے آباد تھیں اور اپنی علمی روایات میں مشہور و معروف، ان میں شہر بہارشریف کے علاوہ چار بستیاں کثرت رجال اور علمی و ادبی ذوق کے لئے معروف ہیں ان میں ایک نام مولانا کے وطن اگاواںکا بھی ہے ، دسنہ ، استھاواں (۱)گیلانی اور اگانواں چار بستیوں میںجس کثرت سے اہل علم پیدا ہوئے اور انہیں جو شہرت حاصل ہوئی وہ اطراف کی دیگر بستیوں کو حاصل نہیں ہو سکی۔
’’تاریخ بارہ گاواں و مضافاتـ‘‘ کے مصنف پروفیسر مجیب الرحمن مہونوی (سابق پروفیسر شعبہ فارسی کلکتہ یونیورسٹی) نے (جومولانا کے قریب الوطن ہیں) مولانا کے وطن اگانواں کا مفصل تعارف کرایا ہے ۔ اگرچہ ان کی کتاب غیر مرتب اور غیر مستند روایات پر مشتمل ہے لیکن اگانواں کی جو تفصیلی تاریخ انہوں نے لکھی وہ وہاں کے اہل علم سے دریافت کر کے لکھی ہے اور مقدمہ میں ان کا ذکر بھی کیا اس لئے اس قریہ کے متعلق ان کی اطلاعات قابل اعتبار ہیں ، ان کی اطلاعات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
یہ گاؤں بہارشریف سے شیخ پورہ جانے والی سڑک پر گیلانی سے پہلے موضع سارے سے دس بارہ کلو میٹر اندر عام شاہراہ سے ہٹ کر اس چھوٹی سڑک پر واقع ہے جو اس کو وارث علی گنج سے ملاتی ہے ۔ آس پاس کی بستیوں میں رمضان پور ، کونند اور موہنی ،ویاؤ اورچارگاواں اہل علم کی بستیاں ہیں ۔ پہلے قریب ہی چھوٹے چھوٹے چھ گاؤں آباد تھے ، اکبر پور ، مقصود پور ، فتح پور ، مہمر پور، جتن پور۔ ہر گاؤں اپنے مورث اعلی کے نام پر تھا جن کو وہاں جائیدادیں دی گئی تھیں، اسی لئے سب کے ساتھ گاؤں کا لفظ لگایا جاتا تھا جو کثرت استعمال سے اگاواں ہو گیا اور بقیہ سارے نام مٹ گئے اور کثرت آبادی سے سب ایک ہو گئے ۔ اکبر بادشاہ کے زمانے سے یہ بستی آباد ہے جو شرفا کا مسکن اور مردم خیز رہی ہے ۔(۲)
موجودہ تقسیم کے مطابق ضلع نالندہ (بہارشریف)میں اس کی آخری سرحد پر ضلع شیخ پورہ سے قریب واقع ہے۔
مولانا سے پہلے اور ان کے بعد یہاں متعدد علما ء پیدا ہوئے جن کا یہاں ذکر باعث طوالت ہوگا ۔ لیکن اصل اگاواں کا قاضی خاندان معروف خاندان تھا ، یہاں کے بیشتر شرفاء اسی خاندان سادات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مولانا نے اس خاندان کا ذکر اپنے نانا کے حالات میں کیا ہے، لیکن اپنے بارے میں اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ اسی خاندان سے ان کا نسبی تعلق چلا ہے یا کوئی اور خاندان باہر سے آکر یہاں آباد ہوا تھا ۔ مولانا کے داد کے علاوہ اوپر کے نام اور سلسلہ ٔ نسب کا سراغ نہیں ملتا البتہ خانواہ ٔسادات سے انتساب متفق علیہ ہے۔
مولانا کا دادیہالی اور نانہالی دونوں خاندان ذی علم تھا ، ان کے دادا کے بارے میں کوئی بہت زیادہ اطلاع نہیں ملتی،صرف عاصم صاحب کی روایت سے ان کا نام خدابخش معلوم ہوتا ہے ،اور یہ کہ وہ چھ ماہ علاقہ میں دعوتی خدمات انجام دیتے اور چھ ماہ کسب معاش میں گذارتے،مولانا کی کسی تحریر یا کسی علاقائی ماخذ میں اس کی صراحت نہیں ملی،مولانا کے نانا مولانا عبدالصمد اگانوی کا شمار ممتاز علماء میں ہوتا ہے ،اور خود مولانا کے قلم سے ان کے حالات پر ایک اہم مضمون موجود ہے۔
یہ مضمون تذکرہ علمائے اہل حدیث جلد دومرتبہ امام یحییٰ خاں نوشہری کے لئے لکھا گیا تھا لیکن گیا کے مشہور ماہنامہ ندیم میں بھی شائع ہوا۔اس کے مطابق مولانا عبدالصمد نے۴۱ سال کی عمر پائی ،مولانا عبداللہ غازی پور سے مدرسہ چشمۂ رحمت میں پڑھا پھر مولانا سید نذیر حسین دہلوی سے علم حدیث کی تحصیل کرکے تکمیل کی ،کچھ دنوں کلکتہ میں بھی رہے اورا سی دوران علامہ جمال الدین افغانی وہاں آئے تو ان کی صحبت بھی اٹھائی،پھر مدرسہ محمدیہ دانا پورمیں مدرس ہوگئے اور اخیر تک اسی خدمت میں مشغول رہے،تصوف میں ایک رسالہ الاشتباہ عن صفات اولیاء اللہ اور فارسی قواعد میں تسہیل التعلیم اور فقہ میں ایک رسالہ یادگار ہے ۔ان کا خاندان مراواں ضلع لکھی سرائے (مونگیر )سے اگاواں آکر آباد ہوا تھا ۔مدرس ہونے کے ساتھ ایک ممتاز داعی اور مصلح بھی تھے،۱۳۸۱ھ (۱۹۰۰ء)میں انتقال ہوا ،مزید حالات اس مضمون سے معلوم ہوسکتے ہیں ۔(۳) ان کے تذکرہ کے ضمن میں مولانا نے اپنی والدہ محترمہ کا بھی ذکرکیا ہے ،لکھتے ہیں : ـ’’اولاد میں برکت نہیں ہوئی ،صرف ایک صاحبزادی یادگار تھیں ،وہ بھی ذی الحجہ ۴۴ھ (۱۳۴۴ھ)میں انتقال کرگئیں ،راقم نے اسی پاک باز خاتون کی آغوش میں پرورش پائی ہے ،اس لئے یہ شہادت دے سکتا ہے کہ آج تک کسی خاتون میں بدعات سے یہ نفرت نہیں دیکھی،مرحومہ کی اولاد میں اس وقت (۱۹۴۰ء)ایک فرزند اور دو نواسیاں حیات ہیں ‘‘۔(۴)
مولانا کے چچا مولانا عبدالرؤوف صاحب بھی عالم تھے ،اور مولانا عبدالکبیر ہرگانوی بھی جو ایک ممتاز اہل حدیث عالم تھے ،ان کے والد کے پھوپھی زاد بھائی تھے،جس کا تذکرہ خود مولانا کی تحریر میں موجود ہے ۔(۵)
مولانا کی تحریروں میں ان کے والد مولانا حکیم سید عبدالشکورصاحب ؒکے متعلق بھی جابجا اشارات موجود ہیں ۔مولانا عبدالشکور صاحب کی پیدائش ۱۲۹۰ھ(تقریبا ۸۷۵ٍ۱ء)میں ہوئی ،دارا نگر بنارس میں اپنے پھوپھی زاد بھائی کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی ،جس میں ان کے بڑے بھائی مولانا عبدالرؤوف صاحب بھی شریک تھے،تکمیل کانپور اور علی گڑھ میں کی ۔(۶)یعنی دونوں جگہ کے مشہور اساتذہ سے استفادہ کیا،کانپور میں مولانا احمد حسن کانپوری سے پڑھا اور علی گڑھ میں مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے تکمیل کی۔(۷)۔تدریسی خدمت مدرسہ اسلامیہ بہارشریف ہی میں انجام دی ،جو ان کے ایک عزیز مولانا سید وحید الحق استھانوی ؒ کا قائم کردہ تھا،عجب نہیں کہ وہاں انہوں نے طالب علمی کے ابتدائی ایام بھی گذارے ہوں ،گرچہ اس کی صراحت نہیں ملتی۔تدریسی خدمت کا آغاز وانجام تو اسی مدرسہ سے ہوا لیکن کچھ دنوں کے لئے مولانا مسعود عالم صاحب کی تصریح کے مطابق مئو کے ایک مدرسہ میں بھی رہے ،مولانا لکھتے ہیں :’’مئوناتھ بھنجن میں ایک مدرسہ میں والد ماجد قبلہ بھی مدرس اول تھے‘‘۔(۸)مولانا ضیاء الرحمن کے محولہ بالا مضمون کے مطابق وہ مولانگر اسٹیٹ(لکھی سرائے بہار جو ان کے وطن سے قریب ہی ہے)میں بھی خدمت انجام دی ،ممکن ہے کچھ دنوں وہاں رہے ہوں لیکن زیادہ رہنے کا امکان کم ہے،انہوںنے مئو کے بجائے مدرسہ عالیہ کلکتہ کا ذکر کیا ہے لیکن قرائن سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ،اس سلسلہ میں ان کے فرزند کی بات ہی قابل قبول ہے۔مولانا کو سب نے(بشمول مولانا مسعود عالم ندوی) حکیم بھی لکھا ہے لیکن معلوم نہیں انہوں طب کی تعلیم کہاں حاصل کی تھی،البتہ غالبا وہ اس سے وابستہ نہیں ہوئے،اس لئے کہ بہارشریف میں ان کے جاننے والوں میں کوئی ان کے مطب کا ذکر کرتا ہے،نہ کسی تحریر سے اس کا علم ہوتا ہے۔ مولانا مسعود عالم صاحب کی والد ہ کا مولانا کے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا ،جن سے ان کے پانچ بیٹے اورایک لڑکی تھی ،جن میں چار بھائیوں کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا۔(۹) مولانا کے ایک بھائی جن کا نام محمود تھا ان کے بچپن میں گاؤں کے تالاب میں ڈوب جانے کا تذکرہ مولانا کے ایک عزیز نے وطن میں راقم سے کیا تھا۔ایک صاحب زادی تھیں وہ بھی شادی کے بعد اپنی والد ہ کی حیات ہی میں رخصت ہوگئی تھیں ۔(۱۰)بعد میں مولانا کے والدکی شادی سجادہ نشین خانقاہ بہارشریف کے اصرار پر تاج پور( سمستی پور) میں ہوئی تھی،ان سے ایک صاحبزادے لطف اللہ پیدا ہوئے ، ان کو دیکھنے والے موجود ہیں ،بہارشریف میں ان کی گھڑی کی دکان تھی ۔(۱۱)
مولانا اخیر تک مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کے صدر مدرس رہے ،اور جمعیۃ علمائے بہار شریف کے صدر بھی تھے،مولانا مسعود عالم صاحب کے بقول ’’امارت شرعیہ کے تحت جمعیۃ علماء قائم کی گئی تھی جس کے صدر والد ماجد مولانا عبدالشکور مدظلہ تھے۔(۱۲)
ضیاء الرحمن صاحب کے محولہ بالا مضمون کے حوالہ سے تاریخ بارہ گاواں میں ان کی وفات کا سنہ۱۳۶۸ھ لکھا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں ،ایک قول کے مطابق ان کی وفات اپنے فرزند کے دوسال کے بعد مئی ۵۶ ۱۹ء میں بہار شریف میں ہوئی اور اسی شہر کے محلہ میرداد میں ان کی تدفین ہوئی،مولانا مسعود عالم صاحب سے متعلق ایک مضمون از محمد نیاز شائع شدہ ماہنامہ صنم پٹنہ بہار نمبر ۱۹۵۹ء میں اس کی صراحت ہے کہ ’’ابھی حال ہی میں ۱۹۵۶ء میں ان انتقال ہوا ہے،یہ مضمون سال وفات کے صرف تین سال کے بعد لکھا گیا ہے اور اس میں مکمل صراحت بھی ہے اس لئے یہی زیادہ قابل قبول ہے، ان کے دیکھنے والے کئی لوگ موجود ہیں ،جن میں بہارشریف کے معروف عالم مولانا ابوسلمہ شفیع کے صاحبزادہ مولانا طلحہ ابوسلمہ ندوی بھی ہیں ،جنہوں نے ان سے بڑھا بھی ہے ،لیکن ان کی رائے میں یہ تاریخ درست نہیں ،ممکن ہے نیاز صاحب کے مضمون میں کچھ غلطی ہو،البتہ اس سے اتنا اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۹۵۹ سے قبل ان کا انتقال ہوچکا تھا ،اور بہ ظاہر انہیں تین سالوں کے دوران ان کی وفات ہوئی ۔تاریخ بارہ گاواں میں مدفن بہارشریف کے محلہ میردادکو بتایا گیا ہے۔(۱۳)
مولانا کی ولاد ت عاصم الحداد صاحب کی تصریح کے مطابق ۲۱؍محرم الحرام ۱۳۲۸ھ مطابق ۱۱فروری ۱۹۱۰ء کو ان کے وطن میں ہوئی ،شاید یہ تاریخ خود مولانا سے ان کی زندگی میں معلوم کی گئی ہوگی۔
مولانا کی تعلیم کا آغاز ان کے وطن میں لکھا گیا ہے ،ممکن ہے کہ ایسا ہو ورنہ اگر ان کے والد بہارشریف میں مدرس تھے تو پھر وہاں تعلیم کا آغاز ہونا زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ،یا ممکن ہے کہ اس وقت تک ان کے گھر والے بہارشریف نہ آئے ہوں۔پھر ان کی تعلیم ایک انگریزی اسکول میں ہونے لگی،لیکن جلد ہی علماء کے فتوی کی بنا پر ان کو وہاں سے ہٹا کر شہر کے معروف مدرسہ عزیزیہ میں داخل کیا گیا جو اس وقت بہار میں مرجع کی حیثیت رکھتا تھا،مولانا نے خود اس کی صراحت کی ہے،لکھتے ہیں:’’تحریک خلافت کے ہنگامہ خیز دنوں میں راقم ایک انگریزی اسکول کا طالب علم تھا ،والد ماجد خلافت کمیٹی اور جمعیت علماء کے خاص کارکن تھے،اسکول چھوڑ کر مدرسہ آنا پڑا ‘‘۔(۱۴)
اس کے بعد مولانا نے اس مضمون میں تفصیل سے حضرت مولانا سجاد اور مدرسہ عزیزیہ کے متعلق اپنے مشاہدات کا ذکر کیا ہے،اس وقت مولانا کی عمر آٹھ ،دس سال کے قریب ہوگی ،مولانا نے اس مدرسہ میں تقریبا ۲۷۔۱۹۲۶ء تک تعلیم حاصل کی۔اسی دوران یعنی ۱۹۲۶ء میں مولانا کی والدہ کا حادثہ ٔ وفات بھی پیش آیا ،جس کا ذکر اوپر گذرچکا ہے۔
تقریبا پانچ ،چھ سالہ مدت تعلیم کے بعد انہوں نے مدرسہ سے ملا اور مولوی کی ڈگری حاصل کرلی،جو عالمیت سے ایک سال پہلے ملتی تھی،عالمیت کی تکمیل کا کسی تحریر سے علم نہیں ہوتا۔یہاں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ عاصم صاحب نے مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں بھی ان کی تعلیم کا ذکر کیا ہے ،جس کا ذکر خود مولانا نے اپنی ایک عربی تحریر میں کیا ہے جو ہفتہ عربی اخبار الفتح قاہرہ میں شائع ہوا تھا اور اس کا عنوان تھا صلتی بالفتح ۔ گرچہ مولانا محمد ناظم ندوی کے مضمون (مشمولہ ماہ نامہ چراغ راہ ،کراچی خاص نمبر)میں کہیں اس کا ذکرنہیں ہے ،جب کہ مولانا مسعود صاحب کا مدرسہ کا مکمل طالب علمانہ دور ان کے سامنے تھااور انہوں نے اس دور طالب علمی کا خاص طور پر ذکر کیا ہے،مولانا ناظم صاحب ان سے جونیر تھے لیکن مدرسہ کی ثقافتی سرگرمیوں میں ساتھ ساتھ رہتے تھے،ایک اور رفیق جواں مرگ مولانا یوسف بہاری تھے ،تینوں کو عربی کااعلیٰ ذوق تھا ،اسی لئے تینوں نے وہاں سے ندوہ کا رخ کیا اوراپنی علمی تشنگی بجھائی۔ہاں مولانا ناظم صاحب نے یہ ضرور لکھا ہے کہ مدرسہ کا نیا نظام قائم ہوا تھا ،یعنی مدرسہ سرکاری امتحان بورڈ سے ملحق ہوگیا تھا اس لئے امتحان دینے کے لئے پٹنہ جانا اور مدرسہ شمس الہدیٰ میں امتحان دینا ضروری ہوتا تھا۔
اس کے بعد مولانا نے چند ماہ دہلی کے مدرسہ امینیہ میں گذارے ،اس سلسلہ میں عاصم صاحب کا بیان معتبر نہیں کہ وہ خاموشی سے گھر سے نکل گئے بلکہ گھر والوں کے مشورہ اور اپنے والد اور حضرت مولانا محمد سجاد کی ہدایت پر وہاں گئے تھے،اس سلسلہ میں خود مولانا حضرت مولانا سجاد کے ذکر میں لکھتے ہیں:’’جولائی ۱۹۲۷ءکے لگ بھگ راقم دہلی جارہا تھا ،کسی عربی مدرسہ میں تکمیل کا قصد تھا،والد ماجد نے خود مولانا (ابوالمحاسن)کو خط لکھا ،مولانا دورے میں تھے، کچھ تعویق سے ان کا گرامی نامہ ملا،اور اس میں ایک طویل مکتوب مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے نام تھا جس میںراجپال ایجی ٹیشن اور وقت کے دوسرے مسئلوں پر اظہار رائے کے علاوہ راقم کے لئے سفارش کی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دلی کا ماحول راس نہ آیا تو میں ندوہ چلاآیا‘‘۔(۱۵)
مولانا نے سید صاحب پر اپنے مضمون میں کہیں اس کاذکر نہیں کیا ہے ،البتہ اس کے بعد کے حالات اور ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے تک کے اشارات مذکورہ مضمون میں جابجا آگئے ہیں جن کو ہم ذیل میں انہیں کے الفاظ میں درج کرتے ہیں،اس کے بعد کے واقعات کے محترم عاصم الحداد صاحب چشم دید گواہ ہیں اور دوسرے حضرات بھی واقف ہیں ،نیز دیگر تحریروں میں ان کی تفصیلات آگئی ہیں اس لئے ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ہم نے مولانا کے بیان کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ خود مولانا کی آپ بیتی معلوم ہوگی ،یہ اقتباسات ان کے محولہ بالا مضمون (استاذمرحوم شائع شدہ معارف سلیمان نمبرمئی ۱۹۵۵ء )سے ماخوذ ہیں۔انہوں نے بہارشریف کے مدرسہ عزیزیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھاتھا
قدرت کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ ۲۷ ء کے اکتوبر میں مصر کے کچھ عربی رسالے نظر سے گذرے، اور ایک دوست کی عنایت سے الہلال (مصر) کی متعدد جلدیں مل گئیں، راقم بے سوچے سمجھے ان کی تلاوت میں لگ گیا، ان دنوں ’’الہلال‘‘ میں طہ حسین کے مضامین اکثر شائع ہوتے تھے، یہ نا آشنائے کوچۂ ادب پہلے پہل ان سے بہت متأثر ہوا اور جی میں آنے لگا کہ ’’مصر چل کر ڈاکٹر طہٰ حسین کے سامنے زانوئے تلمذ یہ کیجئے۔‘‘اس خام خیالی میں ایک اور دوست بھی ہم نوا تھے،انھوں نے تو براہ راست خط وکتابت بھی شروع کردی، راقم نے مولانا سید سلیمان ندوی (یہ اس وقت کی زبان نقل کر رہا ہوں) سے مراسلت کی طرح ڈالی، پہلا خط گھنٹوں کی محنت کے بعد ٹوٹی پھوٹی عربی میں (غالبًا میری زندگی کا یہ پہلا عربی خط تھا) اعظم گڈھ کے پتہ پر لکھا، اتفاق سے مولانا رمضان گذارنے کے لئے دیسنہ آئے ہوئے تھے، جواب وہیں سے ملا اور بہت حوصلہ افزا، مصری درسگاہوں کے متعلق استفسار کے جواب میں ارشاد ہوا، بہتر ہوگا کہ تم سال دوسال کے لئے ندوہ میں داخلہ لے لو، جواب سلیس اور سادہ عربی میں تھا، زبان دل کو لگ گئی، پڑھتے پڑھاتے خط ازبر ہوگیا، اب کیوں چوکتا، دوسرا خط فورًا ہی دیسنہ کے پتہ پر حاضر کیا، اس کا جواب بھی بروقت ملا، اس میں حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ طہٰ حسین اور اس کی ذریات پر سخت تنقید بھی تھی، غالبًا راقم نے خط میں اس کی ثنا خوانی کی تھی، ساتھ ہی ساتھ یہ خوشخبری تھی ’’میں دوسرے شوال کو اعظم گڈھ جارہا ہوں،‘‘ بس، پھر کیا تھا، دن گننے لگا، روانگی تو بہرحال بہارشریف ہی کے اسٹیشن سے ہوگی، یہ موقع کیوں ضائع کیا جائے؟ یہ دوسرا مکتوب بھی اسی سہل ممتنع زبان میںتھا، یہ بھی دوستوں کو پڑھتے پڑھاتے یاد ہوگیا اور آج ۲۶؍سال گذرنے کے بعد بھی یہ دونوں خط اب تک حرف بحرف یاد ہیں، نوجوانی کا شوق اسی کو کہتے ہیں، یہ مارچ ۲۸ ء (رمضان ۴۶ ھ) کا ذکر ہے۔
۲؍شوال ۴۶ ء کو وقت سے پہلے اسٹیشن پہنچ گیا، ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو ایک وجیہ نورانی چہرہ نظر آیا، سفید براق عمامہ، قاعدے کی سلی ہوئی شیروانی، ہاتھ میں ایک خوبصورت چھڑی، اور پاؤں میں گوہ کے چمڑے کا سادہ لیکن نفیس جوتہ، ہو نہ ہو، یہی علامہ سید سلیمان ندوی ہیں، یقین تھا، پر کسی سے تصدیق کر لوں تو آگے بڑھوں، حسن اتفاق سے قریب ہی پٹنہ کے شہر کے طبیب حکیم عبدالقیوم صاحب ڈیانوی پر نظر پڑگئی، ان سے ڈرتے ڈرتے اپنے خیال کی تصدیق کی، پھر آگے بڑھ کر سلام ومصافحہ کی سعادت حاصل کی، فرمایا: ’’میں نے تمہیں نہیں پہچانا‘‘، عرض کیا: خاکسار کا یہ پہلا موقع ہے، پھر اپنے خطوط کا ذکر کیا،دریافت کیا، کیا پڑھتے ہو، اور کس سے پڑھتے ہو؟ پھر ارشاد ہوا: ’’درسی کتابوں کے علاوہ کیا پڑھتے ہو‘‘، الہلال اور دارالہلال کے ہفتہ وار اخباروں کا نام سن کر فرمایا: ’’یہ کیا پڑھنے کی چیزیں ہیں؟ مقدمہ ابن خلدون اور المثل السائر (ابن اثیر) پڑھا کرو‘‘، مقدمہ ابن خلدون اور المثل السائر تو اس وقت میرے بس کی نہیں تھیں، پر الہلال کے متعلق مولانا کا ارشاد نہیں بھولا۔
دوسرے دن مدرسہ پہنچا، تو اپنے ہم چشموں کو انٹرویو کی داستان مزہ لے لے کر سنائی، ہمارے مدرسہ کے ادیب مولانا انوارالحق مئوی اعظمی مرحوم دیوبند کے فارغ اور بڑے ذہین آدمی تھے، جدید مصری ادب میں ’’الہلال‘‘ کا ان پر گہرا اثر تھا، میں نے جب علامہ ندی کی رائے سنائی تو وہ جھنجھلاکر بولے، ’’معارف‘‘ میں بھی ’’الہلال‘‘ کے ترجمے کے سوا کیا ہوتا ہے؟ ایک تو علامہ کا علمی رعب، دوسرے معارف پر اپنے استاد کی نارواتنقید نے مجھے ان سے بدگمان کردیا، آخر تین سال سے میں بھی ’’معارف‘‘ پڑھتا ہوں، ’’الہلال‘‘ کا ترجمہ کہاں ہوتا ہے؟ مولوی صاحب یقینی تعصب سے کام لے رہے ہیں، یہ خیال میرے دل میں جاگزیں ہوگیا، رسالہ الزہرا بھی قاہرہ سے آنے لگاتھا، ’’الہلال‘‘ کے مقابلہ میں راقم اس کا داعی اور ثناخوان بن گیا، انہی دنوں سیرۃ عائشہ پر الزہراء میں اس کے پختہ مغز اور صاحب علم ایڈیٹر محب الدین خطیب کے قلم سے ایک شاندار ریویو نکلا، اس سے علامہ ندوی کی وقعت دل میں اور بڑھ گئی، اللہ اللہ! مصر کے رسالوں میں ان کی تعریف چھپتی ہے، دوستوں سے کہتا اور اپنے ہونے والے استاذ مخدوم کے گن گایا کرتا۔
آخر یہ عقیدت ومحبت ندوہ لے گئی، اور اس طرح لے گئی کہ وہیں کا ہوکر رہ گیا، پہلی سب نسبتیں معدوم ہوگئیں، پہلی جولائی ۱۹۲۸ء کو لکھنؤ پہنچا، آٹھویں جماعت (جو اس وقت دارالعلوم کی آخری جماعت تھی) میں داخلہ ہوا، اور پورے انہماک کے ساتھ اپنے کام میں لگ گیا، پورا سال تعلیمی انہماک میں گذرا۔جولائی ۱۹۲۹ء میں سالانہ امتحان ہوا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے خاکسار نے نمایاں کامیابی حاصل کی، اور اپنی جماعت میں اول رہا، سیدصاحب قبلہ نے نتیجہ کے اعلان کے ساتھ حوصلہ افزا نوٹ لکھا، اور والد ماجد (مولانا حکیم محمد عبدالشکور صاحب مدظلہ، مولود ۱۲۹۰ھ) کو خط کے ذریعہ مبارک باددی۔ستمبر ۱۹۲۹ء اوراس کے بعد کا ذکر ہے، اب میں درجۂ تکمیل ادب کا طالب علم ہوں، یوں تو تکمیل کے پہلے سال میرے باقاعدہ استاذ مولانا عبدالحلیم صدیقی (استاذ تفسیر وادب دارالعلوم ندوۃ العلماء) تھے، لیکن مشورہ سیدصاحب سے ضرور کرتا، اور مراسلت بھی ہوتی، مگر بسااوقات جواب زبانی ملتا۔
تکمیل ادب کے دوسرے سال ہماری زندگی بدل گئی، ندوہ میں بہار کا موسم آیا، یعنی اگست ۱۹۳۰ء میں استاذ محترم شیخ تقی الدین محمد بن عبدالقادر الہلالی المغربی تشریف لائے، ندوہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک چوٹی کے عرب ادیب وزبان داں نے کرسی تدریس کو زینت دی۔ بس پھر کیا تھا، سارے مشاغل بالائے طاق رکھ کر زبان وادب کی تحصیل میں لگ گیا، علی میاں (جنہیں خلیل عرب صاحب کی صحبت میں زبان کا خاصا ذوق پیدا ہوچکا تھا، اور اب زیادہ تر حدیث کے درس میں مشغول رہا کرتے تھے) بھی از سرِنو نحو وادب کی تجدید وتکمیل میں لگ گئے، اکثر ہم لوگوں کا ساتھ رہتا، ہلالی صاحب بھی ہم لوگوں سے بہت خوش تھے، ہمارے علاوہ محمد ناظم صاحب اورابواللیث صاحب کا بھی ہلالی صاحب کے خاص شاگردوں میں شمار تھا، سیدصاحب قبلہ جب بھی تشریف لاتے، ہلالی صاحب سے ملتے، اور ان کا بڑا احترام کرتے، ہلالی صاحب ہم لوگوں کی بہت تعریف کرتے، اور بار بار زور دیتے، ’’ان لوگوں سے ندوہ میں تدریس کا کام لیا جائے‘‘۔
’’ ندوہ میں ۔۔۔۔ ایک ہنگامہ ہوا، (۱۹۳۵ء)، طلبہ کی معاونت کا الزام ایسے تین افراد پر بھی تھا، جو کسی نہ کسی حد تک اسٹاف میں شمار کئے جاتے تھے، ان میں سب سے کمزور ابوللیث صاحب تو فورًا الگ کردیئے گئے، مفتی محمد سعید صاحب اور راقم کو دارالعلوم سے باہر رہنے کا حکم ہوا، حالانکہ ابواللیث صاحب میرے مقابلے میں بہت نرم، بے زبان، اور مرنجان مرنج آدمی تھے، راقم کے متعلق مشہور تھا کہ اسے سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ وسلم بہت مانتے ہیں، اور غالبًا اسی لئے مجھ پر سخت وار کرنے کی ہمت نہیں پڑی، ورنہ ہنگامے میں میرا رویہ حددرجہ غیر محتاط تھا۔
اسی دوران میں راقم نے بے اجازت مدینہ (بجنور) کے شعبۂ ادارت کی رکنیت قبول کرلی تھی، عتاب ہوا اور حسب الحکم ڈیڑھ ماہ کے بعد ندوہ واپس آگیا (اگست ۱۹۳۷)۔
دسمبر ۱۹۳۷ ء میں حضرۃالاستاذؒ کی تحریک اور مخدومی مولانا محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش وتائید سے خدابخش اورنیٹل لائبریری میں میرا تقرر ہوگیا، اس علمی ماحول میں بھی میرا مرجع اعظم گڑھ ہی رہا، جو کچھ بھی لکھتاپہلے حضرۃالاستاذؒ سے مشورہ لیتا، ادھر عربی سے تعلق کچھ کم ہوا، تو ’’معارف‘‘ میں لکھنا شروع کیا،(۱۶) بہت ڈرتے ڈرتے ہمت ہوئی، مگر سیدصاحب قبلہ کی حوصلہ افزائی نے یہ مرحلہ آسان کردیا، ۱۹۳۸ ء سے ۱۹۴۴ ء تک ’’معارف‘‘ کے لئے کچھ نہ کچھ لکھتا رہا۔پٹنہ میں خاکسار تقریبًا سات سال رہا، (دسمبر ۱۹۳۷ء ۱۹۴۴ء)‘‘۔
’’ ۱۹۳۷ء ہی سے اسلامی ہند میں ایک نئی فکر بیدار ہورہی تھی، جس نے ۱۹۴۱ء-۱۳۶۰ھ میں ایک منظم دعوت وتحریک کی صورت اختیار کرلی، اور راقم بھی پورے ذوق وشوق اور انشراح صدر کے ساتھ اس میں شریک ہوگیا،اصولی اتفاق کے باجود حضرت سیدصاحبؒ کو اس کے متعلق کچھ شکوک وشبہات تھے، جس سے ہم عقیدت مندوں کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا، بہر حال اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے، کہ یہ مشکل سدّراہ نہ بنی اور جہاں تک استاد مرحوم کی محبت وعقیدت اور ان کی طرف سے شفقت ومحبت کا تعلق ہے، اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا، اور راقم اپنے پروگرام کے مطابق کام کرتا رہا، اس سلسلہ میں سب سے بڑا مرحلہ ملازمت چھوڑ کر دارالاسلام پٹھان کوٹ جانے کا تھا، پہلے والد ماجد مدظلہ سے اجازت لی، اس کے بعد سیدصاحب قبلہؒ سے اجازت کا سوال تھا، اتفاق سے سفر کے وقت لکھنؤ میں ملاقات کا پروگرام بن گیا، (اکتوبر۱۹۴۴ ء) شاہ معین الدین صاحب بھی اتفاق سے وہیں موجود تھے، وہ اور دوسرے دوست سیدصاحب سے کہتے ’’اُسے جانے نہ دیں‘‘، وہ فرماتے، میں کس طرح رو کوں؟ اور میں خاموش ان کے چہرے کی طرف دیکھا کرتا، کہیں آزردہ تو نہیں؟ محبت اور فرض کی کش مکش بڑی سخت ہوتی ہے، آخر الوداع کی ساعت آگئی، ہاتھوں میں ہاتھ لے کر فرمانے لگے، اب میں وہی ترکیب کروں گا، جو مولانا الیاس صاحب نے علی میاں کے لئے کی تھی، میں نے کہا، وہ کیا، فرمایا: ’’الا لتجاء إلی اللّٰہ‘‘ عرض کیا، اس سے کون روک سکتا ہے؟ فرمایا: ’’اگر دعا قبول ہوگئی تو؟‘‘، عرض کیا، تو پھر کیا؟ خود بخود واپس چلا آؤں گا، ان لطیف جملوں کے بعد دیدۂ پرنم کے ساتھ رخصت فرمایا، اور میں نے اسے اپنی بڑی کامیابی خیال کی، (۸؍اکتوبر۱۹۴۴ ء) اس کے بعد ایک مدت تک اس سلسلہ میں خط وکتابت ہوتی رہی، موضوع زیادہ تر تصوف ہوتا اور کبھی کبھی ’’جماعت اسلامی‘‘ کے اخبارات اور بعض لکھنے والوں پر تنقید، خاکسار اپنی بساط پھر اس خلیج کے پاٹنے کی کوشش کرتا رہتا، اور کون کہہ سکتا ہے کہ بالکل ناکام رہا؟۔اکتوبر ۱۹۴۴ ء میں پنجاب آگیا تھا، دو تین ماہ چکر لگانے کے بعد جالندھر کی آب وہوا سازگار نظر آئی اور وہیں اپنے کام کی طرح ڈال دی۔
حواشی:
ٍ(۱)اگاواں ،استھاواں ،ہرگاواں وغیرہ جیسے الفاظ کو اگانواں ،استھانواں ،ملانواں ،ہرگانواں ،ڈمرانواں الف کے بعد نون کے ساتھ لکھا جاتا ہے ،لیکن یہ قدیم املا ہے ،معاصر اردو میں اس دقیق املا میں عام طور پر غلطیاں ہوجاتی ہیں ،اس لئے اب قدیم املا کی جگہ تسہیل املا کے ساتھ نون کے بغیر انکو لکھنا زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے،علامہ سید سلیمان ندوی علیہ الرحمۃ نے بھی دونوں طرح لکھا ہے،پتہ نہیں یہ املا کس بنا پر اختیار کیا گیا تھا ،شاید قیاسا ہی ایسا کیا گیا ہوگا کیوں کہ اس وقت دقیق املا کا عام رواج تھا ،ہندی میں اس طرح ضرور لکھا جاتا ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے کہ اس وقت ہندی رسم الخط کو سامنے رکھ کر ان کے نام لکھے گئے ہوں،البتہ ان بستیوں کی نسبت استھانوی ،اگانوی ،ڈمرانوی اور ملانوی اور ہرگانوی ہی رہے گی،کیوں کہ یہ رائج ہوچکی ہے ،اور یہی بہتر اور کانوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے ، اس سلسلہ میں عربی زبان میں مذکور مقامات کے نام کی نسبت اور ان تفصیل کی طرح اس کی بھی تفصیل ذکر کی جائے ،جیسے مرو والے مروزی نسبت کرتے ہیں اور اس طرح کی دسیوں مثالیں ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن مقامات کے اخیر میں واں کا لفظ ملتا ہے وہ عام طور پر بدھ مت کے ادبیات کے مطابق بدھ مذہب کے اہم مقامات رہے ہیں ،چنانچہ ان جگہوں پر بدھ مذہب کے آثا ربھی ظاہر ہوئے ہیں۔(۲)ص ۱۷۸ مطبوعہ کلکتہ۱۹۷۸ء)۔(۳)ستمبر۱۹۴۰ء،مشمولہ بہار کی علمی شخصیات شائع کردہ خدابخش لائبریری پٹنہ)نیز ان کے حالات کے لئے دیکھئے ،دبستان نذیریہ از تنزیل صدیقی جلد اول، مطبوعہ کراچی۔(۴)حوالہ بالا۔(۵)معارف سید سلیمان ندوی نمبر مئی ۱۹۵۵ء مضمون مولانا مسعود عالم کے حاشیہ میں اس کی تفصیل موجودہے۔(۶)ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک ،ص۳۵و۳۶حاشیہ مکتبہ چراغ راہ ،لاہور۱۹۸۹ء(۷)اس کی صراحت ان کے شاگرد مولانا ضیاء الرحمن لکھمنیاوی کے مضمون مشمولہ تاریخ بارہ گاواں میں موجود ہے۔(۸)معارف سید سلیمان ندوی نمبر مئی ۱۹۵۵ء مضمون مولانا مسعود عالم۔(۹)مضمون عاصم الحداد صاحب (۱۰)مضمون مولانا عبد الصمداگانوی محولہ بالااز مولانا مسعود عالم ندوی۔(۱۱)تاریخ بارہ گاواں میں ان کو غلطی سے مولانا لکھ دیا گیا ہے۔(۱۲)محاسن سجاداز مولانا مسعود عالم ،بحوالہ مفکر حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ،ص ۳۰۹۔(۱۳)تاریخ بارہ گاواں،حوالہ سابق۔(۱۴)محاسن سجاد بحوالہ مفکر اسلام حضرت مولانامحمد سجاد،ص ۵۹ ۔(۱۵)حوالہ بالا ص،۱۶۱۔(۱۶)جناب نیاز صاحب نے ماہنامہ صنم پٹنہ کے اپنے محولہ بالا مضمون میں لکھا ہے کہ انہوں نے پہلی بار معارف میں لکھا ،حالاں کہ الضیاء کی ادارت کے دوران ہی راجگیر (بہارشریف)سے ماہنامہ فطرت نکلا تھا ،جس میں ندوۃ العلماء پر ان کا مضمون میں نظرآتا ہے ،نیز ان کے دیگر مضامین بھی اسی زمانہ میں اس میں شائع ہوئے ہیں۔






