مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ اور فتاوی رشیدیہ

بقلم: معاذ حیدر

    فکرِ دیوبند جن حضرات کی جانب منسوب ہے ان میں ایک اہم نام "حضرتِ اقدس، مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہٗ” کا ہے، آپ کا ہم پر بڑا احسان ہے، اللہ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا، تفقہ فی الدین میں کمال عطا کیا تھا، آپ کو فقہ سے فطری مناسبت تھی، مطالعے میں بے پناہ وسعت رکھتے تھے، اصول و فروع پر گہری نگاہ تھی، نصوص کا استحضار، ان کی درجہ بندی، اصول کی روشنی میں ان کا صحیح استعمال اور ان کے درمیان پیدا ہونے والے تعارض کو دور کرنے کا بہترین ملکہ آپ حاصل تھا، قرآن و سنت میں ایسی گہرائی ملی تھی کہ کسی بھی واقعہ اور مسئلے میں ابتداء ہی سے آپ کی نظر صحیح فیصلے پر پہنچتی تھی، بعد میں تحقیق کرنے والے جتنی بھی تحقیق کریں، کتابوں کی مراجعت کریں، بالآخر آپ کی رائے ہی صحت وصواب کا محور رہتی تھی، اسی وجہ سے آپ کو "فقیہ النفس” کا لقب دیا گیا۔

مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ اور فتاوی رشیدیہ
مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ اور فتاوی رشیدیہ

    آپ نے داخلی محاذ کو اپنا میدانِ عمل بنایا، اہلِ اسلام کی صحیح خطوط پر تربیت، عقائد کی تصحیح، اعمال کی درستگی، قلوب کی سلامتی اور روحانیت کی پرورش پر آپ نے خاص توجہ دی، آپ کے قلم سے بے شمار فتاوے صادر ہوئے، آپ کے فتووں کا ذخیرہ زمانے کے اہم ترین مسائل کا مجموعہ ہے، "فتاوی رشیدیہ” آپ کے استنباطی اور اجتہادی ملکہ کا مظہر ہے، تصلب فی الدین کی نشانی ہے، عقلی اور نقلی دلائل سے مزين ہے، اس کے مطالعہ سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں، اہل السنّۃ والجماعۃ کے مزاج ومذاق سے واقفیت ہوتی ہے، اعتدال کی صفت پیدا ہوتی ہے، غور وفکر کی سمت بدلتی ہے، آپ مختصر اور دو ٹوک الفاظ میں جامع مانع جواب تحریر فرماتے ہیں، حتمی تعبیر استعمال کرتے ہیں، استفتاء کی طوالت سے متاثر ہوئے بغیر اصل مسئلے کی نشاندہی پر اکتفا کرتے ہیں، جواب میں شریعت کی رعایت ملحوظ رکھتے ہیں نہ کہ مستفتی کی چاہت، ہر جواب آپ کے مجتہدانہ دل ودماغ کی عکاسی کرتا ہے، ہر فتوی فقیہ النفس اور مجتہد ہونے کی شہادت دیتا ہے۔

     آپ کے فتاوے کو فکر کی پختگی میں بڑا مقام حاصل ہے، عقیدے کی مضبوطی کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے، اس کا ایک معتد بہ حصہ عقائد اور فکری سوالات سے متعلق ہے، عباراتِ اکابر پر کیے گئے اعتراضات کا اس میں تشفی بخش جواب ہے، حساس فتاوے میں اکابرین وقت سے بھی دستخط لیے ہیں۔

    آپ کے ہاں کسی کی تکفیر میں حد درجہ احتیاط ہے، اہلِ قبلہ میں سے آپ ایسے لوگوں کی تکفیر نہیں کرتے جو اپنی اجتہادی غلطی کی وجہ سے تنقید کرتے ہوں، آپ عقائد کے باب میں احتیاطی پہلو اپناتے ہیں، رسومات کی روک تھام کے سلسلہ میں اصل علت کو پیش نظر رکھتے ہیں، اصولی مسائل میں عزیمت کی راہ اختیار کرتے ہیں، فروعی اور اختلافی مسائل میں اصول کو پیشِ نظر رکھ کر اسان راستہ اپناتے ہیں۔

    آپ پر احیاء سنت کا بے پناہ غلبہ تھا، سنت کی ایسی شناخت عطا ہوئی تھی کہ کوئی بدعت اپنا روپ بدل کر سنت یا مستحب کے رنگ میں نہیں آسکتی تھی، لوگ مختلف ناحیے سے سوالات کرتے تھے مگر حضرت کی فراست وفقاہت ہر ایک عقیدہ اور عمل کی وہ حیثیت متعین کردیتی تھی جو قرآن وسنت کی روشنی میں واقعی ہوتی تھی، اس میں کسی مداہنت کا گزر نہ تھا، چاہے جتنی مخالفت ہو۔

     آپ نے مروجہ میلاد کی سخت تردید کی، اس پر وقت کے چند علماء نے بھی مخالفت کی، مولانا عبدالسمیع رام پوری رحمہ اللہ نے "انوار ساطعہ” میں اسے مدلل کرنے کی کوشش کی، آپ کی ایماء پر مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ نے موضوع سے متعلق آپ کے افادات کو "براہینِ قاطعہ” میں جمع کردیا، آپ کے فتاوے میں موجود "کتاب البدعات” اسی کتاب کی تفسیر ہے۔

      اس مجوعۂ فتاوی میں فتوے کی تخریج کا اتنا اہتمام نہیں ہے، ١٤٤١ھ میں پڑوس ملک کے عالمِ دین جناب مولانا محمد خالد حنفی کوئٹہ نے اس کی باقاعدہ تخریج کی ہے، الحمد للہ مکتبہ حنفیہ کوئٹہ اس والے نسخے کی اشاعت ہوچکی ہے۔

Leave a Reply