ڈیجیٹل دور میں کتب خانوں کی اہمیت وافادیت

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

کتب خانے ہماری علمی، ادبی، ملی، سماجی، ثقافتی، سانئستی اور ہر قسم کی کتابوں کے جمع کرنے کی ایک جگہ ہے، اسی لیے اسے دارالکتاب یاکتب خانہ کہا جاتا ہے، کتب خانوں کی تاریخ ایک تحقیق کے مطابق چار ہزار سال پرانی ہے، یہاں لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں فراہم کرائی جاتی ہیں، یہ فراہمی وہیں بیٹھ کر مطالعہ کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے اور اپنے نام جاری کراکر گھر لے جانے کے لیے بھی ان کتب خانوں میں لائبریرین کی شکل میں مختلف موضوعات کے ماہرین کو رکھا جاتا ہے، تاکہ وہ آنے والے ریسرچ اسکالروں کو مدد پہونچائیں، تاکہ معلومات کو ڈھونڈنے اور ان کو منظم کرنے میں کتب خانہ کے قارئین کو سہولت ہو، لائبریری اور قارئین ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں، افراد کی علمی ترقی میں کتب خانوں کا بنیادی رول ہوا کرتا ہے، آپ اس کے ذریعہ اس علاقہ کے تہذیبی رجحانات ور ترجیحات کو سمجھ سکتے ہیں، دنیا بھر میں تاریخی کتب خانے موجود ہیں، جو مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، آپ وہاں نادر مخطوطات اور قلمی ذخائر سے استفادہ کرسکتے ہیں، اس طرح دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ زمانہ قدیم سے کتب خانے، معاشرہ کی فکری اور علمی ترقی میں مددگار اور معاون رہے ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں کتب خانوں کی اہمیت وافادیت
ڈیجیٹل دور میں کتب خانوں کی اہمیت وافادیت

کتابوں کی بڑھتی ہوئی تو ضرورت نے ڈیجیٹل یعنی آلہئ برقی کے ذریعہ اس کی ترسیل کو آسان بنانے کا کام کیاہے، کہا جاتا ہے کہ اس کا خیال 1885ء میں سب سے پہلے پال اولیٹ اور ہنری لافورٹین کو آیا تھا، ونیوربش اور جے سی آر لیکلانڈر نے اپنی محنت اور جدوجہد سے اسے موجودہ ٹکنولوجی کے اعتبار سے آگے بڑھایا، 1956ء میں فورڈ فاؤنڈیشن نے لیکانیڈر کو اس کام کے لیے بڑا مالی تعاون دیا، تاکہ وہ بتا سکیں کہ کس طرح ٹیکنالوجی کی مدد سے لائبریریوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، چنانچہ انہوں نے اس پر کام کیا اور تقریباً دس سالہ تحقیق کے بعد اپنی کتاب ”مستقبل کی لائبریریوں“ کے عنوان سے اس مسئلہ پر اپنا نظریہ پیش کیا اور بتایا کہ کمپوٹر اور نیٹ ورک کی مدد سے، لائبریریوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، انہوں نے لائبریری کے مقاصد کو تین حصوں میں تقسیم کیا، حصول علم، سوال اور جواب، لیکلائیڈر نے اسے پروگونیٹو، سسٹم کا نام دیا، 1980ء تک یہ کوشش برگ وبار لانے لگی، اس کی پہلی مثال 1964ء میں تیار کردہ ریسورسیز انفارمیشن سینٹر (ERIC) ہے، اس سلسلہ کا دوسرا تجربہ 1969ء میں DILOG کے ذریعہ آن لائن دستیاب کیا گیا تھا، 1994ء میں ناسا اور NSF کے ذریعہ اس کی توسیع ہوئی اور اسکالروں کو ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعہ بڑے پیمانے پر مواد کی فراہمی ہونے لگی۔

آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ ڈیجیٹل دور ہے، انٹرنیٹ، ای بکس، آن لائن، جرائد، تعلیم، ڈیجیٹل ڈیٹا بکس کی دستیابی کی وجہ سے مطبوعہ رسائل وجرائد، اخبارات اور لائبریریوں کی طرف توجہ میں کمی آئی ہے، نیٹ پر بڑی بڑی لائبریریاں پڑی ہوئی ہیں، ریختہ اور مکتبہ الشاملہ جیسے آن لائن کتب خانوں کی اب کمی نہیں ہے، بٹن دبایئے اور آپ کی مطلوبہ چیز حاضر، اس کو دیکھ کر کسی نے کہا ہے کہ یہ آخری صدی کتابوں کی ہے، اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ آن لائن دستیاب مواد پر بہت اعتماد کرنا، تحقیق وتنقید اور مراجعت کے کام کو غلط سمت تک لے جاتا ہے، اس کی ناقص معلومات کا اگر آپ خود سے موازنہ، نہ کرلیں تو اہل علم کے نزدیک ایسی سبکی ہوتی ہے کہ الاماں والحفیظ، جو لوگ چیٹ جے ٹی پی پر اعتماد کرکے من وعن چیٹ جی ٹی پی کی مرتب کردہ مضامین و مقالات کی نقل کرتے ہیں، وہ اپنے اوپر علم وتحقیق کے دروازے بند کرلیتے ہیں۔

یہیں سے کتابوں اور لائبریریوں کی اہمیت، افادیت اور ضرورت محسوس ہوتی ہے، تاکہ کتابوں سے مراجعت کرکے صحیح عبارت، معنی ومفاہیم تک پہونچا جاسکے، اگر محقق اور ناقد نے اصل کتاب سے مراجعہ کے بغیر اپنی بات رکھ دی تو غلطیہائے مضامین کا انبار لگ جائے گا کیوں کہ کتب خانے آج بھی مستند معلومات، علمی رہنمائی اور تعلیمی وسائل فراہم کرنے کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے۔

ڈیجیٹل دور نییقینا معلومات تک رسائی آسان کر دی ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ لائبریریوں میں بھی ڈیجیٹل وسائل، تحقیقی مقالات اور آن لائن ڈیٹا بیس تک رسائی کا انتظام کیا جائے، تاکہ معلومات تک پہونچ کے ساتھ وہاں اصل کتابوں سے مراجعت کی جائے، غیر مصدقہ، غلط اطلاعات پر مبنی مواد وجو ڈیجیٹل طریقہ سے فراہم ہوتی ہیں، اسے صارفین تک درست اور صحیح معلومات کی حیثیت سے پہونچانے کی کوشش کی جائے، اس کے لیے لائبریری کے دائرے کو صرف دارالمطالعہ اور کتابوں کے ذخیرہ تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ وہاں طلبہ اساتذہ اور محققین کو ڈیجیٹل لائبریری اور ڈیٹا بیس سے معلومات کی فراہمی کی تربیت دی جائے، اس طرح کتب خانوں کی طرف لوگوں کا رجوع عام ہوگا، اس کا دائرہ کار بڑھے گا اور لائبریری کا استعمال علمی سرگرمیوں کے بنیادی مرکز، تحقیقی معاونت اور معلوماتی نئی مہارت کے مرکز کے طورپر ہونے لگے گا، مطالعہ کا مزاج بڑھے گا اور جدید ٹکنولوجی سے استفادہ کی راہ بھی ہموار ہوگی، آن لائن تحقیق اور معلومات کے مؤثر استعمال کی شکلیں پیدا ہوں گیں اور خواندگی کے تناسب میں اضافہ ہوگا۔

اس کے باوجود لائبریریوں کو اس وقت جن چیلنجوں کا سامنا ہے، اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ان میں سب سے اہم تیز رفتار تکنیکی نظام اور خدمات کے جدید تقاضوں کو اپ ڈیٹ کرنا ہے، یہ مرحلہ خواہشات نیک سے طے نہیں ہوسکتا، ڈیجیٹل انفراسٹٹکچر، سافٹ ویر، آن لائن سبکریشز اور جدید آلات کی خریداری کے لیے وسائل اورفنڈ کی ضرورت ہوگی، سرکاری لائبریریوں میں مسئلہ فنڈ کی فراہمی کا نہیں، اس کے صحیح استعمال کیا ہے، اس کے یہاں جو کمی اور کمزوریاں ہیں وہ فنڈ کیصحیح طورپر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہے، بدعنوانی، بندربانٹ اور غیرضروری اخراجات کی وجہ سے جو لائبریری کا اصل کام اور کردار ہے وہ کہیں گم ہوجاتا ہے، اس کے برعکس جو لائبریریاں پراؤیٹ ہیں اور دور دراز کے دیہاتوں میں بہترین خدمات انجام دے رہی ہیں، ان کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے، وہ اخبارات اور لائبریرین کی تنخواہ مہیا کرنے میں پریشان رہتے ہیں، کیوں کہ لائبریری کے مد میں کوئی رقم ان کے پاس نہیں ہوتی، لائبریری سے متعلق لوگ اپنی جیب خاص سے خدمت کے جذبے کے تحت یہ اخراجات برداشت کرتے ہیں، وہ ڈیجیٹل انفرااکسٹچر کی فراہمی کرہی نہیں سکتے، وہاں ممبر سازی سے بھی برائے نام رقم نہیں آتی، کیوں کہ پڑھا لکھا طبقہ شہروں میں رہتا ہے، دیہاتوں میں ان کی تعداد کم ہے، وہاں مزدور اور کسان رہتے ہیں، ان کی دلچسپی کتابوں سے کم ہوتی ہے اور یہ بات تعجب خیزاس لیے نہیں ہے کہ مرکزی کتب خانوں میں بھی شہروں میں جاکر دیکھیے، ان کے پاس اسکالر پڑھنے نہیں آتے، دیہاتوں میں کہاں سے آجائیں نگے، البتہ دیہاتوں میں جو قاری ہوتے ہیں وہ آن لائن سے زیادہ اصل کتاب سے ہی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی تعداد ہی کتنی ہے، اس کا اندازہ میں خود بھی نور اردو لائبریری حسن پور گنگٹھی، بکساما، ویشالی میں مشاہدہ کرتا رہتا ہوں، جہاں اخبار کے قاری زیادہ آتے ہیں اور کتابوں کے کم، اگر قرب وجوار کے مدرسہ والے استفادہ کے لیے کتابیں ایشو کراکر نہ لے جائیں اور اس کا ایک اہم شعبہ کتابوں کے پی ڈی ایف کی فراہمی کا کام روک دے تو افادیت گھٹ جائے گی۔

اگر ڈیجیٹل آلات لائبریری میں کسی طرح فراہم کر لیجائے تو بھی کاپی رائٹ اور لائسنسگ سے متعلق پیچیدگیاں اور کئی قانونی بندشیں، لائبریری والوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ایسے میں کتب خانوں کو اپنی خدمت میں مسلسل جدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل کی کتابوں تک فوری رسائی کو یقینی بنایا جاسکے، ڈیجیٹل نظام اور اس کے ذخائر کو ہیکنگ وائرس اور سائبر خطرات سے محفوظ رکھنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

مستقبل میں کتابوں کی اہمیت وافادیت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ لائبریریاں روایتی کتابوں اور ڈیجیٹل وسائل کو یک جا کرکے اسے جامع خدمات کا مرکز بنادیں، مصنوعی ذہانت (AI) کلاؤڈ کمپوٹنگ، ڈیجیٹل آرکائیونگ لائبریری کے نظام کو نئے دور میں مزید مؤثر بناسکتی ہیں، صارفین کی ضرورت کے مطابق ذاتی نوعیت کی خدمات، آن لائن مشاورت اور ورچوئل ریفرنس خدمات بھی قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہیں، لائبریری میں موقع بموقع سمینار، سمپوزیم، مشاعرے اور دیگر ادبی، غیر ادبی پروگرام کے انعقاد سے بھی اس کی اہمیت کو بڑھایا جاسکتا ہے، ایسا کرنے سے لائبریریاں صرف مطالعہ کی جگہ نہیں، بلکہ تحقیق، اختراع، تعاون اور تخلیقی سرگرمیوں کے طورپر ابھریں گی اور ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہوگا۔

Leave a Reply