تعارفِ کتاب
نامِ کتاب: نغماتِ خواتین
مرتب: مولانا محمد ابراہیم بن محمد اودیا مانگروَلی
صفحات: 148
اشاعت: 1447ھ / 2026ء
تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے گویائی کی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ﴾»
"اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اظہارِ بیان کی صلاحیت عطا فرمائی۔”
انسان اپنے مافی الضمیر کا اظہار کبھی نثر کے ذریعے کرتا ہے اور کبھی نظم کے قالب میں۔ دونوں اسالیب کے ذریعہ وہ اپنے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات کو نہایت مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچاتا ہے، اپنی ضروریات بیان کرتا ہے اور دوسروں کے جذبات و احساسات کو بھی سمجھتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو آواز میں زیادہ نرمی، لطافت اور شیرینی عطا فرمائی ہے۔ اسی بنا پر عورتوں کے نغمات معاشرتی زندگی کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ مختلف مواقع پر وہ اپنے جذبات کا اظہار منظوم انداز میں کرتی ہیں، خود کلامی کرتی ہیں، خوشی اور غم کے احساسات کو گیتوں کی صورت میں پیش کرتی ہیں۔ خصوصاً شادی بیاہ کے موقع پر گیت گانے کی روایت تقریباً ہر علاقے میں پائی جاتی ہے۔ رخصتی کے وقت الوداعی نغمات، والدین کی نصیحتیں، نومولود بچوں کی لوریاں اور دیگر موقعوں پر پڑھے جانے والے منظوم کلام ہماری معاشرتی روایت کا حصہ ہیں۔ اسی طرح شادی کے موقع پر پڑھی جانے والی "صحت” بھی عموماً منظوم ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک ایسی کتاب مرتب کی جائے جس میں خواتین سے متعلق مختلف مواقع کے یہ تمام نغمات یکجا کر دیے جائیں۔ ایسی منظومات ہوں جن میں خواتین کے لیے دینی نصیحتیں، ان کے مقام و مرتبہ کا بیان، گھریلو زندگی کی رہنمائی، ازواجِ مطہرات اور بناتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ گھریلو نمونے، بچوں کی لوریاں، ماں کی عظمت، اس کی شفقت و محبت، حیا و پردے کی تعلیمات، میاں بیوی کے باہمی حقوق، میکے اور سسرال سے متعلق معاشرتی آداب، جہیز جیسی سماجی برائی کی مذمت اور اصلاحِ معاشرہ سے متعلق مؤثر مضامین شامل ہوں۔

اس موضوع پر اس سے پہلے کوئی جامع کتاب نظر سے نہیں گزری تھی، لیکن اس مجموعے کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جناب مولانا محمد ابراہیم بن محمد اودیا مانگروَلی نے مختلف مواقع پر پڑھے جانے والے خواتین کے نغمات اور اصلاحی منظومات کو "نغماتِ خواتین” کے نام سے یکجا کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس علمی و اصلاحی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے خواتین کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنائے، اور مرتب کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔ کتاب اپنی ظاہری طباعت و پیش کش کے اعتبار سے بھی خوب صورت ہے۔ دعا ہے کہ اس کی باطنی خوب صورتی، علمی افادیت اور اصلاحی مضامین بھی قارئین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑیں اور یہ مجموعہ عامۃ الناس کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔






