بسم الله الرحمن الرحيم

کتاب کا تعارف

نام کتاب: جرح و تعدیل کا تحقیقی جائزہ

مرتب: مولانا محمد شوکت علی بھاگلپوری

تعداد صفحات: 160

ناشر: مدرسہ محمودیہ تعلیم القرآن، بکھڈا، سنہولہ، بھاگلپور (بہار)

تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی

اسلام کا سب سے پہلا اور بنیادی ماخذ قرآنِ کریم ہے، اور اس کے بعد حدیثِ نبویؐ کا درجہ ہے۔ حدیثِ شریف کو غیر معمولی اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، تقریرات اور اوصاف محفوظ ہیں۔ یہی قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے، اور اسی اسوۂ حسنہ کی پیروی میں دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات مضمر ہے۔

جرح و تعدیل کا تحقیقی جائزہ
جرح و تعدیل کا تحقیقی جائزہ

حدیثِ نبوی کی حفاظت اور اس کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے محدثینِ کرام نے جرح و تعدیل کا عظیم الشان فن وجود میں لایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض لوگوں نے جھوٹی روایتیں گھڑ کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیا۔ اس نازک صورتِ حال میں ائمۂ حدیث نے نہایت باریک بینی، دیانت اور علمی تحقیق کے ساتھ صحیح اور ضعیف روایات کے درمیان امتیاز قائم کیا، راویوں کے حالات کو محفوظ کیا اور امت کو ایک ایسا عظیم علمی سرمایہ عطا کیا جس کی مثال دنیا کے کسی مذہب یا تہذیب میں نہیں ملتی۔

اگرچہ اس موضوع پر عربی زبان میں متعدد گراں قدر کتابیں موجود ہیں، لیکن اردو زبان میں اس فن پر جامع اور تحقیقی انداز میں مستقل تصنیفات نسبتاً کم ہیں۔ مولانا محمد شوکت علی بھاگلپوری نے اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے اس اہم موضوع پر یہ قابلِ قدر کتاب مرتب کی ہے۔ دراصل یہ ایک علمی سیمینار کے لیے تیار کیا گیا مقالہ ہے، جس کا عنوان "علوم الحدیث اور اس کے متعلقات” تھا۔ یہ سیمینار دارالعلوم ماٹلی والا، بھروچ (گجرات) میں منعقد ہونا تھا۔ جب یہ موضوع موصوف کے سپرد کیا گیا تو انہوں نے نہایت محنت، وسعتِ مطالعہ اور تحقیق کے ساتھ اس پر مواد جمع کیا اور اسے دس ابواب میں نہایت منظم انداز سے مرتب کیا۔

پہلے باب میں علمِ جرح و تعدیل اور علمِ اسماء الرجال کا تعارف، ان کی لغوی و اصطلاحی تعریف، حفاظتِ حدیث کے ذرائع اور تحقیقِ روایت کی عملی مثالیں، خصوصاً عہدِ صحابہ اور بعد کے ادوار کے حوالے سے بیان کی گئی ہیں۔

دوسرے باب میں جرح و تعدیل کی حقیقت، اس کی شرعی حیثیت اور اس کے قرآنی، حدیثی، اجماعی اور قیاسی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔

جرح و تعدیل کا تحقیقی جائزہ
جرح و تعدیل کا تحقیقی جائزہ

تیسرے باب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ضعیف راوی پر علمی اصولوں کے مطابق جرح کرنا غیبت میں داخل نہیں، بلکہ دین کی حفاظت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

چوتھے باب میں جرح و تعدیل کی تاریخی ارتقا پر روشنی ڈالی گئی ہے اور صحابۂ کرام، تابعین اور بعد کے محدثین کی گراں قدر خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

پانچویں باب میں جرح و تعدیل کرنے والے ائمہ کے آداب، شرائط اور اصول معتبر مراجع کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔

چھٹے باب میں اسبابِ جرح کی تفصیل پیش کی گئی ہے، جبکہ ساتویں باب میں جرح و تعدیل کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ اور ان کے مراتب کی وضاحت کی گئی ہے۔

آٹھویں باب میں جرح و تعدیل کے تعارض کی صورت میں ترجیح کے اصول بیان کیے گئے ہیں، اور نویں باب میں قبولِ جرح کے موانع اور ان سے متعلق پیدا ہونے والے اشکالات کا علمی جواب دیا گیا ہے۔

دسویں اور آخری باب میں جرح و تعدیل کی اہم کتابوں کا مختصر تعارف، نیز کتاب کے مراجع و مصادر کو جمع کر دیا گیا ہے، جس سے اس کتاب کی علمی حیثیت مزید مستحکم ہو جاتی ہے۔

جب یہ کتاب طبع ہو کر میرے مطالعے میں آئی تو اس کا اسلوب، ترتیب، تحقیق اور استناد میرے لیے باعثِ اطمینان ہوا۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب طلبہ، اساتذہ، محققین اور علومِ حدیث سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔

اللہ تعالیٰ مرتبِ کتاب حضرت مولانا محمد شوکت علی بھاگلپوری صاحب کی اس علمی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت نصیب فرمائے، اور انہیں مزید دینی و علمی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply