کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوان

غالب شمس

سچی بات تو یہی ہے کہ یہ احتجاج کسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ نہیں۔ یہ تو ایک جج کے بگڑے ہوئے بول کا شاخسانہ ہے اور اس نوجوان نسل کا ابلتا ہوا غصہ ہے، جو اس گلے سڑے سسٹم اور فرسودہ ہندو مسلم سیاست سے پوری طرح اوب چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ صرف چند دنوں میں بیس پچیس ملین افراد کی آواز بن گیا، سیاست ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔ کامیاب سیاست وہی ہے جو موافق ہوا میں اپنی خوشبو گھول دے۔ مخالف سمت میں چلنے والے اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ ناممکن تھا کہ سیاسی پارٹیاں اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور اس ہوا کو اپنی طرف موڑنے کی کوشش نہ کرتیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوان
کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوان

اس ہلچل میں عام آدمی پارٹی کا نام بھی آ رہا ہے، جس سے انکار نہیں۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے آر ایس ایس کی موجودگی اور پشت پناہی کا الزام بھی لگا رہے ہیں، ہمیں اس سے بھی مفر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس کی آج تک کی سیاست کا مدار ہی اسی اصول پر رہا ہے کہ وہ ٹرینڈ کے ساتھ اپنا رخ بدل لیتے ہیں۔ ان کے ہاں کوئی فکری انجماد نہیں۔ ہر نئی ہوا میں گھل جانا ان کی پرانی صفت ہے۔ دو ہزار چودہ اور اس سے پہلے سوشل میڈیا کا سب سے کارگر استعمال اور اس کے ذریعے ہردے پریورتن کا جو کھیل انہوں نے کھیلا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آج بھی اگر وہ اس سلگتی آگ پر اپنی روٹیاں سینکنے لگیں اور ان کے گرگے اس ہجوم میں نظر آئیں، تو اس پر قطعی کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ہر کوئی اس عوامی ابال سے فائدہ اٹھانے کی فراق میں ہے۔

کانگریس اس بساط پر بہت اچھا کھیل رہی ہے۔ راہل گاندھی کا میدان میں آنا اور اس احتجاج کو کھلی حمایت دینا ہی وہ واحد وار تھا جس نے مودی کو مکمل طور پر بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ جو لوگ یہ سطحی اور غیر سیاسی باتیں کر رہے ہیں کہ یہ سب محض چندہ چوری کو چھپانے کے لیے ہے، وہ دراصل تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے سے قاصر ہیں۔ مودی اور مقتدرہ کا ہر پُرفریب نعرہ اب کھوکھلا ثابت ہو چکا ہے۔ آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ گودی اور گوگی میڈیا کے حصار سے باہر، وہ تمام چالیں اور ہتھکنڈے جو یہ سسٹم مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتا تھا، آج پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں، یہ ایک انتہائی خوش آئند تبدیلی ہے۔

اس بیداری کے نتیجے میں نفرت کی سیاست اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ کیا یہ کم حیرت انگیز ہے کہ آج انسٹاگرام پر عمر خالد کی پرانی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں اور وہی نوجوان کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص بالکل صحیح کہتا تھا؟ کل تک جہاں مودی اور یوگی کو غنڈہ کہنے پر ایک بوڑھے مسلمان کو سرِ عام مارا پیٹا گیا اور ویڈیو بنوا کر معافی منگوائی گئی، آج وہیں یہ جین زین زی نسل کیا کچھ نہیں کہہ رہی۔ ان نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں، ان کا کاٹ دار سیاسی طنز اور ان کے میمز دیکھئے۔ انہوں نے مودی اور حکومتی کارندوں کو بیچ چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔

حکومت نے ابتدا میں سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کی اس پوری لہر کو بہت ہلکے میں لیا۔ ان کا گمان تھا کہ آن لائن شور مچانے والے کبھی زمین پر نہیں اتر سکتے۔ اسی لیے حالات کو نارمل سمجھا گیا۔ اگر اس وقت ابھیجیت کو گرفتار کر لیا جاتا، تو شاید یہ ابال اسی وقت پیدا ہو جاتا۔ پھر حکومت نے خاموشی سے ان کے خلاف پیڈ کیمپین اور مخالفت شروع کی۔ اتفاق سے سونم وانگچک نے اس کو ایک سمت دے دی۔ جو لوگ کاکروچوں کو مذاق سمجھ رہے تھے، انہوں نے وانگچک کی شمولیت کے بعد سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔ اسی سنجیدہ غور و فکر نے اس تحریک میں جان ڈال دی، اور پھر اچانک گرفتاریوں کے بعد نوجوان سنسد چلو تحریک میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ مختلف شہروں اور مختلف صوبوں سے قافلے نکل پڑے۔ اس بات کا غالب امکان ہے کہ ہر مقام پر مقامی سیاسی جماعتوں کا سپورٹ اور کانگریس کا خاموش تعاون بھی ان کے ہمراہ رہا ہو۔

حکومت کے زعم میں یہی تھا کہ دیگر تحریکوں کی طرح اسے بھی کچل دیا جائے گا۔ لیکن سنسد چلو تحریک میں توقعات سے کہیں زیادہ بھیڑ امڈ آئی۔ مقتدرہ کے گرگے اپنے پرانے کاموں پر لگ گئے۔ احتجاج سے پہلے ہی سڑکوں پر ٹوٹی ہوئی گاڑیاں لا کر کھڑی کر دی گئیں۔ پتھروں سے بھرے ہوئے ٹرک پہنچا دیے گئے، اور انجان لوگ چکر لگانے لگے۔ گودی میڈیا نے اس خالص عوامی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے زمینی حقائق کے بالکل الٹ اپنا جھوٹا نیریٹو گھڑنا شروع کیا۔ فوراً امریکہ کا کنکشن نکالا گیا، پھر پاکستانی تعلق بھی سامنے لایا گیا۔ لیکن اس بار ان کا کوئی حربہ کارگر نہ ہوا، کیونکہ ان کے جھوٹ میں دم نہیں تھا۔ آج سڑک پر موجود ہر تیسرا نوجوان اپنے موبائل کیمرے کے ساتھ ایک کونٹینٹ کریئیٹر ہے اور مسلسل ویڈیوز بنا رہا ہے۔ اسی لیے حکومت کی تمام سازشیں پہلے ہی دم توڑ گئیں۔

بیس جولائی کے احتجاج میں پولیس نے وہ درندگی دکھائی کہ لوگوں کو گورے انگریزوں کے مظالم یاد آ گئے۔ آنسو گیس کے گولے داغے گئے، پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال ہوا اور اندھا دھند لاٹھی چارج کیا گیا۔ نوجوانوں کے کیمروں نے اس ریاستی دہشت گردی کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ تب جا کر حکومت کو اندازہ ہوا کہ یہ غصہ یوں تھمنے والا نہیں۔ جے پی نڈا کی سی جے پی کے ذمہ داران سے بھی بظاہر بات ہوئی، لیکن بات بنی نہیں۔

اس لاٹھی چارج کے نتیجے میں بہار کے شہروں پٹنہ اور دربھنگہ میں ایک بالکل منفرد انداز میں احتجاج شروع ہو گیا۔ رانچی، مدھیہ پردیش، ممبئی، کولکاتا، اروناچل اور گجرات کے احمد آباد بلکہ پورے ملک میں یہ آندولن بھڑک اٹھا۔ سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم ہونے سے یہ جذبہ ماند نہیں پڑا، لوگ جوق در جوق آتے ہی رہے۔

بیس جولائی کے بعد جب راہل گاندھی اور کانگریس کے رہنماؤں نے اس تحریک میں کھلم کھلا دھاوا بولا، تو بی جے پی کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ راہل گاندھی کو چاہے پپو کہیں یا کچھ اور، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ اسی شخص سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد ہی مقتدرہ کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ دھرمیندر پردھان کو بھی صفائی میں پوسٹ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پھر طوطی کی بولی کی طرح تمام بالی وڈ اداکار اور نام نہاد سماجی کارکنان سامنے آئے اور اس تحریک کو اپنی مشروط حمایت دیتے ہوئے نوجوانوں کو دشمن عناصر سے بچنے کی تلقین کرنے لگے۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب رات کی تاریکی میں مودی کو سامنے آنا پڑا۔ دیر رات ایک مخصوص انداز میں نپے تلے جملوں کے ساتھ اس نے مسدے ( مسودے) کی باتیں شروع کر دیں۔ اگلے دن ایک مصنوعی ہائپ بنانے کے بعد اس نے وہ تمام باتیں کہیں، جن کا مقصد ان نوجوانوں اور کاکروچوں کو اپنا ہمنوا بنانا اور ان کی فکر کرنے کا جھوٹا تاثر دینا تھا۔

اس نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو بھی انسٹاگرام پر متحرک ہونے کی ہدایت دی۔ لیکن اب یہ تحریک کسی بھی صورت ان کے قابو میں آنے والی نہیں۔ حکومت کو یہ بات بخوبی سمجھ آ چکی ہے۔ اب کونٹینٹ کریئیٹرز کو پیسے کے آفرز دیے جا رہے ہیں تاکہ فیک نیریٹو پھیلایا جا سکے۔ سماج دشمن عناصر اپنے اپنے انداز میں اسے بدنام کرنے کی کوششوں میں جٹے ہیں۔ ان کی یہ تمام حرکتیں بھی سوشل میڈیا پر عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہیں۔

حکومت فی الحال پوری طرح بیک فٹ پر ہے۔ اور جب یہ نظام ہارنے لگتا ہے، تو وہ اپنا سب سے پرانا اور آزمودہ ہتھیار نکالتا ہے۔ اب اس تحریک میں جان بوجھ کر مسلمانوں کا اینگل شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدا ہی سے انہوں نے الگ الگ مواقع پر عمر خالد کا نام اچھالا۔ ان مظاہرین کو دہشت گرد باور کرانے کی کوشش کی گئی، حالانکہ عمر خالد بھی انہی کی طرح اس ملک کا ایک سچا ہندوستانی طالب علم تھا۔ اب خوف کی سیاست کا کھیل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ طلبہ کو گھسیٹ کر پولیس کسٹڈی میں لیا جا رہا ہے، ان کے ناموں کا اندراج ہو رہا ہے، انہیں مختلف مقامات سے اٹھایا اور ڈرایا جا رہا ہے۔ اس ریاستی جبر میں خاص طور پر ان طلبہ کے ساتھ زیادہ زیادتیاں ہو رہی ہیں جن کے نام مسلمانوں والے ہیں۔

جو کام ہماری تنظیموں کے اتحادی جلسے، جلوس اور بین المذاہب کانفرنسیں نہ کر سکیں، وہ بیداری اس نوجوان نسل نے پیدا کر دی ہے۔ آج کھل کر مودی اور بی جے پی کی آلوچنا ہو رہی ہے۔ کیا یہ کم ہے کہ آج مشترکہ مفادات پر سڑکوں پر گفتگو ہو رہی ہے؟ جن اندھ بھکتوں اور بی جے پی سپورٹرز کو آپ کسی دلیل سے قائل نہیں کر سکتے تھے، جو نفرت میں مکمل اندھے ہو چکے تھے، آج وہ بھی جاگ رہے ہیں۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ کے لیے گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ ہندو کبھی بھی خالص مسلم مسائل یا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر آواز نہیں اٹھائیں گے، لیکن مشترکہ عوامی مسائل پر ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

البتہ اس موقع پر ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو بہت زیادہ کھل کر سامنے آنے، فرنٹ لائن پر کھڑے ہونے یا بلاوجہ قربانی دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ نے پچھلے دس سالوں میں بہت کچھ سہا ہے، اور آج بھی سہہ رہے ہیں۔ ہماری علامتی ہمدردی اور خاموش حمایت ہی کافی ہے۔ آپ کھل کر میدان میں نہ بھی آئیں تو چلے گا، لیکن آپ کو اس تحریک کی کھل کر مخالفت ہرگز نہیں کرنی چاہیے، اور نہ ہی ایسا کرنا دانشمندی ہے۔ پورے ہندوستان میں اس وقت غم و غصے کی جو آگ بھڑکی ہوئی ہے، اسے کوئی آسانی سے شانت نہیں کر سکتا۔ اسی ،طریقے سے قوموں میں بیداری پیدا ہوتی ہے، انقلاب آتے ہیں، اور اسی ابال سے اگلے انتخابی نتائج بدلنے کی امید کی جا سکتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply