تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا کردار

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا کردار نہایت ہی اہم ، انتہائی روشن اور قابل فخر رہا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلی کی فکری تحریک سے لے کر 1947کی آزادی تک علماء نے برطانوی حکومت کے خلاف جان ومال کی قربانیاں دیں۔ بالآخر 15؍اگست 1947ء میں ہمارے ملک کو برطانوی حکومت سے آزادی ملی۔

تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا کردار
تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا کردار

انگریزوں کے خلاف حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (1703-1762) نے سب سے پہلے فکری اور عملی جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ پھر حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی(1746-1823) نے اس تحریک کو آگے بڑھایا اور 1803میں دارالحکومت دہلی پر انگریزوں کےقبضہ کے بعد ہندوستان کو دارالحرب ہونے کا تاریخی فتویٰ صادر کیا، جس کو سید احمد شہید، شاہ اسمٰعیل اور دیگر مجاہدین آزادی نے آگے بڑھایا۔

علماء نے برطانوی تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد اور جہاد کا آغاز اس وقت کیا ،جب سیاسی سطح پر کوئی دوسری منظم تحریک وجود میں نہیں آئی تھی۔ اس طرح علمائے کرام نے انگریزوں کے تسلط کے خلاف آزادی کی تحریک جاری رکھی اور`1857 ءکی جنگ آزادی میں علمائے کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جان و مال کی قربانیاں دیں

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی قیادت میں مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر علماء نے شاملی کے مقام پر انگریزی فوج کے خلاف عملی جنگ لڑی۔انگریزوں کے خلاف علماء کی تحریک بنیادی تحریک تھی،مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکی، پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور انگریزوں سے مقابلہ کے لئے دوسری حکمت عملی طے کی اور دینی مدارس و مکاتب کے قیام پر زور دیا تاکہ ان کے ذریعے دین و شریعت کا تحفظ کیا جائے اور انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے سرزمین دیوبند میں دارالعلوم دیوبند کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا۔ انہوں نے اسی کے انداز پر دیگر تعلیمی ادارے قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ اس طرح دینی مدارس اور اداروں نے حریت پسندی ،خود اعتمادی اور انگریز مخالف نظریات کی آبیاری میں خوب حصہ لیا، اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے بہت سے علماء میدان میں آئے، جنہوں نے تحریک ریشمی رومال اور تحریک خلافت جیسی عظیم الشان تحریکوں کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کے لئے راستہ صاف کیا۔

ریشمی رومال تحریک کا ہندوستان کی تحریک آزادی میں اہم رول تھا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور مولانا عبید اللہ سندھی وغیرہ علماء نے خلافت عثمانیہ اور افغانستان کی مدد سے انگریز حکومت کا تختہ پلٹنے کا خفیہ اور وسیع نیٹ ورک بنایا۔

پھر علماء کرام نے تحریک آزادی کو مضبوط کرنے کے لیے 1919 ءمیں ایک مضبوط تنظیم جمعیت علمائے ہند قائم کی اور انہوں نے سیاسی محاذ پر انگریزوں کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے برادران وطن کے ساتھ اتحاد کیا اور پھر ہندومسلم ، سکھ عیسائی سبھی نے مل کر تحریک آزادی میں حصہ لیا۔انہوں نےملک کی آزادی اور متحدہ قومیت کے لئے جدوجہد کی اور تحریک ترک موالات اور عدم تعاون میں بھی حصہ لیا۔اس تحریک کو مضبوط کرنے کے لئے جمعیت الانصار ،دائرۃ التربیت جمعیت علما ئےہند، امارت شرعیہ، آل انڈیا مومن کانفرنس، جمعیت الاحرار جیسی اہم تنظیموں سے کام لیااور تحریک آزادی کے مشعل کو شعلۂ جوالہ بنا دیا۔

انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے ہزاروں علماء کو کالا پانی کی سزائیں دی گئیں اور پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا، مگر انہوں نے کالا پانی کی سزا کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور پھانسی کے پھندے کو خوشی خوشی چوم لیا۔یہ تھی ملک کی آزادی کے لئے علمائے کرام کی قربانیاں !

خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا اہم کرداررہا ہے اور علماء اور مدارس کی تحریک آزادی ہندوستان کی تحریک آزادی کا اہم باب ہے، جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کے نتیجے میں 15 ؍اگست 1947 کو ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی ملی، اسی مناسبت سے 15 ؍اگست کو آزادی کی تقریب منائی جاتی ہے، مجاہدین آزادی کے کارناموں کو یاد کیا جاتا ہے ،اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ دیگر مجاہدین آزادی کے ساتھ علمائے کرام کی قربانیوں اور ان کے کارناموں کو بھی یاد کریں اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں اور مدارس اسلامیہ کے کارناموں کا بھی ذکر کریں جس نے ایسے بڑے بڑے علمائے کرام کو پیدا کیا جنہوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جان ،مال اور ہر چیز کو قربان کر دیا۔

علمائے کرام جنہوں نے ہندوستان کی آزادی میں حصہ لیا ان کی تعداد بے شمار ہے ،البتہ ان میں سے چند کے نام پیش کئے جاتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں۔

حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلویؒ،حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلویؒ،حضرت سید احمد شہید،حضرت سیدشاہ محمد اسمٰعیل شہید،شیخ الاسلام مولاناسید عبدالحئ،مولانا ولایت علی صادق پوری ،مولانا عنایت علی صادق پوری ، مولانا فرحت حسین صادق پوری، مولانا احمد اللہ صادق پوری،مولانا عبد اللہ صادق پوری ،مولانا فیاض علی صادق پوری ،مولانا امیر الدین مالدھی،مولانا سیدنصیرالدین دہلوی،مولانامحمد جعفر تھانیسری،مولانا فضل حق خیرآبادی،مولانا امام بخش صہبائی ،مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، مولانا کفایت علی کافیؔ شہید، مولانا مفتی عنایت احمد کاکوری، مفتی صدرالدین خاں آزردہؔ دہلوی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، حاجی امدا داللہ مہاجر مکی ،مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا مظہر نانوتوی، مولانا وہاج الدین مرادآبادی، مولانا منیر نانوتوی،شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ،مولانا عزیز گل پشاوری،مولانا عبدالرزاق حیدرآبادی، مولاناپیر محمدحیدرآبادی ،مولانا علائوالدین حیدرآبادی،مولانا محمد میاں عرف مولانا منصور انصاری ،مولانا عبید اللہ سندھی،مولانا سلامت اللہ فرنگی محلی لکھنوی ،مولانا محمدبشیر فیروز پوری،مولانا غلام جیلانی رفعت،مولانا سلیم حیدرآبادی،مولانا غلام محمد بھاولپوری ،مولانا احمد اللہ پانی پتی ،مولانا سید حسین احمد مدنی،حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی،مجاہد ملت مولاناحفظ الرحمٰن سیوہاروی،مولانا صادق کراچوی،مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی ،مولانا مرتضی حسن چاندپوری، مولانا احمد سعید دہلوی ، مولانا عبدالباری فرنگی محلی،مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا آزاد سبحانی،مولانا عبد الجلیل شہید ، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا خلیل احمدامبیٹھوی،مولانا سیف الرحمان قندھاری، مولانا ظہور محمد خاں سہارنپوری،مولانا محمد مبین دیوبندی ، مولانا شاہ عبد الرحیم رائپوری، مولانا عبد الرحیم صادق پوری، مولانا سید محمد نذیر حسین عرف میاں صاحب ، مولانا عبد العزیزرحیم آبادی ،مولانا سید محمد فاخر میاں بجنوری،مولانا فیض احمد بدایونی،مولانا سید محمد اسحٰق مونگیری ،مولانا فضل ربی پشاوری ،مولانا ابو الحسن تاج،مولانا احمداللہ چکوالی ،مولانا عبد الرحیم پوپلزئی ، مولانا محمد اکبر یاغستانی،مولانا سیدشاہ بدرالدین قادری پھلوارویؒ ،مولانا ابو المحاسن محمد سجادبانی امارت شرعیہ ، مولانا محمد رحمت اللہ چتراوی ، مولانا ابراہیم دربھنگوی ، مولانا سید سلیمان ندوی ،مولاناخدا بخش مظفر پوری ،مولانا عبدالحکیم گیاوی،مولا نا سیدشاہ محی الدین قادری پھلواروی ،مولانا عتیق الرحمٰن آروی ،مولانا ابولبرکات عبدالرؤف دانا پوری ،مولانا حکیم عبدالرحمٰن وفا عظیم آبادی ثم ڈمرانوی،مولانا عبد الودود محی الدین نگری سمستی پوری ، مولانا عثمان غنی دیوری ،مولانا عبد الوہاب دربھنگوی ،مولانا محمد سہول عثمانی بھاگلپوری ، مولا نا عبد الرحیم دوگھروی دربھنگوی،مولانا شائق احمد عثمانی بھاگلپوری ،مولانا اصغر حسین بہاری ، مولانا عبد العلیم آسی دربھنگوی ، مولانا عزیز الرحمٰن دربھنگوی ،مولانا ادریس دوگھروی دربھنگوی، مولانا سید نثار احمد انوری دربھنگوی ،مولانا عبد الباری جھمکاری ،مولانا محمود عالم سمستی پوری، مولانامحمد ابراہیم تاباں پورینوی،مولانا سید محمد قریش باروی ،مولاناحکیم یوسف حسن خان سوری ، مولانا حافظ عبد الرشید سمتی پوری،مولا سید نوراللہ رحمانی، مولانا عبد الرشید حسرت بیلہیاوی ،مولانا سید منت اللہ رحمانی، مولانا محمد قاسم سوپولوی ،مولانا محمد سلیمان آواپوری ،مولانا سید شاہ عون احمد قادری پھلواروی ، مولانا سید عبدالرب نشتر کھگڑیا وی، مولانا لطف الرحمٰن ہر سنگھ پوری،مولانا مفتی ظفیر الدین دربھنگوی،مولانا حبیب اللہ گیاوی ،مولانا نورالدین بہاری، مولانا عاصم بہاری،مولانا محمد عبد الحمید بھاگلپوری

ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا کردار ہندوستان کی تحریک آزادی کا اہم باب ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ آج نفرت کی سیاست کی وجہ سے کچھ سیاسی لیڈران مدارس کی خدمات کا انکار کر رہے ہیں اور ان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ،جبکہ یہ الزام بے بنیادہے، جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی کا مطالعہ نہیں کیا ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ تحریک آزادی کے اس باب کا خصوصیت کے ساتھ مطالعہ کریں، جس میں ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کے کردارکا تذکرہ ہے ۔ساتھ ہی ہماری بھی ذمہ داری ہےکہ ہم اپنے مسلم مجاہدین آزادی بالخصوص علمائے کرام کے کارناموں کوان سے لوگوں کوواقف کرائیں جو تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کے کردار سےناواقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ علمائے کرام اور ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہندوستان کو امن و شانتی کا گہوارہ بنائے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply