اردو کے فروغ کے لیے وسیع تر مکالمے کی ضرورت

کرین رجیجو اور اردو: ایک اہم اعتراف، ایک روشن امکان

اسلم رحمانی

ہندوستان میں اردو کا معاملہ محض ایک زبان کے فروغ یا زوال کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ملک کی تہذیبی تاریخ، اجتماعی حافظے اور مشترکہ معاشرتی تجربے سے جڑا ہوا موضوع ہے۔ اردو کو آج تعلیمی، ادارہ جاتی اور معاشرتی سطح پر متعدد مسائل کا سامنا ضرور ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی کشش اور معنویت ختم نہیں ہوئی۔ اس کا سب سے روشن ثبوت یہ ہے کہ ملک کے مختلف طبقات میں آج بھی اردو کے لیے احترام موجود ہے اور وقتاً فوقتاً قومی سطح کی اہم شخصیات بھی اس کی تہذیبی قدر و قیمت کا اعتراف کرتی ہیں۔

کرین رجیجو اور اردو: ایک اہم اعتراف، ایک روشن امکان
اردو کے فروغ کے لیے وسیع تر مکالمے کی ضرورت

مؤرخہ17 ستمبر 2026 کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان(این سی پی یو ایل)کے اشتراک سے نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ’بھارت ایکسپریس اردو‘ کے تیسرے نیشنل کانکلیو ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی و پارلیمانی امور کرین رجیجو کی شرکت اور خطاب اسی سلسلے کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ انہوں نے اردو کو کسی مخصوص مذہب یا طبقے کی زبان تسلیم کرنے کے بجائے اسے ہندوستان کی اپنی مٹی سے پیدا ہونے والی ہندوستانی زبان قرار دیا اور اسے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی ایک اہم علامت بتایا۔

ان کا یہ کہنا کہ بعض لوگ اردو کو پاکستان سے جوڑتے ہیں، حالاں کہ تقسیم کے بعد لوگ سرحد پار گئے، زبان کی پیدائش ہندوستانی سرزمین پر ہوئی، اردو کی تاریخی شناخت کے بارے میں ایک واضح نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔زبانوں کی تاریخ دراصل انسانی اختلاط کی تاریخ ہوتی ہے۔ کوئی زبان محض سیاسی نقشے پر کھینچی ہوئی لکیر کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ صدیوں کے میل جول، معاشرتی روابط، تجارت، ہجرت، ادبی تخلیق اور روزمرہ زندگی کے تجربات سے تشکیل پاتی ہے۔ اردو کی تاریخ بھی ہندوستان کے اسی تہذیبی تعامل سے عبارت ہے۔ اس لیے اردو کو ہندوستانی تہذیب کے تناظر میں دیکھنا اس کے تاریخی وجود کو ایک وسیع تر پس منظر میں سمجھنے کے مترادف ہے۔

کرین رجیجو کے خطاب کا دوسرا اہم پہلو اردو کو محدود سماجی دائرے سے نکال کر عام انسان تک پہنچانے کی خواہش تھی۔ انہوں نے اس تصور کی طرف اشارہ کیا کہ اردو کو کبھی دربار، شاعروں یا مخصوص تعلیم یافتہ طبقے سے وابستہ سمجھا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اردو انسانی جذبات اور روزمرہ احساسات کے اظہار کی ایک نہایت مؤثر زبان ہے۔ یہی نکتہ اردو کے مستقبل کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

کسی زبان کی زندگی صرف اس کے کلاسیکی سرمائے سے متعین نہیں ہوتی۔ غالب، میر، اقبال، فیض اور دوسرے بڑے شعرا و ادبا کا سرمایہ اپنی جگہ اردو کی عظیم شناخت ہے، مگر ہر زندہ زبان کو نئی نسل کے نئے سوالات، نئے ذرائع اور نئے اسالیبِ اظہار کے ساتھ بھی قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے۔ اردو کے سامنے بھی اصل چیلنج یہی ہے کہ اس کے شاندار ماضی کو عصر حاضر کی ضرورتوں سے کس طرح مربوط کیا جائے۔مرکزی وزیر نے اردو کی شائستگی، تہذیب اور حسنِ اظہار کا ذکر بھی کیا۔ ان کا یہ کہنا کہ اردو بولنے والوں کے انداز میں ایک خاص شائستگی محسوس ہوتی ہے، دراصل اردو کی تہذیبی روایت کی طرف اشارہ ہے۔ اس زبان نے صرف خیالات کو الفاظ نہیں دیے بلکہ انسانی جذبات کے اظہار کے لیے ایک ایسا اسلوب پیدا کیا جس میں محبت، احترام، غم، مسرت، تہذیب اور تعلق کی مختلف کیفیتیں نہایت لطافت کے ساتھ بیان ہوتی ہیں۔

اردو کی مقبولیت کا ایک بڑا میدان ہندوستانی سنیما اور موسیقی بھی رہا ہے۔ کرین رجیجو نے پرانے فلمی گیتوں میں اردو کے خوب صورت الفاظ کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے ساحر لدھیانوی اور نوشاد جیسے ناموں کو یاد کیا۔ یہ حوالہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اردو کا اثر صرف اردو پڑھنے اور لکھنے والوں تک محدود نہیں رہا؛ اس نے ہندوستانی عوامی ثقافت کے ایسے حصے تشکیل دیے جن سے مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بھی جذباتی طور پر وابستہ ہیں۔آج صورت حال بدل چکی ہے۔ نئی نسل کا بڑا حصہ کتاب سے زیادہ موبائل اسکرین پر وقت گزارتا ہے۔فیس بک،انسٹاگرام، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور دوسرے ڈیجیٹل ذرائع نے ابلاغ کے انداز کو بدل دیا ہے۔ چنانچہ اردو کے فروغ کی حکمت عملی بھی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ اگر اردو کا خوب صورت ادبی سرمایہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم، مختصر ویڈیوز، آڈیو مواد اور نوجوانوں کے تخلیقی رجحانات سے مربوط کیا جائے تو زبان کے لیے نئے قارئین اور نئے سامعین پیدا کیے جا سکتے ہیں۔کرین رجیجو کا نوجوانوں سے یہ کہنا کہ اگر محبت کرنی ہے تو اردو سیکھنی چاہیے، بظاہر ایک دل چسپ اور ہلکا جملہ ہے، لیکن اس میں اردو کے فروغ کا ایک اہم نفسیاتی پہلو پوشیدہ ہے۔ نئی نسل کو کسی زبان سے جوڑنے کے لیے صرف نصاب، امتحان اور سرکاری احکامات کافی نہیں ہوتے؛ زبان کو زندگی، جذبات، تفریح اور تخلیقی اظہار سے بھی جوڑنا پڑتا ہے۔ اردو کی شیرینی کو نوجوانوں کے موجودہ ثقافتی ذوق سے مربوط کرنا اسی سمت ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے۔

اردو زبان و ادب سے متعلق منعقد ہونے والی محفلیں عموماً مشاعرے، ادبی نشستیں، سیمینار، کانفرنسیں، کتابوں کی رونمائی، صحافتی اجلاس اور علمی مذاکرے تک محدود رہتی ہیں۔ ان پروگراموں کی اپنی ادبی و علمی اہمیت ہے، لیکن اگر اردو کے فروغ کو ایک وسیع تر سماجی عمل کے طور پر دیکھا جائے تو ان محفلوں میں حکومتی نمائندوں، منتخب عوامی نمائندوں، انتظامی افسران اور مختلف سرکاری اداروں سے وابستہ ذمہ دار شخصیات کی شرکت بھی ایک بامعنی روایت بن سکتی ہے۔ اس کا تعلق کسی سیاسی وابستگی سے نہیں بلکہ اس حقیقت سے ہے کہ زبان معاشرے کی مشترکہ میراث ہوتی ہے اور اس کے فروغ میں سماج کے مختلف طبقات کی شرکت اس کے دائرۂ اثر کو وسیع کرتی ہے۔

حکومتی نمائندے کسی اردو تقریب میں شریک ہوتے ہیں تو اس شرکت کا ایک اہم پہلو علامتی اعتراف ہوتا ہے۔ ایک وزیر، رکنِ پارلیمان، رکنِ اسمبلی یا اعلیٰ سرکاری عہدیدار جب کسی اردو ادبی تقریب کے اسٹیج پر آکر اردو کی تاریخی، تہذیبی یا علمی اہمیت پر گفتگو کرتا ہے تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اردو محض کسی محدود ادبی حلقے کی سرگرمی نہیں، بلکہ وسیع تر ہندوستانی معاشرے کے ثقافتی منظرنامے کا حصہ ہے۔ اس طرح زبان کے گرد موجود سماجی دائرہ وسیع ہوتا ہے اور مختلف طبقات کے درمیان اس کے بارے میں براہِ راست مکالمے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔یہ پہلو اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب حکومتی شخصیات اردو کے بارے میں اپنی بات خود اپنے الفاظ میں کہتی ہیں۔ کسی سرکاری دستاویز یا رسمی حکم کے مقابلے میں عوامی اجتماع میں ایک ذمہ دار شخصیت کا زبان کی اہمیت پر اظہارِ خیال زیادہ وسیع سماجی اثر پیدا کرسکتا ہے۔ خاص طور پر جب ایسی شخصیت اردو کو ہندوستان کی تاریخ، تہذیب، موسیقی، سنیما، صحافت یا روزمرہ معاشرت کے تناظر میں بیان کرے تو اردو کا تعارف محض ایک نصابی مضمون یا ادبی روایت کے طور پر نہیں رہتا بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے مربوط ہوجاتا ہے۔ اردو سے متعلق تقاریب میں حکومتی نمائندوں کی شرکت کا دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ اردو کے مسائل براہِ راست ذمہ دار طبقات تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان محفلوں میں عام طور پر اردو کے فروغ، تعلیم، نصاب، روزگار، اشاعت، ترجمہ، صحافت، ڈیجیٹل وسائل اور ادارہ جاتی ضرورتوں پر گفتگو ہوتی ہے۔ اگر متعلقہ محکموں یا منتخب اداروں کے نمائندے وہاں موجود ہوں تو یہ گفتگو محض ادبی اظہار تک محدود نہیں رہتی بلکہ متعلقہ پالیسی سازوں تک بھی پہنچتی ہے۔ اس سے ضروری نہیں کہ ہر تجویز فوری طور پر عملی شکل اختیار کرے، لیکن کم از کم مسئلے اور پالیسی کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ ضرور قائم ہوتا ہے۔

زبان کے فروغ کے لیے سماجی قبولیت اور ادارہ جاتی تعاون دونوں ضروری ہیں۔ صرف حکومت کسی زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتی اور صرف ادبی حلقے بھی زبان کے تمام تقاضے پورے نہیں کرسکتے۔ حکومت ادارے، وسائل اور پالیسی فراہم کرسکتی ہے،تعلیمی ادارے تحقیق اور تدریس کو آگے بڑھا سکتے ہیں، صحافت زبان کو روزمرہ ابلاغ سے جوڑ سکتی ہے، ادیب اس کے تخلیقی امکانات کو وسیع کرسکتے ہیں، اور معاشرہ اسے اپنے عملی استعمال میں زندہ رکھ سکتا ہے۔ جب یہ تمام حلقے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو زبان کا فروغ زیادہ ہمہ گیر شکل اختیار کرتا ہے۔

حکومتی نمائندوں کی شرکت کا ایک اور اہم پہلو نئی نسل پر اس کا نفسیاتی اثر ہے۔ نوجوان جب دیکھتے ہیں کہ ان کے ملک کے وزرا، عوامی نمائندے اور انتظامی ذمہ دار اردو کے کسی پروگرام میں شریک ہیں، اس زبان کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور اس کے ادبی و تہذیبی سرمائے کو اہمیت دیتے ہیں تو ان کے ذہن میں زبان کے بارے میں ایک مثبت سماجی تصور پیدا ہوتا ہے۔ زبان صرف اس وقت زندہ نہیں رہتی جب اسے پڑھایا جائے وہ اس وقت بھی مضبوط ہوتی ہے جب معاشرہ اسے وقار، افادیت اور اظہار کے قابل ذریعہ سمجھتا ہے۔یہاں میڈیا کا کردار بھی بنیادی ہے۔ کسی اردو تقریب میں کسی اہم حکومتی شخصیت کی شرکت عموماً اخبارات، ٹیلی ویژن، ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا میں خبر بنتی ہے۔ یوں اردو کے بارے میں ہونے والی گفتگو اردو کے روایتی قارئین سے نکل کر ان لوگوں تک بھی پہنچ سکتی ہے جو براہِ راست اردو کی ادبی محفلوں میں شریک نہیں ہوتے۔ اگر اس موقع پر اردو کے مثبت، تاریخی اور علمی پہلو نمایاں کیے جائیں تو زبان کے بارے میں عام سماجی شعور کو وسعت مل سکتی ہے۔

اس عمل کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اردو ایک مخصوص طبقے کی شناخت سے آگے بڑھ کر مشترکہ ثقافتی ورثے کے طور پر زیادہ نمایاں ہو۔ ہندوستان جیسے کثیر لسانی معاشرے میں کسی زبان کا فروغ اسی وقت وسیع پیمانے پر ممکن ہے جب اسے مختلف معاشرتی گروہوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔ حکومتی نمائندوں کی شرکت اس عمل میں ایک پل کا کردار ادا کرسکتی ہے، بشرطیکہ گفتگو زبان کے علمی، ادبی اور تہذیبی پہلوؤں کے گرد مرکوز رہے۔اردو کی محفلوں میں حکومتی نمائندوں کو بلانے کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہر تقریب کو سرکاری تقریب بنا دیا جائے۔ ادبی محفل کی آزادی، علمی گفتگو کی خودمختاری اور تخلیقی ماحول اپنی جگہ ضروری ہیں۔ حکومتی نمائندوں کی شرکت کا اصل مقصد رابطہ پیدا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ادبی سرگرمیوں کی نوعیت تبدیل کرنا۔ ایک متوازن صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پروگرام میں حکومتی شخصیت کو اردو کی اہمیت، زبان سے متعلق حکومتی اقدامات یا مستقبل کے امکانات پر مختصر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے، جبکہ اصل علمی و ادبی گفتگو ماہرین، ادیبوں، صحافیوں اور اہلِ دانش کے ذریعے جاری رہے۔اس روایت کا ایک عملی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اردو کے ادارے اپنی ضروریات کو زیادہ منظم انداز میں پیش کرسکیں گے۔

مثال کے طور پر اردو تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی ضرورت، کتابوں کی اشاعت، مخطوطات کے تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن، ترجمے، اردو صحافت، تحقیقی منصوبوں اور نئی ٹیکنالوجی میں اردو کے استعمال جیسے موضوعات پر اگر متعلقہ نمائندوں کے سامنے سنجیدہ اور اعداد و شواہد پر مبنی گفتگو ہو تو مستقبل میں ادارہ جاتی تعاون کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔یہاں ایک بنیادی اصول پیش نظر رہنا چاہیے: دعوت صرف پروٹوکول کے لیے نہیں، مکالمے کے لیے ہو۔اگر کسی وزیر یا سرکاری نمائندے کو مدعو کیا جائے تو انہیں اردو کے مسائل اور امکانات سے واقف کرانے کے لیے مختصر دستاویز، اعداد و شمار یا تجاویز بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح تقریب محض تقریروں کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک تعمیری رابطے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔اسی طرح حکومتی نمائندوں کی شرکت کو کسی ایک سیاسی جماعت یا طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف شعبوں اور مختلف عوامی نمائندگی رکھنے والی شخصیات کے لیے کھلا رکھا جائے تو اردو کے فروغ کا دائرہ زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔

زبان کسی ایک سیاسی شناخت کی ملکیت نہیں ہوتی؛ وہ معاشرے کی مشترکہ تہذیبی دولت ہوتی ہے۔ اس لیے اردو کے حوالے سے مکالمہ بھی وسیع، غیر جانب دار اور علمی بنیادوں پر ہونا زیادہ مفید ہے۔اردو کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی محفلیں صرف ماضی کی عظمت بیان کرنے تک محدود نہ رہیں۔ جب حکومتی نمائندے ان پروگراموں میں شریک ہوں تو ان کے سامنے اردو کے مستقبل کا سوال بھی رکھا جائے نئی نسل کے لیے اردو کیسے پرکشش بنے؟ ڈیجیٹل دنیا میں اردو کا دائرہ کیسے وسیع ہو؟ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں اردو کے مواقع کیسے بڑھیں؟ ترجمے کے ذریعے اردو کا علمی سرمایہ دوسری زبانوں اور دوسری زبانوں کا علمی سرمایہ اردو تک کیسے پہنچے؟ اردو صحافت کو نئے ذرائع ابلاغ سے کیسے جوڑا جائے؟ ایسے سوالات زبان کے فروغ کو جذباتی گفتگو سے نکال کر عملی منصوبہ بندی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔درحقیقت زبان کا مستقبل صرف اس کے ماضی کے شاندار تذکروں میں پوشیدہ نہیں ہوتا۔ مستقبل اس وقت تشکیل پاتا ہے جب زبان اپنے عہد کے اداروں، ٹیکنالوجی، تعلیم، معیشت، میڈیا اور نوجوان نسل کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرتی ہے۔ حکومتی نمائندوں کی اردو کی محفلوں میں شرکت اسی تعلق کی ایک کڑی بن سکتی ہے۔ لہٰذا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ اردو کے بارے میں گفتگو اردو کے دائرے سے نکل کر ہندوستان کے وسیع تر سماجی اور قومی مکالمے کا حصہ بنے۔ جب زبان پر بات کرنے والے صرف زبان کے اہل نہ ہوں بلکہ معاشرے کے مختلف ذمہ دار طبقات بھی اس گفتگو میں شریک ہوں، تو زبان کے امکانات بھی وسیع ہوتے ہیں اور اس کی معنویت بھی زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔

اردو کے بارے میں کرین رجیجو کا حالیہ بیان اسی اعتبار سے قابلِ توجہ اور خوش آئند ہے۔ اس میں اردو کے تاریخی پس منظر، ہندوستانی تہذیب سے اس کے تعلق، اس کی عوامی وسعت اور نئی نسل سے اس کے رشتےچاروں پہلو ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اس بیان کو محض ایک تقریب کی تقریر سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اردو کے وسیع تر مستقبل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

اردو کو مستقبل کی زبان بنانے کے لیے کسی مصنوعی تحفظ کی نہیں، وسیع تر استعمال کی ضرورت ہے۔ اسکول اور یونیورسٹی، صحافت اور تحقیق، سنیما اور موسیقی، ترجمہ اور ٹیکنالوجی، کتاب اور ڈیجیٹل میڈیا ہر میدان اردو کے لیے نئے امکانات رکھتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اردو اپنے کلاسیکی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے نئے عہد کی زبان بھی بنے۔زبان کی زندگی کا راز شاید یہی ہے کہ وہ اپنے ماضی کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل سے مکالمہ کرتی رہے۔ اردو نے ہندوستان کے تہذیبی سفر میں صدیوں تک مختلف نسلوں، علاقوں اور معاشرتی طبقات کے درمیان اظہار کا وسیلہ بن کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی اس کے سامنے امکانات کا ایک وسیع افق موجود ہے۔کرین رجیجو کا خطاب اسی امکان کی طرف ایک خوش آئند اشارہ ہے۔ اگر اردو کو اس کی تاریخی حقیقت، ادبی عظمت اور تہذیبی وسعت کے ساتھ نئی نسل کے جدید ذوق سے جوڑ دیا جائے تو یہ زبان صرف اپنے ماضی کی یادگار نہیں رہے گی، بلکہ ہندوستان کے آئندہ تہذیبی منظرنامے میں بھی اپنی مؤثر آواز برقرار رکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply