نثار فدائی اور ان کی شاعری
ڈاکٹر اشتیاق احمد قاسمی دربھنگوی
شاعری شعور و احساس کی ترجمان ہے، اور شعور کا گہرا تعلق انسان کے باطن سے ہے۔ حقیقی احساس بھی باطن ہی کی گہرائیوں سے جنم لیتا ہے۔ شاعر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حسّاس اور صاحبِ ادراک ہوتا ہے؛ وہ کائنات کا محض مشاہدہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے اسرار و رموز کا مطالعہ کرکے اپنی مخصوص تعبیر کو پیکرِ الفاظ عطا کرتا ہے۔ شاعر جتنا بڑا اور صاحبِ کمال ہوتا ہے، اس کی پروازِ فکر اتنی ہی بلند، وسعتِ نظر اتنی ہی وسیع اور تعبیر اتنی ہی نادر و دل نشیں ہوتی ہے۔ بسا اوقات شاعر کی پروازِ خیال اس قدر بلند ہوتی ہے کہ وہ خود بھی اپنے احساسات و کیفیات کی پوری تعبیر و ترجمانی پر قادر نہیں ہوتا۔ شاعر کی عظمت کا ایک معیار یہی ہے کہ اس کی فکر کی پرواز کہاں تک پہنچتی ہے، اس نے کسی حقیقت یا واقعے کو کس زاویۂ نظر سے دیکھا ہے اور اس کی تعبیر میں کس قدر رفعت، ندرت اور معنویت پائی جاتی ہے۔

بہت سے شعراء کے کلام میں سطحیت کا عنصر غالب ہوتا ہے؛ ان کی شاعری فکر کی گہرائی اور احساس کی بلندی سے عاری ہوتی ہے۔ ایسے کلام کو اصطلاحی معنوں میں شاعری کہنا مشکل ہے؛ ایسا شاعر زیادہ سے زیادہ ناظم ہوتا ہے جو الفاظ کو ایک خاص ترتیب میں پرو دیتا ہے۔ کبھی ایسی شاعری بھی سامنے آتی ہے جس میں موضوعیت اور فکری ربط کا فقدان ہوتا ہے اور مضمون ابتذال آمیز سطح تک جا پہنچتا ہے۔ ایسے شعراء رفتہ رفتہ اپنی ادبی وقعت کھو دیتے ہیں اور ناقدینِ فن کی نگاہ میں ان کی کوئی قابلِ ذکر حیثیت باقی نہیں رہتی۔ بعض شعراء اپنے کلام میں شہوانی اور مبتذل تعبیرات کی فراوانی کے باعث ادبی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں؛ ان کا حلقۂ اثر محدود رہ جاتا ہے اور کلاسیکی ادب کی وسیع و معتبر دنیا میں انہیں وہ مقام نصیب نہیں ہوتا جس کے وہ خواہش مند ہوتے ہیں۔
شاعری اور نثر میں بنیادی فرق ہیئت و اسلوب کا ہے؛ ورنہ نثر میں بھی ایسے نمونے موجود ہیں جن میں گہرائی، گیرائی، معنویت، فصاحت و بلاغت اور تاثیر اس قدر نمایاں ہوتی ہے کہ وہ بعض اوقات شعری کلام پر بھی فوقیت لے جاتی ہے۔ اصل چیز لفظوں کی صف بندی نہیں، بلکہ فکر کی پختگی، احساس کی صداقت، خیال کی بلندی اور تعبیر کی دل آویزی ہے۔
ہر شاعر کا میدانِ سخن جدا اور اس کا ذوق و میلان مختلف ہوتا ہے۔ کوئی مدح سرائی میں ممتاز ہوتا ہے، کوئی ہجو میں اپنا مقام بناتا ہے، کوئی طنز و مزاح میں کمال دکھاتا ہے، کوئی غزل کے میدان میں اپنی شناخت قائم کرتا ہے اور کوئی نعتیہ شاعری میں اپنی عقیدت و محبت کے گل بوٹے کھلاتا ہے۔ بعض شعراء مرثیہ نگاری میں بلند مقام حاصل کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ شعری اصناف کا دائرہ وسیع ہے اور ہر شاعر کا رجحان کسی نہ کسی صنف کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ کم ہی شعراء ایسے ہوتے ہیں جو بیک وقت متعدد اصنافِ سخن میں کامیابی کے ساتھ طبع آزمائی کر سکیں۔
میرے سامنے محترم شیخ نثار احمد باقوی نثار فدائی مدظلہ العالی کی شاعری کا مجموعہ ہے۔ موصوف کے کلام میں تخلص کے طور پر ’’نثار‘‘ نظر آیا، جب کہ ان کے فرزندِ ارجمند کے مطابق والدِ محترم کا ایک تخلص ’’فدائی‘‘ بھی ہے۔ ایک شاعر کے دو تخلص ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں؛ محمد قلی قطب شاہ، جو صاحبِ دیوان شعراء میں اولین شمار ہوتے ہیں، کے کلام میں دس سے زیادہ تخلص ملتے ہیں۔
شیخ نثار فدائی کی تعلیم جامعہ باقیات الصالحات، ویلور، مدراس میں ہوئی۔ خلقِ خدا کو فیض پہنچانے اور رشد و ہدایت کی شمع فروزاں رکھنے کے لیے آپ نے جامعۃ الصالحات، بنگلور میں ایک ادارہ قائم کیا اور تقریباً تیس پینتیس برس تک اس کی نظامت و اہتمام کی خدمت انجام دیتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مسلسل خطابت کے ذریعے بھی عوام کو وعظ و نصیحت اور دینی رہنمائی سے بہرہ مند فرمایا، اور آج بھی یہ سلسلۂ خطابت جاری ہے۔ آپ کی اہم مشغولیات میں امامت کے فرائض کی انجام دہی بھی شامل رہی ہے اور ایک طویل مدت تک آپ اس خدمت سے وابستہ رہے۔
آپ کی زیرِ ادارت ’’سلسبیل‘‘ نامی رسالہ جامعہ سبیل الرشاد، بنگلور سے مسلسل شائع ہوتا رہا، جس میں آپ کے مقالات و مضامین کے ساتھ آپ کی شاعری بھی شائع ہوتی رہی۔ آپ کے مضامین مختلف اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہے اور غزلوں کے علاوہ مختلف قطعات بھی اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے۔ نعتیہ شاعری میں بھی آپ کا کلام خاصا قابلِ ذکر ہے۔ جن اخبارات میں آپ کی نگارشات شائع ہوتی رہی ہیں، ان میں روزنامہ سہارا، روزنامہ منصف، روزنامہ سالار، روزنامہ سیاست وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ تاہم آپ کے منتشر کلام کو یکجا کرنے اور اسے باقاعدہ مجموعۂ کلام کی صورت میں محفوظ کرنے کی طرف کبھی خاص توجہ نہ دی جا سکی۔ اب آپ کے فرزندانِ گرامی نے مختلف اخبارات، رسائل اور دیگر ذرائع سے آپ کے کلام کو جمع کرنے کا مبارک سلسلہ شروع کیا ہے۔
نثار فدائی کی تصانیف میں سے بعض کا علم مجھے ان کے فرزندِ ارجمند جناب عادل قاسمی سے ہوا۔ انہوں نے حضرت وہاب العلوم مولانا شاہ عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر ایک خاکہ تحریر کیا ہے۔ اسی طرح اپنے والدِ محترم کا سوانحی خاکہ ’’شیخ آدم‘‘ کے نام سے قلم بند فرمایا ہے اور جامعہ باقیات کی سو سالہ خدمات کو بھی مرتب کیا ہے۔
میرے سامنے نثار فدائی کی شاعری کا مجموعہ ہے۔ اس کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ غزلیہ شاعری سے انہیں خاص مناسبت ہے۔ انہوں نے زمانۂ طالب علمی ہی سے مشقِ سخن کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے اساتذۂ کرام سے تحسین و آفرین حاصل کی، جنہوں نے اپنے کلماتِ توصیف سے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان کے فرزند کے بیان کے مطابق ان کی پہلی غزل اس وقت منظرِ عام پر آئی جب مرزا غالب کے سلسلے میں تمل ناڈو میں ایک سالہ جشن منایا جا رہا تھا۔ اس وقت وہ طالب علم تھے، لیکن ان کی غزل کو پسند کیا گیا اور اہلِ ذوق نے اسے پذیرائی بخشی۔
مذکورہ مجموعے میں آپ کی نعتیہ اور غزلیہ دونوں طرح کی شاعری شامل ہے۔ نعتیہ شاعری میں محبتِ رسول ﷺ، تاریخی تلمیحات، حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر، مکی و مدنی زندگی کے مختلف واقعات اور ان سے وابستہ قلبی جذبات نمایاں طور پر جلوہ گر ہیں۔ تاہم آپ کی غزلیہ شاعری مجھے زیادہ پسند آئی؛ اس لیے کہ انہوں نے اپنی غزل میں متنوع مضامین کو جگہ دی ہے اور غزل کے دامن کو محض چند مخصوص موضوعات تک محدود نہیں رکھا۔ مولانا الطاف حسین حالی نے ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ میں غزل کے لیے جس وسعتِ مضمون اور تنوعِ خیال کی طرف توجہ دلائی ہے، نثار فدائی نے بھی اپنی غزل میں اس وسعت کو بڑی خوبی کے ساتھ برتا ہے۔
آئیے، ان کی غزل کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے۔ ان کی شاعری میں انقلابی تعبیرات بھی خوب ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ غزل دیکھیے، جس کا مطلع ہے:
برائے نظمِ چمن انقلاب بن جائیں
کبھی تو وقت کے ماتھے کی آب بن جائیں
کرن کرن کو سمیٹیں، بدن میں جذب کریں
جلا کے اپنا لہو آفتاب بن جائیں
ایک غزل میں انہوں نے زوال کی تعبیر بھی بڑے مؤثر اور دل نشیں انداز میں کی ہے، جو مجھے خاص طور پر پسند آئی:
زمین کی وسعتیں، صحرا بھی ہم کھنگال لیے
ہر ایک نفس ہے مقدر کا خود زوال لیے
اسی طرح اگلے شعر میں انہوں نے مشکلات کے حصار میں بھی حل اور امید کی راہ تلاش کرنے کی تعبیر خوب صورت پیرایے میں کی ہے:
کہیں تو اندھی گھٹاؤں نے راستہ روکا
دِیے جلا کے کہیں صبحِ نو اجالے
اسی غزل میں انہوں نے اپنی وسعتِ فکر اور بلندئِ خیال کی ترجمانی بھی بڑے مختصر مگر جامع انداز میں کی ہے:
میری نظر کو نہ الزامِ نارسائی دے
ہے کائنات میری وسعتِ خیال لیے
ایک غزل میں انہوں نے احمد فراز کے رنگ و آہنگ سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
وہ میرے عیب و ہنر کو تلاش کرتا ہے
اسی طرح سے وہ اپنی معاش کرتا ہے
وہی ہے جس کو تو ہمزاد کہہ دیا اپنا
وہ لمحہ لمحہ تیرا راز فاش کرتا ہے
نثار فدائی نے معشوق کو غنچے سے نہایت لطیف انداز میں تشبیہ دی ہے۔ کہتے ہیں:
تو نے تشبیہ تراشی کیسے
تو نے کیا غنچۂ دہن دیکھا ہے؟
متواضع انسان کی ناقدری کرنے والوں پر طنز کرتے ہوئے نثار فدائی کہتے ہیں:
خاک کو خاک سمجھنے والے
مل کے مٹی میں بدن دیکھا ہے؟
محبوب کی بات سن کر بے خودی کی کیفیت کی ایک اچھوتی اور لطیف تعبیر بھی نثار فدائی کی شاعری میں نظر آتی ہے:
بِین پر شوخ سے لہراتے کبھی
آپ نے سانپ کا پھن دیکھا ہے؟
ایسی غزل جس میں نظم کی طرح خیالات کا تسلسل برقرار رہے اور ایک مضمون کو مربوط انداز میں مسلسل آگے بڑھایا جائے، اسے ’’غزلِ مسلسل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں نثار فدائی کی غزلِ مسلسل بھی شامل ہے، جو ان کے شعری ذوق اور فکری تسلسل کی عکاس ہے۔
بعض غزلوں میں معنویت کی تہہ داری بھی خاصی نمایاں ہے، جہاں ایک ہی شعر کے پردے میں متعدد مفاہیم جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بعض مقامات پر سہلِ ممتنع کی کیفیت بھی محسوس ہوتی ہے؛ یعنی الفاظ بظاہر نہایت سادہ اور رواں ہیں، مگر ان میں مضمر معنی، فکری لطافت اور تاثیر کو اسی انداز میں ادا کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔
الغرض نثار فدائی کا یہ مجموعۂ کلام ان کے دیرینہ ذوقِ سخن، وسیع مشاہدے، متنوع افکار اور قلبی کیفیات کا آئینہ دار ہے۔ ان کے کلام میں عقیدت و محبت کے جذبات بھی ہیں، عصری شعور کی بازگشت بھی، زندگی کے نشیب و فراز کی عکاسی بھی اور فکر و احساس کی مختلف جہتیں بھی۔ امید ہے کہ یہ مجموعہ اہلِ ذوق کے لیے باعثِ دلچسپی ہوگا اور نثار فدائی کے منتشر شعری سرمایے کو محفوظ کرنے کی یہ کاوش ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔






