سلمان کبیر نگریؔ: حیات و ادبی خدمات

اسماعیل قمر بستوی

سلمان کبیر نگریؔ اردو زبان و ادب سے وابستہ شاعر، صحافی، مصنف اور مدرس ہیں۔ ان کی ادبی و علمی سرگرمیوں کا مرکز بالخصوص بستی، سدھارتھ نگر وسنت کبیر نگر اور ان کے اطراف کے علاقے ہیں۔ شاعری، صحافت، تدریس اور تصنیف و تالیف کے ساتھ علاقائی شعراء اور اہلِ قلم کو متعارف کرانا بھی ان کی دل چسپی کا اہم میدان ہے۔ سہ ماہی رسالے ’’نئی روشنی‘‘ کی ادارت اور مختلف موضوعات پر ان کی تصنیفی و تالیفی کاوشیں ان کی ادبی سرگرمیوں کی نمایاں مثالیں ہیں۔

سلمان کبیر نگریؔ: حیات و ادبی خدمات
سلمان کبیر نگریؔ: حیات و ادبی خدمات

ولادت و تعلیم

سلمان احمد بن سرسید احمد بن مختار احمد بن ضلع دار بن عبداللہ بن بہاؤالدین بن شجاع الدین، 27 جولائی 1991ء کو موضع برینیاں، پوسٹ گنوا کھور، بلاک بلہر کلاں، تحصیل مہنداول، ضلع سنت کبیر نگر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ادبی دنیا میں وہ سلمان کبیر نگری کے نام سے معروف ہیں۔

انھوں نے دینی تعلیم جامعہ اسلامیہ مظفر پور، ضلع اعظم گڑھ، شاخ ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے حاصل کی۔ عصری تعلیم کے سلسلے میں شری رام نریش چودھری، رمواپور، ضلع سنت کبیر نگر سے انٹرمیڈیٹ کیا اور خواجہ معین الدین چشتی زبان، ادب و ثقافت یونیورسٹی، لکھنؤ میں بی اے کے پہلے سال تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ مدرسہ تعلیمی بورڈ، لکھنؤ سے منشی اور مولوی کی اسناد بھی حاصل کیں۔ حکیم نورالہدیٰ اور انجینئر محمود خان محمود سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔

شاعری و ادبی ذوق

سلمان کبیر نگریؔ نے 2017ء میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی ادبی دل چسپی شاعری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنے علاقے کے شعراء اور اہلِ قلم کی خدمات کو محفوظ کرنے اور انہیں ادبی حلقوں میں متعارف کرانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ علاقائی ادب سے ان کی وابستگی کا نمایاں اظہار ان کی کتاب ’’شعرائے بستی کمشنری، بستی، سدھارتھ نگر،سنت کبیرنگر و اطراف: تعارف و تبصرہ‘‘ میں ہوتا ہے، جس میں انھوں نے علاقے کے شعراء کے حالات اور ادبی خدمات کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کی تکمیل کے بعد شعراء سے ملاقات اور انہیں کتابیں پیش کرنے کا عمل بھی ان کی ادبی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہے۔

صحافت و تصنیف

سلمان کبیر نگریؔ 2015ء سے سہ ماہی رسالے ’’نئی روشنی‘‘ کی ادارت سے وابستہ ہیں۔ صحافت کے ذریعے علمی، ادبی اور سماجی موضوعات کو قارئین تک پہنچانے کے ساتھ وہ اردو زبان و ادب کے فروغ اور مقامی اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی میں بھی دل چسپی رکھتے ہیں۔

ان کی تصنیفی و تالیفی کاوشوں میں دینی، ادبی اور معلوماتی موضوعات شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں یہ کتابیں شامل ہیں: (1) اسلامیات (سیرت النبی ﷺ) ، (2) شعاعِ حرم، (3) توشۂ آخرت (دعاؤں کا مجموعہ)، (4) ذخیرۂ تجوید، (5) تحفۂ فائزہ، (6) جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر، (7) سنت کبیر نگر کے سیاسی مسلم رہنما، (8) تحفۂ عافیہ۔ اس کے علاوہ ’’تذکرۂ علماء بستی کمشنری‘‘ ان کے تالیفی منصوبوں میں شامل ہے۔

تدریسی و سماجی سرگرمیاں

تعلیم و تعلم، درس و تدریس اور کاشت کاری ان کے اہم مشاغل ہیں۔ وہ عافیہ اکیڈمی، ضلع سنت کبیر نگر کے صدر ہیں، فروغِ اردو سوسائٹی، ضلع بستی سے وابستہ ہیں اور دبستانِ خسرو، کبیر مگہر، خلیل آباد کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے ان کا تعلق تعلیمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے قائم ہے۔

اعزازات

سلمان کبیر نگریؔ کو ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں مختلف اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں یہ اعزازات شامل ہیں: (1) نشان اردو ایوارڈ 2018ء، یوا سنگھرش سمیتی سنت کبیر نگر، (2) ابن بطوطہ ایوارڈ، سدھارتھ کونسل، سدھارتھ نگر، (3) مولانا حالی ایوارڈ، پاسبان سوسائٹی، مظفرآباد سہارنپور، (4) خواجہ میر درد ایوارڈ، نجب النساء میموریل ٹرسٹ، لکھنؤ، 2024ء، (5) اختر بستوی سمان ایوارڈ، الخیر سوسائٹی، گورکھپور، (6) علامہ شبلی ایوارڈ، ارسلان انٹرنیشنل ٹرسٹ اعظم گڑھ 2017ء، (7) ادبی نشیمن سوسائٹی ناگ پور کی طرف سے ملنے والا قاضی عدیل عباسی ایوارڈ، 2022ء، (8) مولانا عبدالحمید رحمانی ایوارڈ جبل پور راجستھان، (9) اکبر الٰہ آبادی ایوارڈ، اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن دہلی، جو 9 نومبر 2024ء کو دیا گیا۔ آواز چیریٹیبل ٹرسٹ آف انڈیا لکھنو نے بھی انھیں 2026ء میں اعزازی سے نوازا۔

ادبی خدمات کا جائزہ

سلمان کبیر نگریؔ کی ادبی زندگی کا اہم پہلو شاعری، صحافت اور تصنیف و تالیف کے ساتھ علاقائی ادب کی ترویج سے ان کی وابستگی ہے۔ وہ مقامی شعرا اور اہلِ قلم کی خدمات کو متعارف کرانے اور اردو زبان و ادب سے اپنے تعلق کو عملی سرگرمیوں کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی ادبی و صحافتی کاوشیں بالخصوص بستی، سدھارتھ نگر، سنت کبیر نگر اور اطراف کے علمی و ادبی ماحول سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply