حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب: مختصر سوانحی و علمی خاکہ
ابو حماد (دیوبند)
حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب کا تعلق برصغیر کے ایک ممتاز علمی و دینی خانوادے سے ہے۔ آپ تدریس، تعلیمی اداروں کے انتظام و انصرام، اصلاحِ معاشرہ اور دینی و سماجی خدمات کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں۔ آپ عظیم مجاہدِ آزادی، محدث اور نامور عالمِ دین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے پوتے اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین و استاذِ حدیث، نیز جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کے تیسرے صاحبزادے ہیں۔

ولادت اور خاندانی پس منظر
آپ کی ولادت 20 جون 1972ء کو دیوبند میں ہوئی۔ آپ کے جدِ امجد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ (1879ء–1957ء) برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، محدث اور تحریکِ آزادی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
آپ کے والد حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین و استاذِ حدیث اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر ہیں۔ علمی و دینی ماحول میں پرورش پانے کے باعث آپ کو ابتدا ہی سے تعلیم و تربیت اور دینی خدمت سے خصوصی مناسبت رہی۔
تعلیمی، علمی اور تدریسی سفر
آپ نے ابتدائی عربی تعلیم عربی چہارم تک اپنے گھر پر حضرت مولانا مزمل علی آسامی صاحب، بانی و مہتمم جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی، محلہ خانقاہ، دیوبند سے حاصل کی۔ اس کے بعد عربی پنجم کے سال دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا، جہاں 1992ء–1993ء میں دورۂ حدیث مکمل کرکے درسِ نظامی کی تعلیم پایۂ تکمیل کو پہنچائی۔
1993ء–1994ء میں دارالعلوم دیوبند ہی سے تکمیلِ افتاء کی اور 1994ء–1995ء میں قاری عبدالرؤف بلند شہری صاحب سے قراءاتِ سبعہ کی تعلیم حاصل کی۔
تعلیم کی تکمیل کے بعد 1996ء میں جامعہ حسینیہ، لال دروازہ، جونپور سے وابستہ ہوئے اور 2000ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔
2000ء میں مظاہر علوم، سہارنپور میں تخصص فی الحدیث کے دو سالہ نصاب میں داخلہ لیا اور اس شعبے میں تخصص حاصل کیا۔ اس وقت دارالعلوم دیوبند میں تخصص فی الحدیث کا شعبہ قائم نہیں ہوا تھا۔
بعد ازاں 2002ء–2003ء کے دوران ابو المآثر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کی نگرانی میں ردِّ غیر مقلدیت کے موضوع پر علمی کام کیا اور اس سلسلے میں متعدد مقالات تحریر کیے۔
2003ء میں دوبارہ جامعہ حسینیہ، لال دروازہ، جونپور سے وابستہ ہوئے اور 2011ء تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران درسِ نظامی کی متعدد اہم کتابیں، بالخصوص ہدایہ، آپ کے زیرِ تدریس رہیں۔
گنگوہ میں تعلیمی و انتظامی خدمات
2011ء میں جونپور سے گنگوہ منتقل ہوئے اور جامعہ مدنیہ تعلیم القرآن سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں آپ ناظم و مہتمم کی حیثیت سے تعلیمی اور انتظامی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ادارے کے نظم و نسق کی نگرانی کے ساتھ فقہ اور عربی صرف کے منتخب اسباق بھی پڑھاتے ہیں۔
جامعہ مدنیہ تعلیم القرآن حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے مرقدِ مبارک کے قریب قائم ہے۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد اس تاریخی اور علمی مقام پر احیائے سنت کی دینی جدوجہد کو فروغ دینا ہے۔
آپ گنگوہ میں قائم مدنی پبلک اسکول فار گرلز کی تعلیمی و انتظامی سرپرستی سے بھی وابستہ ہیں۔ یہ ادارہ طالبات کو دینی و اخلاقی ماحول میں معیاری عصری تعلیم فراہم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ خدمات
آپ جمعیۃ علماء ہند کی تنظیمی، اصلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ جمعیۃ علماء اتر پردیش کے سیکرٹری کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
دینی مدارس کے تحفظ اور سرکاری سروے کے دوران مدارس کے ذمہ داران کی رہنمائی کے لیے تشکیل دی گئی بارہ رکنی مرکزی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے دستورِ اساسی کی دفعہ 52 کے تحت صدرِ جمعیۃ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے آپ کو آئندہ ٹرم کے لیے ناظمِ اصلاحِ معاشرہ نامزد کیا۔ اس سلسلے میں ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند، مفتی سید معصوم ثاقب صاحب کی جانب سے 22 اکتوبر 2026ء کو باضابطہ نامزدگی کا مکتوب جاری کیا گیا۔ اس سے قبل بھی آپ کئی سال تک اس منصب پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
سماجی و فلاحی سرگرمیاں
تنظیمی اور تعلیمی ذمہ داریوں کے ساتھ آپ سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ گنگوہ میں جمعیۃ علماء اور سماج سدھار سمیتی کے زیرِ اہتمام غریب اور بے روزگار افراد کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ٹھیلے مہیا کرنے اور مالی اعانت فراہم کرنے جیسی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔
ان سرگرمیوں کا مقصد ضرورت مند افراد کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور معاشرے کے کمزور طبقات کی خود کفالت میں مدد دینا ہے۔
تصنیفی و تالیفی خدمات
تدریسی، تعلیمی اور تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ آپ تصنیف، تالیف اور ترتیب کے میدان میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی علمی و تربیتی تحریروں میں دینی، اخلاقی اور اصلاحی موضوعات کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔
آپ کی تصنیفی و تالیفی خدمات میں درج ذیل کتابیں قابلِ ذکر ہیں:
(1) عظمتِ صحابہ: امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنوی رحمہ اللہ کی تحریروں کی روشنی میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبے پر ایک تحقیقی تالیف۔
(2) گناہوں کا سیلاب اور مغفرت کا سمندر: گناہوں سے اجتناب، اخلاقی محاسبے، توبہ و استغفار اور مغفرتِ الٰہی کے موضوع پر ایک اصلاحی کتاب۔
(3) تربیتِ اولاد قدم بہ قدم: بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے سلسلے میں والدین کی عملی رہنمائی پر مشتمل کتاب۔
(4) مدنی تقاریر: دینی مدارس کے طلبہ کے لیے فنِ خطابت سے متعلق تقاریر کا مجموعہ۔
(5) گلدستۂ اطفال: بچوں کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کے موضوع پر مرتب کردہ مجموعہ۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب کی عمر، صحت اور علمی و دینی خدمات میں برکت عطا فرمائے، آپ کی مساعی کو قبول فرمائے اور آپ کے ذریعے امتِ مسلمہ کو تادیر فیض پہنچاتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔






