مدارس کے تحفظ کے لئے 5 میں سے 4 ملکی قوانین کی پابندی ضروری

ذمہ داران مدارس توجہ دیں

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

        ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے ، اس میں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ا رہے ہیں ، ان میں سے ہندو ، مسلم ، سکھ اور عیسائی خاص طور پر قابل ذکر ہیں، ہر مذہب کے ماننے والے اپنی مذہبی تعلیم اور مذہبی امور کے لیے ازاد رہے ہیں ، کبھی بھی کسی مذہبی اکائی کو مذہبی تعلیم کے انتظام یا مذہبی امور کی ادائیگی میں کوئی دقت پیش نہیں ائی

مدارس کے تحفظ کے لئے 5 میں سے 4 ملکی قوانین کی پابندی ضروری 

 تقریبا 800 سال تک ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت رہی ، مسلم حکمرانوں نے کسی کی مذہبی حقوق کی پامالی نہیں کی ، مسلمانوں کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی ، انگریزوں نے بھی تمام مذہبی طبقات کے حقوق کی حفاظت کی ، مذہبی ازادی کے ساتھ کسی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی

     1947 میں ہندوستان کو انگریزوں سے ازادی ملی ، اور یہاں ائین کی حکومت قائم ہوئی ، تو ملک کے ائین میں بھی اقلیتوں کے بنیادی حقوق میں بنیادی حقوق میں مذہبی آزادی کو شامل کیا گیا ، آئین کے دفعہ 25 سے دفعہ 28 تک مذہبی ازادی کے سلسلے میں حقوق کا ذکر ہے ، دفعہ 29 سے دفعہ 31 تک ثقافتی اور تعلیمی حقوق کا تذکرہ ہے ، اس طرح ائین کے مذکورہ بالا دفعات میں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کو چلانے کا حق دیا گیا ہے ، جبکہ

 موجودہ وقت میں مدارس کے سلسلے میں حکومت کا نظریہ صحیح نہیں ہے ، کئی اسٹیٹ میں حکومت یہ چاہتی ہے کہ وہاں مدارس کا نظام بند کر دیا جائے خواہ وہ مدارس ملحقہ ہوں یا ازاد مدارس ہوں ، ان کے نشانے پر دونوں قسم کے مدارس ہیں ، اور مدارس پر طرح طرح سے حملے کیے جا رہے ہیں ، اس لئے موجودہ وقت میں اس کی سخت ضرورت ہے کہ ذمہ داران مدارس خود اپنے ادارے کے تحفظ کے سلسلے میں غور و فکر کریں ، بہت سے حضرات کا یہ خیال ہے کہ حکومت ان ہی مدارس پر کوئی کاروائی کرتی ہے یا کرے گی جو حکومت سے فنڈ لیتے ہیں ، حالانکہ کوئی ایسی بات نہیں ہے ، اگر یو پی ، آسام ، اور اتراکھنڈ جیسے اسٹیٹ کو پیش نظر رکھا جائے ، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہاں ہر قسم کے مدارس حکومت کے نشانے پر ہیں ، خواہ وہ حکومت سے مراعات یا فنڈ لیتے ہوں یا نہ لیتے ہوں ، چنانچہ مذکورہ اسٹیٹ میں جہاں ملحقہ مدارس پر کاروائی کی گئی ہے ، وہیں بہت سے ازاد مدارس بھی ایسے ہیں جہاں نوٹس دی گئی ہے ، اس لیے اس طرح کا خیال کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے ، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مل کر مدارس کے تحفظ کے لیے حکمت عملی طے کریں ، خواہ وہ بورڈ سے ملحق مدارس ہوں یا ازاد مدارس ہوں

    موجودہ وقت میں مدارس پر کئی طرح سے حملے کئے جارہے ہیں ، میرے مطالعے کے مطابق ان میں سے 5 / اہم ہیں (1) رائٹ ٹو ایجوکیشن ، (2) تحفظ اطفال قوانین (3) نصاب تعلیم (4) حساب و کتاب (5) مدارس کا حکومت کے ریکارڈ میں اندراج , جہانتک نمبر 1 کی بات ہے تو مدارس رائٹ ٹو ایجوکیشن سے مستثنیٰ ہیں ، بقیہ 4 / مدارس پر بھی لاگو ہیں ، ان ہی کے ذریعہ حکومت کی جانب سے مدارس پر حملے کئے جاتے ہیں ، نمبر 2/ میں تحفظ اطفال قوانین ہیں ، اس میں مدارس کی صفائی ، مطبخ ، باتھ روم ،ہاسٹل کی صفائی ، غرض ادارہ کی مکمل صفائی اس میں شامل ہے ، نمبر 3/ میں نصاب تعلیم ہے ، یعنی طلبہ کو ایسی تعلیم دی جائے جس سے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی ہوسکے ، اس میں اسکول کی سطح تک دینی مضامین کے ساتھ عصری مضامین کو بھی شامل کیا جائے ، نمبر 4/ میں حساب و کتاب ہے ، یعنی آپ کے آمد و خرچ کا حساب صاف ہو ، اوڈیٹر کے ذریعے چیک کرایا گیا ہو ، نمبر 5/ حکومت کے ریکارڈ میں اندراج ہے ، یہ بھی لازم ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ مدارس کا رجسٹریشن کرایا جائے ، خواہ ٹرسٹ کے ذریعے ہو یا سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعے یا کسی سرکاری بورڈ سے الحاق کے ذریعے ، یہ سبھی امور مدارس کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں ، یہ سبھی قوانین کی پابندی اسکول کی سطح تک لازم ہیں ، ورنہ سرکاری محکمے کی جانب سے مداخلت ہوتی رہے گی ، جس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے ، اسکول میٹرک یا انٹر تک شمار کیا جاتا ہے ،

ہندوستان میں دینی تعلیم کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے ، یہ تحفظ مدارس ہی کر سکتے ہیں ، اس لئے اکابر علماء اور ملی تنظیموں کے قائدین کو چاہئے کہ وقت رہتے ہوئے ، اس جانب توجہ دیں ، اور اس کے لئے لائحہ عمل طے کریں

مدارس کا قیام اور اس کو چلانے کا حق ملک کا آئین دیتا ہے ، اس طرح مدارس ملک کے آئین کے مطابق ہیں ، البتہ دوسرے قوانین بھی حکومت ہی کے وضع کردہ ہیں ، اس لئے ان کی بھی پابندی ضروری ہے ، ورنہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، موجودہ وقت میں حکومت سے مقابلہ بہت مشکل ہے ، اس سے مقابلہ کی بس ایک صورت رہ گئی ہے ،اور وہ قانونی چارہ جوئی ہے ، اگر مذکورہ شرائط مدارس پورا کرتے ہیں ، پھر بھی حکومت کی جانب سے مداخلت کی جاتی ہے ، تو قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے ، اس سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی جانب سے لیگل سیل قائم کیا گیا ہے ، اس سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے ،

خلاصہ یہ کہ موجودہ وقت میں 4/ ملکی قوانین ایسے ہیں ،جن کو مدارس کو پورا کرنا ضروری ہے ، ورنہ خطرات کے گھیرے میں رہیں گے ، ذمہ داران مدارس کو اس جانب توجہ کی ضرورت ہے ،

      موجودہ وقت میں مدارس کے سلسلے میں بہت ہی خبریں شائع ہورہی ہیں ، ان میں سے کچھ الزامات عصبیت پر مبنی ہو سکتی ہیں ، پھر بھی بہت سے الزامات ایسے بھی ہوسکتے ہیں ، جو حقیقت پر مبنی ہوں ، اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہماری تیاری ہر سطح پر ہو ، امید کہ ذمہ داران مدارس اس جانب توجہ دیں گے ، اللہ تعالیٰ مدارس کی حفاظت فرمائے

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply