مدارس کے اساتذہ و ملازمین مدارس کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ، ذمہ داران مدارس پر ان کے حقوق کی رعایت ضروری

میرا مطالعہ

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

      مدارس اسلامیہ دین کے قلعے ہیں ، یہ کئی چیزوں کے مجموعے ہیں ، ان میں سے دو چیزیں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں ، ایک طلبہ اور دوسرے اساتذہ و ملازمین ، طلبہ مدارس کی روح ہیں ، طلبہ ہی مدارس کی آن بان اور شان ہیں ، جبکہ اساتذہ طلبہ کے سرپرست اور ملازمین ان کے خدمت گار ہوتے ہیں۔

مدارس کے اساتذہ و ملازمین مدارس کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ، ذمہ داران مدارس پر ان کے حقوق کی رعایت ضروری

ہندوستان میں مدارس کی روایت بہت قدیم ہے ، مسلم دور حکومت میں مدارس ، مدارس کے اساتذہ اورملازمین کی کفالت حکومت کے ذمہ رہی ، حکومت کی جانب سے مدارس کے جملہ اخراجات پورے کئے جاتے تھے ، طلبہ اور اساتذہ و ملازمین کی کفالت کے لئے حکومت کی جانب سے جاگیریں عطا کی جاتی ہیں ، ان جاگیروں سے طلبہ اور اساتذہ و ملازمین کے جملہ اخراجات پورے کئے جاتے تھے ، قابل اساتذہ کو حکومت کی جانب سے نوازا جاتاتھا ، جس کی وجہ سےدوران ملازمت ان کی زندگی نہایت ہی آسودگی سے گذرتی ، سبکدوشی کے بعد بھی انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی ۔ اس طرح مسلم دور حکومت میں مدارس کے اساتذہ و ملازمین اور مساجد کے ائمہ و مؤذنین کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوئی ، یہی نہیں ، بلکہ دین سے منسلک کسی طبقہ کو کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد مسلم دور حکومت کا اختتام ہوگیا ، جس کے نتیجے میں دینی اداروں کے چلانے میں دھیرے دھیرے رکاوٹ آنے لگی ، پھر بھی مسلم جاگیر داروں اور زمینداروں نے مساجد ، مدارس اور دینی اداروں کی کفالت میں حصہ لیا ، چونکہ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی میں علماء پیش پیش رہے ، اس لئے انگریزوں نے اپنا سب سے بڑا مخالف گروہ علماء اور مدارس کو سمجھا ، جس کے نتیجے میں انہوں نے بے شمار علماء کو شہید کردیا اور مدارس کے خلاف کارروائی شروع کی ، بالآخر مجبور ہوکر اکابر علمائے کرام نے مدارس کو عوامی چندہ سے چلانے پر غور کیا ، بحمد اللہ اس فکر میں کامیاب رہے اور آج تک مدارس برصغیر میں عوامی تعاون سے چل رہے ہیں ، عوامی تعاون میں زکوٰۃ ، صدقات ، عطیات وغیرہ شامل ہیں ۔عوامی تعاون میں مدارس کے فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کی مقدار بہت کم ہوگئی ، جس کے نتیجے میں اکثر مدارس میں مالی کمی آتی گئی اور یہ سلسلہ جاری ہے ، اس کا سب سے زیادہ خراب اثر طلبہ ، اساتذہ اور ملازمین پر پڑا۔

کورونا وائرس بیماری کے زمانہ میں ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ، جس کی وجہ سے آمد و رفت کے تمام ذرائع بند ہوگئے ، اس کا برا اثر ہر سطح پر پڑا ، مگر مدارس اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ، چونکہ مدارس میں آن لائن تعلیم کا کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا ، بہت کم مدارس تھے ، جو اپنے تعلیمی نظام کو جاری رکھ سکے ، وہ زمانہ باہمی ہمدردی کا تھا ، بہت سے اداروں نے اپنے اساتذہ و ملازمین کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا برتاؤ کیا ، مگر بہت سے سخت دل مہتمم ایسے بھی نکلے ،جنہوں نے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں بند کردیں ، حالانکہ اطلاع کے مطابق انہوں نے خود بندی کے ایام میں مدارس کے فنڈ کا استعمال کیا ، یہی نہیں ، کسی حادثے کے وقت بھی ذمہ داران مدارس اپنے اساتذہ و ملازمین کے کام نہیں آتے ہیں ، جس کی وجہ بہت سی مرتبہ عام چندہ کی ضرورت پڑ جاتی ہے ، یہ ہے ذمہ داران مدارس کی حالت اور اخلاقی گراوٹ ۔ ایک تو پہلے ہی سے مدارس میں تنخواہ کا معیار انتہائی ناقص ہے ، اس پر اس طرح کا برتاؤ ، یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے بہت سے باصلاحیت علماء مدارس میں درس و تدریس سے منسلک نہیں ہونا چاہتے ہیں ، اب تو نئے فارغین میں سے بہت سے لوگ اسکول ،کالج وغیرہ کی طرف جارہے ہیں ، بہت سے تجارت میں لگ رہے ہیں ، سوشل میڈیا مدارس اور اس کے ذمہ داروں کے بدعنوانیوں سے بھرا رہتا ہے ، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ کچھ پوسٹ غلط بھی ہوں ،مگر اتنی بڑی تعداد کو غلط نہیں کیا جاسکتا ہے۔

  ماضی کے مقابلے میں موجودہ وقت بہت مختلف ہیں ،اساتذہ و ملازمین مدارس کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، یہی حال مساجد کے ائمہ و مؤذنین کا ہے ، اس لئے وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے مدارس کے اساتذہ و ملازمین اور مساجد کے ائمہ و موذنین کی ملازمت اور ان کی تنخواہوں پر بھی غور و فکر کی ضرورت ہے ، اس سلسلہ میں چند باتیں تحریر ہیں:

(1) مدارس میں اساتذہ و ملازمین کے لئے سروس کنڈیشن لاگو کرنے پر غور کیا جائے۔

(2) ان کے لئے وقت و حالات کے تناظر میں مدارس کی آمدنی کے حساب سے اچھی تنخواہ کا انتظام کیا جائے۔

(3) سالانہ مہنگائی بھتہ کا نظام نافذ کیا جائے۔

(4) حسب سہولت مدارس میں سی پی ایف اور میڈیکل الاؤنس کو نافذ کرنے پر غور کیا جائے۔

(5) اساتذہ و ملازمین کو مدرسہ کےخاندان کا فرد سمجھ کر ان کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا برتاؤ کیا جائے۔

(6) مساجد کے ائمہ و موذنین کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے ، ذمہ داران مساجد کو چاہئے کہ وقت و حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، انہیں تنخواہ کی ادائیگی کی جائے۔

(7) مدارس و مساجد ملت کی روح ہیں ، یہ دین کے قلعے ہیں ، اسلامی تعلیم اور عبادت کے سرچشمے ہیں ، یہ ملت اسلامیہ کی شان ہیں ، اس لئے اہل خیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ مدارس اور مساجد کے تحفظ پر دھیان دیں اور ان کو مالی استحکام دیں ، تاکہ یہ ادرے یکسوئی کے ساتھ خدمات انجام دے سکیں ۔ جزاکم اللہ خیرا

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply