یوم وفات 19 مئی پر خصوصی
قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی
معصوم مرادآبادی
آج قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کا یوم وفات ہے۔ انھوں نے 19مئی1974کو لکھنؤ میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہیں۔لکھنؤ ہی ان کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکزتھا اور یہیں انھوں نے ٹی بی کے نہایت کامیاب معالج کے طور پر پریکٹس کی تھی۔ ان کے ہاں لاعلاج مریضوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔وہ صبح کے اوقات میں آدھے مریضوں کو مفت دیکھتے تھے اور انھیں دوا بھی مفت دیتے تھے جبکہ شام کے اوقات میں مریضوں کومعمولی فیس لے کر دیکھتے اور اس سے جو آمدنی ہوتی اسے خیر کے کاموں میں لگا دیتے تھے۔ڈاکٹر فریدی کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شخصی طورپر ایک بہترین انسان، سیاسی طور پر ایک بہترین قائد اور ملی رہنما تھے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک باعزت زندگی کے خواہاں تھے اور انھوں نے اپنے سیاسی سفر کے دوران عیارومکار سیاست دانوں سے لوہا لیا۔

انھوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز پیس کونسل سے کیا اور 1952 کے یوپی کے انتخابات میں یونائٹیڈ فرنٹ اور کسان مزدور پارٹی کے تحت انتخابات میں حصہ لیا اور 1952سے 1964 تک اترپردیش قانون ساز کونسل کے ممبر رہے۔ 1964میں انھوں نے ڈاکٹر سید محمود کے ساتھ مل کر مسلم جماعتوں کا وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت قائم کیا۔بعدازاں 1968میں مسلم مجلس قائم کرکے مسلمانوں میں سیاسی بیداری کی مہم شروع کی۔ اسی دور میں انھوں نے لکھنؤ سے روزنامہ ’قائد‘ بھی شروع کیا۔ ڈاکٹر فریدی کی پوری زندگی فلاحی، سماجی اور سیاسی جدوجہد میں گزری۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بازیابی تحریک کے رہنما تھے، جس کے لیے انھوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اترپردیش میں اردو زبان کے دستوری حقوق کی بحالی اور فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف عملی جدوجہد میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ مسلم پرسنل لا اور سیکولر تعلیمی نظام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے امتیازات کے خلاف لڑائی بھی لڑی۔
ڈاکٹر فریدی نے آزادی کے بعد اترپردیش میں مسلمانوں کی سیاسی شیرازہ بندی کی جو کامیاب کوشش کی تھی، اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔اگر ان کی اس کوشش کو آگے بڑھایا جاتا اور درمیان میں میں کچھ ” اپنے ” حائل نہ ہوتے تو آج یقینا اترپردیش کے مسلمان سیاسی طورپر یتیمی کی زندگی نہیں گزار رہے ہوتے۔پچیس کروڑ آبادی پر مشتمل ملک کی سب سے بڑی ریاست میں جہاں ان کی آبادی تقریباً چارکروڑ ہے، آج مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔مسلم قیادت کو دیوار سے لگانے کے بعد سرکاری یورشوں کا بازار گرم ہے۔
آزادی کے بعدجبکہ مسلمان تقسیم کا بوجھ اپنے وجود پر لے کر جی رہے تھے اور احساس کمتری نے ان کو جکڑ رکھا تھا توچند شخصیتیں ہی ایسی تھیں جنھوں اس پرآشوب دور میں ملت کو سہارا دیااور ان میں خدا اعتمادی اور خوداعتمادی کا لازوال جذبہ پیدا کیا۔ان میں ڈاکٹر رفیع احمد قدوائی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے نام سب سے نمایاں ہیں۔
ڈاکٹر فریدی کی سیاسی جدوجہد کی کئی منزلیں ہیں۔مسلم مجلس مشاورت اور مسلم مجلس کی بنیادگزاری کے علاوہ لکھنؤ سے اردو روزنامہ ’قائد‘ کی اشاعت بھی ان کا بڑا کارنامہ تھا۔ انھوں نے اپنی مساعی جمیلہ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کی تحریک،اردو کے آئینی حقوق کی جدوجہد، فساد شکن فورس کی تشکیل، اقلیتی کمیشن اور اردو یونیورسٹی کا قیام جیسے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے اور یہ ایسے تھے کہ ان میں سے کئی مطالبات تسلیم کرنے پر حکومت مجبور ہوئی۔آج حیدرآباد کی مولانا آزاد یونیورسٹی، فساد شکن فورس کا قیام اور اقلیتی کمیشن جیسے ادارے ان ہی کی کوششوں کا ثمرہ ہیں۔
ڈاکٹر فریدی کی سب سے بڑی خوبی ان کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی تھی۔ وہ بنیادی طورپر ایک سیکولر مزاج کے لیڈر تھے اور یہی وجہ ہے کہ غیرمسلم سیاست داں بھی ان کے قدردان تھے۔ان کے انتقال پراردو کے علاوہ تمام انگریزی اور ہندی اخبارات وجرائد نے انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ادارئے لکھے۔ یہاں تک کہ جن سنگھ کے ترجمان نے بھی ان کی سیاسی جدوجہد کو سراہا تھا۔
ڈکٹرفریدی اپنے دور میں ٹی بی کے بہترین معالج تھے۔ان کا شمار اس مرض کے گنے چنے ڈاکٹروں میں ہوتا تھا۔لاعلاج مریض ان کے ہاں سے شفایاب ہوکر جاتے تھے۔ اگر وہ چاہتے تو اس راستے سے دولت کے انبار جمع کرکے عیش وآرام کی زندگی گزارسکتے تھے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ ہزاروں مریضوں کا مفت علاج کرنے کے بعد انھوں نے سیاست کی پُرخار وادی میں قدم رکھا اور طرح طرح کے مصائب جھیلے۔ وہ مسلمانوں کو ایک موثر سیاسی قوت بنانا چاہتے تھے، جس کی تگ ودو میں انھوں نے پوری زندگی گنوائی۔
ڈاکٹرفریدی نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز پرجا سوشلسٹ پارٹی (پی ایس پی)سے کیا تھا اور جب انھیں محسوس ہوا کہ سیاسی جماعتیں اور قائدین مسلم حقوق کی بات تو کرتے ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو وہ دائیں بائیں ہوجاتے ہیں۔ سیکولر قائدین کے اسی عمل نے انھیں ’مسلم مجلس‘ بنا نے پر مجبور کیا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ مسلمانوں کی سیاست کرنے کے باوجود ان پر فرقہ پرستی کا لیبل نہیں لگایا جاسکا، کیونکہ وہ ہندوستانی دستور کے دائرے میں رہ کر مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑرہے تھے۔انھوں نے ملت کو اجتماعیت کا تصور دیا اور اپنے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کی راہ دکھائی۔ افسوس کہ ان کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے والے نہیں ملے۔ وہ کہتے تھے کہ ”خون بہانے والے تو بہت مل جاتے ہیں، لیکن پسینہ بہانے والا کوئی نہیں ملتا۔“
حالانکہ وہ اپنے ساتھیوں اور ہم نواؤں کے بڑے قدردان تھے۔وہ جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ کے خلاف جدوجہد کے دوران دوسرے کئی لوگوں کے ساتھ گرفتار ہوئے اور جب گورنر نے ان کی سزا معاف کرنے کا خط ان کے پاس بھیجا تو انھوں نے رہا ہونے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ”جب تک میرے دوسرے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک میں جیل ہی میں رہوں گا۔‘ انھوں نے نصابی کتابوں میں تحریف کے خلاف دینی تعلیمی کونسل کے تحت تحریک چلائی اور یو پی قانون ساز کونسل میں اردو میں حلف لینے اور تقریر کرنے کے لیے زبردست جدوجہد کی۔ ان کی انسانی ہمدردی کے بھی سیکڑوں واقعات ہیں۔وہ لکھنوی تہذیب کا بھی جیتا جاگتا نمونہ تھے۔
قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کا انتقال19/مئی1974کو اسی لکھنؤ شہر میں ہوا جہاں سے انھوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں انھوں نے امراض سینہ کے انتہائی کامیاب معالج کے طورپر اپنا کیریئر شروع کیا تھا۔ ان کے ارد گرد ٹی بی کے مریضوں کا ہجوم ہوتا تھا ۔مریضوں میں زیادہ تعداد غیر مسلموں کی ہوتی تھی جو شفایاب ہوکرانھیں دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوتے تھے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ دوسروں کو ٹی بی کے مرض سے بچاتے بچاتے وہ خوداس موذی مرض کا شکار ہوگئے اور ان کا پنا سینہ بھی چھلنی ہوگیا۔ حالانکہ ان کے سینے پر جو زخم تھے ان میں اس مرض سے زیادہ ملی امراض کے نشان تھے، جنھیں حل کرنے کی انھوں نے کئی کامیاب کوششیں کیں۔ ان کی مساعی جمیلہ ان کی موت کے بعد ناکام کیوں ہوگئی، اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ نہ ہی ان لوگوں کے پاس ہے جو اس قافلے میں ان کے ہم سفر تھے۔ بہرحال میری نظر میں ان کی سیاسی جدوجھد مسلمانوں کی سیاسی طاقت کویکجا کرکے ان کے مسائل حل کرنے کی ایک مضبوط کوشش ضرور تھی، جس کی تجدید آج تک نہیں ہوسکی ہے ۔






