مغربی بنگال : بی جے پی کے پاس ، سیٹوں کی اکثریت ، ووٹوں کی اکثریت نہیں
تکلف برطرف : سعید حمید
ہمارا جو انتخابی نظام ہے ، اس کی ایک خامی یا نقص کی جانب بہت ہی چنندہ لوگ توجہ دلاتے رہے ہیں ، لیکن ان کی باتوں پر کبھی توجہ نہیں دی گئی ، اور یہ خامی یا نقص مغربی بنگال الیکشن میں بھی سامنے ہے ، لیکن شائد اس پر وہ توجہ آج بھی نہیں دی جائے گی ، جس کی آج کچھ زیادہ ہی ضرورت ہے ۔
پہلی بات ، جو ہمارے انتخابی نظام کے متعلق یہ کہی جاتی ہے کہ اس نظام میں جس کی اکثریت ، اس کی حکومت !!
لیکن اس سادہ جملہ کا یہ مطلب نکالا جائے گا کہ جس پارٹی کو عوام یا ووٹروں کی اکثریت حاصل ہوگی ، اس کی حکومت ہو گی ؟
تو یہ بات غلط ثابت ہو گی ، اس نظام میں جس جماعت یا محاذ کو سیٹوں کی اکثریت حاصل ہوگی ، اس کی حکومت ہو گی ، اس لئے اگر ہم دیکھتے ہیں ، اور سوچتے ہیں کہ بی جے پی کی غالب اکثریتی حکومت مغربی بنگال میں بن گئی ، تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مغربی بنگال کے کل ووٹروں کی غالب اکثریت بی جے پی کی حامی بن گئی ؟
یہ بات غلط ہے ، یہ تاثر غلط ہے ۔
اگر ہم سیٹوں کی تعداد کی بجائے کل ووٹروں کی تعداد کا مطالعہ کریں اور یہ دریافت کریں کہ مغربی بنگال میں کیاکل ووٹروں کی تعداد میں اکثریت نے بی جے پی کو ووٹ دیا ؟ تو جواب ملے گا نہیں !!
بے شک ، اس طرح کے مطالعہ سے امیدواروں کی جیت ہار ، یا حکومت بنانے کے مرحلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن جس طرح الیکشن ہوا ، جو فیصلہ آیا اور جس کی بنیاد پر سیکولر عوام اور خصوصاً مسلمانوں میں مایوس پھیل رہی ہے ، جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مغربی بنگال کے زائد از چھ کروڑ
کروڑ ووٹروں کی اکثریت بھاجپائی اور فرقہ پرست ہو چکی ہے ،
تو یہ بات غلط ہے ، اور اس مایوسی کو حقائق و اعداد و شمار کی بنا ء پر دور کرنا ضروری ہے ، اس لئے اس قسم کا تجزیہ عوام کی نفسیات کے مد نظر اور سیکولرزم و دستور کی بقا ء کی جنگ کو آگے بڑھانے ، سیکولر عوام اور خاص طور پر مسلمانوں ، اقلیتوں کا حوصلہ قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے ۔
الیکشن کمیشن کے جو اعداد و شمار ہیں ؛ ان کی روشنی میں مندرجہ ذیل باتیں اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے :
(۱) بی جے پی کو اس الیکشن میں سیٹوں کی اکثریت ضرور حاصل ہوئی ہے ، ریاست کی کل 294 سیٹوں میں سے بی جے پی نے
208 سیٹیں حاصل کیں۔ جو کل سیٹوں کا 70.40 فیصد ہے ،
(۲) لیکن کیا بی جے پی کو اس لحاظ سے ووٹوں کی بھی اکثریت حاصل ہوئی ، جس طرح اسے سیٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی کہ اس نے ایک مضبو ط حکومت بنالی ؟ جی نہیں ۔۔۔ بی جے پی کو سیٹوں کی اکثریت تو ملی لیکن ووٹوں کی اکثریت نہیں ملی ۔
(۳) الیکشن کمیشن کے ہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بی جے پی کو کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے صرف 45.84 % ووٹ ہی ملے ، مطلب یہ کہ مغربی بنگال میں الیکشن کے دوران جن چھ کروڑ سے زائد ووٹروں نے ووٹ ڈالے تھے ، ان میں سے پچاس فیصد نے بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا۔
(۴) اب دیکھئے ، اس پہلو کو بھی کہ بی جے پی کو ملے کتنے فیصد ووٹ ؟ 45.84 % ووٹ ، لیکن اس تناسب پر جو سیٹیں بی جے پی نے حاصل کیں ، کیا اس کا کوئی منطقی جوڑ ہے ؟ 45.84 % ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی نے ، اس ریاست کی کل سیٹوں میں سے
70.40 % سیٹیں حاصل کیں ۔ اب چونکہ یہ خامی یا نقص آزادی کے بعد سے ہر الیکشن میں ہوتا رہا ہے ، اور بہت سی پارٹیوں نے ماضی میں اس خامی یا نقص کا فائدہ اٹھایا اس لئے اس کیلئے آج صرف بی جے پی کو مورد الزام ٹہرایا نہیں جا سکتا ۔
البتہ ، اس انتخابی نتیجے کے سبب ، جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں مذکورہ نقص یا خامی ہے ، یہ کہا جا رہا ہے کہ اب سارا مغربی بنگال بھگوا ہو گیا ؟ یہ بات غلط ہے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اس الیکشن میں ووٹوں اور ووٹروں کو بی جے پی موافق اور بی جے پی مخالف ، صرف ان دو خانوں میں تقسیم کای جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ بھلے بی جے پی نے مغربی بنگال کی سیٹوں کی اکثریت حاصل کرلی ، لیکن پھر بھی وہ مغربی بنگال کے ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مغربی بنگال کے سبھی عوام یا ان کی اکثریت ، بھگوا دھاری نہیں بن گئے ، اس الیکشن میں بھی اس ریاست کے ووٹروں کی اکثریت نے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا ، البتہ بی جے پی مخالف ووٹ بٹ گئے ، بی جے پی موافق ووٹ یکجا رہے ، اس لئے بی جے پی کو سیٹوں کیا اکثریت حاصل ہو گئی ۔
اس ضمن میں جو الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار پر ایک نظر دوڑائیں ، اور کل ووٹروں کو بی جے پی حامی اور بی جے پی مخالف گروپ میں بانٹ کر دیکھ لیں تو مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں :
(۱) مغربی بنگال الیکشن میں کل ووٹ ڈالے گئے :
6, 37 , 54 , 383
(۲) بی جے پی کی حمایت میں کل ووٹ ڈالے گئے :
2, 92, 24 , 167
(۳) بی جے پی کی مخالف جماعتوں ، امیدواروں ( نوٹا سمیت ) ڈالے گئے کل ووٹوں کی تعداد :
3,45,30,216
اس کا مطلب صاف ہے کہ چھ کروڑ ۳۷ لاکھ ۵۴ ہزار ، ۳۸۳ ؍ ووٹروں کی اکثریت نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا ، بلکہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا، ان میں تمام اپوزیشن جماعتوں اور نوٹا کے ووٹروں کو بھی یوں شامل کیا گیا ہے کہ ان کا ووٹ بی جے پی کے حق میں نہیں ڈالا گیا ۔
اس سیاسی الیکشن کا اگر سماجی نتیجہ نکالا جائے تو صاف صاف یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی بنگال پر پہلی بار بی جے پی کی غالب سیٹوں کی اکثریت والی حکامت قائم ہو جانے کے باوجود ، اس ریاست کے ووٹروں کی غالب اکثریت نے بی جے پی کے خلاف ہی ووٹ دیا ۔
اب سیٹوں کی بنیاد پر جو نتیجہ نکلا وہ محض اسلئے کہ بی جےپی ووٹرس پچاس فیصد بھی نہیں تھے ، لیکن ایک تھے !!
اس لئے ۔ ۔۔ محض 45.84 فیصد ووٹ لینے والی بی جے پی کو 294 اسمبلی نشستوں میں سے 70.40 فیصد نشستیں مل گئیں ،
البتہ ، تقریبا ً 54.16 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی مخالف جماعتوں کو مغربی بنگال کی کل نشستوں کی 29.5 نشستیں ہی مل سکی ، اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ رہا ہے ۔
کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال تو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے ، انتشار میں نزاکت ( کمزوری) ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے نقص زدہ پروسیس میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کیلئے کیا راستہ ہے ؟
ایک آدھ اقلیت کا ٹارگیٹ بنا کر جو لوگ اپنا مطلوبہ اتحاد بنا لیتے ہیں ، اور ساورکر کے اس فارمولہ میں یقین کرتے ہیں کہ نفرت سے بھی اتحا قائم کیا جا سکتا ہے ایسی فورسز مغربی بنگال میں کامیاب دکھائی دے رہی ہیں ۔
حالانکہ ہم پھر اس بات کو دہراتے ہیں کہ موجودہ انتخابی نظام میں کسی ایک پارٹی کو ملنے والے کل ووٹ اور اس کی بنا ء پر ملنے والی کل سیٹوں کا اوسط ، اسی الیکشن میں کسی دوسری پارٹی کو ملنے والے ووٹ اور اس کی بنا ء پر اسے ملنے والی سیٹوں کے تناسب سے کوئی میل نہیں کھاتا ہے ، تو پھر اس پر کیا کہا جائے ؟
اس الیکشن میں ہی مندرجہ ذیل اعداد و شمار کو دیکھ لیجئے :
(۱) بی جے پی کو کل ووٹ ملے : 45.84 %، لیکن بی جے پی کو اسمبلی میں سیٹیں ملی ، 70.40 فیصد ،
(۲) ترنمول کانگریس کو کل ووٹ ملے : 40.80 % ، لیکن ترنمول کانگریس کو سیٹٰیں ملی ، صرف 27 فیصد ،
صرف پانچ فیصد ووٹوں کے فرق سے اگر حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کی سیٹوں میںاس قدر فرق ہا جاتا ہے تو کیا اس سسٹم پر ، اس کے درست ہونے یا نہیں ہونے پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ؟
ظاہر ہے کہ اس نظریہ سے جو تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے ، اسے عدالت اور موجودہ سیاست میں قبول نہیں کیا جائے گا ، اور نا ہی اس سے نتیجے کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا البتہ اس تجزیہ کو مغربی بنگال کی زمینی حقیقت کا پتہ لگانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ، جو چاروں طرف گونجنے والے اس شور میں پو شیدہ نا ہوجائے ، کہ بھلے آج بھی سارے جوڑ توڑ اور جتن کرکے بی جے پی نے مغربی بنگال میںاسمبلی کی سیٹوں کی اکثریت حاصل کرلی ہے !!
حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی اسے ووٹوں کی اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور بی جے پی کو ملنے والے کل ووٹوں کے مقابلے بی جے پی کے خلاف پڑنے والے ووٹ …….کہیں زیادہ تھے ؛
(۱) بی جے پی کو ملے کل ووٹ : 2,92,24,167
(۲) بی جے پی کے مخالفین کو ملے کل ووٹ : 3, 45 , 30 , 216
اس کا صاف مطلب ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی مخالف ووٹروں کی تعداد
53 , 06 , 216 زیادہ تھی ، بس اتحاد کی کمی تھی ۔ اور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس الیکشن میں بھی مغربی بنگال کے ووٹروں کی اکثریت نے فرقہ پرست بی جے پی کے مقابلہ سیکولر اور غیر بی جے پی پارٹیوں کو ووٹ دیا ۔
ہوسکتا ہے کہ بھگوا دھاریوں کی زبردست پروپگنڈہ وار اقلیتوں اور سیکولر عوام میں مایوسی پیدا کردے، لیکن اگر زمینی حقیقت کا پتہ چلے تو پھر مغربی بنگال سیکولر طاقتوں کیلئے فرقہ پرستوں کے ساتھ زور آزمائی کا ایک بڑا میدان بن سکتا ہے !!!







