کلیات بلالی

مرتب ؛ مولانا ڈاکٹر ادیب الرحمن ندوی

تبصرہ ؛ وصی اللہ قاسمی

یہ مجموعہ کلام ہے حضرت مولانا علی شیر بلالی علی آبادی بہرائچی [ 1918 – 1987] کا۔ حضرتِ بلالی گزشتہ صدی کے ایک مایہ ناز عالم دین، شیریں بیاں مقرر اور عمدہ اسلامی شاعر تھے۔ وطن اصلی بہرائچ کا تاریخی قصبہ علی آباد نواب گنج ہے۔ مڈل تک تعلیم علاقے میں حاصل کی، بعد ازاں جامعہ نورالعلوم بہرائچ دارالمبلغین لکھنو اور مفتاح العلوم مئو ناتھ بھنجن [اعظم گڑھ] میں زیر تعلیم رہے۔ انھوں نے مفکر ملت حضرت مولانا محفوظ الرحمن نامی، امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقی، ضیغم اسلام حضرت مولانا عبدالسلام فاروقی اور ابوالماثر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی قدس اللہ اسرارہم جیسے جبال علم و اساطین فضل سے اکتساب فیض کیا۔

کلیات بلالی

شعر و شاعری سے لگاؤ بچپن سے تھا، اسکولی تعلیم کے زمانے میں ہی شعر موزوں کرنے لگے تھے، نورالعلوم آئے تو فن کو مزید جلا ملی، اطراف و جوانب میں خوب چرچے ہونے لگے۔ بانی جامعہ مولانا محفوظ الرحمان نامی کی توجہات و عنایات کا مرکز بن گئے۔ اُس وقت شیدا تخلص اختیار کیے ہوئے تھے، رنگ صاف بہ سیاہ تھا مگر حسنِ صوت سے ملا مال تھے، چناں چہ سیاہ فامی اور خوش الحانی کی مناسبت سے حضرت نامی قدس سرہ نے ”بلالی“ تخلص عطا فرمایا۔ اسی نام سے معروف ہوئے، ایسے معروف کہ معدودے چند افراد سوا کسی کو اصل نام کا پتہ تک نہیں۔

  حضرت بلالی زبردست شاعر تھے، اُن کی شاعرانہ صلاحیتوں کے پروان چڑھںے اور جِلا پانے میں لکھنؤ کی ادبی و شعری فضا کا اہم کردار رہا۔ وہ علامہ شفیق جون پوری کے شاگرد تھے، حضرت شمس لکھنوی اور سراج لکھنوی سے بھی خوب خوب استفادہ کیا۔ علامہ شفیق جون پوری سے شاگردی کا اظہار خود ان الفاظ میں کیا کرتے تھے۔

شفیق جون پوری کے تتبع کا اثر ہے یہ

کہ رنگیں ہوتی جاتی ہے بلالی شاعری اپنی [250]

ان کی شاعری بھی کہیں نہ کہیں علامہ جون پوری کے رنگ سے ہم آہنگ تھی جیسا کہ انھوں نے کہا ؛

کسی شاعر کا انداز بیاں دل کو نہیں بھاتا

بطرز فخر مشرق ہے بلالی گفتگو اپنی

بہ قول شاگردِ بلالی تابش مہدی؛ ”حضرت بلالی علی آبادی اردو ، فارسی اور اودھی تینوں زبانوں میں شعر گوئی پر قادر تھے۔ لیکن پوری توجہ اردو شعر گوئی کی طرف تھی۔ وہ غزل و نظم پر بھی قدرت رکھتے تھے اور نعت و سلام پر بھی ۔ قطعات بھی بڑی تعداد میں انھوں نے کہے ہیں۔ سخت سے سخت مصرع طرح پر کہنے میں انھیں خاص مہارت تھی……. بڑی تعداد میں نعتیں اور غزلیں کہی ہیں“

کلیات بلالی میں چھ منظوم کتابیں [1] لیلۃ المعراج مع صبح معراج [2] ہجرت اور یارِ غار [3] آفتابِ کربلا [4] منظوم لآلی [5] تحفہ سلام لخیر الانام [6] ساغر حسن، شامل ہیں۔ مصنف مرحوم کی حیات میں ان کتابوں کے متعدد ایڈیشن شائع ہوتے رہے، اب وصال کے تقریباً چالیس برس بعد تمام کتابیں بہ شکل کلیات شائع ہو رہی ہیں۔

لیلۃ المعراج ؛ سیرت نبوی کا ایک اہم باب واقعہ معراج ہے، نظم و نثر دونوں میں اس عنوان پر لکھا گیا اور خوب لکھا گیا ہے۔ لیلۃ المعراج اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مکمل کتاب سفر معراج کے واقعات اور مشاہدات سے مزین ہے۔ منظر کشی ایسی گویا آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

کلیات بلالی 
کلیات بلالی

ہجرت اور یارِ غار ؛ اس میں سفر ہجرت اور رفیق سفر جناب ابوبکر صدیق کا تذکرہ انتہائی دل نشیں اور دلآویزی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ واقعہ ہجرت سیرت نبوی علیہ السلام میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ موضوع سے کتاب کی اہمیت کو بہ خوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ مشمولات کا جائزہ لینے کے لیے عناوین پر اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتے چلیے؛ رات، کاشانہ نبوت کا محاصرہ، کافروں کا ہوش میں آنا، مہر و ماہ برج غار میں، کفار کا دہانہ غار پر پہنچنا، مبارک باد، مہر و ماہ کا جانب یثرب نکلنا، سراقہ کا تعاقب، انکشاف حقیقت، شہنشاہ عرب ضعیفہ کے مکان میں، بریدہ سے ہم کلامی، پرچمِ رسالت آفتاب رسالت کے جلو میں، مدینے میں آفتاب رسالت کا طلوع، اعلان بہار الی آخرہ۔

آفتاب کربلا ؛ عوام الناس میں [ بہ چند وجوہ ] واقعہ کربلا کو جو شہرت حاصل ہے، شاید کسی اور دوسرے واقعہ کے حصہ میں وہ نہیں آئی۔ چناں چہ اس موضوع پر رطب و یابس ، کچا پکا، ضعیف و موضوع سب کچھ کہا گیا۔ آفتاب کربلا میں حضرت بلالی نے حضرت حسین کے سفر کوفہ، پرسوز واقعہ شہادت انتہائی درد و گداز کے ساتھ صحیح روایات کی روشنی میں میں پیش کیا ہے۔ مشمولات دو باب کے تحت منقسم ہیں، عنوانات سے کتاب کی جامعیت کا اندازہ لگائیے؛ ولادت، یزید کی تخت نشینی، فرمان، سلام آخری، مکہ میں عید، خطوط، روانگی، حضرت مسلم، ابن زیاد کوفہ میں، انکشاف، صبح زیاد، مسلم ہانی کے مکان میں، معقل، مظلوم ہانی، افواہ، اعلان حکومت، مکالمہ مسلم و ابن زیاد، مکہ سے روانگی، ابن زیاد کی آمد، ابوبکر حارث کی کوشش، منظر ماہ و پرویں، فرزدق شاعر، اب جعفر کی کوشش، ناکہ بندی الی آخرہ

منظوم لآلی؛ حضرت بلالی اسلامی شاعر تھے، اُن کا قلب عشق مصطفیٰ سے معمور اور حب رسول سے سرشار تھا۔ شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا، نعت کی شکل میں لعل و گہر سپرد قرطاس ہوئے، منظوم لآلی نعتوں کا مجموعہ ہے، کچھ کلام مدح و ثنائے صحابہ کے بھی شامل ہیں۔

تحفہ سلام ؛ حضرت بلالی کی ہر کتاب کے آغاز میں سلام ضرور ہوتا ہے، کہیں سلام بہ درگاہ خیر الانام کے عنوان سے، تو کہیں سلام بہ درگاہ امام عالی مقام کے نام سے۔ انھوں نے مختلف انداز میں سلام کہے ہیں، اُردو میں بھی، پوربی میں بھی۔ تحفہ سلام مستقل سلاموں اور نعتوں کا مجموعہ ہے۔ ایک بند آپ بھی پڑھیے اور حظ اٹھائیے۔

بال گھونگھر سے سر پر چمکتے ہوئے

 صورت شاخ سنبل لچکتے ہوئے

 جانب پا سراسر لٹکتے ہوئے

 شہ کی زلف مسلسل پہ لاکھوں سلا

احمد پاک مرسل پر لاکھوں سلام

نور پیدا ہو کب اور ظاہر ہو اب

 ہیں منور ترے نور سے سب کے سب

دست قدرت کا یہ سلسلہ ہے عجب

ایسے آخر پر اول پہ لاکھوں سلام

احمد پاک مرسل پہ لاکھوں سلام

کالی کملی کے تاروں کی تابندگی

 جس سے حاصل ہے تاروں کو شرمندگی

 اس پہ قربان شاہوں کی بھی زندگی

 دوش اقدس کے کمبل پہ لاکھوں سلام کے

احمد پاک مرسل پہ لاکھوں سلام

ساغر حسن ؛ یہ حضرت بلالی کی غزلوں کا شاہ کار ہے، عمدہ الفاظ، بہترین تراکیب، رمز و اشاریت سے بھرپور، دل کش تعبیرات سے مزین غزلیں مولانا کی شان تغزل کی بہترین غمازی کرتی ہیں۔ انداز ایسا من موہک، اور پُرکشش کہ جس صفحہ پر نگاہ پڑ جائے، مکمل کیے بغیر چارہ نہ رہے۔ ذیل کے چند اشعار سے آپ بھی لطف اٹھانے میں شریک ہوں

نہ جانے کس نے نظر کو ملا کے لوٹ لیا

نگاہ ناز سے بجلی گرا کے لوٹ لیا

غضب ہے شوخ نے اپنا بنا کے لوٹ لیا

بلالی ہم تو تھے بندے خدا کے لوٹ لیا

▪️▪️▪️▪️▪️

بیمار غم کے دل کا جو چارا نہ کیجیے

لیکن ستم یہ مجھ پہ خدارا نہ کیجیے

خنجر سے قتل کیجیے منظور ہے مجھے

ترچھی نگاہ سے مجھے مارا نہ کیجیے

▪️▪️▪️▪️▪️

حضرت بلالی کے کلام میں روانی بھی ہے اور سادگی بھی، صحت زبان و بیان بھی ہے اور شگفتگی و پاکیزگی بھی۔ بلندیِ خیال بھی ہے اور برجستگی و دل آویزی بھی۔ ان کے یہاں جو تھا پختہ تھا خام کچھ نہ تھا۔ یوں تو انھوں نے نعت، منقبت، سلام، مدح صحابہ، غزل، قطعہ ہر صنف میں اپنے جوہر دکھائے مگر واقعہ نگاری میں انھیں خصوصی درک حاصل تھا، واقعات کو نظم کی لڑیوں میں پروتے تو شاعری مصوری کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔ کربلا، معراج، ہجرت کے واقعات کو اس نوک پلک کے ساتھ بیان کرنا کہ نہ واقعات میں کہیں سے جھول پیدا ہو، اور نہ شخصیات کے احترام و عظمت پر کوئی حرف آنے پائے، آسان نہ تھا، مگر حضرت بلالی نے یہ کام انجام دیا اور بہ طریق احسن انجام دیا۔ چناں چہ یہ اُن کا کمال ہے کہ جو بھی واقعہ نظم کیا صحت کے ساتھ کیا۔ مجہولیت یا ابہام نام کی کسی چیز کا کہیں کوئی گزر نہیں۔

   محقق یگانہ، محدث عصر ابوالماثر حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کی خاص نگاہ التفات ان کو حاصل تھی، حضرت بلالی اپنی کتابوں کو ان کی نگاہوں سے گزارے بغیر شائع نہیں کرتے تھے، اب بھی ان کی کتاب محقق نہ ہوگی تو کس کی ہوگی ؟

  ادیب شہیر عبد الماجد درباری کا ایک اقتباس [ معمولی رد و بدل کے ساتھ ] پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

 حضرت بلالی نے لکھا، بہت لکھا۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خوب لکھا ہے۔

ان کا قلم حقیقت رقم ہے۔

ان کی زبان شرافت ترجمان ہے۔

ان کا دماغ سلجھا ہوا اور فہیم سلیم کا نقیب ہے۔

ان کا ” قلب ایمان سوز اور تڑپ کا سرمایہ دار ہے۔

انھوں نے شاعری کو ایک عبادت بنا دیا۔

وہ وقت کے بہت سے شیطانوں کے حق میں ایک مجسم لاحول تھے۔

”قدر گوہر شاہ داند یا بداند جوہری“ کے بہ موجب عہد بلالی کے حضرات اہل علم اور اصحاب فضل و کمال نے اپنے اپنے انداز میں بلالی فن کو زبردست خراج پیش کیا ہے۔ چناں چہ بہ قول حضرت شمس لکھنوی ”حفیظ جالندھری اور بلالی علی آبادی کے کلام کو دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ فردوسی و نظامی کی یاد تازہ ہو گئی“، مولانا سلطان حسن سنبھلی کے نزدیک تو ”مولانا بلالی صاحب واقعات کے نظم کرنے میں حفیظ جالندھری سے کم ہیں“ مولانا عبدالمومن فاروقی کے مطابق ”مجموعہ طور پر نہیں تو جزوی طور پر ضرور بلالی صاحب کی یہ مسلسل منظوم تاریخ ہجرت اپنے پیش روؤں سے کافی گوئے سبقت لے گئی ہے“، علامہ شفیق جون پوری کے خیال میں ”جناب بلالی صاحب کی نظموں میں وہی کیفیت و لذت ہے جو شاہ نامہ حافیظ میں ہے“۔

 انھیں خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے سید الملت مولانا محمد میاں دیوبندی کا کہنا تھا ”ہر اسلامی مدرسہ اور مکتب کو اس رسالہ [ہجرت اور یارِ غار] کی طرف توجہ کرنی چاہیے، ہر مسلمان لڑکے اور لڑکی کو یہ نظم یاد ہو اور اسلامی ترانی کی حیثیت سے اس نظم کو پڑھا کریں“

ایک پختہ کار، باکمال، قادرالکلام شاعر ہونے اور اس قدر اعترافِ کمال کے باوجود اُن کو شہرت و مقبولیت کی وہ بلندیاں جن کے وہ مستحق تھے، انھیں نہ مل سکیں۔ اس میں بنیادی کردار ان کے سادہ طرز زندگی اور اخفائے حال کا تھا۔ اس کے علاؤہ بھی وجوہ ہو سکتی ہیں۔

ان کی اسی ناقدری پر دل گرفتہ ہو کر علامہ شفیق جون پوری نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”کاش یوپی کے ہم وطن اپنے اس مفکر کی قدر کرتے“۔ تبصرہ نگار عرض گزار ہے اگر ہم بعد از مرگ سہی فن بلالی کی قدر کر لیں تو شاید کافی ہوگا اور عظیم اسلامی شاعر کو سچا خراج بھی۔

کلیات کے مرتب حضرت بلالی کے فرزند گرامی قدر مولانا ڈاکٹر ادیب الرحمٰن ندوی [ ندوۃ العلماء لکھنؤ] ہیں، بڑی محنت و جان فشانی سے والد محترم کے علمی سرمایہ کی از سر نو تدوین و حفاظت کا کام سر انجام دیا، اس حوالے سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اور اس لحاظ سے کہ نسل نو کے لیے بلالی فن پاروں سے استفادے کی راہیں ہموار کیں، شکریہ کے حق دار بھی۔

اصل کتاب شروع ہونے سے پہلے مرتب موصوف کے گہربار قلم سے والد ماجد علیہ الرحمہ کی شخصیت اور فن پر ایک طویل مضمون شامل ہے، جتنا پُرلطف ہے اتنا ہی معنی خیز بھی۔ ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی کے مقدمہ، ڈاکٹر تابش مہدی کی تقدیم، مولانا بلالی – چند نقوش کے عنوان سے مولانا وسیم صدیقی ندوی کی تحریروں نے کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بھرپور کردار ادا کی ہے۔ ڈاکٹر تابش مہدی کا مضمون خاصہ کی چیز ہے۔

جس طرح کوئی پھول بغیر کانٹےکلیات بلالی  کا نہیں ہوتا، اسی طرح کتاب میں کسر صرف اس بات کی ہے کہ فہرست بہت اجمالی ہے، اس طرح کی کتابیں تفصیلی فہرست کی متقاضی ہوتی ہیں۔ کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں ہیں۔ مگر کتاب کی مجموعی خوبیوں کے مقابل یہ کمی بہت ہلکی محسوس ہوتی ہے۔ مکمل مجموعہ شان دار و جان دار بھی ہے اور ازدیاد ایمان کا باعث بھی۔ اسلامی شاعری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے گراں مایہ تحفہ ہے، روشن جیسے آفتاب، خنک جیسے ماہتاب۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply