ڈاکٹر اشتیاق احمد اعظمی: مختصر سوانحی خاکہ

مولانا عبد الستار قاسمی

بعض اہلِ علم ایسے ہوتے ہیں، جن کی پوری زندگی تدریس، بحث و تحقیق، فقہی بصیرت اور ادارہ جاتی خدمت کے گرد گھومتی ہے۔ وہ شہرت کے بجائے استقامت، اور نمود کے بجائے خاموش علمی محنت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد اعظمی انہی سنجیدہ، باوقار اور ہمہ پہلو علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے تقریبا 37 برس کے طویل عرصے تک درس و تدریس، بحث وتحقیق اور صحافتی خدمات کے ذریعے علمی دنیا میں ایک مضبوط شناخت قائم کی۔

ڈاکٹر اشتیاق احمد اعظمی: مختصر سوانحی خاکہ
ڈاکٹر اشتیاق احمد اعظمی: مختصر سوانحی خاکہ

پیدائش اور خاندانی پس منظر:

ڈاکٹر اشتیاق احمد اعظمی، ابن مولانا مشتاق احمد صاحب قاسمی (مجازِ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ) ہیں۔ آپ کی پیدائش 25 نومبر 1960ء کو مئوناتھ بھنجن، ضلع مئو، اترپردیش میں ہوئی۔ علمی و دینی فضا میں پرورش پانے کا اثر آپ کی پوری تعلیمی و عملی زندگی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔

تعلیمی سفر:

آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر جونیر ہائی اسکول تک مدرسہ تعلیم الدین، مئو میں حاصل کی۔ اس کے بعد عربی کی تعلیم دار العلوم مئو میں درجہ پنجم تک مکمل کی۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں سے فضیلت اور تکمیلِ ادب کی تکمیل کی۔ دار العلوم دیوبند سے آپ کا سنہ فراغت 1396ھ مطابق 1976ء ہے۔

اس کے بعد جامعہ دارالسلام، عمرآباد (جنوبی ہند) سے فضیلت کی تکمیل کی۔ آپ نے مولوی، عالم اور فاضل (ادب و طب) کے امتحانات الہ آباد عربی و فارسی بورڈ سے کامیابی کے ساتھ پاس کیے۔ عصری تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کی؛ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہائی اسکول اور SSSC (صرف انگریزی) کیا، پھر وہیں سے ایم اے (عربی) کی ڈگری حاصل کی۔

عالمی سطح کی دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے طور پر کلیۃ الشریعہ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے لیسانس (شریعہ) مکمل کیا۔ بعد ازاں لکھنو یونیورسٹی، لکھنؤ کے شعبۂ عربی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جو آپ کی تحقیقی صلاحیت اور عربی زبان پر گہری دسترس کا واضح ثبوت ہے۔آپ کی پی ایچ ڈی کا رسالہ “ اودھ میں افتا کے مراکز اور ان کی خدمات “ کے نام سے مطبوع اور شائع ہوکر شائقینِ علم و فن سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے اور بہت ہی کم عرصہ میں اس کے مطبوعہ تمام نسخے مکتبات تجاریہ سے ناپید ہوچکے۔

تدریسی و ادارہ جاتی خدمات:

تعلیم سے فراغت کے بعد تقریباً دو سال جامعہ دارالسلام، عمرآباد میں ثانویہ درجے کی تدریس انجام دی۔ اس کے بعد دارالعلوم مئو سے وابستہ ہوئے، جہاں شعبۂ عربی کےدرجات عالیہ اورتخصص فی الافتاء میں طویل عرصے تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ آپ 31 مارچ 2023ء کو شیخ الحدیث اور پرنسپل کی حیثیت سے دارالعلوم مئو ہی سے سبکدوش ہوئے۔

تحقیقی و فقہی سرگرمیاں:

ڈاکٹر مولانا اشتیاق احمد اعظمی نے فقہی سیمیناروں کے لیے مختلف موضوعات پر سیکڑوں مقالات تحریر کیے، اسلامک فقہ اکیڈمی نئی دہلی اور ادارۃ المباحث الفقہیہ (جمعیۃ علماء ہند دہلی) کے متعدد سیمیناروں میں شرکت فرماتے رہتے ہیں۔ اسلامک فقہی اکیڈمی، نئی دہلی کی جانب سے آپ کے درجنوں مقالات ”بحث و نظر“ کے صفحات پہ شائع ہو چکے ہیں، جو آپ کی فقہی بصیرت اور معاصر مسائل پر گہری نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔

صحافتی و اداراتی خدمات:

آپ دارالعلوم مئو سے شائع ہونے والے سہ ماہی مجلہ ”نوائے دارالعلوم“ (جو رجسٹریشن کے بعد ”شان دارالعلوم“ کے نام سے شائع ہوتا ہے) کے نائب مدیر ہیں۔ اس مجلے کی اشاعت سے متعلق تقریباً تمام عملی امور، جیسے مضامین کی فراہمی، مقالہ نگاران سے روابط، کمپوز شدہ مواد کی پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ وغیرہ، طویل عرصے سے آپ کی نگرانی میں انجام پا رہے ہیں۔

یہ رسالہ پہلی مرتبہ 1988ء میں جاری ہوا، بعض ناگزیر حالات کی بنا پر کچھ عرصے کے لیے موقوف رہا، یہاں تک کہ 2009ء میں الحاج حافظ احمد ذکی نقشبندی مدظلہ العالی کے دورِ نظامت میں اس کی نشأۃ ثانیہ عمل میں آئی۔ انہی کی مساعی سے رسالہ سرکاری طور پر “شان دارالعلوم” کے نام سے رجسٹرڈ ہوا۔ اس وقت اس کے مدیرِ اعلیٰ مولانا احمد اللہ قاسمی ندوی مدظلہ ہیں، اور دونوں بزرگ رٹائرڈ اساتذہ کی عملی سرپرستی میں مجلہ برابر شائع ہو رہا ہے۔

الغرض ڈاکٹر مولانا اشتیاق احمد اعظمی ایک سنجیدہ مزاج، وسیع المطالعہ، مضبوط علمی بنیاد رکھنے والے فقیہ، مدرس اور محقق ہیں۔ ان کی زندگی علمی وقار، ادارہ جاتی وفاداری اور خاموش مگر مسلسل خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کی علمی، تدریسی اور فقہی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور آنے والی نسلوں کو ان کے فیض سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply