مفتی محمد سلیمان قاسمی خوشحالپوری: ایک مختصر تعارفی خاکہ

از: محمد روح الامین قاسمی

     مفتی محمد سلیمان قاسمی خوشحالپوری ان علماء میں سے ہیں جنھوں نے جاہ و شہرت سے بے نیاز ہو کر درس و تدریس اور تحقیق وتالیف کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ دار العلوم دیوبند کے شعبۂ تحقیق و تالیف، شیخ الہند اکیڈمی کے استاذ و مربی ہیں، جہاں آپ داخلِ شعبہ فضلا کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ کتبِ اکابر کی تحقیق و تعلیق اور ترجمہ وتالیف کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ آپ کی کتابوں میں”خصائلِ مصطفیٰ“ اور”حکایاتِ مصطفیٰ“ زیادہ معروف ہوئیں۔ علّامہ ظہیر احسن شوق نیموی کی”أوشحۃ الجید” آپ کی تحقیق و تعلیق اور تخریج کے ساتھ جدید پیرایہ میں شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوچکی ہے۔ راقم الحروف کو بھی آپ سے علمی استفادہ اور شرفِ تلمذ حاصل رہا ہے، جس کی بنا پر اس مختصر تعارفی خاکے کے اندر دستیاب معلومات کی روشنی میں آپ کی زندگی، علمی سفر، تدریسی خدمات، تصنیفات اور اخلاقی اوصاف کا اجمالی تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

مفتی محمد سلیمان قاسمی خوشحالپوری: ایک مختصر تعارفی خاکہ
مفتی محمد سلیمان قاسمی خوشحالپوری

ولادت اور خاندانی پس منظر

مفتی محمد سلیمان قاسمی خوشحالپوری اجلاس صد سالہ سے چھ سال قبل تقریباً 15 جنوری 1974ء کو خوشحالپور، ضلع سہارنپور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا نے آپ کا نام ”صدیق” رکھا تھا؛ مگر آپ اپنے نانا الحاج حافظ ظہور احمد شاہ پوریؒ کے رکھے ہوئے نام”محمد سلیمان“ سے معروف ہوئے۔ آپ کے والد کا نام محمد حنیفؒ اور دادا کا نام عبد الحمیدؒ تھا۔ آپ کے دادا نیک صالح، متقی اور پارسا انسان تھے، جو پورے طور پر خانقاہ رائے پور سے مربوط اور حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے فیض یافتہ تھے۔ علاقے میں ”ملا عبد الحمید“ اور "اللہ والے“ کے نام سے یاد کیے جاتے تھے۔

      تعلیم و تربیت

   آپ نے ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن اور ابتدائی ہندی و اردو تک اپنے گاؤں کے مکتب ”مدرسہ قادریہ حفظ القرآن“ میں حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے نانیہال شاہ پور، ضلع سہارنپور کے مدرسہ اشرفیہ مسعودیہ میں آپ نے حافظ سعید احمد نعمت پوری کے پاس قرآن پاک حفظ کیا اور حافظ قاری عبد المنان شاہ پوری کے پاس اردو املا و حساب وغیرہ کی مشق کے ساتھ اردو و ہندی کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھیں۔ اسی زمانے میں آپ نے اسی گاؤں کے سرکاری اسکول میں پانچویں کا امتحان دیا اور کامیابی حاصل کی۔

    اس کے بعد شوال المکرم 1406ھ مطابق 1986ءکو آپ نے مدرسہ فیضِ ہدایت گلزارِ رحیمی، خانقاہ رائے پور میں داخل ہوکر حضرت الحاج حافظ محمدیٰسین صاحب کے پاس دورِ کلام پاک کے ساتھ ساتھ اردو، ہندی اور حساب وغیرہ کی مشق کرکے ان چیزوں میں مزید ترقی حاصل کی۔ ایک سال میں دورِ کلام پاک مکمل کرنے کے بعد مدرسہ گلزار رحیمی میں ہی مولانا محمد الیاس صاحب اور اپنے خالو مولانا دلشاد احمد صاحب سے فارسی و عربی بدایۃ النحو تک کی تعلیم حاصل کی۔

    اس کے بعد شوال المکرم 1409ھ مطابق 1989ء کو آپ نے جامعہ اسلامیہ ریڑھی، تاجپورہ (سہارنپور) میں داخلہ لے کر سال سوم (کافیہ) سے مختصر المعانی تک کی کتابیں وہاں پڑھیں۔ آپ کے ریڑھی، تاجپورہ کے اساتذہ میںحضرت مولانا محمد اختر،ص قاسمیؒ (سابق مہتممِ جامعہ)، حضرت مولانا قاری محمد عاشق الہٰی صاحبؒ (سابق شیخ الحدیث جامعہ)، حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب مظاہری (موجودہ شیخ الحدیث جامعہ)، حضرت مولانا ابو الحسن صاحب بھٹ پوریؒ، حضرت مولانا جمشید علی صاحب (موجودہ مہتمم جامعہ)، حضرت مفتی محمد شاہد صاحب (موجودہ شیخ ثانی و مفتی جامعہ)، مولانا اطہر مدنی صاحب ؒ، مولانا عبد الصمد صاحب اور ماسٹر ذو الفان شامل تھے۔

     شوال 1412ھ مطابق 1992ء میں جلالین (عربی ششم) کے سال آپ کا داخلہ جامعہ اسلامیہ دار العلوم دیوبند میں ہوا، جہاں سے آپ نے 1415ھ مطابق 1995ء میں نمایاں کامیابی کے ساتھ سندِ فضیلت حاصل کی۔ آپ کے اساتذۂ دار العلوم دیوبند میں شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر احمد خاں بلند شہریؒ، حضرت مولانا عبد الحق اعظمیؒ، حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی، حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ، حضرت مولانا سید ارشد مدنی، حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوریؒ، حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی، حضرت مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمیؒ، حضرت قاری سید محمد عثمان منصور پوریؒ، حضرت مفتی محمد یوسف تاؤلوی، حضرت مولانا عبد الخالق سنبھلیؒ وغیرہ شامل ہیں۔

     ان کے علاوہ آپ نے مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ(صدر المفتیین دار العلوم) سے صحیح بخاری/نسائی شریف کی ابتدا کر کے سند و اجازتِ حدیث حاصل کی۔ نیز تجوید آپ نے مولانا قاری شفیق الرحمن بلند شہری سے پڑھی۔

    اگلے سال 1416ھ مطابق 1995ء میں آپ نے تکمیلِ افتا کیا اور اس کے بعد 1417ھ مطابق 1996ء میں آپ نے شعبۂ شیخ الہند اکیڈمی، دار العلوم دیوبند میں داخلہ لے کر مولانا کفیل احمد علویؒ کے زیرِ تربیت تحقیق وتالیف اور ترجمہ تربیت و مشق کی۔

      تدریسی و دیگر خدمات

     زمانۂ طالب علمی ہی سے تدریس کا شوق تھا۔ آپ دوران تعلیم ہی مسجد عالی شان محلہ بڑ ضیاء الحق، دیوبند میں امام ہو گئے، جہاں تفسیرِ قرآن کا سلسلہ رکھتے تھے اور کئی بچوں کو قرآن بھی پڑھایا۔ زمانۂ طالب علمی ہی کے دوران کئی طلبہ کو نور الایضاح، ہدایۃ النحو اور میبذی جیسی متعدد کتابیں پڑھا چکے تھے۔

    دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد 1418ھ مطابق 1998ء میں آپ نے حضرت مفتی عبد القیوم رحمہ اللہ کی زیر سرپرستی مدرسہ فیضِ ہدایت گلزارِ رحیمی، رائے پور میں استاذِ فارسی و عربی کی حیثیت سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا اور شعبان 1432ھ مطابق 2012ء تک تقریباً چودہ سال آپ نے وہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔اس عرصے میں سیکڑوں تشنگان علوم نے آپ سے استفادہ کیا، جو آج ملک وبیرون ملک دینی و علمی خدمات میں مصروف ہیں۔

اواخرِ شوال 1432ھ مطابق 2012ء میں آپ کا تقرر دار العلوم زکریا دیوبند میں ہوا، جہاں آپ نے ربیع الاول 1439ھ تک تقریباً آٹھ سال تدریسی خدمات انجام دیں اور مختلف علوم و فنون کی کتابوں کی تدریس کے ساتھ ناظمِ تعلیمات کے منصب پر بھی فائز رہے۔ نیز ادارے کے نظم و ضبط اور تعلیمی نظام کو منظم و بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔

 دار العلوم زکریا میں تکمیلِ افتا کی”الدر المختار” (کتاب النکاح و الطلاق)، ”رد المحتار“ (شامی، کتاب الحظر و الاباحہ)، ”مشکوٰۃ المصابیح“ (نصفِ ثانی)، ”ہدایہ“ (ثانی و ثالث)،”نور الانوار“، ”مختصر المعانی“، ”اصول الشاشی“ اور ”قطبی (منطق)“ جیسی کتابوں کے اسباق آپ سے متعلق رہے۔

    صفر المظفر 1439ھ مطابق 2019ء میں مجلسِ شوریٰ دار العلوم دیوبند نے مفتی ابو القاسم نعمانی مد ظلہ (مہتمم دارالعلوم )اور مفتی سعید احمد پالن پوریؒ ( صدر المدرسین )کی انٹرویو رپورٹ کی روشنی میں شعبۂ شیخ الہند اکیڈمی میں داخل فضلا کی تعلیم و تربیت اور اکابر علماء کی قدیم مخطوطات پر تحقیق و تعلیق کا کام انجام دینے کے لیے آپ کا تقرر کیا اور تبھی سے آپ شعبے میں داخل فضلاء دارالعلوم کی تعلیم و تدریب اور تحقیقی و تالیفی خدمات میں مصروف ہیں۔

      تصنیفات و تالیفات

    زمانۂ طالب علمی کے اختتام ہی پر آپ کی پہلی تحقیقی کاوش ”خصائلِ مصطفیٰ“ چھپ کر مقبولِ عوام و خواص ہوئی۔ آپ کی دیگر تالیفات میں ”حکایاتِ مصطفیٰ“، ”مختصر حالاتِ زندگی” (شاہ عبد القادر رائے پوری) اور ”تحفۂ سالکین“ شامل ہیں۔ آپ نے ”کبریٰ منطق“ ، ”فارسی زبان کی پہلی“ اور ”فارسی زبان کی دوسری“ کو بھی جدید ترتیب و تحشیہ اور مثالوں کے اضافے کے ساتھ مرتب کیا۔ اسی طرح مجلسِ شوریٰ کی تجویز پر علامہ شوق نیموی کی تالیف ”أوشحۃ الجید“ پر تحقیق، تخریج و تحشیہ کا کام کیا، جو شیخ الہند اکیڈمی سے شائع ہو کر مکتبہ دار العلوم دیوبند میں دستیاب ہے۔

    نیز ”الاجوبۃ الفاخرہ“ کے جواب میں علامہ شوق نیموی ہی کے لکھے گئے رسالے ”المقالۃ الکاملۃ“ پر آپ نے تحقیق و تعلیق کا کام کیا ہے، جو شیخ الہند اکیڈمی سے ابھی شائع ہونا باقی ہے۔ اس کے علاوہ علامہ عبد الحفیظ مکیؒ کی کتاب ”استحباب الدعاء بعد الفرائض و رفع الیدین فیہ“ کا اردو ترجمہ آپ نے مرتب کر لیا ہے، جو فی الحال زیر اشاعت ہے۔

     اخلاق و عادات کا اجمالی خاکہ

   آپ کے شیخ الہند اکیڈمی کے ایک شاگرد مولانا محمد فرقان میواتی (نوح) آپ کے اخلاق و عادات کے بارے میں کچھ یوں لکھتے ہیں:

    ”خندہ رو، خوش طبع، رفیق و رہبر، مربّیِ کامل، پیکرِ تواضع و انکسار…. آپ ذی استعداد، صاحبِ کمال، بافیض و باتوفیق مدرس و معلم ہیں۔ آپ ظریف الطبع، خوش گفتار اور زندہ دل استاذ ہیں۔ سنجیدگی و متانت کے پیکر، رقیق القلبی اور پیار و محبت کا مجسمہ ہیں۔….“

      نیز لکھتے ہیں:

    ”دورانِ درس آپ بعض اوقات ایسے مزاحیہ انداز بھی اختیار کرتے ہیں، جس سے طلبہ میں مسکراہٹ پھیل جاتی ہے اور سرور بھی حاصل ہوتا ہے؛ لیکن نہ کبھی بے جا مزاح کرتے ہیں، نہ کھلکھلا کر ہنستے ہیں اور ہمہ وقت خندہ رو رہتے ہیں۔ ہم طلبہ کو دورانِ درس حالاتِ حاضرہ سے بھی باخبر کرتے رہتے ہیں۔ آپ نہ ذاتی طور پر کسی سے دشمنی و اختلاف رکھتے ہیں، نہ اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ لیتے ہیں۔ آپ اپنی ذات میں اتنے مشغول رہتے ہیں کہ دوسروں کی طرف توجہ کی آپ کو فرصت ہی نہیں ملتی۔ کوئی آپ سے کسی مسئلے میں مشورہ کرتا ہے، تو "المستشار مؤتمن” کے پیشِ نظر بہت صحیح اور ٹھوس مشورہ دیتے ہیں۔

    علمِ طب سے متعلق بھی آپ اپنے تجربات سے مستفید فرماتے رہتے ہیں؛ کیوں کہ اُستادِ محترم نے اپنے شیخ و مرشد اور باکمال طبیب ”حضرت مولانا حکیم سید مکرم حسین صاحب سنسارپوری“ سے اصلاحِ نفس اور تربیتِ باطن کے سلسلے میں روحانی استفادہ کے ساتھ علمِ طب سے متعلق اچھا خاصا مواد اور تجربہ اپنے پاس محفوظ کر رکھا ہے۔

  حضرت الاستاذ اکثر خاموش رہتے ہیں اور کسی ضرورت کے وقت ہی گویا ہوتے ہیں اور صرف کام کی بات کر کے خاموش ہو جاتے ہیں، یعنی: لایعنی گفتگو سے احتراز فرماتے ہیں۔ آپ ”کلموا الناس علی قدر عقولهم“ کا بہترین نمونہ ہیں۔

 یہ جملہ صفات، بارگاہِ ایزدی کے انعامات ہیں؛ ولذلك عليہ أن يشكر الله۔“

Leave a Reply