مرے بعد زندگی کا بڑا احترام ہوگا
(مختصر حالات مولانا قاری نظام الدین قاسمی اڈیشویؒ)
عبد اللہ خطیب قاسمی
بھارت کا ایک صوبہ اڑیسہ جو قدرتی معدنیات اور توانائی سے بھرپور پورے بھارت میں مشہور ہے۔ صوبائی سطح کے اعتبار سے یہاں مختلف النوع قومیت آباد ہے؛ پر مسلمانوں کی تعداد ڈھائی سے تین فیصد ہے، جو دیگر صوبوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد کی بہ نسبت بہت کم ہے۔ اس صوبے کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسی صوبے کے تاریخی شہر کٹک – جو ایک زمانے میں ریاست کی دارالحکومت رہا کرتی تھی – جنگ آزادی کے ایک عظیم ہیرو سبھاش چندر بوس کی جائے پیدائش ہے۔ اس شہر نے کئی اعتبار سے مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ایسی ہستیاں بھی جنم دی ہیں، جنھوں نے ملی، سماجی، اسلامی، دینی، علمی، عملی، فکری اور اصلاحی؛ ہر طرح سے پورے صوبے میں گراں قدر خدمات انجام دے کر دینِ متین کی سربلندی، سنت و شریعت کی پاسداری اور ملتِ اسلامیہ کی پاسبانی میں ایسے نمایاں کردار ادا کیے ہیں، جن کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انھی ہستیوں میں ایک نام حضرت مولانا الحاج قاری نظام الدین صاحب قاسمیؒ سابق نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ مدینۃ العلوم خوش منڈل، عید گاہ چار بستی کا بھی ہے۔

پیدائش
آپ ( مولانا قاری نظام الدین قاسمی اڈیشویؒ ) کی پیدائش صوبہ اڈیشا کے مشہور ضلع، ضلع کٹک کے تحصیل صالح پور کے قریب قصبۂ سونگڑہ کے ایک محلہ کوسمبی میں بتاریخ 15 شوال المکرم 1367ھ مطابق 21 اگست 1948ء میں ہوئی۔ آپ کے والدِ محترم کا نام شیخ رحیم الدین تھا، جو کلکتے میں رہتے تھے۔ حضرت والا کے چھ بھائی تھے، آپ تیسرے نمبر پر تھے، آپ کے بڑے بھائی آپ سے پہلے انتقال فرما گئے تھے اور آپ سے نیچے تین بھائی تادمِ تحریر بقیدِ حیات ہیں (فالحمد للہ علی ذلک)۔ یہ خاندان بدعت سے متاثر رہا تھا۔ آپ اپنی تعلیم سے فراغت کے بعد مسلسل حکمتِ عملی سے محنت کرتے رہے، رفتہ رفتہ –الحمد للہ– سارے خاندان بلکہ پورا محلہ رسم و رواج اور بدعات کی تمام خرافات سے بری ہو گیا۔
تعلیمی سفر
ابتدائی تعلیم صوبہ اڈیشا کے مشہور ادارے جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم سونگڑہ میں ہوئی۔ آپ کے اساتذۂ کرام میں شیر اڈیشا امیر شریعت اول مناظر اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب، امیر شریعت ثانی بلبل اڈیشا حضرت مولانا سید سراج الساجدین صاحبؒ اور حضرت مولانا اسحاق صاحب پٹنویؒ قابل ذکر ہیں۔
اسی عرصے میں کسی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا اور آپ نے خیاطی کا ہنر اپنا لیا اور ایک ماہر درزی رہے تھے، اس کے بعد پھر شوقِ تعلیم کا جنون سوار ہوا، پھر آپ نے دوبارہ تعلیمی سفر شروع کیا۔ درجاتِ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم مذکورہ مدرسہ میں حاصل کر کے اعلیٰ تعلیم کے لیے ازہرِ ہند دار العلوم دیوبند کر رخ کیا۔ وہاں آپ نے نابغۂ روزگار اساتذۂ کرام سے اکتسابِ علم کا شرف حاصل کیا، جن میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سید فخر الدین احمد صاحب مراد آبادیؒ، علامہ ابراہیم صاحب بلیاویؒ، حضرت مولانا خورشید عالم صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ اور بالخصوص حضرت مولانا فخر الحسن مرادآبادیؒ قابل ذکر ہیں۔
آپ کے زہد و تقوی، محنت اور حصولِ علم کے شوق کی وجہ سے اساتذۂ کرام کی توجہِ خاص رہتی تھی اور آپ نے آخر الذکر شخصیت (مولانا فخر الحسن مرادآبادیؒ) سے کچھ عملیات سیکھا اور چلہ کشی بھی کی، بعد میں آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس درمیان بہت کچھ حالات آئے۔ دورۂ حدیث شریف کا سال تھا، آپ نے خواب میں حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی کو خواب میں دیکھا کہ وہ آپ کے سر پر پگڑی باندھ رہے ہیں، پھر والد صاحب نے اس خواب کا تذکرہ حضرت مولانا فخر الحسن صاحب مرادآبادیؒ سے کیا تو حضرت نے تعبیر یہ بیان فرمائی کہ تمھارے رشتے کی بات چل رہی ہے اور وہ بھی کسی سید گھرانے سے اور رشتہ اچھا ہوگا اور اس کی تکمیل ہو جائے گی۔ اللہ مبارک کرے!
آپ کی فراغت سنہ 1970ء میں ہوئی چونکہ اساتذۂ کرام سے خصوصی تعلق تھا، اس بنا پر فراغت کے بعد حضرت مولانا قاری عثمان صاحب منصور پوریؒ نے آپ کو اپنے علاقے منصور پور میں – جو کہ یو پی میں ایک جگہ کا نام ہے – بھیجا، وہاں آپ نے امامت اور مکتب کے تحت دینی تعلیم کی خدمت انجام دی۔ چونکہ رشتہ طے ہو چکا تھا، تعبیر خواب کے بموجب ایسا ہی ہوا۔ غالبا 1971ء یا 1972ء میں ماسٹر سید عبد الرؤفؒ کی بیٹی اور صوبہ اڈیشا کے مشہور عالم دین عظیم داعیِ تبلیغ موجودہ مدرسہ خدیجۃ الکبری للبنات کے بانی و مہتمم مولانا سید ابوداؤد قاسمی کی ہمشیرہ سے شادی کی تکمیل ہوئی۔ ہماری والدہ محترمہ بھی الحمد للہ جب سے بندے نے ہوش سنبھالا ہے، آج تک والدہ کی فرض نماز تو دور نوافل تک قضا نہیں ہوئی۔ سخت علالت میں کبھی نوافل میں کوتاہی ہو جاتی تو بہت صدمہ ہوتا تھا۔ بڑی ذاکرہ شاکرہ قانتہ ہیں۔ اللہ تعالی والدہ کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کا سایۂ عاطفت اور شفقتِ مادری ہم پر دراز فرمائے اور کماحقہ ان کی خدمت کر کے الجنۃ تحت أقدام الأمھات
کا مصداق بنائے۔ آمین ثم آمین۔
بہرحال 1971ء یا 1972ء میں آپ نے شادی کے بعد کچھ دن صوبہ اڈیشا کے ایک شہر برہم پور، ضلع گنجام میں کچھ ماہ امامت و خطابت کا فریضہ انجام دیا، پھر واپس منصور چلے گئے۔
قیام مدرسہ اور مستقل مشغلہ
جب آپ منصورپور میں تھے، اسی اثناء میں ضلع کٹک کے ایک پسماندہ علاقے خوشمنڈل، برہم پور سے تعلق رکھنے والے آپ کے درسی ساتھی مولانا میر صابر علی قاسمیؒ، جنھوں نے فراغت کے بعد اپنے علاقے میں سرکاری اسکول کے ملازمت اختیار کر لی تھی، نے ایک مدرسے کے قیام کے سلسلے میں والد محترم سے بار بار اصرار کیا اور اڈیشا واپس بلا لیا اور دونوں نے غالباً 1973ء میں اپنے اساتذہ امیر شریعت اول و امیر شریعت ثانی کے دستِ مبارک سے سنگِ بنیاد رکھوایا۔ مولانا صابر علی صاحبؒ اسکولی مشغولیت کی وجہ سے مدرسے کو کم وقت دے پاتے تھے تو انھوں نے ابتدا میں سنگِ بنیاد کے وقت سے ہی پوری ذمہ داری اور نیابتِ اہتمام؛ والد گرامی حضرت مولانا نظام الدین صاحبؒ کے سپرد کر دی اور انھیں نائب مہتمم بنا لیا اور گاہ بگاہ مدرسے میں حاضر ہو جاتے۔ والدِ محترم پوری جانفشانی اور بڑی مشقت بھرے انداز میں مدرسے کی تمام ذمہ داریوں کو نبھاتے تھے۔
والد گرامی کو سرکاری ملازمت کا آفر بھی بہت ملا۔ ہم عصر اور آپ کے بہی خواہان نے بہت اصرار کیا کہ موقع اچھا ہے۔ بلا بلا کر سرکاری ملازمت دیے جانے کا دور تھا، ان کے لیے کوشش کی۔ ایک دو مرتبہ با دلِ ناخواستہ آپ نے اسکول جوائن بھی کر لیا مگر کچھ دن رہے۔ انھی ایام میں اپنے مشائخ اور اساتذۂ دار العلوم کو خواب میں دیکھا کہ وہ سرکاری ملازمت سے آپ کو دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں، پھر آپ کی طبیعت اسکول کی ملازمت کی طرف سے اچاٹ ہو گئی۔ دوری اختیار کر کے اسی مدرسے کو اپنا مستقل مستقر بنایا اور بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ تعلیمی تدریسی اور اس علاقے کی صلاح اور فلاح کے لیے کمربستہ ہو گئے؛ خالصتاً دین متین کی خدمت، امت کی بھلائی اور اشاعتِ دین کو اپنا نصب العین بنا لیا۔ جھونپڑی چھپّر سے لے کر پکی تعمیرات تک، نورانی قاعدے سے لے کر درس نظامی تک نظام کو بحسن و بحسن خوبی انجام دیا۔ صرف طالبان علم کو پڑھاتے نہیں تھے بلکہ ان کے لیے باورچی اور مدرسے کی باغبانی کی خدمت بھی اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے اور انتہائی مشفقانہ تعلیم و تربیت فرماتے۔
نتیجتاً اس کی برکت سے اس علاقے میں جو محلہ جات تھے، خوش منڈل، برہم پور، بابو جنگ کے علاوہ آپ کا فیض دور دراز تک ایسا جاری ہوا کہ علاقے سے بدعات و رسومات مٹتے چلے گئے۔ سنت و شریعت اور علوم نبوت کے ایسے چشمے جاری ہوئے کہ سینکڑوں طالبان علم نے اپنی علمی پیاس بجھائی اور پورے 49 سالہ طویل المدت میں سینکڑوں علماء و حفاظ اور مفتیان حضرات پیدا ہوئے۔ آپ کے ممتاز تلامذہ میں مولانا عبد الوحید صاحب قاسمی مہتمم مدرسہ احیاء العلوم چٹرا، مولانا مفتی محمد تحمید حسین صاحب قاسمی مہتمم مدرسہ دارالقران ٹینڈہ کوڑہ، مفتی سراج الدین صاحب قاسمی اور مولانا اکرام صاحب نین پوری اردو ٹیچر ٹینڈہ کوڑہ ہائی اسکول، مولانا مجیب صاحب مہتمم دار العلوم حنفیہ امولسائی، مولانا اویس زکی صاحب مہتمم جامعہ انوار ہدایت بالوبیسی، مولانا آزاد صاحب بابو جنگ، حافظ عبد الوحید صاحب جامعۃ الشفیع سہلا للبنات، خوشمنڈل۔ علاوہ ازیں بنگال و بہار اور دیگر صوبوں میں آپ کے تلامذہ دین متین کی اشاعت میں مصروف عمل ہیں۔ اللہ تعالی آپ کی ان خدمات کو قبول فرما کر ثواب جاریہ بنائے اور نجات و مغفرت کا سامان بنائے۔ آمین ثم آمین۔
اوصاف حمیدہ
آپ کی شخصیت بارعب ہونے کے ساتھ ساتھ خندہ پیشانی کا حسین سنگم تھی، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ تصویر تھے زندگی بھر آپ نے سفید تہبند اور سفید لباس پہنا تہبند کی سفیدی میں لکیر بھی کسی رنگ کا گوارا نہ تھا۔ سنت سمجھ کر زندگی بھر سفر و حضر میں ویسے ہی رہتے تھے۔ وضع قطع، نشست و برخاست، معاملات کی سچائی، معاشرت کا حسن تو تھا ہی، اخلاقیات میں اپنی مثال آپ تھے، ہر چھوٹے بڑے خواہ اپنا شاگرد ہی کیوں نہ ہو ادب و اکرام کرنا، شفقت و مہربانی سے پیش آنا اپ کا طرۂ امتیاز رہا۔ تصنع سے پاک سادگی زندگی کے ساتھ طبیعت میں نفاست پسندی تھی۔ اللہ نے صبر و تحمل کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ معاندین، حاسدین اور بد خواہ ذہنی اذیت اور رنج و غم پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے مگر مدرسے کے مفاد میں اگر کوئی معاملہ ہوتا تو لب پر خاموشی کا مہر لگ جاتا، کوئی کچھ کہے تو ایک بات کہتے کہ دین کے مفاد میں مدرسے کے مفاد میں خاموش ہوں ورنہ اپنے خون پسینے سے سینچا گیا یہ چمن اجڑ جائے گا۔
چونکہ مدرسے کا فاصلہ اپنے گھر سونگڑہ سے تقریبا 20–22 کلومیٹر کا تھا اور ہمیشہ آپ مدرسے میں زیادہ تر وقت گزارتے یہاں تک کہ شوگر کی وجہ سے، جو کہ ام الامراض ہے، آپ کو دل کی تکلیف، گردوں کی تکلیف اور مختلف قسم کے امراض دامن گیر ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نقاہت پہ نقاہت! کمزوری آتی چلی گئی اور ان حالات میں بھی آپ ہمیشہ ہم سے کہتے کہ مجھے مدرسہ چھوڑ دو میں مدرسے میں رہوں گا تو میری طبیعت ٹھیک رہے گی، اس سے اندازہ لگائیں کہ کس درجے تک ان کو اپنے اس چمن سے لگاؤ تھا۔
اور قوم مسلم جیسا کہ اپنے محسنوں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے۔ ایسا ہی ان کے ساتھ آخری وقت میں ناقابل برداشت ذہنی تکلیفیں پہنچائی گئیں اور اڑتے پرندہ سمجھا گیا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
اب یہ کہتے ہیں اہل چمن: یہ چمن ہمارا ہے؛ تمھارا نہیں!
ایسا ہی کچھ واقعہ حضرت والد محترم کے ساتھ پیش آیا اور ان میں پس و پیش اہل سخن حضرات تھے اور ان کا رویہ ایسا تھا جو دل چیر دینے والا تھا۔ہر بہرحال یہ تمام باتیں ہوئیں لیکن آپ نے ہر چیز کو مدرسے اور دین کی خاطر برداشت کر لیا۔ اللہ تعالی آپ کو اس کا شایانِ شان بدلہ دے۔ آمین۔
علالت اور وفات
یوں تو 20–21 سال سے ذیابیطس کے مریض رہے، اس ام الامراض نے کئی بیماریوں کو جنم دیا، کڈنی، ہارٹ خاص طور پر کئی دفعہ اسٹروک ہوا۔ طبیعت جب نازک سے نازک تر ہو گئی، ڈاکٹروں کے پاس جانے کے لیے منع کرتے۔ جب راقم الحروف نے کہا: ابو! علاج سنت ہے۔ یہ کہنا تھا پھر ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے راضی ہو گئے۔
ایک عجیب خصوصیت یہ تھی کہ بار بار کئی مرتبہ کسی پرچی پر کسی کتاب کے حاشیے پر اکثر جگہ جمعہ کے دن کی موت کا تذکرہ حوالہ ضرور لکھتے اور کسی کے جنازے پر جاتے تو جمعہ کے دن موت کی فضیلت ضرور بیان کرتے۔ چنانچہ مستجاب الدعوات ہونے کی وجہ سے قدرت نے آپ کی دعاؤں کو سن لیا اور جمعہ کے دن موت کی خواہش کیا کرتے تھے تو اللہ علیم و خبیر ذات کی سے کچھ اس طرح ہوا کہ بدھ کے دن بیمار ہوئے، شفا ہاسپٹل کٹک میں داخل کیا گیا، اتنا خطرہ بھی نہیں تھا۔ جمعرات کا دن گزر کر جیسے ہی جمعہ کی صبح ہوئی غالباً صبح چار بجے کے قریب جمعہ کی صبح آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور مالک حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
خبر سنتے ہی متعلقین، تلامذہ، محبین، اہل خانہ، تمام خاندان اور مدرسے کے علاقے سے خلق خدا کا ایک ہجوم امڈ آیا۔ مسلم اور غیر مسلم اپنے محلے اور علاقے سے آپ کی ایک ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہو گئے۔ ہر کوئی ایک سوگوار ماحول میں ڈوب گیا۔
بچھڑا کچھ اس طرح سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
جمعہ کی صبح کو انتقال ہوا، بعد نماز عصر تدفین عمل میں آئی، چار ہزار سے زائد نماز جنازہ میں عوام و خاص کا ہجوم تھا، جنازہ دیکھ کر والد صاحب کی زبان سے ہمارے ماموں مولانا سید ابو داؤد صاحب نقل کرتے ہیں کہ دوران طالب علمی میں والد صاحب یہ کہ شعر پڑھا کرتے تھے:
میں کچھ اس طرح جیا ہوں کہ یقیں ہو گیا ہے
مرے بعد زندگی کا بڑا احترام ہوگا
(وسیم بریلوی)
کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے:
قلندر آنچہ گوید دیدہ گوید!
بالآخر 5 صفر المظفر 1444ھ مطابق 2 ستمبر 2022ء بروز جمعہ اپنے گاؤں کسمبی کے قبرستان میں سپرد خاک کیے۔
اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کے دینی خدمات کو قبول فرما کر نجاتِ دارین کا سبب بنائے۔ آمین۔
وارثین میں سب سے بڑی دختر نیک اختر آپ کے بھتیجے اور شاگرد مولانا فخر الدین صاحب قاسمی (اردو ٹیچر مدھیا کچھ ہائی اسکول، سات بٹیہ) کے نکاح میں ہیں۔
بڑا لڑکا احقر (عبد اللہ خطیب قاسمی)، پھر مولانا رئیس الامین (نشیط) فاروقی، پھر مولانا محمد فرید الدین قاسمی، پھر مولانا محمد نوشاد احمد مفتاحی اور سب سے چھوٹے صاحبزادے مولانا مفتی عمیر صاحب مظاہری ہیں۔






