نام کتاب: گنج ہائے گراں مایہ (خاکوں کا مجموعہ)
مصنف: پروفیسر رشید احمد صدیقی
صفحات: 284
تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی مدرس دارالعلوم دیوبند
ہر فن میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے میدان میں سکۂ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ اردو ادب میں پروفیسر رشید احمد صدیقی بھی ایسی ہی ممتاز اور منفرد شخصیت ہیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی شخصیت اپنی جگہ ایک ادبی وقار رکھتی ہے اور ان کا اسلوبِ نگارش اپنی جگہ ایک مستقل شناخت کا حامل ہے۔

رشید احمد صدیقی کی تحریروں کا ایک نمایاں امتیاز ان کی فارسی آمیز تعبیرات، منتخب الفاظ، شگفتہ اسلوب اور معنی آفرینی ہے۔ فارسی زبان پر ان کی گہری دسترس اور علامہ اقبال جیسے اہلِ علم و ادب کی صحبت سے فیض یابی نے ان کے ذوقِ بیان کو جو صیقل عطا کیا، اس کے آثار ان کی تحریروں میں جا بجا نمایاں ہیں۔ ان کے یہاں فارسی آمیز الفاظ اور تراکیب کسی مصنوعی تکلف کے ساتھ نہیں آتیں، بلکہ عبارت میں اس طرح گھل مل جاتی ہیں جیسے نگینے میں جڑے ہوئے جواہر۔
تاہم ان کا اسلوب اتنا سہل اور سطحی بھی نہیں کہ ہر قاری اس کی تہہ تک یکساں طور پر پہنچ سکے۔ ان کی تعبیرات کی گہرائی، الفاظ کے انتخاب کی نزاکت اور معنی کی تہہ داری سے حقیقی لطف وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اردو کے ساتھ فارسی زبان و ادب سے بھی کسی قدر شغف اور واقفیت ہو۔
اپنی شخصیت کے وقار اور متانت کو انہوں نے اپنی تحریر میں بھی پوری طرح برقرار رکھا ہے۔ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے لطف ہر صفحے کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ قاری پڑھتا جاتا ہے، مسکراتا جاتا ہے، کہیں بے اختیار محظوظ ہوتا ہے اور کہیں اچانک کسی غم انگیز منظر سے دوچار ہوکر دل گرفتہ بھی ہوجاتا ہے۔ یہی تنوع اور یہی شگفتگی ان کے اسلوب کو زندہ اور دل نشیں بناتی ہے۔
رشید احمد صدیقی کی شخصیت مرنجاں مرنج بھی ہے اور ان کی تحریر بھی۔ وہ اپنے قاری کو کسی مقام پر بوجھل نہیں ہونے دیتے۔ اردو ادب سے معمولی سا بھی تعلق رکھنے والا شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ رشید احمد صدیقی کے نام سے ناواقف ہے۔

گنج ہائے گراں مایہ: سولہ شخصیات کے خاکے
رشید احمد صدیقی کے دو خاکوں کے مجموعے خاص طور پر معروف ہوئے: ایک ہم نفسانِ رفتہ اور دوسرا یہی مجموعہ گنج ہائے گراں مایہ جو اس وقت میرے پیشِ نظر ہے۔
ہم نفسانِ رفتہ میں سات خاکے ہیں، جب کہ گنج ہائے گراں مایہ میں سولہ شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔ اس طرح دونوں مجموعوں میں کل تئیس شخصیات کے خاکے یکجا ہوکر اردو ادب کا ایک قیمتی سرمایہ بن گئے ہیں۔(مقدمہ) ظاہر ہے کہ رشید احمد صدیقی نے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ لکھا ہوگا، جو مختلف وجوہ سے اشاعت کے زیور سے آراستہ نہ ہوسکا۔
گنج ہائے گراں مایہ میں جن ممتاز شخصیات کو موضوعِ سخن بنایا گیا ہے، ان میں مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر مختار انصاری، مولانا سید سلیمان اشرف، مولانا ابوبکر شیث فاروقی، اصغر حسین گونڈوی، محمد ایوب عباسی، علامہ اقبال، مولانا احسن مارہروی، سید محفوظ علی بدایونی، سید نصیر الدین علوی، سید سجاد حیدر یلدرم، سر شاہ سلیمان، شیخ حسن عبداللہ، جگر مرادآبادی، بابائے اردو مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد جیسی نابغۂ روزگار شخصیات شامل ہیں۔
ان ناموں ہی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ مجموعہ کس قدر متنوع اور گراں قدر شخصیات کا احاطہ کرتا ہے۔
جب یہ مجموعہ پہلی مرتبہ میرے سامنے آیا تو سرسری نظر میں مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید یہ شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ کی معروف کتاب قیمۃ الزمن عند العلماء کا اردو ترجمہ ہے، جسے میں نے 1997ء میں پڑھا تھا۔ لیکن جب نظر پڑی اور مصنف کے نام پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ پروفیسر رشید احمد صدیقی کے تحریر کردہ خاکوں کا مجموعہ ہے۔
اس سے قبل مجھے اس کتاب کے خاکے تفصیل سے پڑھنے کا موقع نہیں ملا تھا، لیکن 15 اگست 2026 ، یومِ آزادی کی تعطیل میں اسے فرصت کے ساتھ دیکھنے اور پڑھنے کا موقع نصیب ہوا۔ کتاب کے مطالعے کا آغاز میں نے مشہور غزل گو شاعر اصغر حسین گونڈوی کے خاکے سے کیا، اس لیے کہ میں ان کی غزلوں سے پہلے ہی متاثر ہوں۔ ان کی زبان، تعبیرات اور طرزِ ادا میں ایک خاص بلاغت اور بالیدگی پائی جاتی ہے۔
اس کے بعد جگر مرادآبادی کا خاکہ پڑھا اور پھر علامہ اقبال کے بارے میں پڑھا ۔ پھر پورا مجموعہ پڑھا ، ان خاکوں کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ خاکہ نگار کو ان شخصیات سے محض ادبی تعلق نہیں بلکہ ایک گہرا قلبی لگاؤ بھی تھا۔
میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا تینوں شخصیات کی زندگی، مزاج، شخصیت اور کلام کی بلندی و معنویت کو سمجھنے کے لیے رشید احمد صدیقی کے تحریر کردہ یہ خاکے خاصے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
اتفاق سے مطالعہ کرتے کرتے جب صفحہ 192 پر پہنچا تو ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔ رشید احمد صدیقی نے غزل گو شعرا میں چار نام منتخب کیے ہیں: اصغر، جگر، حسرت اور فانی۔ ان چاروں شعرا کی غزل گوئی سے صدیقی صاحب خاص طور پر لطف اندوز ہوتے تھے۔
اس سے ان کے ادبی ذوق کی ایک اہم جہت سامنے آتی ہے۔ وہ شعر کو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود کیفیت، جذبے، فکر اور معنویت تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں میں شاعر کی شخصیت اور اس کے کلام کے درمیان ایک خاص ربط دکھائی دیتا ہے۔
علامہ اقبال سے خصوصی تعلق
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے رشید احمد صدیقی کے تعلق کی نوعیت بھی خاصی قابلِ ذکر ہے۔ ان کے بچوں کی تربیت کے لیے انہوں نے ہی اس خاتون کا انتخاب کیا تھا جس نے پوری زندگی سے دمٹ میں گزار دی ، علامہ اقبال کے ساتھ ان کی دوستی اور قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے صاحب زادے کا نام اقبال رشید رکھا۔
جب علامہ اقبال کی وفات کی خبر انہیں ملی تو وہ کسی ریلوے اسٹیشن پر تھے۔ یہ خبر ان کے لیے اس قدر صدمہ انگیز تھی کہ وہ بے حد غمگین ہوگئے اور ان پر گویا ایک لمحے کے لیے دنیا ساکت ہوگئی۔ اس موقع کی منظرنگاری رشید احمد صدیقی نے جس مؤثر اور دل گداز پیرایے میں کی ہے، وہ ان کے فنِ خاکہ نگاری کی ایک عمدہ مثال ہے۔
اسی طرح جگر مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے خاکے کے آغاز میں موت کے ذکر سے جو تمہید باندھی گئی ہے، وہ بھی منظرنگاری اور احساس کی ترجمانی کا ایک حسین نمونہ ہے۔ خاکہ نگار نے موت کے تصور کو محض ایک واقعے کے طور پر بیان نہیں کیا، بلکہ اسے انسانی زندگی کے ایک ہمہ گیر اور ناگزیر انجام کے طور پر پیش کیا ہے۔
رشید احمد صدیقی کی تحریر کی ایک دل چسپ خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ بعض خاکوں کے آغاز میں مناسب اور برمحل اشعار درج کرکے گویا اس خاکے کی پیشانی پر ایک ادبی عنوان ثبت کردیتے ہیں۔
مثلاً سید سلیمان اشرف کے خاکے سے پہلے یہ شعر درج ہے:
«غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویران پہ کیا گزری»
اسی طرح اصغر گونڈوی کے خاکے کے آغاز میں یہ شعر درج ہے:
«انداز ہیں جذب اس میں سب شمعِ شبستان کے
ایک حسن کی دنیا ہے خاکسترِ پروانہ»
یہ اشعار محض زیبِ تحریر نہیں بلکہ خاکے کے مزاج اور شخصیت کے ساتھ ایک خاص معنوی مناسبت رکھتے ہیں۔ یوں شعر خاکے کے لیے ایک طرح کی پیشانی اور تمہید کا کام کرتا ہے۔
ہر خاکے کے آغاز میں مختصر تعارف
اس مجموعے کی ایک قابلِ قدر خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر خاکے کے آغاز میں متعلقہ شخصیت کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اردو ادب کی اصطلاح میں اسے تذکرہ کہا جاسکتا ہے۔
یہ مختصر تعارف اس اعتبار سے بھی مفید ہے کہ اگر کسی قاری کے پاس پورا خاکہ پڑھنے کا وقت نہ ہو تو وہ صرف ابتدائی تعارف پڑھ کر بھی متعلقہ شخصیت کے بنیادی حالات اور تعارف سے واقف ہوسکتا ہے۔ تاہم اصل لطف تو پورے خاکے کے مطالعے ہی میں ہے، جہاں شخصیت کے خارجی حالات کے ساتھ اس کے باطن، مزاج، عادات، خوبیوں، کمزوریوں اور زندگی کے نشیب و فراز سے بھی پردہ اٹھتا ہے۔
حقیقت نگاری اور بے تکلف اظہار
رشید احمد صدیقی کی خاکہ نگاری کا ایک نمایاں وصف حقیقت نگاری ہے۔ وہ محض تعریف و توصیف کے لیے قلم نہیں اٹھاتے، بلکہ جہاں جو حقیقت نظر آتی ہے اسے بڑی بے تکلفی سے بیان کردیتے ہیں۔ ان کے یہاں شخصیت کا خاکہ بناتے وقت نہ غیر ضروری مدح ہے، نہ مصنوعی تعظیم؛ بلکہ شخصیت کو اس کے تمام انسانی اوصاف و احوال کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش ہے۔
قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ خاکہ نگار جس شخصیت کو موضوع بنا رہا ہے، اس کی زندگی کے نشیب و فراز، عادات و اطوار، خوبیوں اور کمزوریوں کو بلا تکلف قرطاس پر منتقل کر رہا ہے۔
مثلاً جگر مرادآبادی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ جگر صاحب جتنے مذہبی آدمی تھے، اتنے ہی اخلاقی بھی؛ اور یہ مقام حاصل کرنا بظاہر جتنا آسان معلوم ہوتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی دشوار ہے۔ (دیکھیے: ص 196)
اسی طرح صفحہ 190 پر جگر صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:
«جگر صاحب وہاں پہنچ گئے جہاں ایک دن ہر متنفس کو پہنچنا ہے جو زندگی کے مرضِ موت میں گرفتار ہے۔»
ایسے اقتباسات اگر مزید نقل کیے جائیں تو یہ تعارف خاصا طویل ہوجائے گا۔ بہتر ہے کہ قارئین خود اس مجموعے کا مطالعہ کریں اور رشید احمد صدیقی کے قلم کی اس بے تکلف حقیقت نگاری سے براہِ راست لطف اندوز ہوں ۔
یہ مجموعہ صرف ادبی ذوق ہی کی تسکین نہیں کرتا بلکہ بعض مقامات پر اس میں ماخذ اور منقول عنہ کے حوالے بھی درج کیے گئے ہیں۔ متعدد خاکوں میں جن مصادر و مراجع سے استفادہ کیا گیا ہے، ان کی نشان دہی بھی ملتی ہے، مثلاً فکر و نظر، علی گڑھ، علی گڑھ میگزین، رسالہ جامعہ، آج کل، آل انڈیا ریڈیو وغیرہ۔ اس سے کتاب کی دستاویزی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
آخر میں میں جناب مولانا عبدالرحمن قاسمی صاحب، نگارشات بک اسٹور دیوبند کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ قیمتی مجموعہ مجھے عنایت فرمایا۔ جب میں نے اس کی قیمت ادا کرنا چاہی تو انہوں نے نہایت محبت، خلوص اور مسکراہٹ کے ساتھ قیمت لینے سے انکار کردیا۔
میں نے سوچا کہ شکریے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ اس گراں قدر مجموعے کا تعارف اہلِ ذوق تک پہنچایا جائے۔ شاید اس تعارف کے ذریعے کچھ قارئین اس کتاب سے متعارف ہوں، اسے حاصل کریں، پڑھیں اور رشید احمد صدیقی کے اس منفرد فنِ خاکہ نگاری سے محظوظ ہوں۔
یہ مجموعہ نئے انداز، عمدہ طباعت، نفیس کاغذ اور خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ شائع ہوکر اہلِ ذوق کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔ امید ہے کہ اردو ادب کے شائقین اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے، اس کے اوراق کی ورق گردانی کریں گے، رشید احمد صدیقی کے ادبی ذوق اور اسلوبِ بیان سے فیض اٹھائیں گے اور اس علمی و ادبی کاوش کے ناشرین کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔
اللہ تعالیٰ جناب مولانا عبدالرحمن قاسمی صاحب کو اس علمی و ادبی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے، نگارشات بک اسٹور دیوبند کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اسے علم و ادب کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنائے اور اس ادارے کو مزید خیر و برکت سے نوازے۔ آمین۔






