سید شہاب الدین

معصوم مرادآبادی

ہندوستانی مسلمانوں کے ایک اہم اور بے باک رہنما سید شہاب الدین نے 4/مارچ2017 کو عین فجر کے وقت داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ پچھلے کافی عرصے سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے لیکن اس کے باوجود ملت کیلئے ا ن کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ وہ پابندی سے دفتر بھی آتے تھے اور ضروری خط وکتابت کا اپنا محبوب کام انجام دیتے تھے۔ راقم نے کوئی 30 برس ان کو بہت قریب سے دیکھا، ان کے درجنوں انٹرویوز لئے اور سیکڑوں ملاقاتیں کیں۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل و مصائب سے شہ رگ کی طرح قریب تھے اور انہیں حل کرنے کی جدوجہد ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ دیگر قائدین کی طرح محض زبانی جمع خرچ اور تقریروں پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ مسائل کو حکومت کے دروازے تک پہنچاتے تھے اور صاحبانِ اقتدار کو ہر سوال کا جواب دینے پر مجبور کرتے تھے۔ انہوں نے انتہائی سرگرم اور بامقصد زندگی بسر کی۔ محنت ِ شاقہ کو اپنا شعار بنایا اور اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔

سید شہاب الدین
سید شہاب الدین

 مسلم قائد کے طورپر سید شہاب الدین کا عروج مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک سے ہوا۔شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہندوستانی مسلمانوں میں ہیجان پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔ یوں تو اس تحریک کی باگ ڈور مسلم پرسنل لا بورڈ کے ہاتھوں میں تھی لیکن سید شہاب الدین اس تحریک کے ایک اہم قائد تھے اور انہیں عوامی اجتماعات میں سننے کیلئے لاکھوں لوگ جمع ہوتے تھے۔ آزادی کے بعد شاید ہی کسی قائد نے مرکزی سطح پر اتنی عوامی مقبولیت حاصل کی ہو۔

سید شہاب الدین کی پیدائش 4نومبر1935کو رانچی میں ہوئی تھی۔ان کی تعلیم پٹنہ کالج میں ہوئی۔انہوں نے آئی ایف ایس آفیسر کے طورپر اپنا کیریر شروع کیا اور کئی ملکوں میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ایمرجنسی کے بعد وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر سیاست میں آگئے۔ کہاجاتا ہے کہ انہیں سیاست میں شامل ہونے کیلئے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے آمادہ کیا تھا حالانکہ سید شہاب الدین نے ہمیشہ اس کی تردید کی۔ مجموعی طورپر ان کا سیاسی سفر کامیاب رہا۔ وہ تین مرتبہ لوک سبھا کے ممبر چنے گئے اور اپنی کارکردگی سے انہوں نے گہری چھاپ چھوڑی۔ ممبرپارلیمنٹ کے طور پر سب سے زیادہ خط وکتابت کرنے والے اور مسائل کو ایوان میں اٹھانے والے شاید وہ اکیلے مسلم لیڈر تھے۔ انہیں سابق وزرائے اعظم، وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کا قرب حاصل رہا لیکن انہوں نے وی پی سنگھ کی سیاست کو کبھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ راقم کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہاتھا کہ”میں وی پی سنگھ کی شرافت کا قائل ہوں، سیاست کا نہیں۔“

جنتاپارٹی کی سرگرم سیاست سے لے کر انصاف پارٹی کے قیام تک انہوں نے سیاست کے میدان میں کئی کھٹے میٹھے تجربات کئے۔ اپنے اصولوں اور نظریات کے معاملے میں وہ بے لچک ثابت ہوئے تھے اور اکثر لوگوں سے ان کی’’ان بن“ ہوجایا کرتی تھی۔ مسلم قائدین میں بہت کم لوگ ان کے خیرخواہ تھے کیونکہ سبھی انہیں اپنے لئے خطرہ تصور کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کا اختتام پارلیمنٹ سے مسلم مطلقہ بل پاس ہونے کی صورت میں ہوا تو لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا لیکن اطمینان کا یہ عرصہ بہت مختصر ثابت ہوا کیونکہ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کے بطن سے ایک ایسے تنازع نے جنم لیا جس نے ہندوستانی سیاست کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ مسلم پرسنل لا کی تحریک ختم ہونے کے بعد ملک میں رام جنم بھومی مکتی آندولن نے رفتار پکڑلی۔ مسلم مطلقہ بل کی منظوری کو جہاں ایک طرف مسلم قیادت نے اپنی بڑی کامیابی تصور کیا، وہیں فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے حکومت پر یہ الزام عائد کیاکہ اس نے مسلم بنیاد پرستوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔

کہاجاتا ہے کہ بابری مسجد کو عام پوجا پاٹ کیلئے کھولنے کا فیصلہ اسی داغ کو دھونے کیلئے کیاگیا تھا۔ بابری مسجد کا تالا کھلتے ہی مسلمانوں میں غم وغصے کی زبردست لہر دوڑ گئی۔ اس غصے کو تھامنے کیلئے لکھنو میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم ہوئی اور اس کے تحت بابری مسجد کی بازیابی کیلئے زبردست تحریک چھیڑ دی گئی۔ دہلی میں اس تحریک کے رہنماؤں میں سلطان صلاح الدین اویسی، شاہی امام سید عبداللہ بخاری، سید شہاب الدین اور جاوید حبیب پیش پیش تھے۔ بعد کو سید شہاب الدین نے بابری مسجد تحریک رابطہ کمیٹی کے نام سے ایک علیحدہ کمیٹی بنائی جس نے تحریک کو مرکزی سطح پر آگے بڑھایا۔اس تحریک کا نقطہ عروج 30مارچ 1987 کو ہونے والا بوٹ کلب مارچ تھا جس میں پانچ لاکھ فرزندان توحید نے حصہ لے کر بابری مسجد کی بازیابی کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ سید شہاب الدین اس مارچ کے اہم منتظمین میں شامل تھے۔ اسی کے اسٹیج پر مسلم قائدین میں اختلافات بھی سامنے آئے اور یہ تحریک باہمی اختلافات کی طرف بڑھی۔

بابری مسجد تحریک میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سید شہاب الدین نے یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ اس اپیل پر مسلم قیادت میں مزید اختلافات ابھر آئے اور سب نے سید شہاب الدین کو یہ کال واپس لینے پر مجبور کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ نیشنل میڈیا نے سید شہاب الدین کی امیج ایک علیحدگی پسند مسلم قائد کے طورپر پیش کی۔ انہیں میڈیا سے دوسرا مورچہ اپنے انگریزی ماہنامے ”مسلم انڈیا“ کے حوالے سے لینا پڑا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ”مسلم انڈیا“ کی اصطلاح’’ہندو انڈیا“ کے تصور کو جنم دیتی ہے، لہٰذا اس میگزین کا نام تبدیل کیاجانا چاہئے لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اس رسالے کے کچھ شمارے اردو میں بھی شائع ہوئے لیکن وہ جلد ہی قارئین کی بے حسی کی نذر ہوگئے۔ خود انگریزی ’مسلم انڈیا‘کا بھی یہی حشر ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ’’مسلم انڈیا“ کی فائلیں آزاد ہندوستان میں مسلم مسائل اور مصائب کا ایک اہم دستاویز ہیں اور جب بھی کوئی آزاد ہندوستان میں مسلم تحریکات اور مسائل پر قلم اٹھائے گا وہ ”مسلم انڈیا“ سے استفادہ کئے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ سید شہاب الدین کو آزاد ہندوستان میں مسلم قائد کے طور پرجو مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی وہ شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوگ انہیں فراموش کرتے چلے گئے۔ یہی ہماری ملت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ آخری زمانے میں ان کی حالت کافی بگڑگئی تھی لیکن انہوں نے اپنے ہوش وحواس کی برقراری تک خود کو ملت کیلئے وقف رکھا اور اسی جدوجہد میں جان ہاردی۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply