اساسی روح کی ترجیح
بقلم: معاذ حیدر
اسلام میں غیرت، مروت، فراست اور حمیت کی حیثیت اساسی ہے، احکام کی بجا آوری، حقوق کی ادائے گی، نظام کی درستگی اور دارین کی سرخروئی اوصافِ بالا پر موقوف ہے، "عروج” کے جملہ اسباب میں ان کا شمار ہوتا ہے، اتحاد، یک جہتی، وسعتِ ظرفی اور کشادہ ذہنی کی تعلیم دی گئ ہے، وقتی مصلحتوں کے پیشِ نظر انھیں برتا بھی گیا ہے؛ لیکن اس کو ایسی "کلی” کی حیثیت نہیں دی گئ ہے جس کے سامنے "ضروریاتِ دین” ضمنی بن جائیں، "وطنیت” اس خطے کی ضرورت سمجھی گئ ہے، "فکری تحفظ” کو اس کی وجہ سے طاق پہ رکھ دینا زیادتی ہے، ہمیں تو ہر ایسے موقع سے بچنے کی تاکید کی گئ ہے جن سے عقائد متاثر ہوں۔

مودت، محبت اور یگانگت کی تعریف میں یہ پہلو شامل نہیں ہے جس سے اسلامی تمدن پر ضرب لگے، "محرف مساوات” کے لحاظ میں مذہب کی ادنی باتوں سے بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، اس کا تصور بھی ہمارے لیے "خمر” اور "میسر” سے زیادہ مضر اور مہلک ہے۔
اسلام کی ایک روح ہے، یہ مکمل اور منظم مذہب ہے، عملی روح کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، یہ کوئی معاہدۂ دیوانی نہیں ہے، جس میں مذہب کی بنیادوں سے منحرف باتوں کو اسلامی اصطلاحات کے ضمن میں شامل کرنے کی گنجائش ہو۔
عقائدِ شرکیہ کو سرایت کرنے والی نزدیکیوں سے دوریاں بہتر ہیں، اسلامی تمدن کو حقیر باور کرانے والی ملاقاتوں سے بے رخی عزیز ہے، حق و باطل کے مابین خطِ امتیاز ختم کرنے والی نشستوں سے عدمِ موجودگی لازمی ہے۔
برقی مواقع میں نشر شدہ مقتدا حلقوں کی باتوں اور ملاقاتوں کو دلیل بنا کر چند نعروں کو حدود اور قیود سے بالاتر تصور کیا جارہا ہے، حدود کی یاد دہانی کو "سنیت” کی تنگ دامانی گردانی جارہی ہے۔
برقی مشاہدات سے پیدا ہونے والی فکر کو "نیم سمجھ دار طبقہ” اپنی معراج سمجھ رہا ہے، تحقیق سے بالاتر تصور کررہا ہے، بل کہ اسی کو تحقیق کا نام دے رہا ہے، جب کہ مقابل جماعتیں اپنی روح کو باقی رکھنے میں کوشاں ہیں، اساسی باتوں کو زباں زد کرانے کی ترکیبیں استعمال کر رہی ہیں، اپنے حلقے کے تحفظ کی خاطر ہمارے حرم میں خوشنما ادوات کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
اس دیار کی بے شمار کلمہ گو آبادی ذہنی، فکری اور عملی ردت سے متاثر ہے، یہ حضرات عارضی راحت رسانی کے اسباب کی قیمت دائمی راحت رسانی کے اسباب سے ادا کررہے ہیں، مروجہ دعوتی الیاسی ترتیب کے تحت ہمارے چند ساتھیوں نے راجستان کے مضافات میں قیام کیا، ان سے وہاں کے حالات کو سن کر میں بے قرار ہوگیا، ان کے سفر نامے نے ذہن ودماغ کا رخ بدل دیا۔
وہاں کے "ناگلی” گاؤں کا حصہ کلمہ گو حضرات پر ہی مشتمل ہے، رونے کی بات یہ کہ اس میں واقع "مندر” ان ہی سے آباد تھی، "موتی پورا” گاؤں کے سن رسیدہ حضرات پر کرم فرماؤں نے خوب محنتیں کی ہیں، گھروں میں مورتیاں رکھی ہیں، دریافت کرنے پر بتلایا کہ "اس کے رکھنے پر ہمیں پیسے ملتے ہیں”






