حضرت مولانا عبداللّٰہ مغیثی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت کا بڑا خسارہ: امیر شریعت

(پریس ریلیز: 4/اپریل 2026 ء)

امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہِ رحمانی مونگیر نے حضرت مولانا عبداللہ مغیثی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔

حضرت مولانا عبداللّٰہ مغیثی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت کا بڑا خسارہ: امیر شریعت
حضرت مولانا عبداللّٰہ مغیثی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت کا بڑا خسارہ: امیر شریعت

اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے فرمایا کہ مولانا عبداللہ مغیثی رحمہ اللہ ایک جید عالمِ دین، باکمال مربی، بہترین منتظم اور ملت کے مخلص قائد تھے، جن کی پوری زندگی علم و عمل، اخلاص اور دینِ اسلام کی خدمت سے عبارت تھی۔ آپ جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ، ضلع میرٹھ کے مہتمم تھے اور علم کے فروغ، مدارس و مکاتب کے قیام اور اصلاحِ معاشرہ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا مرحوم، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ و مجاز تھے اور اکابرین کے علمی و روحانی فیوض کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد ایک روشن باب ہے، جس کے اعتراف میں انہیں آئی او ایس کی جانب سے نویں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

امیرِ شریعت نے فرمایا کہ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا پر کرنا بہت مشکل ہوگا ، ان کا انتقال ملت کا بڑا خسارہ ہے اور ان کی علمی و دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرحوم کا خانقاہ رحمانی مونگیر اور امارتِ شرعیہ سے گہرا تعلق تھا، اور ان کے انتقال سے انہیں ذاتی طور پر بھی بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ اللہ تعالی حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے۔

حضرت امیر شریعت نے مولانا کے اہل خانہ، عزیز و اقارب، تلامذہ، معتقدین اور جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کے تمام متعلقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق دے اور ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔

Leave a Reply