قربانی کے جانور اور وہی پرانے مسائل
تکلف برطرف : سعید حمید
قربانی کے جانور نہیں؛ قربانی کا جذبہ اہم ہے ۔
یہ سادہ فلسفہ اگر مسلمان سمجھ لیں ، اور سال کے بقیہ ایام اور مہینوں میں اسے اپنا لیں ، تو قوم و سماج میں انقلاب پیدا ہو سکتا ہے ۔

عید الاضحی کوئی فوڈ فیسٹیول نہیں ہے ، یہ جانوروں کی نمائش، خرید و فروخت کا بھی تہوار نہیں ہے ۔
یہ ایک تر بیت ہے ، قربانی کا جذبہ اپنی روز مرہ کی زندگی اور معمولات میں پیدا کرنے اور اپنانے کی سالانہ تربیت ۔
اور اگر قر بانی کا جذبہ مسلمانوں کی عام و روز مرہ کی زندگی میں عادت بن کر شامل ہو گیا ،
تو پھر ایسی قوم ہی دنیا میں انقلاب لا سکتی ہے ۔
ساری انسانیت کو راستہ دکھا سکتی ہے ۔
افسوس کہ ہم عیدالاضحی کو ایک رسمی تہوار ہی بنا چکے ہیں ۔اسلئے ، قربانی کا جذبہ بیدار نہیں ہو پاتا ہے ۔
یہ منظر ہم نماز عید کے فورا ً بعد ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
اپنا اپنا جانور سب سے پہلے ذبح ہو جائے ، اس کی کیسی حریفائی ہوتی ہے ؟ کہ آپس میں جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں۔
اگر کسی سوسائٹی میںاجتماعی طور پر قربانی کا نظم ہے ،
اور قصاب کی مختصر ٹیم آئی ہے ،
تو با اثر افراد کوشش کرتے ہیں کہ پہلے ان کے جانور کی قربانی ہوجائے ، بوٹی بن جائے ، سب کچھ سب سےپہلے پہنچ جائے ، پھر دوسروں کا نمبر آئے ۔اور پھر بوٹی ، گوشت کی تقسیم میں بھی خود غرضی ؟ فریج میں اچھا اچھا مال ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا جاتا ہے ،
کہ مہینہ بھر تک گھر کے کام آئے ۔
قربانی کا جذبہ کہاں بیدار ہوا ؟ اسلئے ضروری ہے ، کہ ا س موقعہ کو قربانی کا جذبہ بیدار کرنےکیلئے استعمال کیا جائے ۔
قربانی کا جذبہ پیدا ہو گا ، تب ہی مسلمانوں میں آپسی محبت پیدا ہوگی ، بھائی چارہ بڑھے گا ۔
ورنہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی جھگڑوں کی نوبت آجاتی ہے کہ میں نے یہاں اپنی اسکوٹر پارک کی تھی ، تو نے یہاں کیوں
اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر دی ؟
عیدالاضحی کو صرف رسمی تہوار نہیں بنائیں ، قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کی ٹریننگ سمجھ لیں ، کہ اللہ کو پیاری ہے قربانی ۔
یعنی قربانی کا جذبہ !!!
ایک اور مسئلہ امسال بھی قربانی کرنے والے مسلمانوں کی توجہ چاہتا ہے ۔
مدارس کیلئے جو کروڑوں روپوں کی مدد چرم قربانی کے عطیات سے ہوا کرتی تھی ، وہ راستہ امسال بھی شائد بند ہی رہے گا ،
اس بات کا اندیشہ برقرار ہے ۔
لیکن ، دینی مدارس ، جنہیں عام طور پر دین کے قلعہ بھی کہا جاتا ہے ، ان کے سالانہ بجٹ کا کیا ہوگا ؟
ایک زمانہ کی آمدنی ، جو اب خسارہ بن چکی ہے ،
یعنی ، کھالیں اکٹھا کرنے کے بھی اخراجات ان کی فروخت سے حاصل نہیں ہوتے ہیں ، تو پھر مدارس کی سالانہ آمدنی میں
صرف ایک ممبئی شہر سے تقریباً پانچ کروڑ روپوں کی ہر سال جو کمی در پیش ہو رہی ہے ،
اس کا متبادل کیا ہونا چاہئے ؟
اس پر غور ضروری ہے ۔
مدارس کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے ؟
دینی مدارس اس ملک کی پسماندہ کمیونٹی سمجھی جانے والی مسلم قوم کے بھی انتہائی پسماندہ ترین ،
غریب ترین سمجھے جانے والے طبقات میں تعلیم و تربیت کا انتظام و اہتمام کرتے ہیں ۔
اس طرح وہ سرکاری ــــ ـ’’ سرو شکشا ابھیان ‘‘کے نفاذ کی غیر منظور شدہ اہم ایجنسیاں یا ادارے بھی ہیں۔
کیونکہ ، بہر حال وہ تعلیم کو عام کرنے کا کام ہی کر رہے ہیں ۔
ان مدارس کا مسلم قوم کی شرح خواندگی LITERACY – RATE میں اضافہ کرنے میں بھی بڑا اہم کردار ہے ۔
کہ وہ جنہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا ،انہیںلکھنا پڑھنا سکھا رہے ہیں ۔
یہ مدارس چونکہ انتہائی غریب گھرانوں کے طلبا ءکو تعلیم معہ رہائش و کھانے کی بھی مفت سہولت
فراہم کرتے ہیں ، اس طرح وہ ان مسلمان گھرانوں کے بچوں کو جہاں بمشکل دو وقت چولہا جلتا ہے ،
بال مزدوری CHILD – LABOUR
سے بھی بچا لیتے ہیں ، ورنہ ممکن ہے کہ یہ بچے کسی کارخانہ ، دوکان ، ہوٹل ،میں اپنا بچپن گنو ا بیٹھتے ۔
اگر اس ملک میں اردو زبان زندہ ہے ،
تو اس کی ایک وجہ دینی مدارس بھی ہیں جنہیں اردو کا بھی مضبوط قلعہ کہا جاسکتا ہے ۔
اسلئے ۔
ایسے زمانہ میں جبکہ مہنگائی ہر سال بڑھ رہی ہے ، چرم قربانی کے گرتے بازار کی وجہ سے دینی مدارس کی آمدنی مسلسل گھٹ رہی ہے ،
تو پھر کیا کیا جائے؟
کچھ متبادل ذرائع آمدنی پر بھی غور کیا جائے !!!
مثلا ً اگر کھال ، یا چمڑہ کا مارکیٹ مندہ ہو گیا ہے ، تو کاروباری ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں ذبح کئے جانے والے
جانوروں کے خون ، انتڑیوں ( جنہیں اوجڑی کہا جاتا ہے )،ہڈی ، اور چربی سے بھی کافی آمدنی ہوتی ہے ۔
کیا قربانی کے جانوروں کا خون محفوظ کیا جاسکتا ہے ؟اس طرح قربانی کی جاسکتی ہے ، کہ خون بھی اکٹھا کیا جاسکے ؟
کیا انتڑیوں ( اوجڑی) کو جس طرح کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے ،
ان کی صاف صفائی کا انتظام کرکے انہیںبھی آمدنی کا ایک ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا ؟
کہا جاتا ہے کہ ان انتڑیوں کے دھاگہ بنتے ہیں ،
اور ان کا ایکسپورٹ گوشت سے بھی مہنگے داموں میں چین ، ویت نام اور مشرق بعید کے ممالک میں ہوتا ہے ، اور یہ ایکسپورٹ آمدنی
کا بہت بڑا ذریعہ ہے ، جسے مسلمان قربانی کے موقعپر ضائع کر رہے ہیں ۔
کیا ان کو مدارس کی آمدنی کا نیا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا ؟
قربانی کے جانور کافی فربہ ہوتے ہیں ، ان میں بہت چربی بھی نکلتی ہے ،بہت سے لوگ اسے بھی ضائع کردیتے ہیں ۔
اس چربی کو کیا آمدنی کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ؟
اس طرح کی متبادل آمدنی پر غور کرنے کیلئے ان شعبوں کے ماہرین کی کانفرنس طلب کی جانی چاہئے ۔
اگر ۔چرم قربانی کا نیا متبادل فراہم ہو سکے تو اس کے ذریعہ دینی مدارس کی گھٹ جانے والی
آمدنی کو بحال کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔
اگر ۔
یہ ممکن نہ ہو ، تو پھر قربانی کرنے والا ہر مسلمان فی بکرا دینی مدارس کو بھی دو یا تین سو روپئے عطیہ بھی اپنا دینی فریضہ سمجھ کر اداکردے ،
تو اس سے بھی دینی مدارس کی کفالت بغیر چرم قربانی یا کھالیں اکٹھا کئے بھی ، ہو سکتی ہیں ۔
ہزاروں روپئے کا قربانی کا بکرا خریدنے والے مسلمان قربانی کی کھالوں کو باعزت طریقہ سے ٹھکانے لگانے
کے عنوان سے ہی مدارس کے کارکنان کو فی کھال دو تین سو روپئے عطیہ دے دیں تو اس سے بھی مدارس کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا
اور یہ عطیہ قربانی کے جذبہ کی ہی ایک علامت ہوگا ۔
ایک مسئلہ ، ہر سال زور پکڑتا جاتا ہے ، وہ ہے نام نہاد گئو رکشا دلوں ، بجرنگ دلوں اور جانوروں کی حمایت کا دعوی کرنے والوں کا جو قربانی کے جانوروں کے ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ، اور سب سمجھتے ہیں کہ یہ ہفتہ وصولی کے ہی ہتھکنڈے ہیں اور اس بات میں انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی گنینگز کے ساتھ کہیں نا کہیں پولس بھی ملی ہوئی ہوا کرتی ہے !!
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، اور قوم اچانک قربانی کے جانوروں کے ٹرانسپورٹ پر ہی جاگ اٹھتی ہے ، قائدین بیدار ہو جاتے ہیں اور جسے دیکھو وہ وزراء کے پاس جاتا ہے ، کمشنروں ، افسروں سے ملتا ہے ، ایک میمورنڈم دیتا ہے اور میڈیا ، سوشل میڈیا میں تصویر چھپواتا ہے ، گویا یہ بھی ایک سالانہ رسم ہے ، جو یوں ہی نبھائی جا رہی ہے ۔
رسمی طور پر ، رسمی انداز میں۔
اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے ، خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ ٹرک روک دیا ، فلاں جگہ ڈرائیور کو مارا ، فلاں جگہ جانور چھین لیا ، اور ان ساری خبروں سے جہاں ایک طرف ماحول خراب ہوتا ہے ، مسلم نوجوانوں میں غصہ کی لہر دوڑتی ہے ، اور مایوسی بھی ۔
وہیں ، ممبئی شہر اور اطراف میںقربانی کے جانوروں کے دام بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
یعنی ، سارے حالات کا جرمانہ قربانی کرنے والے مسلمانوں کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے ۔
ہر سال قربانی کے وہی بار بار اٹھنے ، ابھرنے والے مسائل اور اس کے رد عمل میں وہی گھسی پٹی سرگرمیاں لیکن نتیجہ میں ہر سال قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافہ دراصل مجموعی مسلم قیادت کی ناکامی ہے ،
گویا اس قوم کا کوئی لیڈر ، رہبر ہی نہیں ۔۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ایسا ہی ہوگا ،
اس لئے گذشتہ سال کی بہ نسبت امسال بھی بکرے مہنگے ملیں گے ، کیونکہ قوم کو بکرا بنانے والے سبھی مفاد پرست عناصر اس موقعہ کا اپنے اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرنا اچھی طرح جانتے ہیں ، اور وہ بڑے تجربہ کار بن چکے ہیں !!






