پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی
جب کسی ملزم کو پولیس پکڑتی ہے تو جرم قبول کرانے کے لیے تشدد اور بربریت کی ساری حدیں پار کر جاتی ہے، عدالت جب کسی ملزم کو پولیس ریمانڈ میں دیتی ہے تو وہ ظلم و ستم کی وجہ سے "ادھمروا” ہو جاتا ہے، اندرونی اعضا پر اس ظلم و ستم کے جواثرات ہوتے ہیں وہ تو ہوتے ہی ہیں، ظاہری طور پر بھی وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا، اس ظلم و بربریت کے نتیجے میں ملزم کی جان بھی چلی جائے تو کوئی داروگیر نہیں ہوتا، نہ کوئی سزا ملتی ہے، اس وجہ سے پولیس والے بے خوف ہوکر بربریت کی انتہا کر دیتے ہیں اور جان چلی جانے پر ان کا اِنکاؤنٹر دکھا دیتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ملزم کو گولیوں سے چھلنی کرنے سے باز نہیں آتے۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اپریل 2026ء میں مدورائی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے نو (9) پولیس کو ملزم پر تشدد اور اس کے نتیجے میں دو ملزم کی موت پر سزاۓ موت سنائی ہے، جج جی متھو کمارن نے اس مقدمہ کو عدیم المثال قرار دیا اور سزا بھی وہ سنائی جو پہلے کبھی کسی عدالت نے نہیں سنائی تھی۔
معاملہ انسٹھ (59) سال کے جے راج اور ان کے اکتیس سالہ لڑکے بَینکس کا ہے، یہ دونوں تمل ناڈو کے تھوتھوکوڈی ضلع کے ستناکولم میں موبائل کی ایک چھوٹی سی دوکان چلاتے تھے، جون 2020ء میں پولیس نے ان دونوں کو کرونا کے دور میں متعینہ وقت سے کچھ دیر تک دوکان کھلی رکھنے پر پکڑ لیا، جیل میں تیسرے دن بَینکس نے خون کے اندرونی بہاؤ کی وجہ سے دم توڑ دیا، کچھ گھنٹے بعد ہی بیٹے کے غم اور پھیپھڑا پھٹ جانے کی وجہ سے جے راج بھی چل بسا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس نے تھانے میں بربریت کی حد کر دی، ان کے پیچھے کے راستے میں لاٹھی ڈالی، جے راج کے سینے کو بھاری بھاری بوٹوں سے کئی بار کچلا، ان کی چمڑی ادھیڑ دی، پیر کی انگلیاں توڑ ڈالیں، تھانے کے باہر بھیڑ کے شور مچانے اور بعض پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی ظلم جاری رکھا گیا اور داروغہ لوگوں کو دھمکاتا رہا، ملزموں کی چیخ کم ہوتی تو وہ اور تیزی سے مارنے کا حکم دیتا۔
پولیس والے بھی سب یکساں نہیں ہوتے، چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل آر ریواتی نے سی بی آئی کے سامنے چشم دید گواہ کے طور پر اپنا بیان درج کرایا، وہ ڈری ضرور تھی، مگر مکری نہیں، اس طرح انصاف کے لیے چھے سالہ سفر کا آغاز ہوا، سی بی آئی جانچ، ایک خاتون پولیس اور جج نے مل کر اس مقدمہ کو انجام تک پہنچایا اور نو (9) پولیس کو اس جرم میں سزاۓ موت سنا کر دم لیا، حالاں کہ انہیں اثر ورسوخ والے پولیس نیٹ ورک سے برابر دھمکیاں ملتی رہیں۔
میرا خیال ہے کہ مقدمہ کی یہ کاروائی ابھی پورے طور پر مکمل نہیں ہوئی ہے، اس لیے کہ اس جرم کو چھپانے اور دبانے والوں پر بھی داروگیر ہونی چاہیے، ان میں ستناکولم سرکاری اسپتال کے میڈیکل افسر ڈاکٹر این ویتلا بھی ہیں، جن کا فرض زخموں کا اندراج کرنا تھا، لیکن انہوں نے بیس سے زیادہ زخم جسم پر موجود ہونے کے باوجود باپ، بیٹے کو جیل بھیجنے کے لیے "فٹ” قرار دیا، مجسٹریٹ ڈی سرون کی ذمہ داری تھی کہ وہ بتاتے کہ حراست میں ملزم کے ساتھ مار پٹائی تو نہیں ہوئی، انہوں نے پندرہ فٹ دور سے دونوں کو دیکھا اور پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا، کوولپتی جیل کے جیلروں نے بغیر اسکینگ کے دونوں کو رکھ لیا اور دونوں تک انہیں تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھا، ڈاکٹر، مجسٹریٹ اور جیلر تینوں ان کی موت کے ذمہ دار ہیں، لیکن فیصلہ میں ان پر کوئی خاص داروگیر نہیں ہوئی ہے۔
سترہ (17) ریاستوں کے آٹھ ہزار سے زیادہ پولیس والوں کی سروے رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2017 سے 2022 کے درمیان پولیس حراست میں تین سو سے زائد لوگ موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں، صورت حال یہ بھی ہے کہ 300 سے زائد عدالتی جانچ میں صرف ایک تہائی معاملات میں گرفتاری عمل میں آئی، اسی (80) سے کم معاملوں میں چارج شیٹ داخل ہوئی اور ایک میں بھی سزا نہیں ہوئی۔
ضرورت اس صورت حال کو بدلنے کی ہے، تشدد کے خلاف، حقوق انسانی پریشد اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت نے دستخط کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آتا، موجودہ پولیس قانون اور جرائم کی تحقیق کے معاملہ میں ترمیمات کے باوجود بربریت اور تشدد کو پورے طور پر روکنے کا اس میں صاف ذکر نہیں ہے، اس لیے "نیت اور نیتی” دونوں میں صفائی لائے بغیر اس کام کو روکا نہیں جا سکتا، پولیس تشدد کے خلاف داروگیر کا یہ رجحان چل پڑا تو تشدد میں کمی آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔






