نحوِ میر اردو

تالیف: علامہ میر سید شریف ابو الحسن علی بن محمد رحمہ اللہ

ترجمہ: مولانا محمد سعید اللہ قاسمی

ناشر: مکتبہ سبحان، دیوبند

تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی، مدرس دارالعلوم دیوبند

مدارسِ اسلامیہ میں دو طرح کے علوم پڑھائے جاتے ہیں: علومِ عالیہ اور علومِ آلیہ۔

علومِ آلیہ میں نحو، صرف، بلاغت، منطق، اور فلسفہ جیسے فنون شامل ہیں۔ ہر فن کی ابتدائی کتاب اگر طالب علم کی مادری زبان میں ہو تو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور یاد کرنے میں سہولت رہتی ہے۔

نحوِ میر اردو
نحوِ میر اردو

جب فارسی زبان کا زمانہ تھا، اس وقت ابتدائی درسی کتابیں فارسی میں لکھی جاتی تھیں تاکہ طلبہ اُنہیں بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ اسی مقصد کے تحت علامہ سید شریف جرجانی رحمہ اللہ نے خلوصِ نیت کے ساتھ "نحو میر” تصنیف فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اپنی بارگاہ میں غیر معمولی قبولیت عطا فرمائی، یہاں تک کہ آٹھ صدیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ کتاب آج بھی نصاب میں شامل ہے۔

علامہ کی دیگر تصانیف — جیسے صرفِ میر، صغری، کبری، اور میر قطبی — بھی طویل عرصہ تک نصاب میں رہیں اور اہلِ علم کے مابین علمی مقام رکھتی رہیں۔

"نحو میر” نے بے شمار علماءِ کرام کو علمِ نحو کی مضبوط بنیاد فراہم کی۔ آج بھی یہ کتاب مدارسِ اسلامیہ میں فارسی زبان میں پڑھائی جاتی ہے۔ البتہ فارسی زبان کے رواج کے ختم ہونے کے بعد متعدد اہلِ علم نے اس کا اردو ترجمہ یا متبادل کتابیں تیار کیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی کتاب "نحو میر” کا حقیقی بدل ثابت نہ ہو سکی۔

موجودہ تدریسی طریقہ یہ ہے کہ استاد فارسی عبارت کا ترجمہ کراتے ہیں، طلبہ اُسے یاد کرتے ہیں اور پھر مشق و تمرین کے ذریعے قواعد پر عمل کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے اس پر حواشی یا اضافے بھی لکھے، مگر وہ عموماً طوالت یا ثقالت کی وجہ سے طلبہ کے لیے بوجھ بن گئے۔

ان حالات میں مولانا محمد سعید اللہ قاسمی صاحب نے "نحو میر” کا جو خالص اردو ترجمہ پیش کیا ہے، وہ اپنی سلاست، صفائی، اور علمی پختگی کے اعتبار سے قابلِ ستائش ہے۔ اُن کی زبان نہایت شستہ، رواں اور عام فہم ہے۔ یقیناً یہ ترجمہ طلبہ کے لیے یاد کرنے اور سمجھنے دونوں لحاظ سے سہل و مفید ثابت ہوگا۔

نحوِ میر اردو
نحوِ میر اردو

مجھے یہ کتاب دیکھ کر خوشی ہوئی۔ امید ہے کہ یہ علمی خدمت "نحو میر” کی افادیت میں اضافہ کرے گی، اور امت کے نوخیز طلبہ اس سے استفادہ کرکے علمِ نحو میں مہارت و کمال حاصل کریں گے۔

اللہ تعالیٰ مترجم کی اس مخلصانہ کاوش کو قبول فرمائے اور اسے علم و تعلیم کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply