اوقات کی منصوبہ بندی
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
عربی کا مشہور مقولہ ہے ”الوقت اثمن من الذھب“ وقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے، کیوں کہ ”گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں“ جب کہ سونا ضائع ہوجائے تو دوبارہ اس کے خریدنے کے امکانات باقی رہتے ہیں، اسی لیے حکماء اور دانشوروں نے وقت کی قدر وقیمت کے سمجھنے، نظام الاوقات بنانے، وقت کی منصوبہ بندی کرنے اور کاموں کے روٹین کے مطابق انجام دینے پر بڑا زور دیا ہے، نظام الاوقات کی پابندی اور وقت کی منصوبہ بندی سے کاموں کی انجام دہی میں سہولت، نفسیاتی دباؤ سے نجات اور وقت کی بچت ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ان امور کی بہت اہمیت، افادیت اور ضرورت ہے، آج کا دور گلوبل ایج کہلاتا ہے اور یہاں کام صرف محنت سے نہیں اوقات کی منصوبہ بندی سے صحیح طورپر انجام پاتا ہے، آپ نے اگر وقت کو کھودیا تو وقت بھی آپ کو کھو دے گا، کیوں کہ اس مسابقتی دوڑ میں آپ کے پچھڑ جانے کا مطلب، بھیڑ میں آپ کا کھو جانا ہوتا ہے۔

اوقات کی منصوبہ بندی سے آپ کے حوالہ جو دفتری کام ہے، وہ وقت پر پورا ہوتا ہے، کام مؤخر نہیں ہوتا، وقت پر کام نہیں نمٹانے سے بعد میں جلدی جلدی مکمل کرنا ہوتا ہے اور عجلت میں کام کا معیار گر جاتا ہے یاآدھا ادھورا کام ہی ہوپاتا ہے، ہم دماغی طورپر بھی اپنے سر سے بوجھ اتاردینے کو ضروری سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے دماغ کی تخلیقی صلاحیت کا جنازہ نکل جاتا ہے، آپ کے ذہن میں جو نئے نئے آئیڈیاز آنے چاہیے، اس کا دروازہ بند ہوجاتا ہے، اس کی وجہ سے ہمارا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور پیشہ وارانہ شخصیت معدوم اور ختم ہوجاتی ہے۔
اس صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے صبح نماز وغیرہ سے فراغت کے بعد دن بھر کے ضروری کاموں کی فہرست بنالیں، صرف ذہن پر اعتماد نہ کریں، اس کو نوٹ کی شکل میں تحریری طورپر محفوظ کرلیں اور اپنی میز یاکسی متعین جگہ پر اس طرح رکھیں کہ اس پر آپ کی نگاہ پڑتی رہے، تاکہ ضروری کام بروقت انجام پاجائیں، کاموں کی فہرست سازی کرتے وقت ترجیحات کو سامنے رکھیں، جو کام ”ٹائم باؤنڈ“ ہو اسے پہلے نمٹائیں، ہر کام کے لیے وقت کی تعیین منٹ درمنٹ کریں، یعنی کتنی دیر سوشل میڈیا کو دینا ہے، خطوط ای میل کرنے ہیں، کون کام کس وقت تک مکمل ہوجانا چاہیے۔
بڑوں نے کہا ہے کہ ایک وقت میں ایک کام ہی کرنا چاہیے، لکھ بھی رہے ہیں، فون پر بات بھی کررہے ہیں، مجلس میں بیٹھے لوگوں پر بھی توجہ دے رہے ہیں، تو کوئی کام درست انداز میں نہیں ہوگا اور ہر ایک کو شکایت ہوگی، اس لیے ایک وقت میں ایک ہی کام کیجیے، بسا اوقات آپ کو سابقہ پڑا ہوگا کہ فون تو کسی نے آپ کو لگایا اور وہ بات دوسرے سے کیے جارہا ہے، ایسے میں سامنے والے کو بڑی وحشت ہوتی ہے، اس طرح کام کرنے سے آپ تک وہ باتیں بھی فون پر پہونچ جاتی ہیں، جو اگلا آپ تک نہیں پہونچانا چاہتا تھا، جب تک آپ کو ہوش آتا ہے، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
روزانہ تھوڑا وقت اپنی منصوبہ بندی کے جائزہ پر بھی صرف کریں کہ آپ نے کتنا وقت نظام الاوقات کے مطابق گذارا اور کتنا وقت خوش گپیوں، مجلسی گفتگو، لوگوں پر لعن طعن کرنے، غیبت اور دوسرے منکرات میں گذرا، یہ بھی دیکھیں کہ کون کام مکمل کرنا باقی رہ گیا، اس جائزہ میں اپنی ترجیحات کو بھی سامنے رکھیں، ترجیحات طے نہ ہوں تو ہر دن ایک کام آپ شروع کرلیں گے،جو وقتی ہوگا اور ہر دن اسے پینڈنگ میں ڈالتے رہیں گے، دھیرے دھیرے آپ کی میز فائلوں، منصوبوں اور پلاننگ کی قبرگاہ بن جائے گی اور آپ کا ذہنی سکون غارت ہوجائے گا، آپ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جائیں گے اور آپ نفسیاتی طورپر اذیت کے شکار ہوں گے۔
جو نظام الاوقات بنائیں اس میں خود اپنی ذات اور اہل وعیال، والدین کے لیے بھی وقت مختص کریں، کیونکہ انسان پیالہ وساغر نہیں ہے کہ روزمرہ کے روٹین ورک سے گھبرا نہ جائے، غالب نے کہا ہے ؎
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ وساغر نہیں ہوں میں
بال، بچے، والدین کے ساتھ جو وقت آپ کا گذرے گا وہ دوسرے دن آپ کو کام کے لیے تیار کرے گا، اگلے دن ذہنی طورپر آپ پُرسکون ہوں گے اور آپ کے لیے ممکن ہوگا کہ اس دن کو اچھی طرح منصوبہ کے مطابق اپنے کام میں لگاسکیں،اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی خانگی زندگی محفوظ رہے گی، گھر کا سکون بڑی قیمتی چیز ہے، اسے کاموں اور فائلوں کی بھیڑ میں ضائع نہ کریں، آپ کے والدین گھریلو معاملات میں آپ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں، انہیں وقت دیجیے،بیوی بھی آپ سے کچھ چاہتی ہے اس کی خواہشیں آرزوئیں اور مستقبل کے خواب ہیں وہ اس میں آپ کو شریک کرنا چاہتی ہے، وہ صرف آپ کی خدمت کی مشین اور روبوٹ نہیں ہے، وہ جیتی جاگتی انسان ہے، اس کے کچھ تقاضے ہیں آپ اگر اس کے لیے وقت نہیں نکالیں گے اور مشغولیت کہہ کر پلہ جھاڑ لیں گے تو آپ کی گھریلو زندگی متأثر ہوگی، آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے آپ سے پیار کے طالب ہیں ان کو وقت دیجیے، ان کو وقت دینا ان کی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے،ان کو گود لینا،چمکارنا، دلار کرنا بھی ایک کام ہی ہے، اس لیے ان کو نظر انداز مت کیجئے،وہ ملک و ملت کے مستقبل ہیں۔
نظام الاوقات کے مطابق کام کرنے سے آپ کو وقت کی کمی کا شکوہ کبھی نہیں ہوگا، آپ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ وقت میں برکت نہیں ہے، صبح سویرے فجر کے وقت اٹھیے، نمازوں سے فارغ ہویئے، اذکار کیجیے اور کام میں لگ جایئے، آپ محسوس کریں گے کہ دفتر جانے سے قبل بھی آپ کے پاس بہت وقت ہے، ہمارے یہاں وقت کی کمی کا شکوہ اس لیے ہوتا ہے کہ دانشوروں کا بڑا طبقہ صبح دیر سے اٹھتا ہے اور ہم مفتی، اورعلماء، فجر کے بعد پھر سے سو جاتے ہیں، دفتر کے وقت اٹھتے ہیں، جلدی جلدی ضروریات پوری کرتے ہیں اور دفتر حاضر ہوجاتے ہیں، چار گھنٹے کم وبیش ہم دن کے اس طرح خرچ کر چکے ہوتے ہیں، اس عمل کا صحت پر کیا اثر ہوتا ہے یہ تو اطباء بتائیں گے، لیکن میں نے حکیم عبد الحمید مرحوم کے مزار کا کتبہ پڑھا ہے، جس پر لکھا ہوا ہے کہ ”جب سے شعور کی آنکھیں کھلیں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سورج نکل گیا ہو اور میں سویا رہا ہوں“ اس کا اثر بھی اسی کتبہ پر ہے کہ ”پوری زندگی بیمار نہیں ہوا، ایک بار سر میں ہلکی گرانی ہوئی تھی، دو منٹ سر جھکا کر آنکھیں بند کرلیں تو یہ گرانی بھی جاتی رہی“، باقی مرنا سب کو ہے، حکیم صاحب بھی چلے گیے۔
ابھی رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اس کے اوقات ہر اعتبار سے قیمتی ہیں اس کے لیے منصوبہ بندی کیجئے،کس وقت سو جانا ہے، کس وقت تلاوت کرنی ہے، کس وقت فرض نماز باجماعت ادا کرنی ہے، نوافل اور تہجد کے اہتمام کے لیے کس وقت کو فارغ رکھنا ہے، فجر کی نماز پڑھ کر سو جانا ہے یا اشراق تک اوراد و وظائف میں لگے رہنا ہے، دفتری اور روزمرہ کے معمولات کے ساتھ اس کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو رمضان گزر جائے گا، ہم روزوں سے رہیں گے؛ لیکن روز مرہ کی زندگی روز کی طرح ہی رہے گی،ایسے میں رمضان کا پورا فائدہ ہم نہیں اٹھا سکیں گے۔
وقت کی منصوبہ بندی کو جو چیز ہمارے عہد میں ناکام کر رہی ہے وہ رات کو دیر تک سوشل میڈیا کا استعمال ہے، نہ وقت پر آدمی سورہا ہے اور نہ ہی وقت پر جاگ رہا ہے ایسے میں قلت وقت کا شکوہ تو رہے گا، کام یاتو پینڈنگ میں رہے گا یاآدھا ادھورا غیر معیاری انداز میں مکمل ہوگا، کیا اس کے لیے کسی دلیل اور شواہد کی ضرورت ہے، یہ تو روز کا مشاہدہ ہے،اس لئے وقت کی قدر کیجئے،کامیابی ہر محاذ پر آپ کے قدم چو مے گی۔






