نسیم عارفی کا صحافتی ورثہ
معصوم مرادآبادی
نسیم عارفی حیدرآباد دکن کی اردو صحافت کا ایک ایسا نام ہے جس نے کم وبیش نصف صدی تک اپنے صحافتی ہنر کا لوہا منوایا۔ان کا صحافتی آہنگ جدت طرازی سے عبارت تھا اور وہ اردو صحافت کی روایتی ڈگر کے مخالف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں حیدرآباد کے جن اردو اخباروں میں آزادانہ طورپر کام کرنے کا موقع ملا، وہاں انھوں نے اپنی تخلیقی ہنرمندی کے رنگ بکھیرے۔ میں نے تقریباً ایک چوتھائی صدی تک انھیں اپنے ایک سینئر صحافی کے طور پر قریب سے دیکھا اور استفادہ کیا، اس لیے میں بلا مبالغہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ نسیم عارفی کے بعد حیدرآباد کے اخباروں میں وہ تازگی باقی نہیں رہ گئی ہے جس کی آبیاری نسیم عارفی نے اپنے خون جگر سے کی تھی۔وہ جب تک بھی زندہ رہے حیدرآباد کی اردو صحافت کو سنوارنے اور نکھارنے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے رہے۔ افسوس ان کی زندگی میں ان کی وہ پذیرائی نہیں ہوئی جس کے وہ بجا طورپر مستحق تھے۔

یوں تو دہلی اور حیدرآباد کے درمیان سیکڑوں میل کا فاصلہ ہے لیکن وہ جب بھی دہلی آتے یا میں حیدرآباد جاتا تو ہم دونوں کا وقت ساتھ ساتھ گزرتا تھا۔ نئی دہلی کے کناٹ پیلس میں واقع سینٹرل نیوز ایجنسی ان کی محبوب جگہ تھی جہاں سے وہ عصری موضوعات پر انگریزی کتابیں خریدکر حیدرآباد لے جاتے تھے۔ اردو کے ساتھ ساتھ انھیں انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ اردو، ہندی اور تلگو اخباروں کے علاوہ انگریزی کے قومی اور بین الاقوامی اخباروں سے بھی خوب استفادہ کرتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ اردو اخبارات کا معیار اور وقار بھی انگریزی اخباروں کی طرح بلند ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے صحافتی سفر کے دوران جن اخبارات سے بھی وابستہ رہے وہاں انھوں نے اپنا یہ ہنر خوب آزمایا۔ ان کا صحافتی نقطہ نظر ترقی پسندانہ تھا اور وہ اردو اخبارات میں نت نئے تجربات کو بروئے کار لاتے تھے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ان کی صحافتی خدمات کا اگر مختصر جائزہ بھی لیا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ انھوں نے حیدرآباد کی اردو صحافت کو چار چاند لگائے۔ انھوں نے اپنا صحافتی سفر حیدرآباد کے سب سے قدیم اخبار ’رہنمائے دکن‘ سے شروع کیا تھا۔ بعد کو وہ روزنامہ ’سیاست‘ سے وابستہ ہوگئے،جہاں انھیں عابد علی خاں اور محبوب حسین جگر جیسے صحافیوں سے استفادے کا براہ راست موقع ملا۔یہیں ان کی اداریہ نویسی کی مشق بھی ہوئی۔ نسیم عارفی نے ’سیاست‘ میں رہ کر عابدعلی خاں اور محبوب حسین جگر سے جو کچھ سیکھا تھا اسے بعد کے دنوں میں بڑی مہارت کے ساتھ برتا۔روزنامہ’سیاست‘ سے تقریباً 35 سالہ طویل اور صبر آزما وابستگی کے بعد جب وہ1997 میں روزنامہ ’منصف‘ سے وابستہ ہوئے تو انھوں نے اس اخبار کواردو صحافت کا مکمل آئینہ بنادیا۔ ’منصف‘ کی اشاعت یوں تو مرحوم محمود انصاری نے شروع کی تھی جن کی صحافتی تربیت بھی روزنامہ ’سیاست‘ میں ہوئی تھی۔ مگر اس اخبار کا اصل بانکپن اس وقت سامنے آیا جب اسے خان لطیف خان نے خرید کر اس میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ پرکشش تنخواہوں کی وجہ سے حیدرآباد کے بیشتر صحافی روزنامہ ’منصف‘ سے وابستہ ہوگئے، جس کی ادارتی کمان نسیم عارفی کے ہاتھوں میں تھی۔ انھوں نے نہ صرف خبروں اور اداریوں کے اعتبار سے ’منصف‘ کو مقبول عام بنایا بلکہ اس کے یومیہ خصوصی ایڈیشنوں نے تمام اخبارات کو پیچھے چھوڑدیا۔’منصف‘ کے ادب، مذہب، خواتین، اطفال اور سنڈے ایڈیشن کو جو مقبولیت حاصل ہوئی اس کی کوئی ہمسری نہیں کرسکا۔’منصف‘ کی صورت گری میں نسیم عارفی کا جو خون جگر شامل تھا، اس کا اعتراف ان کے مخالفین نے بھی کیا اور انھیں اپنے دور کا سب سے بڑا اردو صحافی ہونے کی سند حاصل ہوئی۔خصوصی سپلیمنٹ ہی نہیں اردو قارئین کو اخبار کی سرخیوں میں تخلیقی ہنرمندی کے نمایاں نقوش دیکھنے کو ملے۔جس کا اعتراف ملک گیر سطح پر کیا گیا۔تقریباً سات برس تک ’منصف‘ کے بال وپر سنوارنے کے بعد جب وہاں زمین کچھ تنگ ہونے لگی تو انھوں نے اپنی ایک نئی راہ بنائی۔ نسیم عارفی کی شخصیت کا سب سے بڑا پہلو ان کی خودداری تھا، جس سے وہ کسی بھی قیمت پر دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے۔ اس شخصی خوبی کو انھوں نے عمر کے آخری حصہ تک محبوب رکھا اور کہیں سپر نہیں ڈالی۔
یوں تو ان سے میرا تعلق ’منصف‘ کے دور میں ہوگیا تھا، لیکن انھیں قریب سے دیکھنے کا موقع مجھے اس وقت ملا جب انھوں نے 2005میں روزنامہ ’منصف‘ سے علیحدگی اختیار کرکے روزنامہ ’اعتماد‘ کی صورت گری کا ڈول ڈالا اور اپنی شب وروز کی محنت سے اس اخبار کو اردو صحافت کا ایک سنگ میل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔یہاں بھی انھوں نے یومیہ ضمیموں کو قارئین کی دلچسپی کا ذریعہ بنایا۔ نسیم عارفی صحافت میں تخلیقی ہنرمندی کے طرف دار تھے اور روایتی خبروں کو صحافت کی موت تصورکرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ادارتی امور میں ہی نہیں بلکہ خبروں میں بھی ایک خاص تنوع کی طرح ایجاد کی۔ہر چند کہ روزنامہ ’اعتماد‘ کی ملکیت اویسی برادران کے پاس تھی، لیکن انھوں نے خبرونظر کے اعتبار سے اسے قطعی غیر جانبدار اخبار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ ’اعتماد‘ کو مجلس کے باہر کے حلقوں میں بھی یکساں پذیرائی حاصل ہوئی۔
مجھے یاد ہے کہ2005 میں روزنامہ ’اعتماد‘ کی اشاعت شروع ہونے سے قبل وہ برادرم عزیز احمد کے ساتھ دہلی تشریف لائے اور ہم نے گھنٹوں ’اعتماد‘ کے مواد پر گفتگو کی۔ اس کا سب سے جاندار ایڈیشن ’جائزہ‘ قرار پایا جو ہر سنڈے کو آج بھی شائع ہوتا ہے۔ نسیم عارفی صاحب، برادرم عزیز احمد اور اس خاکسار نے یہ کوشش کی کہ اپنے عہد کے بہترین کالم نگاروں کو ’جائزہ‘ سے جوڑا جائے۔ لہٰذا دہلی سے سعید سہروردی اور یہ خاکسار، بمبئی سے حسن کمال، پٹنہ سے رضوان احمد کو ’جائزہ‘ کے لیے ہفتہ واری کالم لکھنے پر آمادہ کیا گیا۔ بعد کو اس فہرست میں کلکتہ سے پرویزحفیظ اور دہلی سے سراج نقوی کا اضافہ ہوا جو آج بھی ’جائزہ‘ میں لکھ رہے ہیں۔
نسیم عارفی مرحوم کی قیادت میں جب روزنامہ ’اعتماد‘ کی اشاعت عمل میں آئی تو حیدرآباد کی صحافتی دنیا میں ایک ہلچل محسوس کی گئی۔ ’اعتماد‘ کے ہورڈنگ حیدرآباد کے اہم چوراہوں پر آویزاں کئے گئے۔ ایک ہورڈنگ جس پر اس وقت کے امریکی صدرجارج بش کی تصویر لگی ہوئی تھی لکھا تھا ”لیڈریا بے وقوف‘‘۔ یہ ہورڈنگ ایسا تھا کہ اس پر حیدرآباد کے امریکی قونصل خانے نے اعتراض درج کرایا۔یہ درحقیقت نئے اخبار کی طرف قارئین کو متوجہ کرنے کی ترکیب تھی۔ یہی وجہ ہے جب روزنامہ ’اعتماد‘ منظرعام پر آیا تو حیدرآباد کے اردو قارئین نے قدم قدم پر اس کا استقبال کیا اور اس نے بہت کم وقت میں اپنی جگہ بنالی۔ حالانکہ اس وقت ’سیاست‘ اور ’منصف‘ کے علاوہ ’رہنمائے دکن‘ بھی مارکیٹ میں موجود تھا۔ روزنامہ ’اعتماد‘ کی کامیابی کا بڑا سبب یہ بھی تھا کہ نسیم عارفی نے اپنی ٹیم بڑی مہارت سے ترتیب دی تھی۔ ان کی ٹیم میں عزیز احمداور ایم اے ماجد جیسے منجھے ہوئے صحافیوں کے ساتھ ساتھ نصیر غیاث جیسے باصلاحیت نوجوان بھی تھے۔ ان کے علاوہ بھی کئی اور صحافی روزنامہ ’اعتماد‘ سے وابستہ ہوئے تھے۔ آخری دور میں نسیم عارفی صاحب کو کچھ ایسی بیماریوں نے گھیر لیا جن کی وجہ سے وہ 19/اگست 2023 کو انتقال کرگئے۔انتقال کے وقت ان کی عمر 80سال تھی۔ان کی صحافتی ہنرمندی کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جب راموجی نے حیدرآباد سے ای ٹی وی (اردو)شروع کیا تو انھوں نے جن شخصیات کے تجربات سے فائدہ اٹھایا، ان میں نسیم عارفی بھی شامل تھے۔انھیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں جدید اردو صحافت کے اس معمار کوان کی موت کے بعد فراموش نہ کردیا جائے لیکن قابل مبارکباد ہیں CETIفاؤنڈیشن کے چیئرمین سید بشارت علی، سی ای او فردوس فاطمہ اور ان کی پوری ٹیم جنھوں نے ان کے نام پر ہونہار صحافیوں کو ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔






