عصری علوم سے واقف علماء اور دینی تعلیم سے واقف ڈاکٹر ،انجیئیر وغیرہ دونوں مدارس ہی سے نکل سکتے ہیں

میرا مطالعہ

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

موجودہ وقت میں ملک میں تین طرح کے مدارس چل رہے ہیں (1) مدارس ملحقہ (2) مدارس نظامیہ (3) دینی و عصری نصاب پر مشتمل مدارس ، ہر ایک کا مختصر تعارف پیش ہے

 (1) مدارس ملحقہ وہ مدارس ہیں ، جو کسی مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں ، ان میں بورڈ کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے ، مدرسہ بورڈ کا نصاب تعلیم دینی اور عصری دونوں مضامین پر مشتمل ہے ، مدرسہ بورڈ ملک کے کئی صوبوں میں قائم ہے ، جیسے بہار ، یوپی ، بنگال وغیرہ ، مدارس ملحقہ کی سرٹیفکیٹ و ڈگری کو حکومت کو منظوری حاصل ہے ، اس طرح یہ میٹرک ،ائی وغیرہ کے مساوی ہیں ،

         (2) مدارس نظامیہ وہ مدارس کہلاتے ہیں ،جو کسی بورڈ سے ملحق نہیں ہیں ، بلکہ آزاد ہیں ، ان کا اپنا نصاب اور اپنا نظام ہے ، مدارس نظامیہ کا فوکس دینی تعلیم میں پختگی پیدا کر کے ماہر اور جید علماء پیدا کرنا ہے ، اس لئے اس کے ابتدائی درجات میں کچھ عصری مضامیں شامل ہیں ، جو پرائمری تعلیم کے تقاضے کو پورا کرتے ہیں ، اس کے بعد عربی درجات شروع ہو جاتے ہیں ، اس کے نصاب تعلیم میں مڈل اور سکنڈری درجات کی کمی ہے ، اس لئے ان مدارس کی مدت تعلیم بھی کم ہے ، اس کی سرٹیفکیٹ حکومت سے منظور نہیں ہے ، جس کی وجہ سے بہت سی دشواریاں سامنے آتی ہیں ، اس میں دارالعلوم دیوبند یا رابطہ مدارس سے ملحق ہیں

           (3) آزاد مدارس جن کے نصاب میں دینی و عصری دونوں مضامین شامل ہیں ، یہ بھی کسی مدرسہ بورڈ سے ملحق نہیں ہیں ، مگر ان کے نصاب میں دینی اور عصری دونوں مضامین شامل ہیں ، ایسے مدارس میں دارالعلوم ندوۃ العلماء اور اس سے ملحق مدارس ہیں ، یا جامعہ الفلاح اور اس سے ملحق مدارس ہیں ،

عصری علوم سے واقف علماء اور دینی تعلیم سے واقف ڈاکٹر ،انجیئیر وغیرہ دونوں مدارس ہی سے نکل سکتے ہیں 

          مذکورہ بالا گروپ میں سے نمبر 1 اور نمبر 3 میں دینی اور عصری علوم دونوں شامل ہیں ، نمبر 1 کے مدارس کی سرٹیفکیٹ کو سرکاری منظوری بھی حاصل ہے ، البتہ نمبر 2 میں درج مدارس نظامیہ میں ابتدائی نصاب میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری مضامیں بھی شامل ہیں ، ان کے نصاب میں مڈل اور سکنڈری تعلیم کا انتظام نہیں ہے ، بلکہ پرائمری کے بعد براہ راست اعلی تعلیم شروع ہو جاتی ہے ، جس کی وجہ سے طلبہ عصری مضامین کی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے ہیں ، جس کی وجہ سے حکومت کے محکمہ تعلیم کو بہانہ بنا کر ایسے مدارس کو زیادہ نشانہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے

               ملت کو علماء کی بھی ضرورت ہے اور ڈاکٹر و انجینیر کی بھی ، ایسے علماء کی ضرورت ہے جو دینی و شرعی علوم میں ماہر ہوں اور عصری تقاضوں اور موجودہ حالات کے پر بھی ان کی نظر ہو ، نیز ملت کو ایسے ڈاکٹر اور انجینئر کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے فیلڈ میں ماہر ہوں ،نیز دین و شریعت کے علوم سے بھی واقف ہوں ، جب ہی دونوں اپنے اپنے فیلڈ میں اچھا کام کرسکیں گے ، مگر موجودہ وقت میں ایسا نہیں ہے ، علماء میں سے اکثر عصری علوم اور عصری تقاضوں کا بہت کم علم رکھتے ہیں ، تو ڈاکٹر و انجینیر وغیرہ دینی تعلیم سے بہت کم واقف ہیں ، اور دونوں کے درمیان دوری ہے ، اسی دوری کو پاٹنے کے لئے موجودہ وقت میں دنیا کے تقریبا اکثر ممالک میں میٹرک سطح تک ایسا نصاب تعلیم رائج کیا گیا ہے ، جو دینی علوم اور عصری مضامین پر مشتمل ہے ، اور میٹرک تک کی تعلیم ہر تعلیم ادارے میں لازمی ھے، خواہ مدارس ہوں یا اسکول ، ساتھ ہی میٹرک تک ہر ایک کو اسی سسٹم سے پڑھنا ہے ، جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے وہاں سبھی تعلیمی اداروں میں رائج ہے ، البتہ جہاں مسلمانوں کی حکومت نہیں ، وہاں مسلمانوں نے اپنے تعلیمی اداروں میں اس کی پابندی رکھی ہے ، میٹرک تک مخلوط نصاب تعلیم کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے ، پھر انٹر کے بعد جو عالم بننا چاہتے ہیں ،وہ اسلامیات کے شعبہ میں جاتے ہیں اور جو ڈاکٹر و انجینیر وغیرہ بننا چاہتے ہیں ،وہ اپنے مقصد کے حساب سے عصری مضامین اختیار کر تے ہیں ، میٹرک تک دینی و عصری مضامین پر مشتمل نصاب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ علماء و فضلاء دینی تعلیم کے ساتھ ضرورت کے مطابق عصری مضامین سے بھی واقف ہوتے ہیں ، جبکہ ڈاکٹر ، انجینیر وغیرہ عصری مضامین میں مہارت کے ساتھ ساتھ بقدر ضرورت دینی مضامین سے بھی واقف ہوتے ہیں ، کوئی اپنی ضروریات سے ناواقف نہیں رہتا ہے ،یہ نصاب تعلیم اکثر مسلم ممالک میں رائج ہے ، مگر بر صغیر میں اس تجربہ سے فائدہ حاصل نہیں کیا گیا ، جس کی وجہ ایک خلا پیدا ہوگیا کہ اکثر علماء بنیادی عصری مضامین سے ناواقف ہیں ، تو ڈاکٹر ،انجینیر وغیرہ ضروری دینی معلومات سے بھی واقف نہیں ہیں ،جبکہ علماء کو بھی بنیادی عصری مضامین کی واقفیت ضروری ہے اور ڈاکٹر ،انجینیئر وغیرہ کو بھی ضروری دینی تعلیم کی واقفیت لازم ہے ،

        مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام پر نظر ثانی کریں ، مسلم سماج کے پاس مدارس اسلامیہ کا بڑا نیٹ ورک موجود ہے ، تقریبا ہر گاوں میں مدارس موجود ہیں ، ان کی پاس بلڈنگ بھی موجود ہے ، اس میں سے نمبر 1 اور نمبر 3 کے مدارس کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں دینی اور عصری مضامیں شامل ہیں ، صرف ان میں درجہ بندی کر کے میٹرک کے مساوی بنادیا جائے ، اور معیاری تعلیم کا انتظام کیا جائے ، جہانتک نمبر 2 میں درج مدارسِ نظامیہ کی بات ہے ،تو ان مدارس میں ابتدائی درجات کے لئے 5/ سال ہیں ، ان میں 3/ سال کا اضافہ کرکے مڈل اور عربی اول اور دوم میں کچھ عصری مضامیں کو شامل کر کے میٹرک کے مساوی کردیا جائے ، تو مدارس کی تعلیم عام ہو جائے گی ، جو گارجین اپنے بچے اور بچیوں کو اسکول میں بھیجتے ہیں ،وہ بھی اپنے بچے و بچیوں کو میٹرک تک مدارس ہی میں پڑھائیں گے ، اسکول میں پڑھانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی ، پھر علمائے کرام دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم سے بھی واقف ہوں گے ،اور مسلم ڈاکٹر ، انجینیر وغیرہ بھی عصری علوم کے ساتھ دینی علوم کے بھی واقف کار ہوں گے ، یہ انتظام میٹرک سطح تک آسانی سے کیا جاسکتا ہے ،پھر انٹر سے سبھی اپنے اپنے فیلڈ کی تعلیم حاصل کریں گے ، یہ بالخصوص علمائے کرام کے لئے لمحہ فکریہ ہے ، جو دوسرے سسٹم پر زور دیتے ہیں ، مگر اپنے سسٹم کو درست کرنے کی جانب توجہ نہیں دیتے ہیں ، اگر مدارس اسلامیہ میں میٹرک معیار تک متبادل انتظام کردیا جائے ،تو مدارس بہت سے فتنوں سے بھی محفوظ بھی ہو جائیں گے ، اللہ تعالیٰ صحیح فکر کی جانب رہنمائی فرمائے ، جزاکم اللہ خیرا

Leave a Reply