کیا قومی اردو کونسل کو بند ہوجانا چاہئے؟
معصوم مرادآبادی
حال ہی میں ایک اردو ادیب نے سوشل میڈیا پر دئیے انٹرویو میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ ”قومی اردو کونسل کو بند ہوجانا چاہئے۔“جب ان سے اس جارحانہ مطالبے کا سبب پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ”مجھے آج تک قومی اردو کونسل نے اپنے کسی پروگرام میں مدعو نہیں کیا۔اس لیے میرے نزدیک وہ ایک ناکارہ ادارہ ہے۔“

اس بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اردو کے مذکورہ ادیب خود کو اردو زبان کا متبادل سمجھتے ہیں اوران کے نزدیک زبان اسی وقت ترقی کرے گی جب اس کے پروگراموں میں ان کی شمولیت ہوگی۔ مذکورہ ادیب کوئی نامی گرامی ہستی بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اردو دنیا میں ان کی کوئی خاص شناخت ہے۔ اس لیے ہمیں ان کا یہ بیان سن کر کچھ عجیب سا لگا اور اسی نے ہمیں قومی اردو کونسل پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ دراصل اردو زبان وادب کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اردو کا ہر ادیب، نقاد، پروفیسر اور صحافی خود ہی کو اس کا سب سے بڑا ٹھیکیدار سمجھتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پروا نہیں ہے کہ یہ زبان کن مراحل سے گزر رہی ہے اور اس کے ساتھ کس قسم کا ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ وہ چونکہ خود اپنے ہی خول میں بند ہے اس لیے اسے باہر کی دنیا کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔
اگر آپ ملک گیر سطح پر اردو کی صورتحال کا جائزہ لیں تو بڑی مایوس کن تصویر ابھرتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ملک کی سولہ ریاستوں میں اردو اکیڈمیاں سرگرم عمل تھیں، لیکن اقتدار پر بی جے پی کی گرفت مضبوط ہونے کے بعد ایک ایک کرکے یہ اکیڈمیاں قصہ پارینہ بن رہی ہیں۔ تازہ مثال مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی ہے، جو حکومت کی تبدیلی کے بعد سے معطل ہوگئی ہے اوراس کی تمام سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں، ورنہ چند ماہ پہلے تک یہ ملک کی سب سے سرگرم اردو اکیڈمی تھی اور اس نے اردو کے فروغ کے لیے بڑے بڑے پروگرام منعقد کئے تھے۔
اس سے قبل ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اردو اکیڈمی کا گلا گھونٹا جاچکا ہے۔ وہاں برسوں سے نہ تو کوئی چیئرمین ہے اور نہ ہی گورننگ کونسل جبکہ یہ ملک کی سب سے پہلی اردو اکیڈمی تھی اور تمام اردو اکیڈمیاں اسی کے خطوط پر ترتیب دی گئیں۔ دہلی میں بھی جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے اردو اکیڈمی کی گورننگ کونسل نہیں بنی ہے۔ اتنا ہی نہیں پچھلی گورننگ کونسل نے جو ایوارڈ طے کئے تھے انھیں بھی سیاسی وجوہات کی بناء پر منسوخ کردیا گیا ہے۔ راجستھان اردو اکیڈمی میں پچھلے کئی سال سے تالا پڑا ہوا ہے کیونکہ وہاں عملے کے طورپر جو واحد چپراسی باقی بچا تھا وہ بھی ریٹائر ہو چکا ہے اور اکیڈمی میں تالا ڈال دیا گیا ہے۔ ہریانہ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ ، بہار اور جموں وکشمیر کی اردو اکیڈمیوں کا بھی حال یہی ہے۔اب لے دے کر مرکزی حکومت کے ماتحت اردو کے فروغ کا ایک تنہا ادارہ قومی اردو کونسل باقی بچا ہے جس کے بند ہونے کی تمنائیں کی جارہی ہیں۔ اگر اردو کے فروغ کا یہ مرکزی ادارہ بھی بند ہوگیا تو سوچئے صورتحال کیا ہوگی۔
ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ مذکورہ اردو اکیڈمیوں کے بند ہونے پر آج تک کسی اردو والے نے صدائے احتجاج بلند نہیں کی ہے۔ ان لوگوں نے بھی نہیں جو ان اکیڈمیوں کے وائس چیئرمین اور ممبر بننے کے لیے زبردست جوڑ توڑ کرتے ہیں۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو اردو کے نام پر صرف عہدے اور ملائی چاہئے، جہاں تک اردو زبان وادب کے فروغ کا تعلق ہے اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ اپنے حقیر مفادات کے لیے بڑے بڑے سے ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان حکومت ہند کا ایک خودمختار ادارہ ہے جس کا بجٹ تقریباً 88 کروڑ ہے جو برسوں سے اردو زبان کے فروغ، کتابوں کی اشاعت اور تکنیکی تعلیم پر خرچ ہورہا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے دس برسوں میں حکومت نے ہندوستان کی 22 زبانوں کے فروغ پر جو رقم خرچ کی ہے اس میں اردو دوسرے نمبر پر ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دس سال میں اردو کے فروغ پر850 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کم ازکم مرکزی حکومت کی حدتک اردو کے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ہاں جو کچھ رکاوٹ اور ریشہ دوانیاں ہیں وہ خود اردو والوں کی طرف سے ہیں، جو اپنے نہایت حقیر مفادات کے لیے اردو کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر کمربستہ ہیں۔
قومی اردو کونسل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب کبھی اس کے ڈائریکٹر کا انتخاب ہوتا ہے تو اس کے لیے زبردست جوڑ توڑ ہوتی ہے اور بڑی بڑی سفارشیں لگائی جاتی ہیں۔ عام طورپر یہ پوسٹ چونکہ اردو کے کسی پروفیسر کو ملتی ہے، اس لیے ہماری جامعات کے اکثر اردو پروفیسر ہمیشہ ’امید‘ سے رہتے ہیں۔2024 میں برسوں بعد ایسا ہوا ہے کہ اس پوسٹ پر ایک ایسے شخص کا تقرر ہوا جس کا تعلق درس وتدریس سے نہیں بلکہ انتظامی شعبے سے ہے۔یوں بھی ڈائریکٹر کی پوسٹ ایک انتظامی عہدہ ہے اس لیے جب جب اس پر ایڈمنسٹریشن کا کوئی شخص آیا ہے تو کونسل میں ترقی اور تنوع دیکھنے کو ملا ہے۔
موجودہ ڈائریکٹر شمس اقبال نے جب مارچ 2024 میں عہدہ سنبھالا توان کے آنے سے تین سال پہلے سے کونسل کی سرگرمیاں ٹھپ تھیں کیونکہ2021 سے کونسل میں نہ تو وائس چیئرمین تھا اور نہ ہی گورننگ کونسل۔جبکہ کونسل کی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے یہ دونوں ہی ضروری ہیں۔ اسی وجہ سے کونسل کی سب سے پاپولر اسکیم گرانٹ ان ایڈ بھی بند تھی۔گرانٹ ان ایڈ کے بند ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس اسکیم کے غلط استعمال سے متعلق لاتعداد شکایتیں وزارت کو ملی تھیں،جن میں یہ کہا گیا تھا کہ لوگ سیمینار کرنے کے نام پر جو رقم کونسل سے حاصل کرتے ہیں، اس کا غلط استعمال ہوتا ہے اور آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے۔
ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ کونسل کے بجٹ میں صرف پانچ کروڑ کی رقم ہی سیمیناروں، کتابوں کی اشاعت اور بلک پرچیز پر خرچ کی جاتی ہے۔ باقی40 کروڑ کمپوٹر سینٹروں اور25 کروڑ عربی، فارسی ڈپلومہ اور فاصلاتی تعلیم پر خرچ ہوتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ شورشرابہ ‘گرانٹ ان ایڈ’ اسکیم پر ہی ہوتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ موجودہ ڈائریکٹرشمس اقبال نے گزشتہ سال اس اسکیم کا احیا کیا اور اسے اس منزل تک پہنچادیا کہ جلد ہی اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا۔ موجودہ ڈائریکٹرجو آئندہ اکتوبر میں ملازمت سے سبکدوش ہورہے ہیں، بنیادی طورپر عملی انسان ہیں اور انھوں نے اپنی مدت کار میں کونسل کو سرگرم رکھنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے، لیکن حقیر مفادات کے اسیر عناصر نے ان کی راہ میں کانٹے بچھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
انھوں نے سرینگر، حیدرآباد، ممبئی، پٹنہ، لکھنؤ اور علی گڑھ میں نہایت کامیاب کتاب میلے ہی منعقد نہیں کئے بلکہ کونسل کی مطبوعات کی تعداد میں بھی چار گنا اضافہ کیا۔ عالمی اردو کانفرنسوں کا کامیاب انعقاد بھی ان کی حصولیابیوں میں شامل ہے۔ ان کے بیشتر ناقدین وہ ہیں جنھیں انھوں نے اپنے پروگراموں اور سیمیناروں میں مدعو نہیں کیا۔ اسی کی پرخاش نکالنے کے لیے وہ ڈٹ کر ان کی مخالفت پر آمادہ ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو اسی صف میں شامل کرتے ہیں جن سے ہم نے اس مضمون کا آغاز کیا تھا۔ یعنی اگر کونسل ان کو مدعو نہیں کررہی ہے تو وہ اس کی مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ خوشخبری یہ ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر کی کوششوں سے کونسل کی فائننس کمیٹی تشکیل پاگئی ہے جو کونسل کی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس کا کوئی فائدہ موجودہ ڈائریکٹر کو نہیں ہوگا بلکہ اس کا فیض آنے والے ڈائریکٹر کو ہوگا۔ دعا کیجیے کہ قومی اردو کونسل کو بند کرنے کی نام نہاد اردو والوں کی دعائیں قبول نہ ہوں اور کم از اردو کے فروغ کا ایک ادارہ تو زندہ رہے۔






