نام کتاب: کمیشن اور بروکری کے احکام
مرتب: مفتی احمد اللہ نثار قاسمی
اشاعت: 2023ء
تعداد صفحات: 345
تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی
انسانی معاشرہ باہمی تعاون اور لین دین کے مضبوط رشتوں پر استوار ہے۔ دنیا کا کوئی فرد اپنی زندگی کی تمام ضروریات اور ان کے حصول کے تمام وسائل اپنے اندر سمیٹ نہیں سکتا، اس لیے ہر شخص کسی نہ کسی مرحلے پر دوسرے انسان کا محتاج ہوتا ہے۔ یہی احتیاج معاملات، تجارت اور باہمی تبادلے کی بنیاد بنتی ہے۔ بہت سے مواقع پر خریدار اور فروخت کنندہ ایک دوسرے تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتے، چنانچہ ان کے درمیان ایک ایسا واسطہ وجود میں آتا ہے جو دونوں کو قریب لانے، اعتماد کی فضا قائم کرنے اور معاملہ پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اصولی طور پر یہ خدمت باہمی تعاون اور خیر خواہی کے جذبے پر مبنی ہونی چاہیے، تاہم موجودہ معاشی نظام میں یہی واسطہ ایک مستقل پیشے کی صورت اختیار کر چکا ہے، جسے عرفِ عام میں کمیشن اور بروکری کہا جاتا ہے۔

قدیم فقہی لٹریچر میں ایسے واسطہ کار کے لیے ‘سمسار اور دلال’ جیسی اصطلاحات مستعمل رہی ہیں، اور اس کی اجرت کو ‘سمسرة اور دلالی’ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ فقہائے اسلام نے متعین شرائط کے ساتھ اس خدمت پر اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ایک فقہی صورت ‘جعالہ’ کی بھی ہے، جس میں کسی متعین خدمت یا گم شدہ چیز کی بازیابی پر انعام مقرر کیا جاتا ہے۔ ان دونوں ابواب کی تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شریعتِ اسلامی نے معاملات کے اس شعبے کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ اس کے صحیح اور غلط دونوں پہلوؤں کی واضح رہنمائی فرمائی ہے۔
عصرِ حاضر میں مقامی، قومی اور بین الاقوامی تجارت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ کمیشن ایجنٹ اور بروکر کے بغیر بے شمار تجارتی معاملات کی تکمیل دشوار محسوس ہوتی ہے۔ مویشی منڈی میں یہی شخص’ دلال’ کہلاتا ہے، سبزی منڈی میں ‘آڑھتی’، اسٹاک ایکسچینج میں’ بروکر’ اور جائیداد کی خرید و فروخت میں ‘پراپرٹی ڈیلر’۔ لیکن اس میدان میں جہاں جائز صورتیں موجود ہیں، وہیں ناجائز اور شرعاً ممنوع طریقے بھی بڑی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، جس کے باعث اس موضوع کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ‘جمعیت علماء ہند’ کے فقہی اجتماعات اور مختلف علمی سیمیناروں میں بھی کمیشن کی متعدد صورتوں پر تفصیلی بحثیں ہوئیں اور ان کے متعلق اہم تجاویز منظور کی گئیں۔
زیرِ نظر کتاب "کمیشن اور بروکری کے احکام” اسی اہم موضوع پر ایک نہایت وقیع اور جامع کاوش ہے، جسے فاضل مرتب مفتی احمد اللہ نثار قاسمی نقشبندی دامت برکاتہ نے نہایت محنت، تتبع اور فقہی بصیرت کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ موصوف کی تحریر کا نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے، اسے علمی جامعیت کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جس سے قاری کو مسئلے کی مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے۔
مرتب نے کتاب کو نو ابواب پر تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں کمیشن کے بنیادی تصورات اور متعلقہ اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں سرکاری امور سے متعلق کمیشن کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ تیسرے باب میں مختلف کمپنیوں میں رائج کمیشن کی صورتوں کا فقہی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ چوتھے باب میں کمپنیوں کے ملازمین کے لیے کمیشن لینے کی شرعی حیثیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ پانچواں باب خصوصیت کے ساتھ ڈاکٹروں اور طبی مراکز میں رائج کمیشن کے نظام کا جائزہ لیتا ہے، جہاں مریضوں کو مختلف لیبارٹریوں، اسپتالوں اور تشخیصی مراکز کی طرف بھیجنے کے عوض کمیشن لینے اور دینے کی مروجہ صورتوں کا مدلل محاسبہ کیا گیا ہے، جو بلاشبہ اس کتاب کا نہایت اہم اور فکر انگیز باب ہے۔

چھٹے باب میں کمیٹیوں اور چٹ فنڈ کی مختلف صورتوں کا شرعی جائزہ لیا گیا ہے اور ان میں پائے جانے والے سودی پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے، نیز جائز و ناجائز صورتوں کے درمیان امتیاز بھی قائم کیا گیا ہے۔ ساتویں باب میں رقم کی منتقلی پر حاصل ہونے والے کمیشن کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ آٹھویں باب میں مدارس، مساجد اور دینی اداروں میں کمیشن کے لین دین کی مختلف شکلوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ نواں باب متفرق مسائل پر مشتمل ہے، جس میں متعدد نئے اور عملی سوالات کے مدلل جوابات فراہم کیے گئے ہیں۔
آج کمیشن اور بروکری سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد شرعی احکام سے ناواقف ہے، جس کے نتیجے میں لاعلمی یا سہل انگاری کے باعث بہت سے معاملات ناجائز صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ کتاب نہ صرف اہلِ تجارت، بروکرز اور کمیشن ایجنٹس کے لیے راہنما ہے بلکہ مفتیانِ کرام، طلبۂ علومِ دینیہ اور اسلامی معاشیات کے طالب علموں کے لیے بھی ایک نہایت مفید علمی سرمایہ ہے۔
مجھے اس کتاب کے مطالعے کا موقع ملا۔ اس کی علمی افادیت، فقہی استدلال، حسنِ ترتیب اور عمدہ طباعت نے خوشگوار تاثر چھوڑا۔ توقع ہے کہ اہلِ علم اور اربابِ تجارت اس سے بھرپور استفادہ کریں گے اور یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک معتبر اور قابلِ اعتماد مرجع کی حیثیت اختیار کرے گی۔ اللہ تعالیٰ مرتبِ کتاب کی اس علمی خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے اور امتِ مسلمہ کو اس سے نفعِ عام عطا فرمائے۔ آمین۔






