مدارس کے اساتذہ کا معاش خطرے میں !!!
افتخار احمد قادری
اترپردیش میں مدارس کے اساتذہ اور کارکنان سے متعلق 2016 کے اُس متنازع قانون کو واپس لینے کا فیصلہ ایک پرانی قانونی کارروائی کا اختتام نہیں بلکہ اس کے اندر مدارس، اقلیتی تعلیمی اداروں، سرکاری پالیسی اور مسلم سیاسی قیادت کی بے حسی کے کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔ اترپردیش کی یوگی حکومت نے سماج وادی پارٹی کے دورِ حکومت میں منظور کیے گئے اُس بل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا جس کا تعلق تسلیم شدہ مدارس کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر سہولتوں سے تھا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ بل اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد اُس وقت کے گورنر کی طرف سے بعض آئینی اعتراضات کے باعث آگے بڑھ کر نافذ العمل قانون نہیں بن سکا اور معاملہ صدرِ جمہوریہ کے پاس زیرِ غور رہا۔

اب حکومت نے اسے واپس لینے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ کسی قانون کا اسمبلی سے منظور ہو جانا اور اس کا باقاعدہ نافذ ہو جانا دو الگ مراحل ہیں۔ مذکورہ معاملے میں یہ بل قانون کی مکمل شکل اختیار نہیں کرسکا تھا۔ اسی لیے آج اس کی واپسی کو ایک قانونی فائل بند کرنے کی کارروائی سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ آخر وہ قانون کیوں بنایا گیا تھا؟ اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی؟ اس کے نفاذ میں رکاوٹ کہاں پیدا ہوئی؟ اور تقریباً ایک دہائی بعد اسے واپس لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سابقہ حکومت کی کارکردگی بھی کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہے اور موجودہ حکومت کی ترجیحات بھی سوالات کے گھیرے میں آتی ہیں۔
سماج وادی پارٹی کی حکومت نے 2016 میں مدارس کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر معاملات کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی تھی۔ اگر حکومت کو واقعی یقین تھا کہ یہ قانون مدارس کے اساتذہ کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے تو اسمبلی سے منظوری کے بعد اس کی آئینی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش بھی ہونی چاہیے تھی۔ اگر گورنر کو بل کی بعض دفعات پر اعتراض تھا تو حکومت کے پاس یہ راستہ موجود تھا کہ اعتراضات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے، ضروری ترامیم پر غور کرے، متعلقہ آئینی ماہرین سے مشاورت کرے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق معاملے کو آگے بڑھائے۔ لیکن ایسا مؤثر سیاسی و قانونی تعاقب نظر نہیں آیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا کہ حکومت اس قانون کو اپنی اولین ترجیحات میں شمار کرتی تھی۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معاملہ اتنا اہم تھا تو اسمبلی سے منظوری کے بعد اس قانون کی تکمیل کے لیے سیاسی دباؤ کیوں نہیں بنایا گیا؟ متعلقہ نمائندوں نے مسلسل آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ حکومت نے عوام کے سامنے یہ مسئلہ کیوں نہیں رکھا کہ گورنر کے اعتراضات کیا ہیں اور انہیں دور کرنے کے لیے کیا کوشش کی جارہی ہے؟ اگر کوئی آئینی رکاوٹ تھی تو اس کا حل تلاش کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی نہ کہ خاموشی اختیار کرکے معاملہ وقت کے اندھیروں میں چھوڑ دینا۔ یہاں سابقہ حکومت کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے دانستہ طور پر بے ایمانی کی ایک سیاسی الزام ہے جسے قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا تاہم اس حکومت کی سیاسی سنجیدگی اور عملی ترجیحات پر سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ اُس وقت اسمبلی میں مسلم اراکین کی ایک قابلِ ذکر تعداد موجود تھی اور حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ مدارس کے اساتذہ کا مسئلہ چند ملازمین کی تنخواہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے تعلیمی نظام کے معاشی استحکام سے متعلق معاملہ ہے۔ یہاں اعظم خان کا کردار بھی بحث طلب ہو جاتا ہے۔
وہ اُس وقت حکومت میں نہایت بااثر مقام رکھتے تھے اور رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کے قیام اور اس کے انتظامی معاملات ان کی سیاسی ترجیحات میں نمایاں تھے۔ یونیورسٹی کا قیام اپنی جگہ ایک اہم تعلیمی منصوبہ تھا لیکن یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ اگر حکومت میں ایک بااثر مسلم رہنما موجود تھا اور اس کے پاس فیصلہ سازی تک رسائی تھی تو مدارس کے اساتذہ کے وسیع تر مسئلے کے لیے بھی اسی شدت سے آواز کیوں نہ بلند ہوئی؟ یہ سوال صرف اعظم خان سے نہیں بلکہ اُس پورے سیاسی طبقے سے ہے جو انتخابات کے زمانے میں مسلمانوں کے حقوق کا علم اٹھائے نظر آتا ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے بعد بہت سے بنیادی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی سیاست کا ایک عجیب پیمانہ بنا لیا ہے۔ انتخابات آتے ہیں تو سوال ہوتا ہے کہ کس پارٹی نے کتنے مسلمانوں کو ٹکٹ دیا؟ کتنے مسلم امیدوار میدان میں ہیں؟ کس حلقے میں کون سا امیدوار جیت سکتا ہے؟ مگر انتخابی کامیابی کے بعد یہی سوال بہت کم پوچھا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا انہوں نے ہمارے تعلیمی اداروں، مدارس، اوقاف، روزگار، اسکالرشپ، تعلیمی حقوق اور انتظامی مسائل کے لیے کتنی مرتبہ اسمبلی میں آواز بلند کی؟ آج اتر پردیش میں مدارس پہلے ہی متعدد انتظامی اور مالیاتی چیلنجوں سے دو چار ہیں۔ مدرسہ جدید کاری اسکیم کے خاتمے کے بعد ہزاروں جدید مضامین کے اساتذہ کے مستقبل پر سوال اٹھا۔ 2026 میں بھی تقریباً 22 ہزار ایسے اساتذہ کے لیے متبادل انتظام کی بات سامنے آئی جو اس اسکیم کے خاتمے سے متاثر ہوئے تھے۔ ایسے ماحول میں مدارس کے اساتذہ کے تنخواہی نظام کو مزید غیر یقینی بنانا فطری طور پر تشویش پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مدرسہ کوئی صرف مذہبی عمارت نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاش کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک استاد جب مدرسے میں قرآن، حدیث، فقہ، عربی، فارسی، اردو یا دیگر مضامین پڑھاتا ہے تو وہ صرف ایک کلاس نہیں چلاتا بلکہ نسلوں کی علمی تربیت میں حصہ لیتا ہے۔ اگر ایسے استاد کی تنخواہ مہینوں تک رکی رہے تو اس کا اثر صرف اس استاد کے گھر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، علاج، خوراک اور پورا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس معاملے کو مذہبی جذبات کے بجائے انسانی اور آئینی حقوق کے زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ کسی مخصوص تعلیمی ادارے کے لیے الگ قانونی انتظام آئین کے مساواتی اصولوں سے متصادم ہوسکتا ہے تو اس کا جواب بھی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر کسی نظام میں مالیاتی بے ضابطگیاں ہیں تو ان کا علاج پورے ادارے کو غیر یقینی میں دھکیلنا نہیں بلکہ شفاف آڈٹ، ڈیجیٹل نظام، واضح قواعد، جواب دہی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی ہونا چاہیے۔
سرکاری دستاویزات میں بھی مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے معاملات کے لیے قواعد و ضوابط کا ایک باقاعدہ انتظام موجود ہے۔ یہاں حکومت کے ارادوں کے بارے میں ایک حساس سوال بھی اٹھتا ہے۔ کیا اس فیصلے کے پس پردہ مدارس کو بتدریج کمزور کرنے کی کوئی وسیع تر حکمتِ عملی ہے؟ اس کا جواب بغیر ٹھوس سرکاری دستاویز یا واضح پالیسی بیان کے قطعی طور پر ہاں میں دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن سیاسی مشاہدے کے اعتبار سے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جب کسی ایک کمیونٹی کے تعلیمی اداروں کے بارے میں مسلسل انتظامی سختی، قانونی تبدیلیاں، مالیاتی نگرانی اور اختیارات کی نئی تشکیل سامنے آئے تو متاثرہ طبقے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے سوال کرے کہ اس پوری پالیسی کا آخری مقصد کیا ہے۔ ویسے بھی مدارس کے حوالے سے گزشتہ عرصے میں متعدد اقدامات اور عدالتی و انتظامی تنازعات سامنے آئے ہیں۔ مدرسہ قانون کے حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی اہم قانونی بحث ہوئی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے مدرسہ تعلیمی نظام میں بعض تبدیلیوں کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے۔ حالیہ طور پر اترپردیش حکومت نے مدرسہ ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے کامل اور فاضل ڈگریوں کے معاملے میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان تمام اقدامات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر یہ کہنا کہ حکومت کا حتمی مقصد مدارس کو ختم کرنا ہے شاید قانونی اعتبار سے قبل از وقت نتیجہ ہو لیکن یہ بھی درست نہیں کہ مسلمان ہر سوال سے آنکھیں بند کرلیں۔ جمہوریت میں حکومت سے سوال کرنا دشمنی نہیں بلکہ شہری ذمہ داری ہے۔
اصل تشویش یہ ہے کہ اگر مدارس کے اساتذہ کے تنخواہی معاملات کسی واضح اور مضبوط قانونی تحفظ کے بغیر رہتے ہیں تو انتظامی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔ اگر تنخواہوں کی منظوری، دستاویزات کی جانچ یا مالیاتی کارروائی کے لیے غیر ضروری سرکاری مراحل باقی رہے تو ان مراحل میں تاخیر کا امکان بھی موجود رہے گا۔ جہاں شفافیت کم ہوتی ہے وہاں بدعنوانی کے امکانات بڑھتے ہیں۔ بعض علاقوں سے افسران کے خلاف شکایات سامنے آتی رہی ہیں لیکن کسی بھی ضلع کے تمام اقلیتی افسران کو بدعنوان قرار دینا بھی درست نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر رشوت یا غیر قانونی مطالبات کے واقعات ہیں تو ان کے ثبوت کے ساتھ قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ محض عمومی الزامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہاں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مدارس کی انتظامیہ، اساتذہ، ماہرینِ قانون اور مسلم عوام مل کر ایک مضبوط قانونی لائحہ عمل تیار کریں۔ حکومت سے مطالبہ ہونا چاہیے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کا ایسا شفاف، وقت بند اور ڈیجیٹل نظام بنایا جائے جس میں کسی افسر کی صوابدیدی مداخلت کم سے کم ہو۔ ہر مدرسے کی مالیاتی حیثیت، منظور شدہ اسامیاں، اساتذہ کی تعداد، تنخواہ اور ادائیگی کی تاریخ کا باقاعدہ ریکارڈ تیار ہو۔ اگر کسی افسر کو اعتراض ہے تو اسے تحریری شکل میں درج کرنا لازم ہو اور اعتراض کے ازالے کے لیے مقررہ مدت بھی طے کی جائے۔ دوسرا یہ کہ مسلمان صرف سیاسی نعروں پر اپنے نمائندوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ جو مسلم رکن اسمبلی اپنے حلقے سے ووٹ لے کر اسمبلی پہنچتا ہے اس سے یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ اس نے مدارس اور اقلیتی اداروں کے لیے اسمبلی میں کتنے سوالات اٹھائے؟ کتنی مرتبہ حکومت کو جواب دہ بنایا؟ کتنی مرتبہ متعلقہ وزیر سے ملاقات کی؟ کتنے تحریری مطالبات پیش کیے؟ کتنی قانونی لڑائیاں لڑی گئیں؟ صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ فلاں پارٹی نے کتنے مسلمانوں کو ٹکٹ دیا۔ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ جن مسلمانوں کو اقتدار کے ایوان میں پہنچایا گیا انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی مسائل کے لیے کتنا وقت اور توانائی صرف کی۔ تیسری ضرورت مسلم معاشرے میں قانونی شعور پیدا کرنے کی ہے۔ مدارس کو چاہیے کہ اپنے انتظامی ریکارڈ، اساتذہ کی تقرری، حاضری، تنخواہ، بینک ریکارڈ، سرکاری خط و کتابت اور تمام ضروری دستاویزات کو منظم رکھیں۔
ہر درخواست کی رسید محفوظ کی جائے، ہر سرکاری اعتراض کا تحریری جواب دیا جائے اور کسی بھی غیر قانونی مطالبے کی صورت میں قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے انتظامی دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ چوتھی ضرورت یہ ہے کہ مسلم قیادت کو محض انتخابی موسم کی قیادت بننے سے نکلنا ہوگا۔ جو شخص انتخابات سے پہلے مسلمانوں کے درمیان آکر خود کو مسیحا ثابت کرتا ہے اس سے انتخابات کے بعد بھی حساب مانگا جانا چاہیے۔ سیاست دانوں کے سامنے اجتماعی طور پر تحریری مطالبات رکھے جائیں، ان کے جوابات لیے جائیں اور پھر عوام کے سامنے ان کی کارکردگی رکھی جائے۔ اگر کوئی نمائندہ کام نہیں کرتا تو اگلے انتخابات میں اس سے سوال کرنا جمہوری حق ہے۔ پانچویں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مدارس کو بھی بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔ صرف حکومت سے شکایت کرتے رہنا کافی نہیں۔ مدارس کو اپنے تعلیمی معیار، انتظامی شفافیت، حسابات، جدید مضامین، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے بھی خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ایک ایسا مدرسہ جو انتظامی اعتبار سے مضبوط، مالی اعتبار سے شفاف اور تعلیمی اعتبار سے معیاری ہوگا، اسے کسی بھی سطح پر غیر ضروری طور پر نشانہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں کہ مدارس کے تحفظ کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سرکاری نگرانی کو دشمنی سمجھ لیا جائے۔ نگرانی اگر قانون کے مطابق، غیر جانب دار اور شفاف ہو تو اسے قبول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن نگرانی کے نام پر امتیازی سلوک، غیر ضروری تاخیر، بلاجواز رکاوٹ یا کسی بھی قسم کا غیر قانونی مطالبہ ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔ یہ وقت مسلمانوں کے لیے جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ قانونی، سیاسی اور انتظامی بیداری کا ہے۔
آج سماج وادی پارٹی کی سابق حکومت سے بھی سوال ہونا چاہیے کہ اگر یہ قانون اتنا اہم تھا تو اسے مؤثر بنانے کے لیے مکمل جد وجہد کیوں نہ کی گئی اور موجودہ حکومت سے بھی سوال ہونا چاہیے کہ اگر پرانے قانون میں آئینی یا انتظامی خامیاں تھیں تو ان کا متبادل کیا ہے؟ کیا حکومت ایسا نیا نظام پیش کرے گی جس کے تحت امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں مل سکیں؟ کیا اس نظام میں شفافیت ہوگی؟ کیا کسی افسر کو غیر ضروری اختیار نہیں دیا جائے گا؟ کیا اساتذہ کو اپنی تنخواہ کے لیے دفتروں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے؟ اور کیا حکومت اس پورے معاملے پر مسلمانوں اور مدرسہ انتظامیہ کے ساتھ باضابطہ مشاورت کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب حکومت کو دینے چاہییں۔ مسلمانوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف حکومت کو قرار دے کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ اگر ہمارے نمائندے خاموش ہیں تو انہیں خاموش رکھنے میں ہماری سیاسی بے حسی بھی شامل ہے۔ اگر انتخابات کے وقت ہم امیدوار کے کردار، کارکردگی اور قانون سازی کے بجائے صرف مذہبی شناخت دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں تو پھر انتخابات کے بعد احتساب کا اخلاقی حق بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ آج ضرورت ایسے نمائندوں کی ہے جو اسمبلی میں صرف اپنی پارٹی کی صف بندی کے مطابق ہاتھ نہ اٹھائیں بلکہ اپنے علاقے کے مسائل کو بھی ایوان تک لے کر جائیں۔ ایسے مسلم نمائندے جو مدارس کے اساتذہ کے مسائل کو محض انتخابی تقریر کا موضوع نہ بنائیں بلکہ قانون، بجٹ، سوالات، قراردادوں اور عدالتوں تک لے جائیں۔ مدارس کے اساتذہ کسی رعایت کے طلب گار نہیں بلکہ وہ اپنے جائز معاشی حق اور عزتِ نفس کے تحفظ کے خواہش مند ہیں۔ جو استاد بچوں کو علم دیتا ہے، اس کے گھر کا چولہا بھی وقت پر جلنا چاہیے۔
جو شخص نسلوں کو تعلیم دیتا ہے اسے اپنی تنخواہ کے لیے کسی دفتر کے دروازے پر بے بسی کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اتر پردیش میں مدارس کے حوالے سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتِ حال مسلمانوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے۔ اگر وہ اب بھی صرف انتخابی اعداد و شمار، ٹکٹوں کی تعداد اور سیاسی نعروں میں الجھے رہے تو آنے والے وقت میں مسائل مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر مسلمان قانونی شعور، سیاسی احتساب، تعلیمی اصلاح، انتظامی شفافیت اور اجتماعی جد وجہد کو اپنا شعار بنالیں تو کسی بھی حکومت کے لیے ان کے جائز حقوق کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، قوانین تبدیل ہوتے رہتے ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اقتدار سے باہر ہوتی رہتی ہیں؛ لیکن ایک قوم اگر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مستقل بیدار ہو تو اس کے مسائل کا حل ضرور نکلتا ہے۔
مدارس کے معاملے میں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ نہ محض حکومت کی مخالفت مسئلے کا حل ہے، نہ کسی سیاسی جماعت پر اندھا اعتماد۔ نہ ہر اقدام کو سازش قرار دینا دانش مندی ہے، نہ ہر حکومتی فیصلے کو خاموشی سے قبول کر لینا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر فیصلے کو قانون، آئین، انصاف اور عملی نتائج کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ آج مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں سے متعلق پرانے قانون کی واپسی نے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہے۔ اس آئینے میں صرف حکومت کا چہرہ نہیں، ہماری اپنی سیاسی قیادت کا چہرہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ صرف یوگی حکومت نے کیا کیا؛ سوال یہ بھی ہے کہ ہماری حکومتوں نے پہلے کیا کیا، ہمارے نمائندوں نے کیا کیا، ہمارے علما اور تعلیمی قائدین نے کیا کیا، اور سب سے بڑھ کر ہم نے خود اپنے اجتماعی حقوق کے لیے کیا کیا؟ اگر اس سوال کا جواب تلاش کرلیا جائے تو شاید آئندہ کسی قانون کی واپسی پر مسلمان صرف افسوس کرنے کے بجائے اس کے متبادل کا مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے اور یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے کہ مدارس کو سیاسی نعروں کا محتاج بنانے کے بجائے قانونی تحفظ، انتظامی شفافیت اور مضبوط تعلیمی نظام فراہم کیا جائے۔
حکومت اگر واقعی سب کے لیے یکساں انصاف کی دعوے دار ہے تو اسے مدارس کے اساتذہ کے ساتھ بھی ایسا ہی منصفانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ برتاؤ ثابت کرنا ہوگا اور اگر مسلمانوں کی قیادت واقعی مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے بھی انتخابی موسم کے علاوہ پورے پانچ سال میدان میں موجود رہنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جب مدارس کے اساتذہ کے حقوق پر فیصلہ ہو رہا تھا جب ایک اہم قانونی راستہ بند کیا جارہا تھا، جب ہزاروں خاندان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے، اُس وقت اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہمارے نمائندے کہاں تھے؟ الله خیر کرے۔ مگر صرف الله سے خیر کی دعا کافی نہیں۔ خیر کے لیے صحیح تدبیر، مضبوط قانونی جد وجہد، ببیدار سیاسی شعور اور مسلسل اجتماعی کوشش بھی ضروری ہے۔






