ہماری قوم کے بچوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، مناسب مواقع اور رہنمائی کی ضرورت ہے

ڈاکٹر نصیب علی چودھری

ڈاکٹر نصیب علی چودھری کا بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تعلیمی مشن کو مزید مستحکم بنانے کا عزم

نئی دہلی، ١١/اکتوبر:(نمائندہ)ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے کہا ہے کہ ہماری قوم کے بچوں میں صلاحیتوں، تخلیقی فکر اور ہنر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، تعلیمی ترقی اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے مناسب مواقع اور صحیح رہنمائی فراہم کی جائے۔

ہماری قوم کے بچوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، مناسب مواقع اور رہنمائی کی ضرورت ہے: ڈاکٹر نصیب علی چودھری

اگر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے یہ بات ایک خصوصی بیان میں کہی۔انہوں نے بتایا کہ 3 اکتوبر کو انہوں نے جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کے ایک دور دراز علاقے تولی بانا میں شاہین پبلک اسکول کے زیرِ اہتمام منعقدہ تعلیمی بیداری پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر طلبہ، ان کے والدین اور سماج کے معزز افراد نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ میں تعلیم کے تئیں بیداری پیدا کرنا، ان کے اندر خود اعتمادی کو فروغ دینا اور انہیں مستقبل کی تعمیر کے لیے ترغیب دینا تھا۔ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے پروگرام کو ایک بامقصد، حوصلہ افزا اور قابلِ ستائش کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں اس نوعیت کے تعلیمی پروگراموں کی خصوصی اہمیت ہے، کیونکہ ان کے ذریعے نہ صرف طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے بلکہ انہیں اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر شکیل صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی، جنہوں نے محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے دوران انہیں طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرنے، ان کے خیالات سننے اور ان کے عزائم کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ طلبہ کے جذبات، ان کے جوش و خروش اور ان کی آنکھوں میں مستقبل کے روشن خواب دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔ ان کے مطابق، بچوں کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش، کچھ نیا کرنے کا جذبہ اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا عزم اس بات کی علامت ہے کہ اگر انہیں صحیح سمت اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو عملی کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے کہا کہ تولی بانا جیسے دور دراز علاقوں کے طلبہ بھی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ان کی کامیابی کے راستے میں اصل ضرورت مناسب تعلیمی مواقع، معیاری رہنمائی، حوصلہ افزائی اور مثبت ماحول کی فراہمی ہے۔ محض وسائل کی کمی یا جغرافیائی دوری کسی بچے کی صلاحیتوں کے فروغ میں مستقل رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ اگر اساتذہ، والدین، تعلیمی ادارے اور سماج کے باشعور افراد مشترکہ طور پر ان بچوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں تو انہیں اپنی منزل تک پہنچنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی بیداری صرف اسکولوں تک محدود رہنے والی سرگرمی نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل سماجی ذمہ داری ہے۔ اس کے ذریعے بچوں میں تعلیم کی اہمیت کا شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اس بات کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق، کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہاں کے بچوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں اور ان کی صلاحیتوں کو مناسب انداز میں پروان چڑھایا جائے۔ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے کہا کہ طلبہ کی حوصلہ افزائی، ان کے سوالات کو اہمیت دینا، ان کی دلچسپیوں کو سمجھنا اور انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے رہنمائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنی بات کہنے، اپنے خیالات پیش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے مواقع دیے جائیں۔

ان کا ماننا ہے کہ آج کے یہ بچے ہی کل کے ذمہ دار شہری، باصلاحیت ماہرین، محققین، اساتذہ اور سماجی رہنما بنیں گے اس لیے ان کی تعلیمی و فکری نشوونما میں سرمایہ کاری دراصل قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے اپنے ہمراہ پروگرام میں شریک لیکچرر اشفاق صاحب اور لیکچرر طارق صاحب کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس موقع پر طلبہ سے تبادلۂ خیال کا تجربہ نہایت خوش گوار اور حوصلہ افزا رہا۔ بچوں کے خیالات اور ان کے مستقبل سے متعلق عزائم نے یہ احساس مزید مضبوط کیا کہ تعلیمی بیداری کی کوششوں کو مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ بھی وسیع تر تعلیمی دنیا سے جڑ سکیں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔اپنے بیان میں ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے امید ظاہر کی کہ تولی بانا میں منعقدہ یہ پروگرام طلبہ کے اندر تعلیم کے تئیں دلچسپی، خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کے جذبے کو مزید تقویت بخشے گا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد آج کے بچوں کی تعلیم، تربیت اور حوصلہ افزائی پر قائم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی بیداری کا یہ مشن ان شاء اللہ جاری رہے گا، تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں، ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے اور انہیں روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے مؤثر رہنمائی حاصل ہو۔

Leave a Reply