دینیات سیکھیں
تبصرہ نگار: اقدس عارف
مرتب: مفتی محمد صادق قاسمی مرزاپوری
دینیات سیکھیں بچوں اور عام لوگوں کے لیے دینی تعلیمات پر مشتمل ایک آسان، جامع اور موثر کتاب ہے، جس میں نہایت دلنشیں انداز سے دین کی تمام ضروریات کا احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ بچوں کی تعلیم، تربیت اور تادیب روز اول ہی سے اسلام کی اول ترجیح میں شامل رہا ہے، چنانچہ علامہ ابن خلدون اس بابت فرماتے ہیں کہ ”بچوں کو قرآن کی تعلیم شعائر اسلام میں سے ہے۔ پھر امت نے ہر دور میں اس پر عمل کیا ہے۔ (اولاد کی تربیت – قرآن وحدیث کی روشنی میں، از احمد خلیل جمعہ)

ہر دور میں علما نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مکاتب اور تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں، اور ان کے صاف دلوں پر ایمان و اسلام کے نقوش ثبت کرنے کی سعی پیہم کرتے رہے، اپنی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر یہ شعبہ روز اول ہی سے ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور حقیقتا مکاتب کی ترقی کو مسلمانوں کی علمی، دینی اور تہذیبی ترقی کا ضامن سمجھا جاتذ رہا ہے، مسلمانوں کے جس خطہ میں مکاتب کی تعلیم جتنی مضبوط ہوتی ہے وہاں کے مسلمان اتنی ہی ایمانی غیرت و حمیت اور علم و آگہی سے متصف ہوتے ہیں۔
دورِ جدید میں حیرت انگیز تغیر و تبدیلی کے سبب نصاب تعلیم کو جدید طرز پر مرتب کرنے کی بڑی ضرورت محسوس کی گئی، علماے کرام مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ کم سے کم وقت میں طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مفید معلومات فراہم کی جاسکیں۔
مفتی محمد صادق صاحب قاسمی (استاذ عربی، و ناظم تعلیمات: مدرسہ مدینۃ العلوم اکلہ خانپور میرٹھ) ایک حساس عالم دین ہیں جو بچوں کی تربیت سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، لاک ڈاؤن میں انہوں نے اپنا گھر مکتب میں تبدیل کردیا تھا، جو ان کی فکری مندی کو ظاہر کرتا ہے، نیز وہ اپنے مدرسے میں تعلیمات کے نگران بھی ہیں، انہوں نے بچوں کی ضرورت کے پیش نظر بہت محنت اور لگن کے ساتھ یہ نصاب مرتب کیا ہے۔ اس کے مندرجات نہایت اہم، ترتیب بہت شاندار، اور اسلوب آسان ہے، جو بچوں کے نصاب میں داخل کیے جانے کے لیے نہایت موزوں کتاب ہے۔
دینیات سیکھیں بنیادی طور پر چار حصوں پر مشتمل ہے اور ایک تکملہ بھی شامل کیا گیا ہے، ہر ایک حصہ مستقل ایک کتاب ہے، تاہم چاروں حصوں کو ایک ہی جلد میں یکجا کردیا گیا ہے، مرتب نے کتاب کے چاروں حصوں میں آٹھ موضوعات پر بتدریج مواد جمع کیا ہے، (1)عقائد (2) طہارت (3) عبادت (4) مسنون دعائیں (5) چہل حدیث (6) سیرتِ محبوب ﷺ (7) سیرتِ خلفاء اربعہ (8) سنن و آداب۔ چاروں میں ان موضوعات کو درجہ بہ درجہ بیان کیا گیا ہے۔
پہلا حصہ آسان اور بنیادی دینی معلومات پر مشتمل ہے، جو بالکل ابتدائی طلبہ کے لیے مرتب کیا گیا ہے، اس حصہ میں ایمانیات کی موٹی موٹی عام فہم باتیں شامل ہیں، ایمانیات، طہارت اور نماز کے فرائض اور رکعتوں کی تعداد پر ہی اکتفا کیا گیا ہے، سنن و مستحبات کو اگلے حصہ کے لیے چھوڑ دیا ہے، کتاب کے آخر کا حصہ دو دلچسپ عنوان پر مشتمل ہے، اپنے محبوب کو پہچانیے! اور اپنے خلفاء کو پہچانیے! کے تحت سوال و جواب کی شکل میں معلومات جمع کی ہیں، جو کہ بچوں کے لیے بہت دلچسپ اور معلومات افزا ہے، اور آخر میں اسلامی آداب و تعلیمات کو بیان کیا ہے۔
باقی حصوں میں بھی یہی ترتیب برقرار رکھی گئی ہے، لیکن چونکہ اگلے حصے وہی طلبہ پڑھیں گے جو پہلا حصہ پڑھ چکے ہوں، لہذا اس میں قدرے بلند سطح کی معلومات جمع کی گئی ہیں، مثلاً دوسرے حصے میں طہارت کے ضمن میں وضو کی سنن و مستحبات، جب کہ عبادات کے ضمن میں نماز کے سنن و مستحبات اور نمازِ جنازہ کے مسائل بھی شامل کیے گئے ہیں۔ تیسرے حصہ میں خفین پر مسح اور تیمم کے ضروری مسائل نیز عیدین کے متعلق بنادی مسائل ہیں، اور چوتھے حصے میں نجاست کی پاکی کے طور طریقوں کے علاوہ نوافل نماز مثلا تہجد، اشراق، چاشت وغیرہ کے متعلق احکام ہیں، اسی حصہ میں زکوٰۃ، صدقہ فطر، اور قربانی وغیرہ کے مسائل بھی شامل ہیں۔ ہر حصے میں ایک سبق دس احادیثِ شریفہ پر مشتمل ہے۔ کتاب کے تکملے میں جمعہ اور عیدین کے خطبات کے علاوہ بچوں کے لیے مناسب اسلامی نام بھی درج کیے گئے ہیں۔
گویا یہ اس کتاب کے مختصر سے چار حصوں میں دین کی تمام ضروری معلومات جمع کردی گئی ہے، کتاب کی ترتیب سبق در سبق ہے، اکثر مسائل پر نمبر ڈالنے کا اہتمام کیا گیا ہے، اور ہر پانچ سبق کے بعد مشقی سوالات ہیں، جو درس و تدریس کے لیے بے حد مفید ہے۔
کتاب کی زبان انتہائی آسان اور ترتیب نہایت دلنشیں ہے، کہیں بھی کسی طرح کوئی پیچیدگی نہیں ہے، طباعت اعلی اور ورق مناسب ہے، سرِ ورق دیدہ زیب ہے۔ نیز کتاب کتاب دو اکابر حضرت محمد راشد صاحب اعظمی (استاذ حدیث: دار العلوم دیوبند) کا توثیقی کلمات اور مفتی محمد نعیمی مظاہری (صدر المدرسین: جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ سہارنپور) کی تقریظ سے مزین ہے۔

کتاب مدارس و مکاتب کے بچوں کے لیے لکھی ہے، اور اپنی جامعیت کے باعث ہاتھوں ہاتھ لی گئی، تیس سے زائد مدارس و مکاتب میں داخلِ نصاب ہونے کا شرف حاصل کر چکی ہے، اور بہت جلد ایک ایڈیشن ختم ہوچکا، دوسرے ایڈیشن میرے سامنے ہے، جو کتاب کی مقبولیت کی علامت ہے۔
کتاب کے مطالعے سے یہ احساس ہوا کہ اس کتاب کو مکتب کے بچوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ یہ ہر گھر کی ضرورت ہے، گھر کے نا خواندہ افراد اس کا مطالعہ کریں، جو عورتیں دین سے نا آشنا وہ گھر کی کسی عورت سے سبقا سبقا پڑھ سکتی ہیں، مساجد میں ائمہ حضرات ایسی کتابوں کی تعلیم کے لیے ہفتہ میں ایک دو دن مختص کرسکتے ہیں، جو نواجوان ناواقف ہوں ان کو درسا درسا پڑھائی جاسکتی ہے، اگر مرتب اس کتاب کو ہندی جیسی دوسری زبانوں میں بھی منتقل کرنے کا اہتمام کریں تو اس کا دائرۂ استفادہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ کتاب کی افادیت کے پیشِ نظر اسے اپنے متعلقین کو ہدیے میں دینا چاہیے، کتاب سے بڑھ کیا ہدیہ ہوسکتا ہے۔
مرتب اس قابلِ قدر علمی و تعلیمی کاوش پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور انہیں بہترین جزا سے نوازے۔ آمین!






