خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۶ )

(مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی

چھٹاپارہ،’’لایحب اللہ ‘‘سے شروع ہے۔اس کی ابتدائی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی انسان میں کوئی برائی ہو ، تو اس کے خلاف زور زور سے بولنا اور اس کی تشہیر کرنا ،اللہ کو پسند نہیں ہے ۔ہاں، مظلوم ظالم کے خلاف آواز بلند کر سکتا ہے۔ پھر کہا گیا کہ جو لوگ اللہ کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں، اور بعض کو نہیں مانتے ہیں، وہ ایمان اور کفر کے درمیان کوئی تیسری راہ نکالنا چاہتے ہیں ،ایسے لوگ کافر ہیں ،یہ اجر کے مستحق نہیں ہوں گے، اجر کے مستحق وہ مومن ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے ہیں ۔پھر قوم یہود کو ان کی ماضی یاد دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہود کہتے ہیں کہ اگر یہ اللہ کے رسول سچے ہیں، تو ہم پر آسمان سے ایک کتاب ایسی کیوں نہیں نازل نہیں ہوتی کہ ہم اپنی انکھوں سے دیکھ لیں ۔اللہ نے کہا کہ اے نبی! آپ ان کی فضول باتوں سے پریشان نہ ہو، یہ تو حضرت موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی فرمائش کر چکے ہیں، پھر ان کی ان نافرمانیوں کا ذکر کر کے بتایا کہ یہ وہی لوگ ہیں ،جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی ۔حضرت مریم پر بہتان لگایا ،نبیوں کو قتل کیا وغیرہ۔ سرکشی ان کی شرست سے میں داخل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی، جیسے حضرت نوحؑ، ابراہیمؑ، اسمٰعیلؑ، اسحٰقؑ، یعقوبؑ وغیرہ نبیوں پر وحی بھیجی۔ آپ کی نبوت کی شہادت اللہ اوراس کے فرشتے دے رہے ہیں ،اس لئے آپ کی نبوت کے منکر گمراہ ہیں، یہ کبھی بھی نہیں بخشے جائیں گے، نہ یہ کبھی منزل مقصود تک پہنچیں گے۔ آپ آخری رسول ہیں، سب لوگوں کی نجات آپ پر ایمان لانے میں ہے ۔پھر نصاریٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ اے نصرانیو! دین میں غلو نہ کرو ،حضرت مسیح کو اللہ کا بیٹا نہ کہو، وہ تو اللہ کے رسول ہیں۔ اے لوگو! نبی برحق اللہ کا پیغام لے کر آگئے ہیں، ان پر ایمان لے آؤ، تمہارے لئے بھلائی اسی میں ہے، اس کے بعد اس کی وضاحت کی گئی کہ مسیح علیہ السلام اور فرشتوں کو اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہلانے میں کوئی عار نہیں، مگر تم اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہنے میں شرم محسوس کرتے ہو ، ایمان والے اور اچھے کام کرنے والے اللہ کے یہاں بڑا اجر پائیں گے۔ اللہ کی عبادت سے رو گردانی کرنے والے اور تکبر کرنے والے دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے ، قران تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل اور نور بن کر آ گیا ہے۔ اس پر ایمان لانے والے اور اس کو مضبوطی سے تھامنے والے اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے۔ پھر میراث کی تقسیم کا طریقہ بتایا گیا ہے۔

خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۶ )
خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۶ )

اس کے بعد سورہ مائدہ شروع ہے ،اس میں لفظ المائدہ آیا ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام مائدہ ہے، اس کی ابتدائی آیتوں میں مسلمانوں کو اللہ کے احکام کی تعمیل اور عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر اہل ایمان کو شعائر اسلام کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے۔ پھر حکم دیا گیا کہ نیکی اور تقویٰ کے کام میں ایک دوسرے کی مدد کرو اورگناہ و سرکشی کے کاموں میں کسی کا تعاون نہ کرو۔ پھر اللہ نے اعلان کیا کہ میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ہے ۔پھر بتایا گیا کہ تمہارےلئے تمام پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال ہے، ان کی عورتوں سے نکاح بھی کر سکتے ہو، پھر یہ تعلیم دی گئی کہ نماز سے پہلے وضو کر لو۔ پانی نہ ملے تو تیمم کر لو، اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں تنگی میں نہ ڈالے، تم پر اللہ کی نعمت پوری ہو چکی ہے، اس لئے تم پر فرض ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرو اور استقامت کے ساتھ اللہ کے احکام پر عمل کرو، سب کے ساتھ اچھا سلوک کرو، عدل و انصاف سے کام لو، اللہ سے ڈرو اور اس پر بھروسہ کرو۔پھر اس کا تذکرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان پر بارہ نقیب مقرر کئے اور اللہ نے کہا کہ میری مدد تمہارے شامل حال ہوگی، بشرطیکہ تم نماز قائم کرو ،زکوٰۃ ادا کرو ،میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی مدد کرو، مگر انہوں نے عہد توڑ دیا ،تو لعنت میں گرفتار ہوئے اور اس کے دل سخت ہوگئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یاد دہانی کرائی کہ اللہ نے ان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ۔حکومت بھی عطا کی ،ان کے فتح کے وعدے کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا، مگر انہوں نے بزدلی دکھائی اور کہنے لگے کہ وہاں زبردست لوگ ہیں جو اس پر قابض ہیں ،ہم اس وقت تک اس میں داخل نہیں ہوں گے ،جب تک وہ نکل نہ جائیں ،اس سزا میں وہ چالیس سال تک صحرائے سینا میں بھٹکتے رہے۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا واقعہ یاد دلایا گیا ہے کہ انہوں نے قربانی پیش کی۔ ایک کی قربانی قبول نہ ہوئی تو اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا ،یہ انسانیت میں پہلا قتل تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے سد باب کے لئے یہ قانون بنا دیا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل شمار ہوگا ،پھر حکم دیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑیں اور ملک میں فساد برپا کریں ،ان کی سزا یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا انہیں سولی دی جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں ،یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔ پھر اس کے بعد چوری کی سزا کا تذکرہ ہے کہ جو چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی کہ آپ ان لوگوں کی حرکتوں سے غمزدہ نہ ہوں جو کفر میں دوڑ دھوپ کرنے والے ہیں ۔زبان کے مومن اوردل کے کافر ہیں اور کافروں کی جاسوسی بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں ،یہ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ہیں ،یہ آپ کے پاس کوئی مقدمہ لائیں تو آپ انصاف کے ساتھ اس کا فیصلہ کر دیں، اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

اس کے بعد یہود کی ملامت کی گئی ہے کہ تمہاری بدبختی ہے کہ تم جس کتاب کے امین بنائے گئے ہو ،اس کے احکام کے مطابق اپنے معاملات میں فیصلہ کرانے سے تم گریز کرتے ہو ۔پھران احکام کا ذکر ہے ،جن پر نہ وہ خود عمل کرتے تھے، نہ اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ۔پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، جو ان کا اپنا دوست بنائے گا، اس کا شمار انہیں میں ہوگا، وہ منافق ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ لوگ غالب آگئے ،تو پھر ان کا معاملہ خراب ہو سکتا ہے، حالانکہ انہیں سوچنا چاہیے کہ اسلام کے غلبہ کے بعد ان کا سارا معاملہ ظاہر ہو چکا ہے ،یہ کبھی غالب نہیں ائیں گے۔

پھر منافقین کی مذمت کی گئی کہ یہ یہود کو اپنا دوست بناتے ہیں جو اپنی مجلسوں میں اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں، جب انہیں نماز کے لئے بلایا جاتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتے ہیں، یہود کو آخرت میں پتہ چلے گا کہ اللہ کے نزدیک انجام کے اعتبار سے سب سے بُرا کون ہے، یہ لوگ دھوکہ باز ہیں، زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کا دل کفر سے بھرا ہوا ہے، ان کے اکثر لوگ گناہ اور سرکشی میں مبتلا ہیں ،یہ لوگ سود کھاتے ہیں، ان کے علماء بے غیرت ہیں ،یہ انہیں بُرے کاموں سے منع نہیں کرتے ہیں۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ بے خوف ہو کر اہل کتاب کو دین کی دعوت دیں اور ان سے کہہ دیں کہ اےاہل کتاب! جب تک تم توریت، انجیل اور قران کے احکام کو قائم نہ کرو گے،تب تک تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ یہود کے پاس ہمیشہ رسول آتے رہے، مگر انہوں نے رسولوں کی بات نہ مانی اور ہمیشہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے رہے ،یہی حال عیسائیوں کا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ان کو اللہ کا بیٹا بنا لیا ، حالانکہ وہ بھی انسان تھے ، کھاتے پیتے تھے۔

پھر بنی اسرائیل پر لعنت کی گئی کہ کیونکہ وہ نافرمان اورحد سے بڑھنے والے ہو گئے تھے، یہ بے حس ہو چکے تھے، ایک دوسرے کو برائیوں سے نہیں روکتے تھے۔ آج بھی ان کی دوستی مشرکوں کے ساتھ ہے، اگر ان کا اللہ اس کے رسول پر ایمان ہوتا تو وہ کافروں سے دوستی نہیں کرتے، پھر یہ بتایا گیا کہ یہود اور مشرک مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، اس لئے ان سے ہوشیار رہو۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply