خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۸)

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

آٹھواں پارہ،’’ولواننا ‘‘سے شروع ہے۔ساتویں پارہ کے آخر میں مشرکین کے مطالبہ کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی معجزہ آجائے ،تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس پارہ میں اس کی تردید کی گئی کہ یہ مشرکین جھوٹ بولتے ہیں ،اگر ان کے پاس معجزہ آ جاتا ،یہاں تک کہ قبروں سے مردے زندہ ہو کر ان سے باتیں کرتے ،تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی کہ آپ ان کی مخالفت اور ان کے انکار سے پریشان نہ ہوں ،ہر نبی کے ساتھ ایسے لوگوں نے ہمیشہ یہی رویہ اختیار کیا ہے ۔جہاں تک آپ کی نبوت کے اثبات کے لئے معجزہ کی بات ہے، تو اللہ نے آپ کو بہت سے معجزہ سے نوازا ہے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے، کیونکہ کافر اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور مسلمان کے پاس ایمان کی روشنی ہے، جس کی وجہ سے وہ ہدایت کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ نافرمان لوگوں نے ہمیشہ حق کی مخالفت کی ہے، لیکن اللہ جس پر مہربان ہوتا ہے ،اس کا سینہ اسلام کو قبول کرنے کے لئے کھول دیتا ہے ،یہی سیدھا راستہ ہے ،اس پر چلنے والے سلامتی تک پہنچیں گے ۔پھر اس کے بعد بیان کیا گیا کہ آخرت میں گمراہ انسان اور جنات سے دریافت کیا جائے گا کیا تمہارے پاس ہمارے نبی اور رسول نہیں آئے تھے؟ ، اس دن یہ لوگ اقرار کریں گے ،نبی اور رسول آئے تھے، مگر ان لوگوں نے ان کا انکار کیا۔ پھر قریش مکہ کو سمجھایا گیا کہ ابھی بھی وقت ہے تم سنبھل جاؤ ،ورنہ جس عذاب کی تم کو دھمکی دی جا رہی ہے ،وہ عذاب آ کر رہے گا ۔ پھر کفار و مشرکین کے چند غلط رسم و رواج کی تردید کی گئی ہے کہ مشرکین نے کھیتی باڑی کے کئی قسم کے جانوروں کو حرام ٹھہرا لیا تھا ۔ وہ اپنے باطل معبودوں کو راضی کرنے کے لئے انسانی جانوں کی بھی قربانیاں دیتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی اور اس کو غلط قرار دیا اور یہ کہا کہ ملت ابراہیم میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے ۔پھر اس کے بعد حرام چیزوں کو بیان کر کے کہا گیا کہ اسلامی شریعت میں مردار جانور، خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے جانے والے جانور حرام ہیں ،لیکن اگر اضطراری حالت ہو جائے تو مجبوری میں جان بچانے کے لئے کوئی ان میں سے کھا لے تو اللہ اس کو معاف کر دے گا ۔

خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۸)
خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۸)

مشرکین کے عقائد اور ان کے دعوؤں کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے اعلان کر دیا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ،والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ،بے حیائی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ، کسی کو ناحق قتل نہ کرو ،یتیم کا مال نہ کھاؤ ،ناپ تول میں کمی نہ کرو، ہمیشہ انصاف کی بات کرو ،خواہ آپ کےرشتہ داروں کے خلاف ہو، اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرو، یہی سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو ،اس کے علاوہ دوسرے غلط راستے پر نہ چلو۔ پھر یہ بھی اعلان کر دیا کہ قرآن مبارک کتاب ہے، اس کی پیروی کرو ،تم پر یہ کتاب اتمام حجت کے لئے نازل کی گئی ہے، تاکہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم پر کتاب نازل ہوئی تو ہم ایمان لے آتے ،اب یہ کتاب آگئی ہے، تم اس پر ایمان لے آؤ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کہہ دیا کہ میرے رب نے مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، اس میں کوئی کجی نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ یہی رہا ہے ،انہوں نے اعلان کردیا کہ میرا مرنا ،میری قربانی، میرا جینا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے ، مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اسی راستے پر چلوں ، پھر فرمایا جن لوگوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ در گروہ ہو گئے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

    اس کے بعد سورۂ الاعراف شروع ہے اس سورت میں کسی جگہ اعراف کا ذکر آیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام الاعراف ہے ،ویسے اعراف جنت اور جہنم کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ اس سورت میں تمام اقوام عالم کو قرآن کی دعوت دی جا رہی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس عظیم کتاب قرآن کریم کو آپ پر نازل کیا گیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو کفر اور ان کے برے اعمال سے باخبر کریں۔ پھر بنی آدم کو خطاب کر کے کہا کہ اے لوگو! اللہ کی طرف سے جو ہدایت تمہارے پاس پہنچی ہے ،اس کی پیروی کرو اور اللہ کو بتائے ہوئے طریقہ کو چھوڑ کر اپنے من گھڑت معبودوں کی پیروی نہ کرو۔ پھر ان آبادیوں کا ذکر کیا گیا ،جن کو وہاں کے لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا ۔ پھر اس کے بعد حضرت آدمؑ کی تخلیق اور ابلیس کی نافرمانی اور زمین پر اتارنے کا ذکر ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی نافرمانی سے دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔پھر اولاد آدم کو یہ بتایا گیا کہ بے حیائی اور عریانی شیطان کا عمل ہے ،اس لئے لباس کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ یہ لباس جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے، یہ تمہارے لئے زینت اور خوبصورتی کا سبب بھی ہے اور تمہارے لئے ستر چھپانے کا ذریعہ بھی ہے اور تقویٰ والا لباس سب سے بہتر ہے ۔آگے کہا گیا کہ شیطان نے جس طرح تمہارے ماں باپ کے لباس کو اتروا دیئے، اسی طرح تمہیں بھی بہکا کر ننگا کر دینا چاہتا ہے، اس لئے اس سے بچو۔ پھر انسانوں کے کام پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا گیا کہ لوگ بے حیائی کا کام کرتے ہیں اور دلیل میں یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کیا کرتے تھے اور ہمارے لئے اللہ ہی کا حکم یہی ہے، حالانکہ اللہ نے کبھی ایسا حکم نہیں دیا ،یہ لوگ اللہ کی طرف غلط باتوں کی نسبت کرتے ہیں ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ کفار و مشرکین سے کہہ دیں کہ جو چیزیں حلال ہیں، ان کو حرام نہ کرو، بے حیائی حرام ہے، اللہ کی نافرمانی حرام ہے، لوگوں پر ظلم کرنا حرام ہے، خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا حرام ہے ان سے بچو، آخرت کا خیال رکھو۔

اس کے بعد جنت ،دوزخ اور اعراف کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ مومن اور اہل ایمان نیکی کرنے والے جنت کے مستحق ہوں گے ،اہل جنت کے دلوں کو صاف ستھرا کر دیا جائے گا، وہ مزے سے رہیں گے۔ کچھ لوگ جنت اوردوزخ کے درمیان اعراف میں ہوں گے ،وہ اہل جنت کو سلام کریں گے، جنت میں جانے کے امیدوار ہوں گے، وہ اہل دوزخ کی طرف دیکھ کر کہیں گے کہ اے اللہ! ہمیں ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر، اعراف والے دوزخ والوں کو پہچان کر سوال کریں گے کہ تمہاری طاقتیں کہاں ہیں؟ جنہیں تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے وہ جنت میں بے خوف بیٹھے ہیں۔ دوزخ والے اہل جنت سے کھانا اور پانی مانگیں گے، تو جنت والے ان سے کہیں گےکہ یہاں کی نعمتیں تم پر حرام ہیں ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ذکر کیا کہ اسی نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ،پھر عرش پر متمکن ہوا، دن، رات، چاند، سورج اور ستارے سب اسی کے حکم سے چل رہے ہیں، اس لئے اسی سے دعائیں مانگو، اس کی رحمت نیک لوگوں کی قریب ہے ، پھر نبیوں کی دعوت کاذکر کیا گیاہے، قوم نوح، قوم عاد ، قوم ہود، قوم ثمود، قوم صالح، قوم لوط، قوم مدین اور قوم شعیب کا ذکر کر کے کہا گیا کہ سب نبی اپنی قوم میں پیدا ہوئے اور اللہ نے ان کو نبی اور رسول بنایا ،سبھوں کا پیغام ایک ہی تھا، ایک اللہ کی عبادت کرو ،اس کے بعد حضرت شعیب اور ان کی قوم کا تذکرہ کر کے حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو، تمہارے پاس اللہ کی نشانیاں پہنچ چکی ہیں، ناپ تول میں کمی نہ کرو، ملک میں اصلاح کے بعد فساد پیدا نہ کرو ،ہر راستہ میں بیٹھ کر لوگوں کو راہ حق سے نہ روکو ،یاد کرو تم تعداد میں کم تھے، اللہ نے تمہاری تعداد میں اضافہ کر دیا، پھر بھی ایک گروہ میری رسالت پر ایمان نہ لایا ،صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے ۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply