خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۴)

(مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی

چودھواں پارہ:’’ربما‘‘ سے شروع ہے ،اس کی ابتدائی آیتوں میںقرآن کی عظمت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن قرآن مبین ہے، یہ انسانی زندگی کے ہر راستے کی رہنمائی کرتا ہے اور ہر وہ راستہ جو منزل تک پہنچتا ہے ،سبھی کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔اس کے باوجود کچھ لوگ اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا پرستی میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر موت اور حشر کا بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ موت اور حشر کے بعد جب مسلمان جنت میںاور کفار جہنم میں چلے جائیں گے اور ہر دن ان کے کفر کی وجہ سے عذاب میں ترقی ہوتی رہے گی، تو کفار یہ تمنا کریں گے کہ اے کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے ، پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ کی شان میں منکرین کی چندگستاخیوںکا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، پہلے بھی جو رسول آئے، ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا جاتا رہا ہے۔ ایسے لوگ اگر کائنات کے نظام پر غوروفکر کریں تو ایمان لے آئیں گے۔

خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۴)
خلاصۂ قرآن کریم (پارہ ۱۴)

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ذکر یعنی قران کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ،اس لئے قرآن کے الفاظ اور معنی قیامت تک کے لیے محفوظ ہو گئے ہیں۔ پھر گزشتہ قوموں کے حالات بیان کئے گئے ہیں کہ ان کے پاس بھی رسول بھیجے گئے ،تو ان لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور وہ دن کی روشنی میں اس میں چلے پھریں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے اور ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ذکر کیا ہے کہ ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ان کو دیکھنے والوں کے لئے مزین کر دیا ہے اور شیطان مردود سے اس کو محفوظ کر دیا ہے۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے پیدا کیا ،پھر اس میں روح کو ڈالا۔ پھر شیطان کی تخلیق کا ذکر ہے اورشیطان اور جنات کی اتباع کرنے والوں کا انجام کو بیان کیا گیا ہےکہ ان پر بدلہ کے دن تک لعنت ہوتی رہے گی۔ اس کے بعد اہل جنت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں میں ہوں گے، جنت میں ان کے لئے باغات اور چشمے ہوں گے۔ اہل جنت کے دلوں میں کوئی کدورت ہوگی ،تو اس کو دور کر دیا جائے گا اور وہ بھائی بھائی بن کر رہیں گے ۔پھر ان فرشتوں کا ذکر ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان بن کر آئے تھے اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوایک صاحب علم اولاد کی بشارت دی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے ان کے مقاصد کو معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم قوم لوط کو تباہ و برباد کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے حضرت لوطؑ کو اہل ایمان کے ساتھ گاؤں سے نکل جانے کا حکم دیا۔ جب وہ نکل گئے تو صبح ہوتے ہوتے اس بستی کا وجود ہی ختم ہو گیا ،وہ بستی تباہ و برباد کر دی گئی۔

اس کے بعد قوم ثمود کا ذکر ہے ،یہ قوم حجر کی وادی میں آباد تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا ۔انہوں نے اپنی قوم کو دعوت دی، لیکن ان کی قوم کے لوگوں نے ان کو جھٹلایا، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک خوفناک آواز کے لئے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے کہا گیا کہ اے رسول! ہم نے آپ کو ایسی سورت عطا کی ہے جو بار بار پڑھی جاتی ہے، اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ آپ اعلانیہ طور پر تبلیغ کا کام کیجئے ،کفار و مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے۔ پھر یہ حکم دیا کہ آپ پوری زندگی عبادت کریں ،یہاں تک کہ آپ کی وفات آ جائے۔

اس کے بعد سورہ نحل شروع ہے۔ نحل کے معنی شہد کی مکھی کے ہیں، اس سورت میں شہد کی مکھی کا ذکر ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ نحل ہے۔ اس کی ابتدائی آیتوں میں کفر و شرک کی روش پر چلنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کے بُرے انجام سے باخبر کیا گیا ہے۔ انسان کی حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ وہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے جو نہایت ہی حقیر اور بے قدر ہے ،لیکن اللہ نے اس سے انسان کو پیدا کیا ،اس کو قوت گویائی اوردوسری صلاحیتیں دیں۔ انسان اس ذات کےشکر کے بجائے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہےکہ اس نے انسانوں کے فائدے کے لئے جانوروں کو پیدا کیا ہے، اس سے اون حاصل ہوتا ہے، جس سے کپڑے بنائے جاتے ہیں اور اس کے کھال سے دیگر سامان بنائے جاتے ہیں، اس کا گوشت کھانے کے کام میں آتا ہے۔ پھر مزید کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے گھوڑے، خچر اور گدھے کو پیدا کیا تاکہ سواری اور زینت کے کام آئے ۔ان انعامات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں سے فائدہ حاصل کرے اور اللہ کا شکر ادا کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید نعمتوں کا ذکر کیا کہ اللہ ہی نے انسانوں کے لئے سمندر کو مسخر کر دیا تاکہ تم اس میں مچھلیوں کا شکار کرو، اس سے زیورات کے سامان نکالو ،اس میں کشتیوں اور جہازوں کو چلاؤ، تجارت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاؤ، اسی سے آسمان ستارے اور دیگر نعمتوں کو پیدا کیا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔

اس کے بعد متکبرین کا ذکر ہے کہ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو وہ کہتے ہیں ،یہ پچھلے لوگوں کی من گھڑت کہانیاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے جو ان کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔ اس کے بعد تقویٰ اختیار کرنے والے لوگوں کا بیان ہے کہ جب متقی لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے خیر کی بات نازل کی ہے ،پھر ان کے انجام کو بیان کیا گیا کہ ان کے لئے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں بھی تو ان کے لیے بہتر ہی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

منکرین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار اس وجہ سے کرتے تھے کہ آپ بشر اور انسان میں اللہ تعالی نے انہیں سمجھایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول بھیجے، وہ سب بشر اور انسان ہی تھے ،اگر تمہیں اس کا علم نہیں تو اہل علم سے پوچھ لو ،پھر یہ بتایا کفار و مشرکین کا حال ہے کہ وہ خود اپنے لئے بیٹی ہونے کو پسند نہیں کرتے ہیں، مگر اللہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ فرشتے ان کی بیٹیاں ہیں یہ کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت کا سامان ہے، تم اسے نصیحت حاصل کرو، پھر اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کا ذکر کیا اور کہا کہ اللہ ہی نے ان کو چھتہ بنانے کی تعلیم دی، پھر اس کو یہ بھی بتایا کہ وہ چھتہ کو پہاڑوں یا درختوں پر بنائے تاکہ وہ صاف رہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ شہد میں لوگوں کے لئے شفاء ہے ۔پھر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ آسمانوں اور زمین کے غیب کی تمام باتیں صرف اللہ کے علم میں ہیں، اللہ کے سوا غیب کا علم اور کسی کو نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ قیامت کے دن ہر امت کے نبی میں سے ایک گواہ لائے جائیں گے، وہ گواہ ہر امت کے نبی ہوں گے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لائے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی امت پر گواہی دیں گے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عدل و احسان اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور بے حیائی ،نا شائستہ کاموں اور ظلم و زیادتی سے منع کیا ہے۔ پھر عہد پورا کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ جب تم قرآن کی تلاوت کرو تو اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم پڑھو ۔پھر ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ نے حرام کیا ہے ،وہ ہے مردار، خون،سور کا گوشت اور وہ جانور جن پر اللہ کے نام کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو، مگر اضطراری حالت اس سے مستثنیٰ ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ حکمت اورموعظت حسنہ کے ذریعہ دین کی دعوت دیں اور دیگر بحث کی ضرورت پڑے تو اس طرح بحث کیجئے جو زیادہ بہتر ہو ۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply