امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے علمی ورثے کی حفاظت کی تاریخی کوشش

’’کلیاتِ مولانا ابوالکلام آزاد‘‘ کی پہلی دو جلدوں کی رسمِ رونمائی، الہدی ریسرچ پبلیکیشنز کی شاندار علمی کاوش

تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما اور معمارِ ہند مولانا ابوالکلام آزاد صرف ایک مدبر سیاسی رہنما اور ملی قائد ہی نہیں تھے، بلکہ وہ برصغیر کی تاریخ کے ایک ایسے منفرد مصنف، بے باک صحافی اور بلند پایہ نثر نگار ہیں جنہوں نے مختلف علوم و فنون پر خامہ فرسائی کی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم علمی ورثہ چھوڑا۔ ۲۰ویں صدی کے آغاز میں انہوں نے ‘الہلال’ اور ‘البلاغ’ کے ذریعے نصف صدی سے جاری انگریزوں کی غلامی کے خلاف ایسا صور پھونکا کہ چاروں طرف آزادی کے نغمے گونجنے لگے۔ الہلال اور البلاغ محض اخبار نہیں تھے، بلکہ وہ سیاست، سماجیات، اسلامیات، ادب اور ثقافت کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا تھے۔

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے علمی ورثے کی حفاظت کی تاریخی کوشش

چونکہ مولانا آزاد کی شخصیت ہمہ جہت تھی، اس لیے ان کے علمی آثار اور تحریریں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ تحریکِ آزادی کی مصروفیات اور زمانے کی دستبرد کے باعث ان تحریروں کو یکجا کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اب، مولانا آزاد کے انتقال کے تقریباً سات دہائیوں بعد، ‘الہدی ریسرچ پبلیکیشنز’ نے (جس کی سربراہی مولانا ذکی احمد مدنی کر رہے ہیں) نوجوان فاضل اور ابھرتے ہوئے محقق ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی کی محققانہ صلاحیتوں کے تعاون سے اس علمی ورثے کو ’’کلیاتِ مولانا ابوالکلام آزاد‘‘ کی شکل میں محفوظ کرنے کا عزمِ مصمم کیا ہے۔ اس عظیم منصوبے کے تحت کلیات کی پہلی دو جلدیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔

اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں جامعہ الہدیٰ کے وسیع فنکشن ہال میں ایک باوقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز تعلیمی، ادبی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور ‘الہدی ریسرچ پبلیکیشنز’، اس کے سربراہ مولانا ذکی احمد مدنی اور کلیات کے محقق و مدون ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

’علم نواز اور ادارہ ساز شخصیت‘: پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل احمد قاسمی

پٹنہ اورینٹل کالج میں شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل احمد قاسمی نے دونوں شخصیات کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے ایک تاریخی واقعے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا:

"علامہ شبلی نعمانی نے جب ‘سیرت النبی ﷺ’ کی پہلی جلد مکمل کی تھی، تو کتاب کی اشاعت میں مالی و انتظامی تعاون کرنے والی شخصیت کا ذکر اس انداز میں کیا تھا کہ ‘اگر وہ نہ ہوتیں تو شاید یہ کتاب منظرِ عام پر نہ آتی’۔ آج یہی مثال مولانا ذکی احمد مدنی پر صادق آتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ذکی احمد مدنی ایک علم نواز اور ادارہ ساز شخصیت ہیں۔ ایک طرف وہ ایک بہترین جامعہ اور ‘الہدی انٹرنیشنل اسکول’ کی کامیاب قیادت کر رہے ہیں، تو دوسری طرف انہوں نے علمی و تحقیقی کاموں کے لیے ‘الہدی ریسرچ پبلیکیشنز’ جیسا فعال ادارہ قائم کیا ہے۔ ادارے نے اپنی پہلی ہی کاوش کے لیے ایک ایسی عالمی علمی شخصیت (مولانا آزاد) کے ورثے کا انتخاب کیا جس نے چہار دانگِ عالم کو متاثر کیا تھا۔ ڈاکٹر شکیل قاسمی نے محقق ڈاکٹر رفیع اللہ تیمی کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چونکہ تیمی صاحب نے روایتی دینی مدارس سے لے کر عصری جامعات تک تعلیم حاصل کی ہے، اس لیے ان کی تحقیق میں ان دونوں دھاروں کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔

پراجیکٹ کا پسِ منظر اور اہمیت: مولانا ذکی احمد مدنی

الہدی ریسرچ پبلیکیشنز کے ڈائریکٹر مولانا ذکی احمد مدنی نے اپنے تمہیدی و اختتامی خطاب میں اس عظیم علمی پروجیکٹ کے پسِ منظر، اس کے بنیادی فکرے اور کتاب کی حسنِ ترتیب پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مولانا مدنی نے محقق ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی کی علمی و تحقیقی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے موجودہ دور میں "کلیاتِ مولانا ابوالکلام آزاد” کی اشاعت کی ضرورت و اہمیت کو واضح کیا اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

تحقیق و تدوین کا منہج اور چیلنجز: ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی

کتاب کے محقق و مدون ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی نے اپنے خطاب میں کتاب کی تحقیق و تدوین، اس کے اسلوب، منہج اور تدوینی مراحل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا:

"اس کلیات کی ترتیب و تدوین کا بنیادی مقصد مولانا ابوالکلام آزاد کی منتشر تحریروں، خطوط، مضامین اور تقاریر کو ایک جگہ یکجا کرنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں ان کے افکار سے صحیح طور پر استفادہ کر سکیں۔ ماضی میں مولانا آزاد کی تحریریں مختلف مقامات پر بکھری ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے افکار کا کماحقہ احاطہ کرنا مشکل تھا۔ یہ کلیات اسی علمی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ قارئین کی سہولت کے لیے کتاب میں مشکل الفاظ کے معانی (فرہنگِ آزاد)، آیاتِ قرآنی کی تصحیح اور احادیث کی تخریج کا حواشی میں خاص اہتمام کیا گیا ہے۔

معاصر بھارت اور مولانا آزاد کا فکری نظام:

تقریب سے کلکتہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے پروفیسر امتیاز وحید اور پروفیسر عمر غزالی نے بھی خطاب کیا اور کلیات کی دونوں جلدوں کی خصوصیات، تحقیق اور تدوین کی خوبیوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ شیخ خورشید عالم مدنی، مشہور ادیب جناب ابوذر ہاشمی، پروفیسر منصور عالم اور پروفیسر تنویر احمد نے مولانا آزاد کی علمی خدمات اور معاصر بھارت میں ان کی تحریروں کی معنویت پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر کلکتہ کے مشہور معالج اور سماجی رہنما ڈاکٹر فواد حلیم نے معاصر بھارت کے سیاسی منظرنامے میں مولانا آزاد کے فکری نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:

"آج کے بھارت کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں مولانا آزاد کے سیاسی نظریات کی روشنی میں ہی ملک کی حقیقی تعمیر و ترقی اور اتحاد و اتفاق کی فضا ہموار کی جا سکتی ہے۔”

مقررین نے متفقہ طور پر اس تاریخی کام کو اردو ادب اور علمی دنیا کے لیے ایک عظیم سرمایہ قرار دیا اور الہدی ریسرچ پبلیکیشنز کی اس ہمت و حوصلے کو سراہا۔ تقریب میں کلکتہ شہر اور بیرونِ ریاست سے آئی ہوئی کثیر تعداد میں علمی، ادبی اور صحافتی شخصیات نے شرکت کر کے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply