ایک اور ستارہ غروب ہوا

(مشہور اسکالر سید اقبال ظہیر کے حالات زندگی پر ایک نظر)

پروفیسر سید راشد نسیم ندوی

ایک روشن ستارہ جو پوری آب وتاب کے ساتھ افق پر اجالا بکھیر کر وقت سحر غروب ہو گیا ۔ اور ایک شمع فروزاں کی لو تیز و تند آندھیوں کا مقابلہ کرتے کرتے بجھ گئی، اور سید اقبال ظہیر اپنی عمر کی قریب قریب اسی (۸۰) بہاریں دیکھ کر۲/اپریل ۲۰۲۶ کی صبح سویرے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ ان للہ ما أعطی ولہ ما اخذ و کل شیء عندہ بقدر ۔

مشہور اسکالر سید اقبال ظہیر کے حالات زندگی پر ایک نظر
ایک اور ستارہ غروب ہوا

وہ میرے بڑے ماموں تھے۔مامو ںمرحوم نے سنہ ۱۹۴۱ ء میں شہر حیدرآباد دکن میں آنکھیں کھولیں جہاں میرے نانا مرحوم سید ظہیر الحسن صاحب سیکریٹریٹ میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے ۔۱۹۴۸ میں پولیس ایکشن(ریاست حیدرآباد کے خاتمہ) کے بعد آپ کا تبادلہ بنگلور ہو گیاتھا ، مامو ں یعنی سید اقبال ظہیر مرحوم نے وہیں تعلیم حاصل کی،اور خود اپنے والد مرحوم سے بھی اکتساب فیض کیا ،اس سے قبل والدہ کے بچپن میں انتقال ہوجانے کی وجہ سے چند سال اپنی نانہال موضع خضر چک (بیگوسرائے، بہار)میں اپنے نانا کے پاس گذارے۔

ان کے والد ماجد یعنی میرے نانا مرحوم سید ظہیر الحسن صاحب جو خاندان میں فخر الملک کے نام سے جانے جاتے تھے،علامہ سید سلیمان ندوی کے وطن دیسنہ کے باشندے تھے اور سید صاحب کے رشتہ دار بھی تھے ۔ انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ،اور حضرت مفتی کفایت اللہ علیہ الرحمۃ کے پاس دہلی میں تکمیل کی ۔ بعد ازاں انہوں نے حیدرآباد دکن کا رُخ کیا اور جامعہ عثمانیہ سے ماسٹر(ایم اے) کی ڈگری حاصل کی ۔اور امیر الشعراء احمد شوقی پر تحقیقی مقالہ لکھ کر اعلی تعلیمی سند حاصل کی ۔آپ کی علمی استعداد بڑی پختہ تھی اور عربی ،فارسی و انگریزی پر عبور قابل رشک تھا ۔ عبادات کے پابند اور معاملات میں صاف وشفاف کردار کے حامل تھے ۔ چنانچہ خال محترم جناب اقبال ظہیر مرحوم نے اپنے روشن ضمیر والد سے ظاہری وباطنی طور پر خوب اکتساب فیض بھی کیا اور تبلیغ و دعوت کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔چنانچہ آپ نے ملازمت کے دوران ہی نوجوانوں کے لیے انگریزی میں ایک رسالہ کی اشاعت شروع کی جس نے بعد ازاں Young Muslim Digest کے نام سے شہرہ آفاق مقبولیت حاصل کی ۔ ۱۹۷۸ میں سعودی عرب منتقل ہونے کے باوجود آپ اس ماہنامہ مجلہ کی ادارت سنبھالتے رہے ، جس میں آپ کے برادران خرد جناب سید بلال ظہیر اور جناب سید نہال ظہیر دست و بازو بنے رہے ۔اس میگزین میں ایک گوشہ ہوا کرتا تھا جو متعدد صفحات پر مشتمل ہوتا تھا ۔ اس کا عنوان ” Letters to the editor” رکھا گیا تھا ۔ مامو ں مرحوم بحیثیت مدیر ان بے شمار خطوط کے جواب دیا کرتے تھے جو ساری دنیا سے موصول ہوتے تھے ۔ ان جوابات کے مطالعے سے ان کی اعلی علمی لیاقت ، وسیع مطالعہ ، اخاذ ذہن اور انگریزی پر دسترس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ چونکہ بڑی تحلیل و تجزیہ اور خود اعتمادی کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے اس لیے بسا اوقات یہ خود اعتمادی مثبت اسلوب کے حدود پار کر جاتی ۔اسی میگزین میں وہ ایک دوسرا کالم بھی لکھتے رہے جو بعد میں ایک مکمل تفسیر کا سیٹ بن گیا ۔ جس پر مستقل گفتگو آگے آرہی ہے ۔

متاعِ دین و دانش ان کی ایک اہم کتاب ہے۔

۱۔تفسیر ” اشراق المعانی”

انگریزی زبان میں یہ تفسیر آپ کی وہ معرکۃ الآراء تالیف ہے جو علوم قرآن کا بیش بہا سرمایہ ہے ۔ اپنی عرق ریزی ،مستقل مزاجی اور یکسوئی کے ساتھ سالوں اس پروجیکٹ پر کام کرتے رہے اور آٹھ ضخیم جلدوں میں مرتب کیا ۔ أئمہ تفسیر کے اقوال کا احاطہ ، مختلف آراء پر محاکمہ نیز عصری تقاضوں کے شعور کی وجہ سے انگریزی داں حلقوں نے اس تفسیر کی بڑی پذیرائی کی ۔ چنانچہ دیدہ زیب طباعت کے ساتھ اس کے کئی ایڈیشن منظر عام پر آچکے ہیں ۔

An Educational Encyclopedia of Islam.

آپ کی یہ اہم خدمت ہےجو آپ نے نوجوان اسکالرز کے ساتھ مل کر انجام دی۔ سہل ممتنع انگریزی زبان میں یہ ایک ایسی تصنیف ہے جو بنیادی اسلامی معلومات کا احاطہ کرتی ہے ، ۱۳۰۰صفحات پر مشتمل یہ کتاب بھی دیدہ زیب طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہے ۔

Fundamentals of the Islamic creed

انگریزی دان حلقوں کے لیے عقیدہ طحاوی کی اساس ومنھج کے مطابق یہ تالیف لطیف بھی طبع شدہ ہےجو اھل السنہ والجماعہ کے معتبر عقائد پر محیط دستاویز کے مماثل ہے ۔

Islam: The religion you can

 no longer ignore

سید اقبال ظہیر مرحوم نے غیر مسلم حضرات کے لیے اس مختصر کتابچہ کو مرتب کیا تھا جس میں توحید ،رسالت اور آخرت جیسے بنیادی مسائل کو موضوع بحث بنایا ۔ اس کا پہلا ایڈیشن کناڈا سے شایع ہوا ، اور دوسرے ایڈیشن دیگر ممالک سے شایع ہوئے ۔

Fake Pearls

عوامی حلقوں میں زبان زد ان احادیث کی نشان دہی کی گئی جن کو محدثین عظام نے موضوع اور بے بنیاد قرار دیا ۔ یہ کتاب مرتب کے مطالعے کی گیرائی اور گہرائی کی شاھد عدل ہے، ۲۳۰صفحات پر مشتمل اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۲۰۰۲ء میں ہندوستان سے شایع ہوا ۔

Muhammad who changed the world in 23 years .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مختصر سیرت مرحوم نے انگریزی زبان میں مرتب کی ۔اس علمی کاوش کو مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مقدمہ میں سراہا اور مصنف کی ہمت افزائی فرمائی ۔ اس تصنیف میں مرحوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزے کو موضوع بحث بنایا کہ۲۳ سال کی مختصر مدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ آفاقی اثرات مرتب ہوئے جن سے کوئی شعبہ حیات مستفیض ہوئے بغیر نہ رہا ہو،اور آج تک علمی دنیا کے لیے ناقابل تسخیر چیلنج بنا ہوا ہے ۔ یہ کتاب بھی ہند و بیرون ہند سے متعدد بار شائع ہوچکی ہے ۔

Bilal, the Abyssinian ut runner

اسلام نے ذات پات اور رنگ ونسل کے فرق کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا ۔ جس کی سب سے بڑی مثال سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی ہے۔ غریب الدیار بلال کو غلامی کی زنجیریں سچائی کا علمبردار بنے سے نہ روک سکی ۔ اور اسلامی تاریخ میں آپ کو وہ مقام ملا جس مقام کا اندازہ حضرت عمر فاروق کا حضرت بلال کو لفظ سیدنا سے تعبیر کرنے سے ہوتا ہے ۔یہ حضرت بلال کی سوانح عمری ہی نہیں بلکہ اسلام کے اسی آفاقی پیغام کو عام کرنے کی ایک کوشش ہے ۔ یہ کتاب بھی زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہے ۔

A Short History of Israel

اس مختصر سی تاریخی تصنیف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریظ تحریر فرمائی ۔ اس کتاب کو شائع کرنے سے اکثر ناشرین متردد تھے۔ لہذا پہلا ایڈیشن خود مامو ں مرحوم کو ذاتی خرچ پر شائع کرنا پڑا ۔ بعد ازاں مختلف مکتبوں نے شائع کیا ۔ اس تالیف میں مصنف نے خود اسرائیلی مآخذ کی بنیاد پر ان کی تاریخ مرتب کی ۔ اور ان کی ان دسیسہ کاریوں کو طشت از بام کیا جس سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔

Abul Hasan Ali Nadwi, a man of hope through a century of turmoil.

محترم اقبال ظہیر صاحب مرحوم حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیحد عقیدت رکھتے تھے ۔ مفکر اسلام کی تحریروں سے غیر معمولی متاثر تھے ۔ انہوں نے اپنی دو کتاوں پر حضرت مولانا سے تقریظ بھی لکھوائی تھی ۔انہوں نے ۱۹۹۵ء میں حضرت سے ملاقات کے لیے لکھنؤ کا قصد سفر بھی کیا تھا ۔ اس ملاقات کے بعد آپ کی عقیدت کو مزید جلا وتقویت ملی۔ اور پھر جب ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء حضرت کے سانحے ارتحال کے بعد حضرت مولانا پر قلم برداشتہ لکھنا شروع کیا اور مضامین کی شکل میں اپنے انگریزی مجلے میں قسط وار شائع کیا ۔پھر یہی مضامین کا مجموعہ کتابی شکل میں طبع ہوا ۔ اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں حضرت مولانا سے کس قدر عقیدت تھی اور حضرت مولانا کی ہمالیائی شخصیت کی عصری معنویت کی کتنی زیادہ قدر کرتے تھے ۔۱۱۰ صفحات پر مشتمل یہ کتاب بھی متعدد بار شائع ہوچکی ہے ۔

مرحوم سید اقبال ظہیر صاحب اپنی ملازمت کی ذمے داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا کام انجام دیتے تھے ۔ علاوہ ازیں ہفتہ واری محاضرات قرآنی اور علمی دروس کا سلسلہ بھی برقرار رہتا تھا ۔ چونکہ وہ اکابر تبلیغ سے متاثر تھے اور تصویراور ویڈیو گرافی کی ہمت افزائی نہیں کرتے تھے ۔چناچہ ان کے بہت سے اہم دروس محفوظ نہ رہ سکے ۔ عربی زبان کی تعلیم کے لئے بھی ایک مفید صوتی سیریز تیار کیا تھا ۔لیکن وہ ٹیپ ریکارڈ اور کیسٹ کے ساتھ ناپید ہو گیا۔ ان لگاتار مصروفیات کے باوجود وہ سماجی خدمات سے لا تعلق نہیں رہے ۔ہاسن (کرناٹک) میں لڑکیوں کے لئے ایک تعلیمی ادارہ اور بے سہارا ضعیف حضرات کے لیے بیت المعمرین قائم کیا ۔ ان ہر دو اداروں کا انتظام و انصرام آپ کی بڑی صاحبزادی ، جو خود ایک اسکالر ہے اور ان کے خاوند محترم دیکھتے ہیں ۔آپ کی ان بےلوث خدمات کا بہت زیادہ تعارف ہندوستان کے اسلامی حلقوں میں نہ ہو سکا ۔ شاید اس کاسبب آپ کا استغناء اور بے نیازی کی وہ کیفیت رہی ہو جو بسا اوقات سلبی صفت بن جاتی ہے ۔

عصر حاضر میں اسلامی خدمت گزاروں اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں بر سر پیکار شہ سواروں کی نگاہ سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ :

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج دریا میں ہے اوربیرون دریا کچھ نہیں

ربط ملت کے معنی یہ ہیں کہ دیگر احباب خدمتگاران دین و دانش کی خدمات کا اعتراف ہو۔ اختلاف کے اظہار میں سلیقہ اور شائستگی نمایاں رہے ۔ جب غیروں سے قول لین کا حکم ہےتو پھر اپنے تو اپنے ہوتے ہیں ۔ عوام سے رابطہ کی صورت میں انانیت اور اعجاب بنفسہ نہ ہو ۔ بطر الحق اور غمط الناس کے جراثم قریب نہ پھٹکنے پائیں، ان سب اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کے لیے اور دسائس نفس کے تزکیہ کے لئے کسی بھی اھل اللہ سے رابطے کا اہتمام کرنا ضروری ہے ۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے حضرت مفکر اسلام کے رسالے "اصلاح سے کوئی مستغنی نہیں ” کا مطالعہ لازم ہے،شہادت حق ہو یا دعوت الی اللہ کا فریضہ ، فلاح و بہبود کا شعبہ ہو یا پھر انسانیت کی کوئی خدمت، جب تک کسی مربی اور عالم ربانی سے رابطہ نہ ہو تو شہرت تو مل جائے گی،لیکن نافعیت و قبولیت نہ مل سکے گی۔فاما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض ۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a Reply