نامِ کتاب: مسلم لڑکیوں کا ارتداد: اسباب و حل
مؤلف: حضرت مولانا مفتی احمد اللہ نثار قاسمی
تعدادِ صفحات: 400
ناشر: مکتبہ احسان، لکھنؤ
تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی
دنیا کی تمام نعمتوں میں سب سے عظیم اور بے بہا نعمت ایمان ہے۔ یہی وہ دولت ہے جس کے تحفظ کے لیے اہلِ ایمان نے ہر دور میں اپنی جانیں نچھاور کیں، اپنے مال و اسباب کو قربان کیا، اہل و عیال کی جدائی برداشت کی اور ہر طرح کی آزمائشوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا، لیکن ایمان کی حفاظت پر کوئی سمجھوتا گوارا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں ایمان کی سلامتی کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ افسوس کہ موجودہ دور میں مادی ترقی، فکری انتشار اور تہذیبی یلغار نے مسلمانوں کے اندر ایمان کی قدر و قیمت کا احساس کمزور کر دیا ہے۔ عقیدۂ توحید کی حفاظت، شعائرِ اسلام کی پاسداری اور اسلامی تشخص کی بقا کی فکر رفتہ رفتہ ماند پڑتی جا رہی ہے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض مسلمان لاعلمی، بے احتیاطی یا مداہنت کے نتیجے میں غیر اسلامی رسوم و شعائر میں شرکت کو بھی معمولی بات سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو توحید کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھنے اور ہر قسم کے شرکیہ مظاہر سے مکمل اجتناب کا حکم دیتا ہے۔

مزید تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل، بالخصوص مسلم لڑکے اور لڑکیاں، مختلف فکری، سماجی اور تہذیبی عوامل کے زیرِ اثر اپنے دین و ایمان سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مخلوط تعلیمی نظام، اخلاقی بے راہ روی، موبائل فون اور انٹرنیٹ کا بے لگام استعمال، دینی تعلیم و تربیت سے محرومی، غربت، جہالت، مخلوط ماحول میں ملازمت، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، عیسائی مشنریوں اور دیگر گمراہ کن تحریکوں کی سرگرمیاں، نیز فرقہ پرستانہ اور مشرکانہ ماحول نے اس خطرے کو کہیں زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ہر صاحبِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ایمانی سلامتی کی فکر کرے بلکہ اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کے عقائد و اخلاق کی حفاظت کے لیے بھی سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے۔
اسی شدید احساسِ ذمہ داری اور دینی غیرت کے جذبے کے تحت حضرت مولانا مفتی احمد اللہ نثار قاسمی نقشبندی دامت برکاتہم نے "مسلم لڑکیوں کا ارتداد: اسباب و حل” کے عنوان سے یہ نہایت اہم، فکر انگیز اور جامع کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ مؤلف نے اس حساس اور عصرِ حاضر کے نہایت اہم موضوع پر مختلف جہات سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے اسباب، نتائج اور تدارک کو مدلل اور منظم انداز میں پیش کیا ہے۔
کتاب کے ابتدائی ابواب میں ایمان کی عظمت، اس کی حفاظت کی ضرورت، جذبۂ ایمانی کی آبیاری، عقیدۂ توحید کی پاسبانی اور شرک و مداہنت سے اجتناب کی تلقین نہایت مؤثر انداز میں کی گئی ہے۔ اس کے بعد ارتداد کی سنگینی، اس کے شرعی، اعتقادی اور معاشرتی اثرات اور اس سے متعلق اہم فقہی مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مؤلف نے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ بعض اوقات انسان بظاہر عبادات کا اہتمام کرتا رہتا ہے، لیکن کفریہ عقائد یا افعال اختیار کر لینے کے سبب ایمان سے محروم ہو جاتا ہے، جو انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔
مزید برآں، کتاب میں حیا، عفت اور عصمت کی اسلامی تعلیمات کو نہایت شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہن کی پاکیزہ سیرتوں سے روشن مثالیں دے کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے کی بنیاد پاکدامنی، حجاب اور اخلاقِ حسنہ پر قائم ہے، جبکہ بے حیائی اور اخلاقی آزادی کس طرح خاندانی نظام کو تباہ کر دیتی ہے اور نوجوان نسل کو گمراہی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
بین المذاہب نکاح کے شرعی احکام اور اس کے سنگین معاشرتی و دینی نتائج پر بھی مؤلف نے نہایت بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ اسی طرح مسلم لڑکیوں کے ارتداد اور غیر مسلموں سے شادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے متعدد اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے معاشرتی، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی عوامل پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ شادیوں میں بے جا اخراجات، تاخیرِ نکاح، مخلوط تعلیم، مخلوط معاشرت، دینی تربیت کا فقدان، والدین کی غفلت، فلمی اور سوشل میڈیا کا اثر، موبائل اور انٹرنیٹ کا بے محابا استعمال اور دیگر بہت سے اسباب کو مؤلف نے شواہد اور مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔
کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مسلم لڑکیوں کے ارتداد سے متعلق متعدد مستند رپورٹس، اخبارات، رسائل اور مختلف ذرائع سے جمع کی گئی معلومات کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے قاری کو مسئلے کی سنگینی کا حقیقی اندازہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض مسلم دشمن تنظیموں کی سرگرمیوں اور ان کی حکمتِ عملیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ مسلمان حالات کا صحیح ادراک کر سکیں۔
کتاب کے آخری ابواب میں اصلاحِ احوال اور عملی رہنمائی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ والدین کی ذمہ داریاں، اولاد کی دینی تربیت، نگرانی، مناسب عمر میں نکاح، اسلامی ماحول کی فراہمی، غیر مخلوط تعلیمی اداروں کا قیام، موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط، علماء، مدارس اور اہلِ خیر کی ذمہ داریاں، نیز دعا، اصلاحِ نفس اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت کو نہایت حکیمانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب صرف مسئلے کی نشاندہی ہی نہیں کرتی بلکہ اس کے عملی اور قابلِ عمل حل بھی پیش کرتی ہے۔

راقم کے مطالعے میں حضرت مولانا مفتی احمد اللہ نثار قاسمی دامت برکاتہم کی متعدد تصانیف آ چکی ہیں، خصوصاً رمضان المبارک سے متعلق معروفات و منکرات پر ان کی گراں قدر کتاب کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا، جس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ مؤلف کسی بھی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو محض عمومی گفتگو پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ متعلقہ مواد کو وسیع پیمانے پر جمع کرکے، ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے، نہایت منظم اور جامع انداز میں پیش کرتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب بھی اسی علمی ذوق، تحقیقی مزاج اور وسعتِ مطالعہ کا روشن نمونہ ہے۔ اس میں علمی استناد، وافر مواد، عمدہ ترتیب اور دل نشیں اسلوبِ بیان یکجا ہو گئے ہیں، جس سے اس کی افادیت اور وقعت مزید بڑھ گئی ہے۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اس موضوع پر مختلف علاقائی زبانوں، خصوصاً ہندی، رومن انگریزی اور دیگر مقامی زبانوں میں مختصر مگر مؤثر کتابچے بھی تیار کیے جائیں تاکہ معاشرے کے ہر طبقے تک یہ پیغام آسانی سے پہنچ سکے اور نئی نسل کے ایمان و عقیدے کی حفاظت میں یہ کوششیں معاون ثابت ہوں۔
کتابت، طباعت، کاغذ، سرورق اور مجموعی پیشکش کے اعتبار سے بھی یہ کتاب نہایت معیاری، دیدہ زیب اور ناشر کے حسنِ ذوق کی آئینہ دار ہے۔ توقع ہے کہ اہلِ علم، ائمہ، خطباء، اساتذہ، والدین اور نوجوان طبقہ اس کتاب کا بھرپور خیر مقدم کرے گا اور یہ تصنیف اپنے موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کرے گی۔ اللہ تعالیٰ مؤلف، ناشر اور اس کی اشاعت و ترویج میں شریک تمام حضرات کی مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس کتاب کو امتِ مسلمہ کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ بنائے اور اسے صدقۂ جاریہ قرار دے۔ آمین۔






